تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے

مولانا مفتی محمد زاہد

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا۔)


میں جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب اور الشریعہ اکادمی کی پوری ٹیم کو ’’تدریسِ حدیث اور عصرِ حاضر کے تقاضے‘‘ جیسے اہم عنوان پر اس سیمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے اس علمی مجلس میں شرکت کر کے اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ اپنی طالب علمانہ گزارشات پیش کرنے کا اعزاز بھی بخشا۔

ہمارا یقین ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ہر دور کے انسانوں کی راہ نمائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کسی بھی دورمیں اس صلاحیت کی عملی شکلیں دریافت کرنے کے لیے اسلامی احکام کے دوسرے بنیادی اور قرآن سے زیادہ مفصل سرچشمے ’’حدیث وسنت‘‘ کے درست مطالعے کی ضرورت ناقابلِ انکارہے۔ زمانے کے تقاضوں سے عہدہ برآئی کے سلسلے میں مطالعۂ حدیث کی اہمیت کاشاید سب سے پہلے بھرپور ادراک ہمارے برصغیر ہی کی ایک نام ورعلمی شخصیت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے کیا۔ ان کی نظرِ بصیرت نے یہ بھانپ لیاکہ آنے والے دورکے پڑھے لکھے اورسوچنے سمجھنے والے لوگوں کوتفہیمِ دین کے لیے ضروری ہے کہ احکامِ دینیہ میں پائے جانے والے اسرار، حکم اور مصالح کو دریافت کر کے نہ صرف جزوی طور پر ہر ہر حکم کی عقلی حکمت اور عملی مصلحت کو واضح کیا جائے بلکہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کاایک نظامیاتی (Systemetic) مطالعہ کیاجائے جس سے یہ نظرآئے کہ پوری شریعت کی ایک روح ہے جوبدن کے مختلف اعضا کی طرح ہر ہرحکمِ شرعی میں موجودہے۔ بظاہراحکامِ شرعیہ کی سب سے منضبط، مدوّن اور مفصّل شکل فقہ کی کتابوں میں ملتی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے مذکورہ ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ’’حجۃ اﷲ البالغہ ‘‘کی شکل میں جو عظیم کام سرانجام دیا، اس کے بارے میں یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ اس کی بنیاد فقہِ اسلامی پر اٹھائی جائے گی، مگر شاہ صاحب نے ایسانہیں کیا، بلکہ حجۃ اﷲالبالغہ کامطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ کتاب، خاص طورپر اس کی ’’القسم الثانی‘‘ حدیث پر مبنی ہے اور شاہ صاحب نے عموماً ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کی ترتیب کو اپنایا ہے اور احکامِ شرعیہ کی جزوی حکمتیں بیان کرنے کے لیے مشکوٰۃ ہی کی احادیث کو بنیاد بنایا ہے جو آج کی طرح اُس زمانے میں بھی برّ صغیر میں حدیث کی اہم نصابی کتاب تھی۔

آج امتِ مسلمہ تہذیبی اور فکری اعتبارسے جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان کی صورتِ حال بہت حد تک دوسری اورتیسری صدی ہجری کے حالات کے مشابہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت مسلمان سیاسی طورپر فاتح، بالاتر اور غالب قوم تھے جبکہ آج معاملہ برعکس ہے۔ وہ دوربھی ایساتھاجس میں دیگر اقوام کے علوم وفنون عربی زبان میں منتقل ہو کر اپنے اثرات مرتب کررہے تھے، اور ان علوم وفنون کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے، یہ امر موضوعِ بحث بنا ہوا تھا۔ دنیا کی مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے دھارے مسلمان معاشروں میں شامل ہو کر زندگی کوایک نئی شکل دے رہے تھے، ایک متنوع معاشرے کی بنیاد رکھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ بہت سے عملی اور فکری سوال پیدا کر رہے تھے۔ یہی دو صدیاں فقہ وحدیث کی تدوین کے نقطۂ عروج کی صدیاں ہیں۔ اس کے بعد کی صدیاں ۔سوائے چند استثناء ات کے۔ اسی کام کی خوشہ چینی، اس پر تقعیدو تفریع، اس کی تشریح یا اسے سہل التداول بنانے کا دور ہے۔ ہمارے ہاں فقہ اورحدیث دونوں کے معاملے میں علم اور ذہنی ساخت کے بنیادی سرچشمے اسی مؤخر دور کے ہیں۔ مثال کے طور پر ائمۂ مجتہدین نے اپنے اصولِ اجتہاد کی از خود و ضاحت بہت کم فرمائی، اس مؤخر دور میں یہ ہوا کہ ان ائمہ کے اجتہادات کا مطالعہ کرکے جو اصول ان میں کار فرما نظر آئے، انہیں مرتب ومدوّن کردیا گیا۔ یہی حال حدیث کا ہے۔ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی جیسی شخصیات سے حدیث کے ردّ وقبول کے جو اصول صراحتاً نقل ہوئے ہیں، انہیں شاید انگلیوں پر گنا جا سکے۔ ’’مصطلح الحدیث ‘‘ کے نام سے جو سرمایہ ہمارے پاس موجود ہے، وہ بنیادی طور پر حاکم، خطیبِ بغدادی اور ابن الصلاح جیسی شخصیات کی عطا اور ان کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہے۔ فقہ وحدیث دونوں کے حوالے سے ان مؤخر ادوار کا کام قابلِ قدر بھی ہے اور قابلِ استفادہ بھی۔ اس سے استغنا کو مجذوب کی بڑ ہی کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ دور بہرحال ابتدائی چند صدیوں کے مقابلے میں ٹھہراؤ اور ’’ٹک ٹکا‘‘ کا تھا۔ یہ چیز اس لحاظ سے مؤخر دور کے کام کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے کہ اس میں اطمینان کے ساتھ پچھلے دور کی فصل سمیٹنے بلکہ اسے صاف کر کے پیک کرنے کا موقع مل گیا، لیکن ہمیں جس دور کا سامنا ہے، وہ دوبارہ ابتدائی صدیوں کے مشابہ بلکہ تبدیلیوں کے انفجار اور explosion کا دور ہے۔ اس میں کافی حد تک ابتدائی صدیوں سے ملتے جلتے چیلنجز کا سامنا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ ان کے پاس قرآن وسنت اور متفرق آثارِ صحابہ وتابعین کی شکل میں صرف خام مال ہی تھا، ہمارے زمانے میں تیار شدہ مال بھی وافر اور پورے تنوع کے ساتھ موجود ہے، نیز اس فرق کے ساتھ کہ اس دور کے اہلِ علم کو زمانِ نبوت کے قرب اور اس کے ماحول سے ایک گونہ واقفیت کا جو فائدہ حاصل تھا، وہ آج کے دور کے لوگوں کو حاصل نہیں۔ آج کے دور میں صرف چند جزوی سوالات ومسائل ہی پیدا نہیں ہوئے بلکہ بعض بنیادی نوعیت کے اصولی سوالات بھی اس دورنے کھڑے کردیے ہیں۔ 

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فقہ وحدیث دونوں کے اندر مؤخر دور کی کاوشوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس دور میں بھی جانا ہوگا جس کے ساتھ ہمارے زمانے کی مشابہت ہے۔ یہ کام خاصا مشکل ہے، اس لیے کہ مؤخر دور کا کام پکی پکائی روٹی کی طرح ہے ، جبکہ ابتدائی قرون کی محنت وکاوش سے استفادے اور اس دور میں جاکر کام کے لیے بڑی عرق ریزی، علمی گہرائی اور خاص قسم کی پختگی اور رسوخ کی ضرورت ہے، اس لیے کسی نظامِ تعلیم کے ذریعے سب کو تو ظاہر ہے، اس معیار پر نہیں لایا جاسکتا، لیکن جب بھی ہم اپنے نظامِ تعلیم یا طرز ہاے تدریس پر بات کریں تو ہمارے پیشِ نظر یہ بات بہرحال رہنی چاہیے کہ کچھ باصلاحیت افراد ہم ایسے ضرور تیار کر لیں جو اپنی علمی زندگی کے پختگی کے مرحلے پر جا کر ضرور اس قابل ہوسکیں کہ ان کا کام محض متوسط اور آخری دور کے ذخیرہ کے فہم، اس کی تشریح اور اس کے انطباق تک محدود نہ ہو بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اور پیچھے جا کر اصولی اور بنیادی نوعیت کے پیدا ہونے والے سوالات کے سلسلے میں جو کرنے کے کام ہیں، وہ کر سکیں۔ یہ کام نازک ضرور ہے، اس میں خدشات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن کوئی بھی ضروری کام ایسا نہیں ہے جو کسی قدر خطرات مول لیے بغیر ہو سکتا ہو۔ باقی اللہ تعالیٰ نے امت کے اجتماعی ضمیر میں انٹی وائرس رکھے ہوئے ہیں جو اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔

حدیث کے موضوع پر گفتگوکرتے ہوئے تمہید میں یہ باتیں اس لیے عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ہمارے ہاں جس طرح فقہ میں بدائع اور سرخسی تو دور کی بات ہے، عالمگیریہ اور شامی سے اوپر جانے کی بعض اوقات ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، اسی طرح بعض لوگ علوم الحدیث سے متعلق بھی حاکم، خطیب اور ابن الصلاح وغیرہ کو ہی اس میدان کی کل دنیا سمجھ بیٹھے ہیں، حتیٰ کہ اس بارے میں وہ حضرات بھی مستثنیٰ نظر نہیں آتے جو عام حالات میں تقلیدی رویوّں کو ناپسند کرتے ہیں، حالانکہ بڑے بڑے محدثین کے تصحیح و تضعیف کے سلسلے میں ایسے اقوال مل جاتے ہیں جو مذکور الصدر حضرات کے مرتب کردہ اصولوں پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ مقصد خدانخواستہ کسی ایسے طرزِ عمل کی دعوت دینا نہیں ہے جو علمی اور فکری انارکی کا راستہ کھول دے۔ دینی علوم کے ہر شعبے میں تجربات کی بنیاد پر جو ڈسپلن قائم ہیں، انہیں اپنے دائرے میں قائم رہنا چاہیے، لیکن ایک دائرہ ایسا بھی ہونا ضروری ہے جہاں مذکور الصدر ضرورت کی تکمیل ہو۔ در اصل ضرورت ایجاد کی ماں ہے، ضرورت کا کام اگر اہل لوگوں کے ہاتھوں انجام نہ پائے تو نااہلوں کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے۔

عصرِحاضر کے تقاضوں کی تکمیل میں حدیث کے کردار کو مؤثر طور پر بروے کار لانے کے لیے جوبھی حکمتِ عملی وضع کی جائے گی، اس میں تدریس کاپہلو نمایاں اہمیت کاحامل ہوگا، اس لیے کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل اورکسی حکمتِ عملی سے مطلوبہ نتائج اخذکرنے کے لیے رجالِ کار کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور رجالِ کار کی تیاری میں تدریس اورطریقہ ہاے تدریس بنیادی عنصرہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں دینی مدارس کے نصاب پرتو کافی بحث ہوتی ہے، تدریس پر بات نسبتاًکم ہوتی ہے۔ آج کی مجلس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تدریس کوبنیادی موضوع بنایا گیا ہے۔ اپنی گفتگوکو مرکوز رکھنے کی خاطر یہاں صرف دینی مدارس وجامعات میں ’’تدریس حدیث‘‘ کی بات کی جائے گی، اس لیے کہ عصری جامعات کے مقابلے میں ان مدارس کی تدریسِ حدیث مواد کی مقدار، تدریس میں گہرائی اور دین کے اصل مصادر سے استفادے کے لیے درکار بنیادی صلاحیت جیسی خصوصیات کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس میں بہتری پیدا کرنے کے نتائج بھی زیادہ مؤثر اور بہتر ہو سکتے ہیں۔ دینی مدارس میں ’’تدریس حدیث‘‘ سے ہماری مراد صرف دورۂ حدیث کی تدریس نہیں ہے، بلکہ بالکل ابتدائی درجات سے لے کرتخصص فی الحدیث تک تمام درجات میں تدریس ہمارے موضوعِ بحث سے متعلق ہے، اس لیے اس گفتگو میں بعض ایسے تحقیقی کاموں کا بھی تذکرہ آجائے گا جن کی اس زمانے میں ضرورت ہے۔

