مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘

مولانا محمد عبد اللہ راتھر

8 نومبر 2015ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘ کے عنوان پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس مذاکرہ کی صدارت جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد نے کی، جبکہ ایک درجن کے قریب اہل علم وفکر نے مذاکرہ میں حصہ لیا۔

مجلس مذاکرہ کا آغاز گورنمنٹ ظفر علی خان کالج، وزیر آباد کے استاذ حافظ منیر احمد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ منیر احمد نے کہا کہ فضلاء مدارس کو چاہیے کہ اپنے اندر پختہ علمی استعداد پیدا کریں اور احساس کمتری سے نکلیں۔ مدارس کا جاندار کردارمغرب کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ یہ جو انتہائی با ادب درس وتدریس(تپائیوں پربیٹھ کر)کا سلسلہ ہے، اس کو ختم کردیاجائے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سوسائٹی سے رابطہ رکھنا ہو گا اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ گھلنا ملنا ہو گا۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے استاذ ڈاکٹر عبدالماجد ندیم نے کہا کہ فضلاء مدارس دینیہ کے معاشی مستقبل پر گفتگو کے پانچ دائرے بنتے ہیں: ۱۔ حکومتی سطح پر اقدامات، ۲۔ وفاق ہائے مدارس کی حکمت عملی، ۳۔ مدارس کی انتظامیہ کا کردار، ۴۔ خود فضلاء مدارس کا کردار اور ۵۔ معاشرہ۔ 

انھوں نے کہا کہ ہم معاشرے پہ بوجھ نہ بنیں، بلکہ معاشرے کو کچھ دینے والے بنیں۔ انھوں نے اس ماثور دعا کا حوالہ بھی دیا کہ ’’اللھم اصلح لی دینی الذی ھو عصمۃ امری واصلح لی دنیای التی فیھا معاشی واصلح لی اٰخرتی التی فیھا معادی۔‘‘ ڈاکٹر عبد الماجد نے کہا کہ دراصل ہمیں نصاب میں ایک مرتبہ تبدیلی کی نہیں بلکہ تبدیلی کے ایک مستقل نظام کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی زبانوں میں مہارت اور استعداد پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس ذریعے سے فضلاء اپنے مواقع کار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فضلاء کو سوشل سائنسز اور معاشرتی افکار پڑھائے جانے چاہییں۔ ڈاکٹر عبد الماجد نے کہا کہ چونکہ مساجد کی تعداد اتنی نہیں، اس لیے اگر سارے فضلاء مساجد کا رخ کریں گے تو وہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والا معاملہ ہو گا، اس لیے فضلا کو ان کی صلاحیتوں کے لحاظ سے دوسرے سماجی شعبوں میں خدمات انجام دینے کی ترغیب اور راہ نمائی ملنی چاہیے۔

مولاناحماد انذرقاسمی (جامعہ فاروقیہ، سیالکوٹ) نے کہا کہ طالب علم جوں جوں دورۂ حدیث کے قریب پہنچتا ہے، اس کی پریشانی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے کہ اب فراغت کے بعد کیا بنے گا۔ اگر کوئی فاضل مدرسہ کے علاوہ کسی اور شعبہ مثلاً سکول وغیرہ میں چلا جائے تو اس کے دوسرے ساتھی کہتے ہیں کہ اس کو استاذ کی بد دعا لگی ہے اور استاذ بھی کہتا ہے کہ آئندہ مجھ سے مت ملنا۔ ہمیں اس رجحان کو ختم کرنا ہو گا۔

