شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کی رحلت

جامعہ حمادیہ کراچی کے حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت شاہ صاحبؒ ملک کے ان بزرگ اور مجاہد علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیم و تدریس کی مسند کو آباد کیا بلکہ زندگی بھر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کی محنت میں مصروف رہے۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے نامور تلامذہ میں سے تھے اور انہی کی مسند پر بیٹھ کر ایک عرصہ تک حدیث شریف کا درس دیتے رہے جس سے پاکستان، افغانستان اور اردگرد کے دیگر ممالک کے ہزاروں علماء کرام نے فیض حاصل کیا۔ وہ حدیث میں اپنے شیخ حضرت مولانا عبد الحقؒ کے علوم کے وارث و ترجمان، جبکہ تفسیر قرآن میں ایک اور عظیم المرتبت شیخ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے فیوض کے امین تھے۔ اس لیے بخاری شریف کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے دورہ کی روایت بھی انہوں نے ہمیشہ قائم رکھی۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں ممتاز عرب اساتذہ سے استفادہ کیا اور امام التابعین حضرت حسن بصریؒ کے تفسیری فیوضات پر گراں قدر مقالہ لکھ کر مدینہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ وہ بیک وقت اکوڑہ خٹک، شیرانوالہ لاہور، اور مدینہ یونیورسٹی کی متنوع علمی روایات کے جامع تھے اور دینی صلابت کے ساتھ ساتھ توسع اور علمی رواداری کا عملی نمونہ بھی تھے۔ 

ایک بات میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد کو علمی و فکری آب یاری کاماحول اکوڑہ خٹک کی برکت سے میسر آیا اور وہی افغان مجاہدین اور ان کے بعد افغان طالبان کی جدوجہد میں پختگی اور سنجیدگی کا باعث بنا۔ اس سنجیدگی اور پختہ فکری کی قدر و قیمت عالم اسلام کے مختلف حصوں میں نفاذ شریعت کی متعدد تحریکات میں افراط و تفریط کا مشاہدہ کرتے ہوئے صحیح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ اور اس پر حضرت مولانا عبد الحقؒ کی علمی عظمت، دینی حمیت اور فکری صلابت کے آگے سر نیاز بے ساختہ خم ہو جاتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کے اس علمی ورثہ کو سینے کے ساتھ لگانے والے چند گنے چنے افراد میں حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ نمایاں مقام رکھتے ہیں، جبکہ مولانا سمیع الحق اور مولانا انوار الحق کے ساتھ ان کی زندگی بھر کی رفاقت اپنے شیخ کے خاندان کے ساتھ ان کی بے لوث وفاداری کی علامت ہے۔ 

تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اکثر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ مستقبل کا کوئی بھی غیر جانبدار مؤرخ جب گزشتہ صدی کے دوران جہاد کے احیاء، خاص طور پر جہاد افغانستان کے پس منظر و نتائج اور دنیا بھر میں اس کے مثبت اور منفی اثرات کا تجزیہ کرے گا تو وہ اس کے علمی و فکری محاذ پر حضرت مولانا عبد الحقؒ ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی خدمات اور کردار کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ اسی صف بندی کی سیکنڈ لائن کے بزرگ تھے اور ان کی ساری زندگی اسی محور کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

وہ علماء اور مجاہدین کے صرف استاذ نہیں تھے بلکہ مربی اور پشت پناہ بھی تھے اور صحیح کاموں پر حوصلہ افزائی کے ساتھ غلط کاموں پر ٹوکنے کا ذوق اور معمول بھی رکھتے تھے۔ راقم الحروف کو ان سے نیاز مندی کا شرف حاصل رہا ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں متعدد بار تشریف لائے، حضرات شیخینؒ کے ساتھ گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے جس کی برکات سے ہم بھی مستفید ہوتے رہے۔ مختلف تحریکات اور اجلاسوں میں ان کے ساتھ رفاقت رہی اور بہت سے معاملات میں مشاورت کا تعلق بھی رہا۔ اب وہ نہیں ہیں تو آنکھوں کے سامنے خلا خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اس غم میں ان کے خاندان کے علاوہ مولانا سمیع الحقؒ دارالعلوم حقانیہ کے اساتذہ و طلبہ اور حضرت مرحوم کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مستفیدین کے ساتھ شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔


مولانا عبد اللطیف انورؒ کا انتقال

شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند کی ترجمانی و پاسداری کے لیے نہ صرف فکر مند رہتا تھا بلکہ ہر وقت متحرک رہنا اور اپنے مشن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا اس کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا۔ 

مولانا عبد اللطیف انورؒ شاہکوٹ کی ایک مسجد کے خطیب تھے اور ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع شیخوپورہ کے امیر رہے۔ شاہکوٹ اب نئے بننے والے ضلع ننکانہ صاحب کا حصہ ہے۔ مسجد کے ساتھ جامعہ اشرفیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ بھی ہے، یہ مسجد اور درسگاہ اس پورے علاقہ میں دینی اور مسلکی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے اور اس کی وجہ مولانا مرحوم کی شبانہ روز محنت اور ان کا عزم و استقلال ہے۔ 

مولانا عبد اللطیف انورؒ دینی و مسلکی محاذ پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاست کا بھی ایک جاندار کردار تھے۔ علاقہ میں ان کی برداری کے خاصے لوگ آباد تھے جو ان کی قوت ہوا کرتے تھے۔ لوکل سیاست سے لے کر قومی انتخابات تک ان کا کردار ہوتا تھا، سماجی خدمات میں پیش پیش رہتے تھے، تھانے کچہری کے کاموں میں ہمیشہ متاثرین اور مظلوموں کے ساتھ ہوتے تھے۔ پنجاب کی سیاست میں کوئی مقام حاصل کرنے کے لیے بنیادی شرط یہی ہوا کرتی ہے اور ہماری دینی جماعتیں اس کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے انتخابات میں کوئی پوزیشن حاصل نہیں کر پاتیں۔ ہم مذہبی تعلق اور روحانی وابستگی کے حوالہ سے ووٹ کے طلبگار ہوتے ہیں جو پنجاب کے مزاج کے ہی خلاف ہے۔ میں اکثر عرض کیا کرتا ہوں کہ پنجاب کا عمومی مزاج یہ ہے کہ مولوی کہیں سے آئے یہ اسے قبول کر لیتا ہے، مسجد بنا کر دیتا ہے، مدرسہ بھی بنا دیتا ہے، اس کو چلانے کا خرچہ بھی دیتا ہے، مسلکی محاذ آرائی اور دینی تحریکات میں دست و بازو بھی بن جاتا ہے، حتیٰ کہ رشتہ بھی دے دیتا ہے، مگر ووٹ نہیں دیتا۔ ووٹ صرف اس کو ملتے ہیں جو سماجی خدمت میں اور تھانے کچہری کے کاموں میں پیش پیش ہو، اور بوقت ضرورت لوگوں کے کام آئے۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ اس ضرورت اور فن سے آشنا تھے اس لیے علاقائی سیاست میں ان کا نمایاں کردار ہوتا تھا اور بسا اوقات وہ ’’بادشاہ گر‘‘ بھی بن جایا کرتے تھے۔ 

22 اکتوبر کو راقم نے پیر حافظ محمد ریاض قادری، محترم میاں محمد افضل اور حافظ محمد بلال کے ہمراہ شاہکوٹ حاضری دی اور مولانا عبد اللطیف انورؒ کے فرزند و جانشین مفتی محمد طیب اور دیگر احباب سے تعزیت کے ساتھ ساتھ مولانا مرحوم کی قبر پر فاتحہ خوانی اور دعا کی سعادت حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