(۱)

علمِ حدیث ایک بڑا وسیع کینوس رکھنے والا علم ہے جس کی کوکھ سے کئی مستقل علوم نے جنم لیا ہے اوراس میں وسعت اورپھیلاؤ کے بے شمار امکانات موجود ہیں، لیکن ہمارے ہاں اندازِتدریس کے بعض پہلو ایسے ہیں جن کی وجہ سے علمِ حدیث کی وسعت، گہرائی اوراس کے امکانات طالب علم پرواضح نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد کی زندگی میں بھی وہ اس مبارک علم میں قابلِ ذکر کام سرانجام نہیں دے پاتا۔ طرزِ تدریس کی ان خامیوں میں پہلی چیزیہ ہے کہ ہمارے ہاں عموماً درسِ حدیث کابیشتر حصہ اور پڑھانے والے کا زیادہ زور یا تو فقہی احادیث پرصرف ہوتاہے یا ان چند کلامی مباحث پر جو ایک توہمارے دورمیں مردہ ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ کئی نئی تازہ بحثوں نے لے لی ہے۔ دوسرے ان میں اختلاف بھی عموماًلفظی ہوتا ہے۔ اس طرح سے حدیث کایہ درس عملاًکچھ علمِ کلام اورکچھ الفقہ المقارن کادرس بن کر رہ جاتا ہے۔ پھراحادیثِ احکام میں بھی توجہ کامحور عبادات وغیرہ کے چند مسائل ہی رہتے ہیں۔ احادیثِ احکام کابڑا حصہ جومعاملات، سماجیات، سیاسیات، قانون، بین الاقوامی تعلقات وغیرہ سے متعلق ہے، وہ توجہ کامستحق نہیں بن پاتا۔ بعض اوقات نسبتاًکم اہمیت رکھنے والے مسئلے پر ضرورت سے کہیں زیادہ وقت صرف کیاجاتاہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات قضاے حاجت کے دوران استقبال واستدبارِ قبلہ کے مسئلے پر استاذکے کئی کئی دن صرف ہو جاتے ہیں، حالانکہ اسی میں سے کچھ وقت بچا کر اسے اس سے اہم کسی مسئلے پر صرف کیا جا سکتا تھا۔ پھر گفتگو کا انداز بھی کچھ ایسا ہوتا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حنفی، شافعی (مثلاً) دو مدمقابل پارٹیاں برسرِپیکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں طالب علم کے اندر بحث وتحقیق کا صحت مند رجحان پروان چڑھنے اور علمی منہجِ تحقیق کانمونہ سامنے آنے کی بجائے اس کی شخصیت میں مناظرانہ اندازکے ایسے بیج بو دیے جاتے ہیں جو بعض اوقات زندگی بھر اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے، اوراس سے طالب علم کی علمی شخصیت ہمیشہ کے لیے تباہ ہوجاتی ہے یاکم افادیت کی حامل رہ جاتی ہے، حالانکہ جن ائمہ اوربزرگوں کی تائیدیا اتباع میں بظاہر ایسا کیا جاتا ہے، خود ان کا اپنا طرزِ عمل یہ نہیں تھا۔ ان ائمہ کی بات توبہت دورکی ہے، ماضی قریب کی معروف علمی شخصیت شیخ الہندمولانا محمود حسن ؒ کا جوطرزِ عمل ان کے شاگرد مولانا مناظراحسن گیلانی نے اپنی چشم دیدگواہی کی بنیاد پر لکھاہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ یہ بات تو اہلِ علم جانتے ہی ہیں کہ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا یعقوب نانوتوی اورشیخ الہند مولانا محمود حسن وغیرہ کے درسِ حدیث میں اس طرح سے تقریریں نہیں ہوتی تھیں جیسے آج کل ہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ سے شروع ہوا۔ شاہ صاحب علم کا بحر زخار تھے، جو موضوع چل پڑتا، اس پر علم کا بند کھل جاتا۔ بعد میں ہم جیسے لوگوں نے یہی کام بتکلف شروع کردیا۔ بہرحال اسی سلسلے میں مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ شیخ الہند کا یہی طرزِ اختصار نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’جب کوئی ایسی حدیث آجاتی جو بظاہر مفہوم کے لحاظ سے قطعی طور پر حنفی مذہب کے خلاف ہوتی اور پڑھنے والا طالب علم خود رک کر دریافت کرتایا دوسرے طلبہ پوچھتے ’’حضرت یہ حدیث تو امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے قطعاً خلاف ہے ‘‘ جواب میں مسکراتے ہوئے بے ساختہ شیخ الہندؒ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلتے، ’’ خلاف تو ہے بھائی! میں کیا کروں؟ہاں آگے چلیے۔ ‘‘ (مولانا مناظر احسن گیلانی : ص ۱۱۸، مکتبہ عمر فاروق کراچی)

بظاہر کہنے کامقصدیہ تھاکہ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ اجتہادی اختلافی مسائل میں تو ایسا ہوتا ہی ہے کر ہر فریق کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور ہر فریق کی دلیل بظاہر دوسرے فریق کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے ایسے مسائل میں یہ توقع رکھناکہ ہمارے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، کامطلب یہ بنتاہے کہ دلیل صرف ہمارے پاس ہو، دوسرے فریق کے پاس نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اس مسئلے میں اختلاف ہی کیوں ہوتا۔

تدریس کا یہ طرزِ عمل جو حدیث کے لیے مختص وقت اور صلاحیتوں کا بڑاحصہ چوس جاتا ہے، درحقیقت درس گاہ سے باہر کے بعض عوامل کانتیجہ ہے۔ اصل معرکہ کہیں اور بپا ہوتا ہے، لیکن ہرفریق کی درس گاہیں اس معرکے کے لیے اسلحہ ساز فیکٹریاں اور فوجی ٹریننگ کے ادارے بن جاتے ہیں۔ ہوا یوں ہے کہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد متعدد علاقوں میں جاکر کبارِ صحابہ اورفقہاے صحابہ میں سے بڑی شخصیات آباد ہوگئیں جنہوں نے وہاں عملی طورپر بھی لوگوں کودین سکھایا جیساکہ انہوں نے حضورِاقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھااورعلمی طورپربھی بہت سے شاگرد تیارکیے جن سے آگے فیض پھیلا۔ ان فیض یافتگاں میں بڑے بڑے فقہا بھی شامل تھے۔ یوں مصر، شام، عراق اورحجاز وغیرہ میں دین پر عمل کی مختلف شکلیں رائج ہوگئیں اورتعلیم وتعلّم کے مستقل سلسلے قائم ہوگئے۔ بنیادی طورپر یہی چیز آگے چل کراختلافاتِ فقہا کی ایک اہم بنیاد بنی۔ دین پرعمل اورفقہی آرا میں یہ تنوّع حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کے دور تک کھل کر سامنے آچکا تھا۔ صدیق اکبرؓکے پوتے قاسم بن محمدؒ نے جب اس تمنا کااظہار کیاکہ کاش یہ اختلاف نہ ہوتاتوعمربن عبدالعزیزؒ نے انہیں ٹوکتے ہوئے فرمایاکہ مجھے سرخ اونٹوں کالالچ دیا جائے، تب بھی میں اس اختلاف کے نہ ہونے کی کبھی تمنا اورآرزونہیں کروں گا،اس لیے کہ اس سے امت کے لیے وسعت پیداہوتی ہے۔ ( ابن عبد البر جامع بیان العلم وفضلہ ۲/۸۰ المکتبۃ العلمیۃ المدینۃ المنورۃ) آج مغربی دنیااپنے ہاں کے تنوع اور Pluralism پر بڑا ناز کرتی ہے، لیکن تنوع کے حسن کوسب سے پہلے ان فقہا نے اسلامی تعلیمات سے سمجھا ہے۔ عمربن عبدالعزیز ؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سرکاری مراسلے کے ذریعے تدوینِ حدیث کاکام شروع کرایاتھا اورمتعدد جلیل القدر محدثین نے ان کے فرمان کے مطابق حدیث کے مجموعے تیاربھی کیے تھے۔ اگرحدیث کے کسی مجموعے کایہ مصرف ہوتاکہ اس کوبنیاد بناکرپہلے سے چلے آرہے فقہی تنوع کوختم کیا جائے توعمربن عبدالعزیزؒ یہ حکم جاری کرتے کہ میرے تیار کرائے ہوئے ان مجموعوں کوحَکم اورفیصل مان کر جوبات اس میں نہ ہو، اسے ردّ کردیاجائے۔ لیکن انہوں نے نہ صرف ایسانہیں کیابلکہ اس کے برعکس اپنی خلافت کے زیرِ نگیں تمام بلاد وامصار میں یہ مراسلہ لکھوایا کہ ہرعلاقے کے فقہا جس چیز پر مجتمع ہوں، اس علاقے میں اسی کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ (سنن الدارمی حدیث نمبر : ۶۴۱ باب اختلاف الفقہاء)

تدوینِ حدیث ہی کے سلسلے میں ایک بڑا نام امام مالکؒ کا ہے۔ ان کی ’’الموطا‘‘ کو بجا طور پر صحاحِ ستہ کی ماں کہا جاتا ہے۔ ان کے سامنے بھی خلیفۂ وقت کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی کہ موطا کوبطورِقانون خلافت کے زیرِنگیں تمام علاقوں میں نافذ کرکے لوگوں اس پرعمل کاپابند کر دیاجائے،لیکن امام مالکؒ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایاکہ لوگوں تک پہلے بہت سی باتیں پہنچ چکی ہیں، صحابہ کے اقوال میں سے جو باتیں ان تک پہلے پہنچ چکی ہیں، ان کی پیروی وہ اختیار کرچکے ہیں۔ اب جن چیزوں کووہ اپنا چکے ،ہیں ان سے انہیں روکنا بڑاگراں امرہوگا، اس لیے لوگوں کواپنی حالت پرہی رہنے دیجیے اور ہرخطے کے لوگوں نے اپنے لیے جس راہِ عمل کواختیار کرلیاہے، اسے یونہی رہنے دیجیے۔

حضرت عمر بن عبد العزیز اور امام مالک کے اس طرزِ عمل میں دعوتی کام کرنے والوں کے لیے ایک بڑا سبق یہ مضمر ہے کہ جس علاقے میں لوگوں کی دین کے حوالے سے کسی شخصیت یا شخصیات سے وابستگی پیدا ہو چکی ہو، اس پر زد لگانے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ دعوتی کام کرنے والوں سے بسا اوقات یہ غلطی ہو جاتی ہے کہ کسی خطے میں جاتے ہی وہاں پہلے سے موجود دینی وابستگی پرہتھوڑا چلا دیتے ہیں جس سے ایک خلا پیدا ہو جاتاہے جو بعض اوقات بہت خطرناک ثابت ہوتاہے۔ 