گورنمنٹ ڈگری کالج، کامونکی کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے کہا کہ معاش کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سب سے پہلے معاشی مسئلہ کو حل کیا اور مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ قائم فرمایا۔ انھوں نے کہا کہ اگر وفاق یا مدارس انتظامیہ اس مسئلے پر توجہ نہیں دیتی تو فضلاء خود اس طرح کے سیمینار کریں اور اپنے بارے میں خود فیصلے کریں۔ انھوں نے کہا کہ فضلاء کو راہ نمائی فراہم کرنی چاہیے کہ مساجد کے علاوہ بھی وہ مختلف دائروں میں دینی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں، مثلاًمحکمہ اوقاف کی مختلف اسامیوں پر، فوج میں، سکول وکالجز میں، سفارتخانوں میں بطور مترجم۔ اس کے علاوہ وہ مختلف کتب کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ورک نے کہا کہ اگر حکومتی ادارے فضلاء کو اپنے ہاں جگہ نہ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تو ہمیں حکومتی اداروں سے رعایتیں طلب کرنے کے بجائے متبادل حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جیسا کہ پیر کرم شاہ صاحب نے بھیرہ شریف میں کیا۔انہوں نے نصاب اور نظام دونوں بدل دیے۔ وہاں طالبعلم کو میٹرک کے بعد درس نظامی میں داخلہ دیا جاتا ہے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ باقاعدہ کالج اور یونیورسٹی کے امتحانات دلوائے جاتے ہیں۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث گوجرانوالہ کے راہ نما مولانا ابرار احمد ظہیر نے کہا کہ دوران تعلیم میں طلبہ کو صحیح راہ نمائی ملنا بہت اہم ہے۔ انھوں نے پروفیسر ساجد میر صاحب کا بیان کردہ واقعہ سنایا کہ مجھے بچپن میں حفظ کا شوق تھا اور میری والدہ کی بھی یہی خواہش تھی، لیکن ہمارے خاندانی بزرگ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی نے اس سے روک دیا اور کہا کہ حفظ بعد میں بھی ہو جائے گا، ابھی تم اپنی اسکول کی تعلیم پر توجہ دو۔ پھر آٹھویں جماعت کے بعد میں نے دوبارہ ازخود قرآن یاد کرناشروع کر دیا اور اس بات کا علم مولانا ابراہیم میر کو ہوا تو انھوں نے پھر منع کر دیا۔ پھر جب میں ایم اے اسلامیات کرنے لگا تو مولانا ابراہیم میر نے کہا کہ نہیں، تم ایم اے انگلش کرو۔ میرے لیے یہ سب باتیں اچنبھے کی تھیں، لیکن بعد میں احساس ہوا کہ وہ درست کہتے تھے۔ ایم اے انگلش کی بنیاد پر مجھے مرے کالج،سیالکوٹ میں ملازمت ملی۔ وہاں کے فارغ پیریڈز میں، میں نے قرآن پاک یاد کرنا شروع کیا۔پھر گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ لاہور میں ٹرانسفر کرا لی۔وہاں میرے صرف دو پیریڈتھے۔باقی سارا وقت میں قرآن پاک یاد کرتا تھا۔ یوں میں نے مکمل حفظ کر لیا۔ 

گورنمنٹ ڈگری کالج، ڈسکہ کے استاذ مولانا حافظ محمد رشید نے کہا کہ روزگار کا مسئلہ صرف دینی مدارس کے فضلاء کا نہیں بلکہ دوسرے تعلیمی اداروں کے فضلاء بھی اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ البتہ دوسرے تعلیمی ادارے کے طلبہ کا میدان شروع سے ان کے سامنے ہوتا ہے، لیکن ہمارے فضلاء کے ذہن میں یہ بات آخر تک واضح نہیں ہوتی۔ حافظ محمد رشید نے کہا کہ فضلاء کو مختلف چھوٹے چھوٹے کاروباروں کے متعلق بتانا چاہیے جن میں وہ حصہ لے سکتے ہیں، مثلاً ڈیری فارمنگ، ٹیوشن اکیڈمی وغیرہ۔ 

محمد تنویر صاحب نے تجویز دی کہ جن کاروباری حضرات سے چندے کے لیے رجوع کیا جاتا ہے، ان سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں فضلاء کے لیے بھی مواقع پیدا کریں۔ اس کے علاوہ اور مواقع بھی موجود ہیں جن سے فضلاء فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسے انٹر نیٹ پر قرآن مجید کی تعلیم وغیرہ۔

الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے کہا کہ مدارس کے نظام کے بنیادی اہداف اور مقاصد کا تقاضا یہ ہے کہ فضلاء مدارس میں سے کچھ حضرات صرف اورصرف دینی تعلیم وتدریس اور دینی علوم کی تحقیق سے منسلک رہیں اور یہ کام کلیتاً یکسوئی کا متقاضی ہے۔ تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ایسے حضرات کی کفالت کا کیا بندوبست ہو سکتا ہے تاکہ یہ حضرات معاش کی فکر سے بالکل بے نیاز ہو کرپوری بے فکری سے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

محمدمحسن خواجہ صاحب نے کہا کہ مدارس سے الگ ایک مستقل ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو فضلاء کے معاشی مسئلے پر سوچ وبچار اور مشاورت کا اہتمام کرے اور اس حوالے سے متعلقہ حضرات کو راہ نمائی فراہم کرے۔ اسی طرح انھوں نے اس ضرورت کی طرف متوجہ کیا کہ مدارس میں شام کے اوقات میں دینی تعلیم کی کلاسوں کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات جو دین سیکھنے کا شوق رکھتے ہیں، وہ مدارس سے مستفید ہو سکیں۔

الشریعہ اکادمی کے ناظم تعلیمات محمد عبداللہ راتھر نے کہا کہ مدارس میں کچھ ہنر اور فنون بھی سکھائے جانے چاہییں تاکہ فضلاء بوقت ضرورت ان کی مدد سے اپنی کفالت کر سکیں۔اس سلسلہ میں TEVTAکی خدمات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

مجلس مذاکرہ کے صدر مولانامفتی محمد زاہد نے اپنی اختتامی گفتگو میں کہا کہ طلب ورسد کے بنیادی اصول کے تحت ہمیں اس شعبے سے فضلاء کے ہجوم کم کرنا چاہیے، لیکن عملاً جیسے بے روزگار فضلاء کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مدارس کی تعداد بھی غیر ضروری طور پر بڑھ رہی ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ مساجد کے منتظمین میں یہ شعور بیدار کرنا چاہیے کہ وہ مسجد میں خدمات سرانجام دینے والے حضرات کی ضروریات کا مناسب اور معقول انتظام کیا کریں۔ نیز حکومت کو چاہیے کہ وہ مساجد کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ مسجد کے ملازمین کو مناسب سہولیات مہیا کرے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں خود بھی لوگوں کے اس تصور کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو ہم نے خود پیدا کیا ہے کہ شاید مولوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھوکا مرے اور روکھی سوکھی پر گزارا کرے۔ 

