گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس

ادارہ

(گوجرانوالہ) شہر کی مختلف دینی جماعتوں اور تاجر برادری کے راہ نماؤں کے ایک مشترکہ اجلاس میں صدر پاکستان جناب ممنون حسین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسلامیان پاکستان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے غازی ممتاز حسین قادری کی سزائے موت کو معاف کرنے کا اعلان کریں، جبکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دستور کی واضح ہدایات کے مطابق ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ اجلاس گزشتہ روز چیمبر آف کامرس کے ہال میں مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے راہ نما مولانا مشتاق احمد چیمہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، جماعت اسلامی کے راہ نما جناب مظہر اقبال رندھاوا، جمعیۃ علماء اسلام (ف) کے ضلعی سیکرٹری جنرل چودھری بابر رضوان باجوہ، جمعیۃ علماء اسلام (س) کے ضلعی امیر حافظ گلزار احمد آزاد، اور تاجر راہ نماؤں حاجی نذیر احمد جموں والے، اور میاں فضل الرحمن چغتائی کے علاوہ مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا جواد قاسمی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد عبد اللہ راتھر اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ 

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اور ناموس رسالتؐ کی پاسداری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے صدر مملکت کو چاہیے کہ وہ سیکولر حلقوں کے دباؤ میں آنے کی بجائے ملک کے عوام کے جذبات کا خیال رکھیں اور ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے تقاضوں کو پورا کریں۔ 

مقررین نے کہا کہ سودی نظام کا خاتمہ ہماری دینی ضرورت کے ساتھ ساتھ دستوری تقاضا ہے اور ملکی معیشت کو بین الاقوامی استحصال سے نجات دلانے کا راستہ بھی ہے، اس لیے حکومت ٹال مٹول سے کام لینے کی بجائے دستوری ہدایات پر فوری عملدرآمد کا آغاز کرے۔ 

اجلاس میں تحریک انسداد سود پاکستان کی طرف سے ماہ نومبر کو پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور سودی نظام کے خاتمہ کی خصوصی جدوجہد کے طور پر منانے کے فیصلے کی حمایت کی گئی اور طے پایا کہ گوجرانوالہ میں اس سلسلہ میں دو نمائندہ اجتماعات ہوں گے۔ نومبر کے دوسرے ہفتہ کے دوران تاجر برادری کی طرف سے سیمینار منعقد کیا جائے گا اور مہینہ کے آخری عشرہ میں علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیگر طبقات کے نمائندوں کا مشترکہ کنونشن منعقد کیا جائے گا جس کی میزبانی مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کرے گی۔ جبکہ خطبات جمعہ میں ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ (۱) سودی نظام کے خاتمہ (۲) عقیدۂ ختم نبوت و ناموس رسالتؐ کی پاسداری (۴) ملکی سا لمیت و دفاع کے دینی تقاضوں کے عنوانات پر علماء کرام تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔ اجلاس میں سیٹلائیٹ ٹاؤن تھانہ گوجرانوالہ میں انسداد سود ایکٹ کے تحت ایک پرائیویٹ سود خور شہری کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا خیر مقدم کیا گیا اور دینی کارکنوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے علاقوں میں نظر رکھیں اور انسداد ایکٹ کے تحت مقدمات کے اندراج کا اہتمام کریں۔ 

اجلاس میں بزرگ عالم دین مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ 

اخبار و آثار

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