کہنے کامقصدیہ ہے کہ علمِ حدیث جیسے مبارک اورتوسع وتنوع رکھنے والے علم کاآخری دور میں یہ بڑاعجیب وغریب مصرف نکالاگیاہے کہ اسے فقہی کشتی کاایک میدان بنالیاگیا اورایک دوسرے کاسرکچلنے کے لیے اس سے ہتھوڑے کاکام لیاجانے لگا ہے۔ یہ بات میں کسی خاص مکتبِ فکر کے بارے میں نہیں کہہ رہا بلکہ تقریباً تمام مکاتبِ فکر میں اس طرح کے رویّے موجود ہیں، اور یہ وبا پاکستان یا برّ صغیر کے ساتھ بھی خاص نہیں ہے، بلکہ عرب دنیا کی کئی یونیورسٹیوں خصوصاً بعض برادر ملکوں کی مذہبی چھاپ رکھنے والی یونیورسٹیوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اگرحدیث کی کتابت وتدوین کا یا کسی حدیثی مجموعے یامجموعوں کا یہی مصرف ہوتاتو سب سے پہلے یہ کام اس شعبے کے مجددعمربن عبدالعزیزؒ کرتے، محدثین کے سرتاج امام مالک کرتے، جن کے موطا کو ایک وقت تک اصح الکتب کہاگیا، امام بخاری کرتے جن کی کتاب کو اصح الکتب بعدکتاب اللہ کالقب دیاگیا، صحاحِ ستہ کے دیگرمؤلفین کرتے جن کے مجموعوں کوامت میں سب سے زیادہ تداول حاصل ہوا۔ لیکن علمی دنیاجانتی ہے کہ فقہی استنباطات واستدلالات کے لیے ان مجموعوں سے استفادہ توضرورکیاگیالیکن فقہی اختلافات کے مکمل تصفیے اورآخری وحتمی فیصلے کے لیے انہیں استعمال نہیں کیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے ایک سے بڑھ کر ایک مجموعے سامنے آتے رہے اورفنی مقبولیت حاصل کرتے رہے، لیکن فقہی اورعملی دنیا جوں کی توں رہی، اس میں کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوا۔ آج ہم اگریہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ اسلام زمانے کے چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے، ہر دن کاسورج جوبے شمار نئے سوالات لے کر نکلتا اور نہ معلوم کتنے سوالات چھوڑکر غروب ہوتا ہے، ان کے قابلِ عمل جوابات اگرہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکے سامنے پیش کرناچاہتے ہیں جس کی دنیا واقعی پیاسی ہے اورہمہ پہلوعالمی بحرانوں نے اس عظیم کام کے لیے لوہاگرم کر دیا ہے اوردنیا کی سوالیہ نظروں کے سامنے اسلام کا معتدل اورمتوازن متبادل پیش کرنے کا بہترین موقع ہے، امت مسلمہ کے کندھوں پرپڑی ہوئی اس انسانی ذمہ داری سے ہم عہدہ برآہوناچاہتے ہیں توقرآن کے ساتھ ساتھ ہمیں حدیث کاوسیع ترین تناظر میں مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس مقصدکے لیے ہمیں اپنے اس طرزِعمل پر نظرثانی کرنا ہوگی جس کے تحت حدیث کے علم کو ایک توہم نے چند ابواب تک محدود کر دیا ہے، دوسرے اس کو ایسے مصرف میں استعمال کرنے لگے ہیں جو قرونِ اولیٰ کے محدثین کوکبھی نہیں سوجھا تھا۔ یہاں سے ہم اپنی توانائیوں کوبچانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس بچت کی، حدیث کے حوالے سے زیادہ نفع بخش جگہوں پرسرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔

میرایہ مقصدنہیں ہے کہ درسِ حدیث میں فقہا کے اقوال اوران کے مستدلات زیرِِ بحث نہیں آنے چاہییں،بلکہ مقصدصرف یہ ہے کہ فقہی اختلاف کی جو حیثیت سلف میں متعارف تھی، وہ ذہنوں میں واضح رہے اوران فقہی مباحث کا مقصد ہار جیت نہ ہو بلکہ مقصد محض فقہا کے مدارک کو جاننا اور یہ معلوم کرنا ہو کہ ایک ہی موضوع پر وارد مختلف احادیث کو کن کن فقہا نے کس طرح سمجھا اوران سے کیسے استدلال واستنباط کیا۔ اندازِفکروبیان کی اس تبدیلی سے یہی بحثیں طلبہ کے لیے ایساتطبیقی اور تمرینی مواد بن سکتی ہیں جس کے ذریعے ان میں نئے مسائل کا حل حدیث سے نکالنے کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔

(۲)

قرآن کریم کی طرح حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک حدیث بظاہر جس باب یاموضوع سے متعلق نظرآرہی ہوتی ہے، وہ درحقیقت صرف اسی کے بارے میں راہ نمائی نہیں کررہی ہوتی بلکہ اس کے علاوہ بھی زندگی کے کئی شعبوں اورپہلوؤں کے حکم کے بارے میں اس سے اصولی یافرعی روشنی حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ اس کی ایک اہم مثال وہ حدیثِ مبارک ہے جس میں آتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عمیرنامی ایک بچے کاپالتوپرندہ مرجانے پراس سے فرمایا تھا: یا أبا عمیر ما فعل النغیر۔ بظاہرایک عام سی بات ہے جوحضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کی دلداری کے لیے ارشادفرمائی تھی، لیکن اپنے کئی بزرگوں سے سنا (فوری طور پر حوالہ نہیں مل سکا، اگر کوئی صاحب حوالے سے مطلع فرما دیں توکرم ہوگا) کہ امام شافعیؒ نے ایک ہی رات میں لیٹے لیٹے اس حدیث سے بڑی تعدادمیں مسائل کااستنباط فرمایا۔ چوتھی صدی ہجری کے ایک بزرگ ابن القاص الطبری نے اس حدیث سے مستنبط ہونے والے مسائل پرباقاعدہ ایک رسالہ لکھا جس کاکافی حصہ ابنِ حجر نے فتح الباری میں اپنی طرف سے اضافات کے ساتھ نقل کر دیا ہے۔ ابن القاص الطبری نے اس رسالے کی وجہِ تالیف ہی یہ بتائی ہے کہ بعض لوگ محدثین پراعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی ایسی باتیں نقل کردیتے ہیں جن کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ( فتح الباری : کتاب الأدب : باب الکنیۃ للصبی)۔ انہوں نے اس حدیث کوایک مثال بناکریہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بظاہر معمولی نظرآنی والے بات بھی رشدوہدایت کاسرچشمہ ہوتی ہے۔

حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کامظہر وہ مشہور واقعہ بھی ہے جسے خطیب بغدادی نے اپنی کتاب ’’الفقیہ والمتفقہ‘‘ میں اور ابن عبدالبرنے ’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ میں اپنی اپنی سند سے نقل کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ اورامام اعمش کی موجودگی میں کوئی فقہی سوال زیربحث آتاتوامام ابو حنیفہ اس کاحکم بیان فرماتے۔ امام اعمش دلیل پوچھتے توامام ابوحنیفہ فرماتے کہ اس کی دلیل فلاں حدیث ہے جوآپ نے ہمارے سامنے اپنے فلاں شیخ کی سند کے ساتھ روایت کی تھی اورفلاں حدیث ہے جو آپ نے فلاں شیخ سے روایت کی تھی۔ (یادرہے کہ اعمش حدیث میں امام ابو حنیفہ کے شیخ ہیں)گویاوہ حدیث بظاہر جس موضوع سے متعلق نظرآرہی ہوتی، امام ابوحنیفہ اس سے ہٹ کر بھی اس سے مسائل مستنبط فرماتے جن کی طرف خوداعمش کاذہن منتقل نہ ہوا ہوتا۔ اس پر اعمش فرماتے ہیں: یامعشرالفقہاء أنتم الأطباء ونحن الصیادلۃ۔ یعنی ہم محدثین کی حیثیت پنساری اورادویات کے سٹاکسٹ کی ہے اورتم فقہا کی حیثیت طبیب کی ہے جوجانتاہے کہ کون سی دوائی کہاں کہاں اور کیسے استعمال ہوسکتی ہے۔ (خطیبِ بغدادی :الفقیہ والمتفقہ ۲/۱۶۴ دار ابن الجوزی السعودیہ ۱۴۲۱ھ ، ابن عبد البر : جامع بیان العلم وفضلہ ۲/۱۳۱ باب ماذکرمن ذم الاکثار من الحدیث دون التفہم والتفقہ فیہ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۳۹۸ھ)

محدثین کے طبقے میں امام بخاریؒ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے حدیثِ نبوی کے اس اہم پہلو کواپنے منہجِ تالیف کاباقاعدہ ایک حصہ بناکر اپنے قاری کے اندرطبابت کی یہ شان پیداکرنے کی کوشش کی ہے ۔چنانچہ وہ ایک ہی حدیث مختلف جگہوں پرمختلف عنوانات کے تحت روایت کرتے ہیں، بعض مواقع پراستدلال کے لیے صریح اورواضح طورپر متعلقہ حدیث کوچھوڑکر بظاہر بالکل غیرمتعلقہ باب کی حدیث لے آتے ہیں۔ اس طریقے سے وہ حدیث کی زرخیزی، زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں راہ نمائی کے لیے اس کے امکانات (Potential) کو اپنے قاری کے ذہن میں راسخ کرنا اور اسے اس کے استعمال کا عادی بناناچاہتے ہیں۔

ہمارے قریب زمانے کے محدثین میں حضرت مولانابدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ کے اندراللہ تعالیٰ نے امام بخاریؒ والی صلاحیت بطورِ خاص ودیعت فرمائی تھی جس کاسب سے زیادہ مظاہر ہ ان کی کتاب ’’ترجمان السنۃ‘‘میں ہواہے۔ اس میں انہوں نے یہ کام کیاہے کہ ان کے دورمیں جو فکری واعتقادی مسائل لکھے پڑھے حلقوں میں زیر گردش تھے، ان کے جوابات حدیث کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ،اوراس سلسلے میں انہوں نے اپنامواد کتبِ حدیث کے صرف کتاب الایمان وغیرہ سے حاصل نہیں کیا، بلکہ پورے ذخیرۂ حدیث سے چھان چھان کر حاصل کیاہے۔ عنوان وہ اپنے زمانے کے پیداشدہ سوالات سے لیتے ہیں اوراس کے تحت حدیث ایسی جگہ اور ایسے باب سے لاتے ہیں جس کی طرف عام قاری تو کجا، حدیث سے مزاولت رکھنے والوں کا ذہن بھی اس طرف منتقل نہیں ہو پاتا، لیکن جب اس حدیث کواس سوال اور عنوان کے تحت دیکھتے ہیں توبلاتکلف اس سے اس سوال کاجواب مل رہا ہوتا ہے۔

آج کے دورنے جو معاشی، سیاسی، قانونی، بین الاقوامی امورسے لے کر خاندانی اورنجی زندگی تک کے بارے میں عملی اورفکری سوالات پیدا کر دیے ہیں، ان کے جوابات کے لیے حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صلاحیت اورزرخیزی سے فائدہ اٹھایا جاناضروری ہے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے تدریسی نظام میں شعوری طورپر اس بات کی کوشش کریں کہ طلبہ کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو۔ اس مقصدکے لیے ہمیں چندکام کرنا ہوں گے:

(۱) ہمارے دینی مدارس میں آخری دودرجے ایسے ہوتے ہیں جن میں حدیث کی تدریس نقطۂ عروج تک پہنچ جاتی ہے۔ طالب علم کے ان تک پہنچنے سے پہلے پہلے عصرِحاضر میں اٹھنے والے سوالات بالخصوص سوشل سائنسزسے متعلق سوالات سے مناسب حدتک آگاہی ہو جانی چاہیے۔ اول تو وفاق المدارس کو اس سلسلے میں سوچناچاہیے اوروہ اگرایسانہیں کرپاتاتوکم ازکم بڑے جامعات اس سلسلے میں اپنے طورپر قدم اٹھا سکتے ہیں، خاص طورپر ان سالوں میں جن کا امتحان وفاق لیتاہے۔ ہر مرحلے کے پہلے سال کاامتحان ابھی تک وفاق نہیں لے رہا۔ اس کے برقرار رہنے کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ اس طرح سے چنداداروں کی سطح پرسہی، اس طرح کے انتظامات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ جب تک طالب علم موجودہ دورکے سوالات اوران کے فکری اورتہذیبی پس منظر سے ہی آگاہ نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کے موضوعات سے متعلقہ لب ولہجے سے واقف نہیں ہوگا، اس وقت تک اگلاکام ناممکن تو نہیں، خاصامشکل ضرور ہو جائے گا۔ ایک ریاست میں فرد کی کیا حیثیت ہونی چاہیے، فرد اور ریاست کے حقوق کن بنیادوں پراستوارہونے چاہییں، معاہدۂ عمرانی کیا ہوتا ہے اوراسلام کانقطۂ نظران کے بارے میں کیا ہے، طلب ورسد کی قوتیں کیا ہیں اور معیشت کوکس حدتک ان کے رحم وکرم پر چھوڑا جا سکتا ہے، دولت کی پیدایش اورتقسیم میں ریاست کا کردار کیا ہونا چاہیے، زر کی زمانی قدر (Time value of money) کس حدتک قابل اعتبار ہے، اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن سے اور ان کے پس منظرسے ہمارا طالب علم آگاہ نہیں ہوتا، حالانکہ اس طرح کے کئی سوالات کے صرف عنوانات نئے ہوتے ہیں، وگر نہ قدیم فقہا ومتکلمین کے ہاں وہ بحثیں موجود ہوتی ہیں۔ اگرطالب علم ان چیزوں سے کسی قدر واقف ہو چکا ہو تو حدیث کی روشنی میں ان موضوعات پر اس کے سامنے بات کرنا کافی آسان ہو سکتاہے، بلکہ ذہین طالب علم توبہت سے سوالات کے جوابات توخود ہی حاصل کرلے گا۔