مفتی صاحب نے مولانا محمد شریف کشمیری کا واقعہ دنایا کہ وہ جب پلندری(کشمیر) میں آئے تو ابتدا میں کافی مشکل حالات پیش آئے۔ اس حوالے سے مدرسہ کے اہل حل وعقد کا اجلاس ہوا تو اجلاس میں بات چل نکلی کہ فلاں بزرگ نے یوں مشکلات میں وقت گزارا، فلاں نے یوں مشقت کی زندگی بسر کی، فلاں بزرگ یوں افلاس برداشت کرتے رہے۔ مولانا محمد شریف کشمیری یہ ساری باتیں سن کر کہنے لگے:آپ کو سارے بھوکے ننگے بزرگ ہی یاد آئے ہیں، کیا تاریخ میں کوئی کھاتا پیتا مولوی نہیں گزرا؟

مفتی صاحب نے کہا کہ ہمیں معاشرہ میں یہ شعور بیدار کرنا ہو گا کہ مولوی کی بھی کچھ ضروریات ہوتی ہیں، اس کام صرف بھوکا مرنا ہی نہیں۔ کسی صاحب ثروت سے کہیں کہ مسجد میں قالین بچھانا ہے یا اتنے سو قرآن پاک کے نسخے مسجد میں رکھنے ہیں تو وہ آسانی سے اس کو ثواب کا کام سمجھ کر تیار ہو جائے گا۔لیکن اگر اسے کسی مولوی صاحب کی کفالت یا کچھ ضروریات پورا کرنے کا کہا جائے تو اس پر وہ مشکل سے آمادہ ہوگا، کیونکہ اس کی نظر میں یہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔

مفتی صاحب نے کہا کہ معاشرے میں ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے ایک عالم دین کی کم سے کم ضروریات یہ ہیں: ۱۔ روز مرہ کے اخراجات، ۲۔ خاندانی لین دین کے معاملات، ۳۔ عید وغیرہ کے مواقع پر اضافی اخراجات، ۴۔ بچوں کی تعلیم، ۵۔ ایک خاص عمر کے بعد علاج معالجہ، ۶۔ بچوں کی شادیاں، ۷۔ بڑھاپے کے مسائل، ۸۔ سر چھپانے کے لیے ذاتی مکان ۔

انھوں نے بتایا کہ ہمارے والد صاحب (مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ)جب کسی قریبی رشتہ دار کی شادی میں جانا کسی وجہ سے مناسب نہ سمجھتے کہ وہاں عین موقع پر خلاف شرع باتیں ہوں گی تو ایک دن پہلے جا کر جو دینا دلانا ہوتا، کر آتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ اس لیے کرتا ہوں کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مولوی شریعت کو بہانا بنا کر کچھ دینے سے بچنا چاہتا ہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ تخصصات تو اْن مخصوص لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جنہوں نے آگے چل کر کسی خاص شعبہ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھانے ہوں۔ اس لیے اگر سارے طلبہ کو ایک ہی شعبے میں کھپانے کے بجائے ہم مختلف روزگاروں کے مختصرچھ چھ ماہ کے کورسز رکھ لیے جائیں تو ہوگا۔ مثلاً چھ یا نو ماہ کا ایک کورس سکول چلانے کی تربیت کا ہو کہ ایک سکول کیسے چلایا جاتا ہے؟ یہ ایک اہم شعبہ ہے اور خصوصاً دیہات میں اس کی ضرورت بھی بہت ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کی تعلیم کے مختلف کورسز رکھے جا سکتے ہیں اور تجربہ بتاتا ہے کہ مدارس کے فضلاء یہ ہنر جلد سیکھ لیتے ہیں۔ مختلف زبانیں سکھانا بھی بہت اہم ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں ترجمہ کی خاص اہمیت ہے اور اس میں روزگار کے مواقع بھی ہیں اور اس وقت ترجمانی مستقل ایک فن بن چکا ہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ فضلا کو چاہیے کہ اگر ان کے والدین کسی پیشے یا ہنر سے منسلک ہیں تو وہ ان سے وہ ہنر سیکھیں جو کے لیے دوسرے کام سیکھنے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوگا۔ اسی طرح اہل مدارس کاروباری حضرات کی خدمات بھی حاصل کریں جو طلباء کو کاروبار کے حوالے سے اپنے تجربات بتا دیا کریں اور ان کی مناسب راہ نمائی کریں۔

آخر میں مولانازاہد الراشدی نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس گفتگو سے بہت سی مفید جہتیں سامنے آئی ہیں اور حوصلہ ہوا ہے کہ ہم اس سلسلے میں کام کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔ مولانا راشدی کی دعا پر مجلس مذاکرہ اختتام کو پہنچی۔

الشریعہ اکادمی

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