(۲) اساتذۂ کرام درسِ حدیث کے دوران موقع بموقع طلبہ کو بتاتے رہیں کہ کون سی حدیث کس طرح عصرِحاضر سے تعلق رکھنے والے فلاں مسئلے پر روشنی ڈال رہی ہے۔ مثلاًآج بہت سے مسلمان ایسے ممالک میںآباد ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں، انہیں وہاں کے عرف، رواج اور نظام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرناچاہیے؟ کیابالکلیہ وہاں کے نظام کو مستردکرکے اس کے خلاف بغاوت کرکے انارکی پیدا کردینی چاہیے اور پہلے سے چلے آنے والے ڈھانچے کو کہہ دینا چاہیے کہ اگر ہم نہیں تو تم بھی نہیں، کیا اسے بالکل تلپٹ کرکے خلا پیدا کر دینا چاہیے یاکوئی اورراستہ بھی ہوسکتاہے؟مکی دورکی احادیث، اسی طرح سے ان صحابہ کے بارے میں احادیث سے جوکسی دینی مصلحت کے تحت مستضعفین میں سے ہونے کی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے، اس پر روشنی پڑسکتی ہے۔ لیلۃ العقبہ اوربیعۃ العقبہ سے متعلق جہاں کہیں احادیث آتی ہیں، وہاں طلبہ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں جوسب سے پہلی ریاست قائم فرمائی ہے، وہ کسی عسکری انقلاب پرمبنی نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد دو معاہدوں پر تھی۔ سب سے پہلا اوراساسی معاہدہ تویہی بیعت عقبہ ہے جس کے ایک فریق تواوس وخزرج کے مختلف خاندانوں کے نمائندہ حضرات تھے اوردوسرا فریق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اس معاہدے کے محرک اول بھی اوس وخزرج ہی تھے۔ طلبہ کی توجہ ہم صحیح بخاری ہی میں مروی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کی طرف بھی مبذول کراسکتے ہیں جس میں وہ بتلاتی ہیں کہ ان کی باہمی جنگوں کے ذریعے درحقیقت اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راہ ہموار کی تھی کہ ان میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور قیادت کا خلا پیدا ہو چکا تھا اور جنگوں سے تنگ آکر مشترکہ قیادت کی ضرورت کا احساس بھی پیدا ہو چکا تھا۔ اس ضرورت کی تکمیل کے امکانات بھی انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آرہے تھے۔ دوسرااہم معاہدہ ’’میثاقِ مدینہ‘‘ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد فرمایا اور اس کے ذریعے دیگرکئی قبائل بھی اس ریاست کاحصہ بن گئے۔ ریاستِ مدینہ کی اساس کے بارے میں یہ بنیادی بات اگرذہن میں بیٹھ جائے تودوسرے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں اوریہ بات کئی جگہوں پرکام دے سکتی ہے۔ یہ تومحض ایک مثال ہے، مزید مثالیں عرض کی جائیں تو بات کافی لمبی ہو جائے گی۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں جہاں جس حدیث سے عصرِ حاضر کے کسی مسئلے پرروشنی پڑتی ہو، طلبہ کی اس طرف توجہ مبذول کرائی جائے، اور جہاں ضرورت ہو، وہاں متعلقہ سوال اور بحث کے پس منظر سے بھی انہیںآگاہ کیا جائے۔ اس طرح ان کے اندر مزید فکر واستنباط کی صلاحیت پروان چڑھے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاق کاامتحان دینے والے طلبہ کی خاطر امتحانی نقطۂ نظراس طرزِتدریس میں مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے، اس لیے جب تک وفاق اس پہلوسے مناسب فیصلے نہیں کر پاتا، جہاں تک ممکن ہواس حد تک تویہ کام کرنا چاہیے۔

(۳) ہمارے مدارس میں دورۂ حدیث شریف میں ایک مرحلہ کتبِ حدیث کے سرد اور تلاوت کاہوتا ہے۔ اس طرز کے حق اور مخالفت میں مختلف دلائل دیے جاتے ہیں، یہاں ان سے بحث مقصود نہیں۔ یہاں یہ عرض کرنا مقصودہے کہ اگریہ طریقہ جاری رکھنا ہوتواس کامقصدکتابیں ختم کرنے کی رسمی کارروائی نہ ہو، بلکہ اسے سرسری سہی، اجتماعی مطالعۂ حدیث میں تبدیل کیا جائے۔ طلبہ سے کہاجائے کہ وہ درس کے ا س دورانیے کواہمیت دیں ،متیقظ ہو کر بیٹھیں، کاغذ یا نوٹ بک اور قلم، ترجیحاًکچی پنسل ساتھ لے کر بیٹھیں،مختلف احادیث جومختلف جگہوں میں گزری ہیں، ان میں جو فرق محسوس ہو، اسے نشان زد کریں، جہاں احادیث ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہوں، انہیں نشان زدکریں، جہاں بعض طرق کے بعض الفاظ حدیث کی مختلف تشریحوں میں سے کسی خاص تشریح کی تائید کر رہے ہوں یا نئی تشریح یا توجیہ وغیرہ کی طرف آپ کا ذہن منتقل کر رہے ہوں، انہیں خواہ اشارے ہی کے درجے میں ہو، نوٹ کریں۔ دورانِ تلاوت، حدیث سے جو نیا استنباط، خاص طور پر جو حدیث کے متعلقہ باب سے بظاہر ہٹ کر ہو، اسے نوٹ کریں۔ کسی بھی کتاب کے انفرادی مطالعے اور اس کی سرد وتلاوت میں ایک فرق یہ ہے کہ انفرادی مطالعے میں حواس ظاہرہ میں سے صرف آنکھیں استعمال ہو رہی ہوتی ہیں اور یہاں آنکھوں کے ساتھ کان بھی استعمال ہو رہے ہوتے ہیں، اس لیے کہ ایک طالب علم پڑھ رہا ہوتا ہے اورباقی سن رہے ہوتے ہیں، اور تعلیم کے عمل میں جتنے زیادہ حواس بیک وقت استعمال رہے ہوں، وہ اتنی ہی مؤثر ہوتی ہے۔ اس لیے سردوتلاوت کے اس مرحلے سے بہت سے مفید کام لیے جاسکتے ہیں، بالخصوص ذی استعداد طلبہ کے حوالے سے۔ مثلاًایک مخصوص دورانیے مثلاًایک ہفتے یاایک مہینے کے درمیان ہم ان میں مقابلہ کراسکتے ہیں کہ دورانِ تلاوت کون اس طرح کی چیزوں کو زیادہ نوٹ کر سکتا ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی بھی کی جا سکتی ہے۔

(۳)

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بہت بڑا کردار بلکہ شاید سب سے اہم کردار عام لوگوں کی نجی، گھریلو، معاشرتی، روحانی زندگی وغیرہ میں راہ نمائی اوران کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے۔ آج کامسلمان اپنی زندگی کے ہرشعبے میں دین سے جتنادورہوچکاہے بلکہ دین کے بہت سے شعبوں میں بنیادی شعورتک موجود نہیں ہے، اس سب کامداواحدیث کے فیض کوعام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ اس معاملے میں درسِ حدیث وغیرہ کی تاثیر درسِ قرآن سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ محدثینِ کرام نے بجاطورپر کہاہے کہ حدیث نبوی میں اشتغال ایک گونہ صحبت نبوی سے مستفید ہوناہے۔ عامۃ الناس کی اصلاح وارشاد کے لیے حدیث کے حوالے سے جوبات ہوگی، اس پر بھی ان شاء اللہ یہ بات صادق آئے گی۔ تجربہ یہی ہے کہ حدیث کے حوالے سے خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی واقعات کے حوالے سے جو بات کی جائے، اس سے نہ صرف راہ نمائی ملتی ہے بلکہ عمل کاجذبہ اورداعیہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال تبلیغی جماعت اور فضائلِ اعمال سے دی جا سکتی ہے۔ جن جن اعمال کے بارے میں اس کتاب کے ذریعے حدیثیں سنی اور سنائی جاتی ہیں، وہ بہرحال ان میں کافی حدتک راسخ ہوچکے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے تدریسِ حدیث کے باقاعدہ اور مقصودی اہداف میں یہ بات شامل ہونی چاہیے کہ طلبہ کو اس کام کے لیے تیار کیا جائے۔ اس کے لیے یہاں چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔

احادیث کاوہ حصہ جو زہد، رقاق، آداب اور عام اخلاقی وعملی زندگی سے تعلق رکھتاہے، تدریس میں اسے بھی خاطرخواہ اہمیت دی جائے، انہیں آسان ابواب سمجھ کر روا روی میں گزارنے کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ ویسے توپوری حدیث بلکہ ہرفن کی تدریس میں تطبیقی پہلو بڑا اہم ہوتاہے تاکہ پڑھنے والوں کو پتا چلے کہ یہ باتیں کہاں کیسے منطبق ہوں گی، لیکن خاص طورپر ان احادیث کا ہماری جیتی جاگتی زندگی کے ساتھ ربط اورجوڑ واضح کر کے دکھایا جائے تاکہ وہ عامۃ الناس کے سامنے اسی اندازسے حدیث نبوی علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والتسلیم کو پیش کر سکیں۔

آج زندگی کو منضبط کرنے اور اسے کامیاب بنانے کے گرایک مستقل فن بن چکاہے جس پر مختلف معیاروں کی بے شمار کتابیں مارکیٹ میں آرہی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر میں نفسیات کے علم سے استفادہ کیا گیا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں اس حوالے سے اتنا مواد موجود ہے کہ اسے بنیاد بنا کر اس طرح کے موضوعات پرکتابوں کی پوری ایک سیریز تیارکی جاسکتی ہے۔ مثال کے طورپرمشکوٰۃ شریف کے ’’باب الحذروالتأنی فی الأمور‘‘ کی حدیثوں کوہم دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح توکل، تسلیم ورضا، حسدوغیرہ سے متعلق احادیث کو بالخصوص صوفیہ کی تشریح کے ساتھ دیکھاجائے توہمارے بہت سے نفسیاتی مسائل اور رویوّں کے بحران کا، جو جگہ جگہ کامیابی کی راہ میں ہمارے پاؤں کی بیڑیاں بن جاتے ہیں، حل مل سکتاہے۔ غصہ انسانی فطرت کا ایک لازمہ ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، البتہ اسے کنٹرول کرناضروری ہوتا ہے۔ غصے کو کنٹرول کیسے کیاجائے، آج یہ نفسیات کااہم موضوع توہے ہی، اسے انتظامی علوم (Management Sciences)کے نصابات میں بھی جگہ ملنے لگی ہے۔ دنیاکواس موضوع کی اہمیت کاآج احساس ہواہے۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس حوالے سے چودہ صدیاں پہلے خاصا مواد موجود ہے اور اس سلسلے میں بہت ہی قیمتی اورکارگرگُربتائے گئے ہیں۔ گھروں اور اداروں وغیرہ میں باہمی اعتماد کے مسائل کیسے پیدا ہوتے اور وہ کس طرح نقصان پہنچاتے ہیں اوران سے بچنے اورنمٹنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے، حسنِ ظن، سوءِ ظن، نمیمہ (چغل خوری) سنی سنائی بات آگے چلانا، باہمی مشاورت وغیرہ موضوعات کی حدیثوں میں اس کے بارے میں بہت سے شاندار اصول ملتے ہیں۔ گھریلوزندگی بالخصوص زوجین کے تعلقات توحدیث کاایک اہم موضوع ہیں جس پر احادیث کی کافی زیادہ تعداد موجودہے۔ مثال کے طورپر اس حوالے سے ایک قرآنی آیت ہے کہ ’عسی أن تکرہوا شیئا ویجعل اﷲ فیہ خیراکثیرا‘ (النساء : ۱۹ ) ’’ہوسکتاہے تم ان کی کسی بات کوناپسند کرواوراللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسی میں بڑی خیر رکھی ہو۔‘‘ اسی طرح حدیث نبوی میں ہے کہ ’لایفرک مؤمن مؤمنۃ إن کرہ منہا خلقارضی منہا آخر‘ (صحیح مسلم، کتاب الرضاع : باب الوصیۃ بالنساء) ’’کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے نفرت کارویہ اختیارنہ کرے، ہوسکتاہے اس کی کوئی ایک بات اسے ناپسند ہوتودوسری پسندیدہ بات بھی اس میں موجود ہو۔‘‘ انہی دونصوص کولے لیاجائے تونہ معلوم کتنے مسائل حل ہوسکتے اور تعلقات کے کتنے بحران ختم ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ ان میں یہ بتایاگیاہے کہ ایثاروہمدردی کے ساتھ برداشت کرنے کے اعلیٰ اصول کونہ بھی اپنانا ہو اور اپنے مفاد اور غرض ہی کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہو، تب بھی تجزیہ بہرحال حقیقت پسندانہ اور عملیت پسندانہ ہونا چاہیے۔

یہ تومحض چند مثالیں ہیں، وگرنہ کتنی حدیثیں ہیں جن کا ہماری روزمرہ کی زندگی کی الجھی ڈوروں کے ساتھ بڑاگہراتعلق ہے، لیکن یہ احادیث تونہ ہماری تدریسی دنیامیں اجاگر اورہائی لائٹ ہوتی ہیں اور نہ ہی وعظ ونصیحت کی دنیامیں، اس لیے ہماری تدریس حدیث میں اس بات کی کوشش ہونی چاہیے کہ طلبہ کے اندر اس طرح کی احادیث کوسمجھنے ان سے نتائج اخذ کرنے اورانہیں تطبیقی اندازسے بیان کرنے کی صلاحیت پیداہو۔

دین اورانسانیت کی جو بہت اعلیٰ اخلاقی قدریں ہیں، جیسے سچائی، دیانت وامانت، عہد کی پاس داری، دھوکا نہ دینا، اکل اموال الناس بالباطل سے احتراز وغیرہ، ان کے بارے میں قولی احادیث بھی موجود ہیں اورسیرتِ طیبہ میں ایسی مثالیں بھی موجودہیں جن سے پتاچلتاہے کہ ان اقدار کی خاطر بڑی بڑی مصلحتوں کو قربان کیاجاسکتاہے۔ اس کی ایک واضح مثال حدیبیہ کے معاہدے کی پاس داری کاوہ اندازہے جوحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل اور ابوبصیر کے بارے میں اختیار فرمایا۔ آج بدقسمتی ہے یہودیوں کی طرح مسلمانوں میں بھی ایسے رویّے رواج پارہے ہیں کہ محض معمولی تاویلوں اور حیلوں سے ان بنیادی اصول واقدار میں لچک پیداکرلی جاتی ہے۔ ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جوخیرسے پیشاب کا تو باریک سا چھینٹا بھی بدن یا کپڑوں پر گوارا کرنے کے لیے تیارنہیں ہوتے، لیکن دھوکا، فریب، حق تلفی کے جوازکے لیے معمولی تاویل بھی کافی ہوجاتی ہے۔ جب حدیث کی تدریس میں اعلیٰ اخلاقی قدروں کی اہمیت کے یہ پہلو اجاگر ہوں گے تو انہی طلبہ کے ذریعے، جوکل کے دینی راہ نما ہیں، یہ باتیں عام مسلمانوں تک بھی پہنچیں گی۔

حدیث کے عملی اور اخلاقی پیغام کو لوگوں تک پہنچانے اور اس کی تخم ریزی میں زبان وبیان کامسئلہ بھی بڑااہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اس زبان اور لہجے میں بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جسے عام آدمی سمجھ سکے۔ ہمارے ہاں کم وبیش آٹھ سال کے دوران طالب علم جس زبان سے آشنا ہوتا اور استعمال کا عادی ہوتا ہے، اس سے یاتووہ لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جو بہت عرصے سے علما کے ماحول سے وابستہ ہیں یا ایک محدود طبقہ جوخاص قسم کی تقریریں سننے کا عادی ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ لوگوں تک ان کی زبان اورلب ولہجے کے ذریعے ابلاغ بہت مشکل ہوتاہے۔ اس مسئلے کاتعلق محض حدیث کے ساتھ ہی نہیں، پورے دین کے ساتھ ہے اور مستقل موضوعِ بحث ہے۔ ہمارے ہاں تخصص فی الافتا کے طلبہ بعض اوقات فتویٰ دکھانے کے لیے لاتے ہیں تواس کی زبان دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اسے سمجھے گا کون؟ ہمارے مدارس کے تدریسی نظام میں زیرِ درس کتاب کے متعلقہ حصے کاترجمہ کرنا تدریسی عمل کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے، لیکن کہنے کوتو یہ اردو میں یاکسی مقامی زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ ایک بالکل نئی اور منفرد زبان ہوتی ہے جو صرف ان مدارس کی چار دیواری میں ہی پائی جاتی ہے۔ ( بقول مولانا زاہد الراشدی کے یہ ان مدارس کی اسپرانتو ہے) ثانیہ سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک حدیث کی جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، ان میں ترجمہ کرنے کا خاص اہتمام ہوتا ہے، لیکن وہ ترجمہ ایساہوتاہے کہ اگرعام آدمی کے سامنے کیاجائے تومحض ترجمے سے وہ حدیث کامفہوم اور پیغام حاصل نہیں کر پائے گا، اور چونکہ پوری طالب علمی کے زمانے میں وہ اسی زبان میں ترجمہ کرنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں کہ جب انہیں درسِ حدیث وغیرہ کا موقع ملتاہے تواس میں بھی وہ اسی زبان کے استعمال پر مجبورہوتے ہیں،اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتاکہ وہ کوئی نامانوس زبان بول رہے ہیں۔ اس لیے اساتذۂ حدیث اورمدارس کے ذمہ داران کواس پہلو پربھی خاص توجہ دینی چاہیے اور طلبہ کواس قابل بنانے کااہتمام کرناچاہیے کہ وہ عام مسلمانوں تک حدیث کاپیغام’’بلسانِ قومہ‘‘ کا مصداق بن کر پہنچاسکیں، خواہ وہ اردوزبان ہو،مقامی زبان ہویاکوئی اور۔ اس مقصد کے لیے طلبہ پرمحنت سے پہلے حدیث پڑھانے والے اساتذہ کے لیے باقاعدہ تربیتی کورسزاوروکشاپس کااہتمام ہونا چاہیے۔ جو حضرات سالہاسال سے ایک انداز میں ڈھل چکے ہیں، ان کے لیے توخود کوتبدیل کرنامشکل ہوگا لیکن کسی بھی مرحلے کی حدیث پڑھانے والے نوجوان مدرسین پراس طرح کی محنت کارگرثابت ہو سکتی ہے۔ ان میں سیکھنے اور اخذ کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کی تربیت کے اثرات بھی زیادہ دور رس ہوں گے، ان شاء اللہ ۔

(۴)

ہمارے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے حضرات، حدیث پر مزیدعلمی وتحقیقی کام کرنے کے قابل ہوسکیں، اس مقصدکے لیے چند اقدامات ضروری ہیں، خاص طورپرایسے باصلاحیت اورذہین طلبہ جن سے مستقبل میں اس نوعیت کے کاموں کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ ان میں سب سے پہلاکام تویہ ہے کہ طلبہ کے میول ورجحانات کو جانچنے اوراس کی روشنی میں مستقبل کی منصوبہ بندی اوراپنے لیے کسی راہ کواپنانے کے لیے راہ نمائی کاانتظام ہو۔ کم ازکم ثانویہ خاصہ کے آخرتک طالب علم کواس قابل ہوجاناچاہیے کہ وہ فیصلہ کرسکے کہ اس کو دینی علوم کی کس شاخ کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے اورکس نوعیت کے کام اور خدمت کی طرف وہ اپنے اندررجحان یااہلیت زیادہ پاتاہے۔ ہمارے نصابِ تعلیم کے حوالے سے بھی یہ صورتِ حال مستقل طور پر قابلِ نظرِ ثانی ہے کہ شروع سے آخرتک تمام طلبہ کوایک ہی جیسے مضامین اورکتب کی تدریس اورایک ہی اندازکے امتحانات سے گزرناہوتاہے، اس لیے وفاق کے نظام کے پابند مدارس وجامعات، نصاب کے بارے میں تومیول ورجحانات کے جائزے سے کوئی استفادہ نہیں کر سکیں گے، لیکن غیرنصابی علمی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے طلبہ کو راہ نمائی اور مدد ضرور فراہم کر سکیں گے۔

دوسرا کرنے کا کام یہ ہے کہ بحث وتحقیق کے مناہج واسالیب اور جدید طریقوں سے منتخب طلبہ کوروشناس کرایاجائے اورعملی کام کرایاجائے۔اگر چہ اب متعدجامعات میں دورۂ حدیث شریف کے سال میں جو تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے، اسے مالا یدرک کلہ لایترک کلہ کے تحت حوصلہ افزا تو قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے خاطرخواہ نتائج عموماً برآمد نہیں ہوتے۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ یہ مشق تمام طلبہ پریکساں کی جاتی ہے،جبکہ بعض جامعات میں دورے میں طلبہ کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ اس وجہ سے وہ طلبہ متعلقہ نگران اساتذہ کی پوری توجہ اور راہ نمائی حاصل نہیں کرپاتے۔ دوسرے بہت سے اساتذہ خوداس میدان کے شناورنہیں ہوتے۔ تیسرے ایک سال میں یہ کام ’’شب بھرمیں پیدا بھی ہوا مجنون بھی ہوا اور مر بھی گیا‘‘ کامصداق ہوتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ محنت چندمنتخب طلبہ پر کی جائے اوریہ سلسلہ کم ازکم خامسہ سے شروع کیا جائے اور تدریجاً انہیں آگے بڑھایا جائے۔

اس سلسلے میں کرنے کا تیسرا کام کمپیوٹرکے حوالے سے ہے۔ کمپیوٹر نے علمی وتحقیقی کاموں کوبہت آسان کر دیا ہے۔ اس کے ذریعے آدمی کوبیٹھے بٹھائے ان معلومات تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے جوکسی زمانے میں لم یکونوا بالغیہ إلا بشق الأنفس کا مصداق تھیں۔ دینی علوم کے حوالے سے ایسے پروگرام اور مکتبات آگئے ہیں جن کے ذریعے لاکھوں روپے مالیت کی کتابیں انسان کی میز پر ہوتی ہیں، جیسے مکتبۃ الفقہ وأصولہ، المکتبۃ الألفیہ فی السنۃ النبویۃ، الجامع الکبیر لکتب التراث اور المکتبۃ الشاملۃ وغیرہ۔ اس کے علاوہ عربی زبان میں بیسیوں ایسی ویب سائٹس ہیں جہاں سے بے شمار کتابیں ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی سرچ کی آپشن کے ذریعے مثلاً ’’گوگل‘‘ اور ’’یاہو‘‘ وغیرہ سے بہت سی معلومات تک رسائی ممکن ہوگئی ہے ۔ اگرچہ اہلِ فن، حدیث وفقہ وغیرہ کے بارے میں ان مکتبات پرانحصار کو پسند نہیں کرتے، ایک تو اس لیے کہ ان میں اغلاط ہوتی ہیں اور دوسرے اس لیے کہ طالب علم جب تک کتاب کو اپنے ہاتھ میں نہ پکڑے اوراس کے صفحات الٹ پلٹ نہ کرے، اس وقت اس میں فن کے ساتھ صحیح مناسبت پیدا نہیں ہوتی، لیکن پھربھی کمپیوٹر کی ان سہولتوں کااستعمال بہت بڑے فائدے سے خالی نہیں، بالخصوص کمپیوٹرکے ذریعے تلاش اور بحث کا کام کافی حدتک آسان ہو جاتا ہے (اگرچہ فنی مزاولت اورمناسبت سے استغنا نہیں ہوسکتا )اوراس کی مددسے خود کتب کی طرف مراجعت بھی کافی آسان ہو جاتی ہے۔ دوسرے جوشخص ایک عرصے تک کتابوں میں وقت گزار کر خاص قسم کی مناسبت پیدا کر چکا ہو، اس کے بارے میںیہ دوسر ااشکال بھی باقی نہیں رہتا۔ جہاں تک اغلاط کاتعلق ہے تواول تو ان مکتبات کے جونئے ایڈیشن آرہے ہیں، ان میں پہلے کے مقابلے میں اغلاط کم ہیں، دوسرے ایک حوالے کومتعددمکتبات میں دیکھنے سے کافی حد تک صحت کاوثوق ہو سکتاہے۔بہرحال کمپیوٹرکے ساتھ حدسے زیادہ حسنِ ظن اگرچہ غیرمناسب ہے لیکن وقت اورمحنت بچانے والی اورزیادہ سے زیادہ معلومات وموادتک رسائی دلانے والی اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھانا بھی ناشکری سے کم نہیں۔

اگرچہ کمپیوٹر کامحض استعمال اتنی بڑی سیکھنے کی چیزنہیں اور انگریزی اورعربی زبانوں سے واقفیت ہوتویہ خود اپنے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتا ہے تاہم باقاعدہ سیکھنے سے طالب علم کااس کے استعمال کے لیے حوصلہ بڑھ جاتاہے۔ہمارے کئی دینی مدارس وجامعات میں اب کمپیوٹرکی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، لیکن ایک توعموماًوہ بہت سرسری ہوتاہے ،دوسرے بہت سے طلبہ کے ذہنوں میں یہاں بھی کمرشل پہلو غالب ہوتا ہے اوران کے ذہن میں یہ ہوتاہے کہ ٹائپنگ اور گرافکس وغیرہ سیکھ کر وہ چارپیسے بنانے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہ پہلو بھی افادیت سے بالکلیہ خالی نہیں ہے، لیکن اصل ضرورت اس امرکی ہے کہ چند باصلاحیت طلبہ کوکمپیوٹر کے علمی وتحقیقی استعمال سے متعارف کرایا اوراس کاعادی بنایا جائے ۔ بالخصوص علمِ حدیث کے حوالے سے اس مشین کی افادیت بہت زیادہ ہے۔ ایک تواس علم کامزاج ہی ایساہے کہ وہ بحث اورپھیلاؤ کامتقاضی ہے اوراس طرح کے کاموں کے لیے کمپیوٹر بہت مفید ہے۔ آپ اس کو کسی حدیث کا ایک آدھ لفظ دیں یاکسی راوی وغیرہ کانام دیں توچند لمحوں میں اس سے متعلق مواد ہزاروں بلکہ لاکھوں صفحات میں سے ڈھونڈ کرآپ کے سامنے کردے گا۔ دوسرے اس لیے کہ دینی علوم میں سے جس علم کے متعلق کمپیوٹرپروگرامزپرکام سب سے زیادہ ہواہے، وہ حدیث اوراس سے متعلقہ علوم ہی ہیں ۔

کسی بھی حدیث پربحث کے لیے یہ چیزبہت اہم ہوتی ہے کہ اس کی تمام روایات اور طرق سامنے ہوں۔ مدارِسند راوی کی تعیین کر کے دیکھا جائے کہ اس کے نیچے کون کون سے راوی کن کن لفظوں کے ساتھ روایت کر رہے ہیں اور اس کی روشنی میں حدیث کے درست لفظ کومتعین کرنے کی کوشش کی جائے۔ عموماً ہوتا یوں ہے کہ پہلے دوتین اورکبھی چارطبقوں تک تو حدیث غریب ہوتی ہے، یعنی اوپر والے طبقوں میں سے ہر طبقے میں اسے روایت کرنے والا ایک ہی ہوتاہے، نیچے کوئی راوی ایساہوتاہے جس کے متعد دتلامذہ وہ حدیث اس سے روایت کر رہے ہوتے ہیں، ان کے نقل کردہ الفاظ اورسیاق میں بعض اوقات فرق بھی ہوتاہے۔ ایسی صورت میں ان تمام راویوں کی روایات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔یہ بھی دیکھنا پڑتاہے کہ کون سا راوی ثقاہت اور یادداشت وغیرہ کے اعتبارسے کیساہے، کس کواپنے شیخ کے پاس زیادہ عرصہ رہنے کا موقع ملا، کون اس شیخ کی روایات زیادہ اہتمام سے نقل کیا کرتا تھا، کون سا راوی روایتِ حدیث میں زبانی یادداشت پرزیادہ اعتماد کرتاتھا اور کون سا تحریر دیکھ کر روایت کرنے کااہتمام کرتاتھا، کس نے متعلقہ شخص سے بڑھاپے کی کمزوری (اختلاط) سے پہلے استفادہ کیا اور کس نے بعد میں، کون سے لفظ روایت کرنے والے تلامذہ کی تعداد زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان امورکودیکھ کر روایت کے لفظ ایک حدتک متعین ہوجاتے ہیں۔اگرچہ امام ترمذی اورامام ابوداؤد وغیرہ نے بعض مواقع پراس طرح کی بحثیں کرکے دکھائی ہیں، لیکن حدیث پرکام کرنے والے کواس کی جابجاضرورت پڑتی ہے۔ کمپیوٹرپروگرام اس معاملے میں باحث کی کافی مددکردیتے ہیں۔ پھرایک روایت کے الفاظ پراس طرح کی بحث وتحقیق کے دوران اسی موضوع کی دیگر احادیث ونصوص کی روشنی میں بھی اسے دیکھنا ہوتا ہے۔ اس طرح کے سب کام کمپیوٹرکے ذریعے نسبتاًآسان ہو جاتے ہیں، لیکن ایک نوآموز شخص کوبہرحال اس سلسلے میں کسی کی راہ نمائی اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کچھ طلبہ کو کمپیوٹرکے استعمال کااس انداز سے عادی بنایا جائے کہ وہ اسے اس طرح کے کاموں کے لیے استعمال کرسکیں۔

(۵)

قرون اولیٰ میں حدیث کی جمع وتدوین اورفقہی استنباطات کاکام جب اپنے عروج کی طرف بڑھ رہاتھا توحدیث ہی کے بارے میں ایک اور نوعیت کاکام شروع ہواجسے ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: 

(۱) مختلف الحدیث کاعلم،یعنی ایک موضوع پروارد ہونے والی احادیث اگرمتعارض نظرآئیں تو انہیں کیسے حل کیاجائے۔

(۲) مشکل الحدیث کاعلم،اس کے مفہوم میں مختلف الحدیث کے علاوہ وہ احادیث بھی داخل ہوجاتی ہیں جن پرتجربے ، مشاہدے، عقل یا زمانے کے مروّجہ علوم کی روشنی میں اعتراض وارد ہوتاہے یا کسی اور وجہ سے اس کے سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہوتی ہے۔ 

(۳) حدیث کی تشریح ووضاحت ، خاص طور پروہ احادیث جن کا براہِ راست فقہی احکام سے تعلق نہیں ہے۔ 

آگے تعبیر کی سہولت کے لیے ان تینوں شاخوں کے لیے ’’حدیث کا معنوی پہلو‘‘ کے لفظ استعمال کیے جائیں گے۔ اگرچہ اس نوعیت کے ابتدائی کام میں بعض ایسی شخصیات کانام آتاہے جوفقہ کے حوالے سے زیادہ معروف ہوئیں، جیسے امام شافعیؒ ، لیکن بہرحال اپنی بنیادی غایت کے لحاظ سے یہ فقہ الحدیث سے مختلف میدان ہے۔ اس موضوع پر دستیاب تحریروں میں سب سے قدیم امام شافعی ؒ (م:۲۰۴ھ)کی اختلاف الحدیث ہے جوان کی ’’الأم‘‘ کے ساتھ چھپی ہے۔ پھرابن قتیبہ (م: ۲۷۶ھ)، طحاوی(م: ۳۲۱ ھ) اور ابن ابی فورک وغیرہ کے ہاتھوں یہ کام آگے بڑھا ۔ مشکل الحدیث پر طحاوی کاکام سب سے مفصل اور ضخیم ہے۔ ان کی کتاب مشکل الآثار آج پوری تودستیاب نہیں ہے، دستیاب حصے کاتحقیق وتخریج کے ساتھ مطبوعہ نسخہ سولہ جلدوں میں ہے۔امام طحاوی کے بعد اس موضوع پراتناضخیم کام شاید کوئی اورنہیں کرپایا۔ امام شافعی کی اختلاف الحدیث میں فقہی رنگ غالب تھا، یہی بات طحاوی کی شرح معانی الآثار میں ہے ،لیکن ابنِ قتیبہ کے کام اور طحاوی کی مشکل الآثار نے اس فن کو فقہ الحدیث سے الگ ایک تشخص دے دیا۔ تشریح وتوضیحِ حدیث کے سلسلے کے اولین لوگوں میں مذکورہ ناموں کے علاوہ ابنِ حبان (م: ۳۵۴ ھ ) اورمعروف شافعی فقیہ ابوعبداللہ الحلیمی (م: ۴۰۳ھ) کا نام خاص طورپر لیاجاسکتاہے۔ مؤخرالذکر کے اقوال کی خوشہ چینی بعد کے تقریباً تمام شارحین حدیث نے کی ہے۔ امام بیہقی کتاب ’’شعب الإیمان ‘‘کی بنیادہی ابوعبد اللہ الحلیمی کی کتاب ہے ۔

کہنے کامقصدیہ ہے کہ جمع وتدوین حدیث کاکام جب کچھ سفر طے کر چکا تو دوسری نوعیت کاکام یعنی حدیث کے معنوی پہلو پر کام بھی شروع ہوگیا۔ درمیان میں کئی صدیاں نقل درنقل یا تہذیب وتلخیص کی بھی گزریں۔ پھرجمود کا دورآیا ، لیکن اب کچھ عرصے سے حدیث اورعلومِ حدیث پرکام کودوبارہ اٹھان مل رہی ہے، بالخصوص عرب دنیا میں کافی کام ہواہے اورہورہاہے۔ اس نشأۃِ ثانیہ میں بھی ترتیب قرونِ اولیٰ والی نظرآرہی ہے۔ اب تک جوکام ہواہے، اس میں جمع وترتیب، حدیث کو سہل التناول بنانا، اسنادی نقطۂ نظرسے بحث وغیرہ شامل ہے۔ کئی کتبِ حدیث جوزاویۂ خمول میں تھیں، جدید انداز کی تحقیق وتعلیق اور فہارس کے ساتھ مارکیٹ میں آگئی ہیں اورآرہی ہیں۔ پہلے سے متداول کئی کتب نئی فہارس کے ساتھ آگئی ہیں ،رجال پر اوررجال کی کتابوں پر خاصا کام ہواہے اورہورہاہے۔ جیساکہ پہلے عرض کیاکمپیوٹرکے حوالے سے عرب دنیا میں ایسے ایسے کام ہوچکے اورہورہے ہیں کہ جن سے طلبہ وباحثین کے ہاتھ اس علم کی وسیع دنیاکی چابی آگئی ہے، لیکن جس نوعیت کاکام امام شافعی، ابنِ جریرطبری(تہذیب الآثارمیں)،ابن قتیبہ، طحاوی اور حلیمی وغیرہ حضرات سے ہوا تھا، اس پر ابھی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید اللہ تعالیٰ کویہی منظورہوکہ پہلی نوعیت کے کام کے ایک خاص مرحلے تک پہنچنے اورمواد تک رسائی آسان ہو جانے کے بعدہی دوسری نوعیت کاکام شروع ہو، اس لیے کہ اس کام کے لیے جس طرح ذہن وفکرمیں عمق اور گہرائی کی ضرورت ہے، وہیں وسعتِ نظر کی بھی، بالخصوص حدیث کے تمام طرق کو ایک خاص انداز سے جمع کرکے دیکھنے کی، جس کا ذکر پہلے کمپیوٹرکی افادیت کے سلسلے میں ہوچکاہے۔

یہ بات میں اس لیے بھی عرض کررہاہوں کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ شاید یہ کام برصغیر سے لیں۔ ایک تواس لیے کہ یہاں بھی خدمتِ حدیث کی ایک روایت موجود ہے۔ فوادعبدالباقی کا ’مفتاح کنوزالسنۃ‘ کے مقدمے میں یہ بیان تومشہور ومعروف ہے کہ اگراس زمانے میں علماے ہند کی علومِ حدیث کی طرف توجہ نہ ہوتی توبلادِمشرق سے ان علوم کاخاتمہ ہوچکاہوتا۔ اسی طرح اپریل ۲۰۰۳ء میں کلیۃ الدراسات الاسلامیۃ والعربیہ دبی کی طرف سے علومِ حدیث پرہونے والی ایک کانفرنس میں ڈاکٹرصالح یوسف معتوق نے اپنے مقالے کے شروع میں جہاں چودہویں صدی ہجری کے دوران علومِ حدیث سے لاتوجہی کاشکوہ کیاہے، وہیں علماے برصغیر کااستثنا کرتے ہوئے کہاہے:

یُستثنی من ذلک بلاد الہند، فقد ظہر فی القرون الثلاثۃ الأخیرۃ فیہا نہضۃٌ نشِطۃ فی مجال علوم السنۃ وشروحہا، وظہر فیہا أعلامٌ کبار صنفوا کتبا جلیلۃ تدل علی علوّ کعبہم ورسوخ قدمہم فیہا۔

دکتورصالح یوسف جس دور کی بات کررہے ہیں، اس میں برصغیر کے اندرکچھ تواس نوعیت کاکام سامنے آیا جس میں سابقہ شارحین ومحدثین سے بہترین انتخاب کرکے اسے عمدہ اندازسے جمع کر دیا جائے۔ اس کی ایک بہت اچھی مثال کے طورپر مولاناعبدالرحمن مبارک پوری کی شرح ترمذی ’’تحفۃ الأحوذی‘‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ترمذی کی ایسی مکمل شرح ہے جس سے پوری دنیا میں شاید سب سے زیادہ استفادہ کیا جا رہا ہے۔ حسنِ انتخاب، حسنِ ترتیب اور حسنِ عرض اس کی اہم خصوصیات ہیں جواکثرمقامات پر نظرآتی ہیں۔ دوسری نوعیت کاکا م وہ ہے جو مجتہدانہ انداز کا ہے۔ اس میں شاہ ولی اللہ، مولانا رشید احمد گنگوہی، شیخ الہند مولانامحمود حسن دیوبندی، مولانا انورشاہ کشمیری اور مولانا شبیراحمدعثمانی جیسے نام بطورِ مثال پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں بیشتر کاکام اگرچہ ذراغیر منضبط ساہے، لیکن اس میں حلّ حدیث، رفعِ تعارض اور رفعِ اشکال واغلاق وغیرہ کے سلسلے میں نئی جہتیں دریافت کی گئی ہیں اوربہت سے مقامات پرجہاں اب تک شارحینِ حدیث پہنچے تھے، بات کو وہاں سے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ برّ صغیر میں عمق اورگہرائی اورحدیث کے معنوی پہلو سے زیادہ دلچسپی کی روایت کی وجہ سے ہونایہی چاہیے کہ معنوی پہلوپر جس کام کی یہاں بات ہورہی ہے، وہ برّ صغیر میں انجام پائے ،لیکن اس کے ساتھ ناامیدی کایہ پہلو بھی سامنے آتاہے کہ ہمارے ہاں اس علم کے ساتھ بے اعتنائی سی ہونے لگی ہے اور اس مبارک علم کے وسیع ترامکانات نظرانداز ہورہے ہیں ۔

عصرِحاضر میں مشکل الحدیث سمیت حدیث کے معنوی پہلوپرکام کوآگے بڑھانے کی ضرورت بھی بڑھ گئی بلکہ چیلنج کی شکل اختیار کی گئی ہے اوراس کام کے لیے آسانیاں اورامکانات بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ضرورت تواس لیے بڑھ گئی ہے کہ نظامِ کائنات سے متعلق احادیث میں جن موضوعات پربات کی گئی ہے، ان میں سے کئی چیزوں کے بارے میں گزشتہ زمانوں میں بیشترطبعی علوم یاتو خاموش تھے یاان کے پیش کردہ نظریات محض تخمینوں پرمبنی تھے ،اس لیے ان نظریات کو بجا طور پر علمی اعتبار سے غیر ثابت شدہ قرار دے دیا جاتاتھا۔ اب ان میں سے کئی امور پرجدید سائنس نے نہ صرف سکوت توڑا ہے بلکہ محض تخمینوں کی بجائے تجربے اوراستقرا پرمبنی نظریات پیش کردیے ہیں۔ اب گویا ان میں سے کئی امور عقلی ثبوت کے اس درجے تک پہنچ چکے ہیں جس سے نقلِ صحیح کا تعارض نہیں ہوسکتا۔ اب احادیث مبارکہ میں دی گئی معلومات اوران سائنسی نظریات کاتقابلی مطالعہ ضروری ہوگیاہے۔ اب ان نظریات کو غیر ثابت شدہ کہہ کر نہ ماننے والی بات چلنے والی نہیں۔ اسی طرح سوشل سائنسز میں اب عقلی اعتبار سے مجرد عقلی مقدمات ملانے کو کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اکثر باتوں کو ان کے نتائج وآثار کے حوالے سے پرکھا جاتاہے ، اور آثار ونتائج پرکھنے کے لیے خالص اندازوں اور تخمینوں کی بجائے شماریاتی طریقوں پر بھی انحصار کیا جاتا ہے۔

معنوی پہلو کے اس کام کے امکانات بڑھنے اورآسانیاں پیداہونے کاسب سے پہلامظہر تویہ ہے کہ اس نوعیت کے کام کی سب سے پہلی سیڑھی ہر ہر حدیث کے تمام طرق وروایات کویکجا کرنا اوراسی موضوع پردیگر روایات کوجمع کرناہے۔ اس کام کے لیے آج کے دورنے بڑی سہولتیں پیداکردی ہیں۔ اس آسانی کادوسرامظہریہ ہے کہ پہلے بہت سی احادیث ایسی تھیں جنہیں حل کرنے کے لیے مروّجہ طبعی علوم سے کوئی مدد نہیں ملتی تھی جبکہ آج سائنس کے مختلف شعبوں میں نئی دریافتوں ،تحقیقات اورایجادات نے بہت سی احادیث کوسمجھنا آسان کردیاہے ،اس لیے کہ کئی جگہوں پر آج کی سائنسی تحقیق کے نتائج وہی باتیں ہیں جوچودہ صدیاں پہلے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی تھیں۔

اس کی ایک معروف مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات ہیں جن میں بخار کو ایک حرارت قرار دے کر اس کا علاج پانی بتایاگیا ہے۔ اس دور کی طب کے لیے یہ بات بڑی عجیب وغریب تھی۔ بعض لوگوں نے تو اس دور کی طب کی بنیاد پرنعوذ باللہ اس حدیث پر اعتراضات بھی کیے۔ محدثین کے ہاں بھی اس حدیث کی تشریح کے حوالے سے کئی سوالات زیرِ بحث آئے، مثلاً یہ کہ پانی سے بخار کو ٹھنڈا کرنے کی یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر پانی کے بارے میں فرما رہے ہیں یا صرف آبِ زم زم کے بارے میں، اس لیے کہ بعض روایات میں زم زم کا ذکر بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جہاں آپ نے زم زم کا ذکر فرمایا، آیاوہ صرف اس لیے تھا کہ اس وقت آپ مکہ مکرمہ میں بات فرما رہے تھے اور اہلِ مکہ کے لیے سب سے آسانی سے دستیاب ہونے والا پانی یہی تھا۔ برکت کا پہلو اضافی تھا اور آپ کا اصل مقصد عمومی طور پر پانی کا یہ طبی اثر بیان کرناتھا، یا آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہی محض برکت کے پہلو سے ہے، طبی علاج بیان کرنا آپ کا مقصد ہی نہیں تھا، اس لیے آپ کا یہ ارشاد صرف زم زم کے بارے میں ہے، باقی پانیوں پر اس کا اطلاق درست نہیں ہے۔ شارحینِ حدیث کے ہاں دونوں نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں۔ (فتح الباری ، کتاب الطب : باب الحمی من فیح جہنم) اسی طرح ایک صحابیہ اور صدیقِ اکبر کی صاحب زادی اسما سے اس پر عمل کی یہ شکل نقل کی گئی ہے کہ وہ مریض پر پانی کے چھینٹے مارا کرتی تھیں۔ اس بنیاد پر بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ بخار کا پانی سے علاج ایک طبی مسئلہ ہے یا ’’ النشرۃ‘‘ اور عملیات ومنتر قبیل کی کوئی چیزہے۔ بعض حضرات نے اسے ’’ النشرۃ‘‘ کی ایک جائز شکل قرار دیاہے۔ (حوالہ بالا)

دونوں سوالوں کا جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلا کام تو کرنے کا ہے کہ حدیث کے تمام سیاقات اور الفاظ کو سامنے رکھا جائے۔ محدثانہ انداز کے اس عمل کے نتیجے میں بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر پانی کے بارے میں یہ بات فرمارہے ہیں اور ظاہری اسباب کے نظام اور طب کے حوالے سے ہی یہ بات فرما رہے ہیں۔ اس محدثانہ بحث کی تفصیل کا تو یہ موقع نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ عرض کرناہے کہ حدیث کی تشریح میں جو مختلف احتمالات تھے، ایک محدثانہ بحث جس احتمال کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے، جدید میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے اور اب طبی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ مریض کا درجۂ حرارت کم کرنے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے۔ اس طرح سے حدیث کے معنوی پہلو پر کام کے سلسلے میں جدید سائنس بھی ہماری مدد کرسکتی ہے۔

اسی کی ایک اور مثال میں یہ عرض کروں گا کہ متعدد صحابہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیاہے کہ بچہ کبھی اپنے باپ پر جاتاہے اور کبھی ماں پر، اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ بھی احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت تک کے مروجہ علم بالخصوص جزیرۂ عرب میں مروجہ علم کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، اس لیے متعدد یہودی علما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوچ کر یہ سوال کیا کہ اس کا جواب کوئی نبی ہی دے سکتاہے۔ آپ نے اس کے جواب میں جو بات ارشاد فرمائی، وہ کچھ اس طرح ہے: ’’إذا سبق ماء الرجل ماء المرأۃ نزع الولد إلیہ وإذا سبق ماء المرأۃ ماء الرجل نزع الولد إلیہا‘‘۔ ان لوگوں کے لیے یہ بات نئی تھی کہ مردوں کے علاوہ عورت کا بھی کوئی ایسا جز ہوتا ہے جو استقرارِحمل میں کردار کرتاہے۔ عام طور پر سمجھا یہی جاتا تھا کہ عورت کا کردار محض یہ ہے کہ اس کا رحم بچے کی نشو ونما اور تخلیق کا محل ہے، استقرارِحمل صرف مرد کے نطفہ سے ہوتاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تو یہ بات متعارف کروائی کہ عورت کا بھی جزوِ تولید ہوتا ہے اور استقرارِ حمل میں مرد کے مادۂ تولید کی طرح اس کا بھی کردار ہوتاہے۔ (گویا عورت کا کردار جز ہونے کا بھی ہے اور محلِ تخلیق ہونے کا بھی، ماں کا حق باپ سے زیادہ ہونے کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہو) دوسری بات اس حدیث میں یہ کہی گئی کہ مرد و عورت میں سے جس کا جزوِ تولید سبقت حاصل کرلے، بچہ اس کی طرف جاتاہے۔ مذکورہ روایت میں اس سلسلے میں سبقت کے لفظ ہیں ، جب کہ اسی طرح کی حدیثوں میں آنحضرت سے ’’علوّ‘‘ کے لفظ بھی مروی ہیں، یعنی جس کا جزوِ تولید غالب آجائے، بچہ اس کی طرف جاتا ہے۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے قرطبی سے نقل کیاہے کہ جن روایات میں ’’علوّ‘‘ کا لفظ ہے، وہاں بھی مراد غالب آنا نہیں بلکہ سبقت یعنی پہلے آناہے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دور میں ان دونوں میں سے کسی کے غلبے کا تصور ممکن نہیں تھا۔ یہ بات البتہ سوچی جاسکتی تھی کسی کا مادۂ تولید کسی خاص جگہ پر پہلے پہنچ جائے اور کسی کا بعد میں۔ اسی کو وہ سبقت کا مصداق سمجھ رہے ہیں۔ ابنِ حجر کی گفتگو سے معلوم ہوتاہے کہ غلبے کا تصور صرف یہی ہو سکتا تھا کہ کسی کے مادۂ تولیدکی مقدار زیادہ ہو۔ اگر اس حوالے سے روایات کودیکھیں تو اس مضمون کی حدیثیں سرسری تلاش کے نتیجے میں پانچ صحابہ سے مروی ہیں: أنس ، ثوبان ، عائشہ ، ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم۔ ان میں سے حضرت انس کی روایتیں دو طرح کی ہیں اور دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الگ الگ موقعوں کے ارشادات ہیں۔ ایک میں وہی سبقت کے لفظ ہیں جو اوپر گزرے ، جبکہ دوسری روایت حضرت انس سے قتادہ روایت کررہے ہیں اور قتادہ سے سعید بن أبی عروبہ۔ سعید کو شک ہے کہ ’’سبق‘‘ کے لفظ ہیں یا ’’علا‘‘ کے۔ اس کے علاوہ باقی چاروں صحابہ کی روایات میں ’’ علوّ ‘‘ کے لفظ ہیں۔ اب قرطبی نے جو سبقت کے لفظوں کو اصل قرار دیا اور علو کے لفظوں کو اس کے تابع قرار دیا، ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ بخاری کے لفظ ہیں ، لیکن اس کے علاوہ قرطبی کے اس قول کو اختیار کرنے کی یہ وجہ بھی قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ اس دور میں ’’ما ء الرجل‘‘ یا ’’ماء المرأۃ‘‘ کے غلبے اور علوّ کا تصور بہت مشکل تھا ، جبکہ مجموعی روایات سے پتا چلتاہے کہ ’’علوّ‘‘ کے الفاظ نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہیں۔ آج جدید علم الأجنۃ (Embryology) اور علم المورثات (Heredity) یا جینیات (Genetics)کے علم کی روشنی میں دیکھیں تو ایک طرف تو یہ نظر آئے گا کہ ان حدیثوں میں صداقتوں کی ایک دنیا چھپی ہوئی ہے ، اور یہ حدیثیں جس طرح عبداللہ بن سلام جیسے یہودی علما کے لیے آپ کی نبوت کی دلیل تھیں، آج بھی آپ کا معجزہ ہیں۔ دوسری طرف سے یہ نظر آئے گا کہ مرد وعورت میں سے دونوں کے کروموسمز میں موجود جین نئے بچے کی خصوصیات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس عمل میں ان میں پائی جانے والی خصوصیات میں تفاوت ہونے کی صورت میں بعض بروے کار آجاتے اور مؤثر ہوتے ہیں، یہی ان کا ’’ علوّ‘‘ ہے۔ مثلاً ایک کے جینز میں قد لمبا ہونے کی خصوصیت ہے اور دوسرے میں چھوٹا ہونے کی، تو ایک جین ایکٹو (active) اور بروے کار ہو گا اور دسرا موجود تو رہے گا لیکن غیر مؤثر۔ اگلی کسی نسل میں وہ مؤثر ہو جائے گا اور دوسرا غیر مؤثر۔ (اسی کو ایک حدیث مبارک میں ’’لعل عرقا نزعہ‘‘ کے لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے) اس لیے ’’علوّ‘‘ کے الفاظ والی روایات کو دوسری روایات کے تابع کرنے کی ضرورت جوبعض قدیم شارحین نے محسوس کی تھی، اس کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حدیث کے ان لفظوں کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جانا چاہیے، اس لیے کہ اب ثابت ہو چکا ہے کہ بچے میں باپ والی خصوصیات ہوں یا ماں والی، اس میں ’’علوّ‘‘ کا بھی کردار ہے۔ جب حدیث کے الفاظ ہوبہو امرِواقعہ پر منطبق ہورہے ہیں تو ان کی توجیہ یا انہیں اپنے ظاہر سے ہٹانے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ حافظ ابنِ حجر نے یہاں ایک بڑا اہم نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ سوال یہاں دراصل دو ہیں۔ ایک یہ کہ بچے کے اپنے ددھیال یا ننھیال کے مشابہ ہونے کی وجہ کیاہے، دوسرا یہ کہ بچے کے مذکر یا مؤنث ہونے کی وجہ کیاہے۔ ابنِ حجر کی یہ بات اس لیے اہم ہے کہ بعض احادیث کے سیاق سے اول الذکر سوال زیرِبحث معلوم ہوتاہے اور بعض سے مؤخر الذکر۔ ابنِ حجر نے یہ بھی بڑی اہم بات کہی ہے کہ مذکر ومؤنث ہونے کے معاملے سے متعلق ’’سبقت‘‘ کے الفاظ ہیں، اور جہاں مشابہت کا سوال ہے، وہاں ’’علو‘‘ کو اپنے معنی پر ہی رکھا جانا چاہیے۔ اب یہاں سے ہمارے لیے غور کا ایک اور دروازہ کھلتاہے ، وہ یہ کہ ماء الرجل اور ماء المرأۃ سے کیا مراد ہے؟ تو ممکنہ طور پر اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ماء المرأۃ سے عورت کا جزوِ تولید یعنی اس کا بیضہ اور ماء الرجل سے مراد مرد کا جزوِ تولید یعنی جرثومہ ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ ماء المرأۃ کے معنی ہیں بچی کی پیدائش کا باعث بننے والا کروموسوم یعنیY Choromosome اور ماء الرجل کے معنی ہیں لڑکے کا باعث بننے والا کروموسوم یعنی X Choromsome، اور اس معاملے کا تعلق صرف مرد کے کروموسومز سے ہوتاہے ، اس لیے کہ یہ دوقسم کے کروموسوم صرف مرد کے مادۂ تولید میں ہوتے ہیں۔ مرد کے بے شمار کروموسوم بیضہ سے ملنے کے لیے دوڑتے ہیں، ان مختلف کروموسومز میں جو آگے نکل کر بیضہ کے ساتھ ملاپ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، نتیجہ اس کے مطابق ہوتاہے اور یہی اس کی پہل اور سبقت ہے، البتہ بچے کے ماں یا باپ کے مشابہ ہونے یعنی ماں یا باپ والی خصوصیات کا حامل ہونے میں ماء الرجل اور ماء المرأۃ کے پہلے معنی مراد ہیں، یعنی عورت اور مرد کا جزو تولید، اور ’’علوّ ‘‘ سے مراد بعض جین کا موثر اور بروے کار ہو ناہے، لہٰذا حافظ کی یہ بات بڑی وزنی ہے کہ سبقت اور علو دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔

اسی سلسلے میں ایک مثال یہ بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ بعض احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض ایسے مناظر کو دیکھنا منقول ہے جو صدیوں پہلے ہو چکے ہیں، مثلاً حضرت یونس علیہ السلام کا خاص قسم کی اونٹنی پر خاص حالت میں تلبیہ پڑھتے ہوئے ایک جگہ سے گزرنا، اسی طرح کا معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دیکھنا۔ بعض لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت یا دوزخ میں دیکھا۔ آپ نے جنت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سنی، آپ نے امّ سُلیم کو جنت میں دیکھا۔ جو واقعات صدیوں پہلے ہوچکے، انہیں آپ نے کیسے دیکھ لیا؟ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو واقعہ ابھی ہوا ہی نہیں بلکہ اسے مستقبل میں ہوناہے، وہ آپ نے کیسے دیکھ لیا؟ اس کی محدّثین نے مختلف توجیہات کی ہیں۔ صوفیہ نے اس طرح کی احادیث کے حل اور مختلف سوالوں کے جواب کے لیے صور مثالیہ یا اجسادِ مثالیہ کا تصور پیش کیا۔ آج آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی ایجاد نے یہ سب کچھ سمجھنا بہت آسان کردیا ہے۔ قرآن وحدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنے والے تمام واقعات لوحِ محفوظ اور ام الکتاب (The Mother Disk or Unaccesible Disk) میں لکھوا رکھے ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتاتھا کہ لکھنے کا تعلق صرف نص (text ) سے ہوتاہے اور لوحِ محفوظ میں آنے والے واقعات صرف عبارت کی شکل میں لکھے ہوئے ہوں گے، لیکن یہ بات بھی عین ممکن ہے کہ لوحِ محفوظ کا یہ ریکارڈ عبارت کے علاوہ سمعی وبصری یعنی آڈیو ویڈیو شکل میں بھی ہو، چنانچہ آج کل کمپیوٹر کی زبان میں ان سب چیزں کے لیےwrite کرنے کا لفظ بولا جاتاہے۔ انسان تو صرف ہو چکے واقعات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کر سکتاہے، لیکن کیا بعید کہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوحِ محفوظ وغیرہ میں آئندہ ہونے والے واقعات کی بھی مکمل آڈیو ویڈیو وغیرہ محفوظ ہوں۔ اس تک اگرچہ کسی کی رسائی ممکن نہیں، لیکن جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہیں، اسے ان واقعات میں سے بعض کے کچھ کلپس دکھا سکتے ہیں۔ عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا ، إلا من ارتضی من رسول فإنہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا ( الجن :۲۶، ۲۷ ) ہو سکتا ہے کہ صوفیہ کا اجسادِ مثالیہ کا تصور اسی طرح کے کسی معاملے سے تعلق رکھتا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔ اس طرح کے موضوعات پر رابطۃ العالم الإسلامی کی ذیلی تنظیم ہیءۃ الإعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ نے عربی اور انگریزی زبانوں میں کافی کام کرایاہے جو کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے اور انٹر نیٹ پر بھی۔ حدیث کے طلبہ اور متخصصین کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔

بخار کے علاج، جنین والی احادیث اور عالمِ غیب کے ان مشاہدات والی احادیث کی مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ احادیث کے تمام طرق وروایات کو جمع کرنے اور دیگر علوم سے استفادے کے ذریعے حلِّ حدیث یا حدیث کے معنوی پہلو پرکام کرنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔یہ بات صرف طبعی علوم کے ساتھ، جنہیں عرفِ عام میں سائنس کہا جاتاہے، مخصوص نہیں ہے، بلکہ دیگر متعدد علوم کا بھی یہی حال ہے۔ مثال کے طورجن احادیث میں پیشین گوئی کے طور پر دیگر اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کے بارے میں بات ہوئی ہے، ان کو سمجھنے کے لیے تاریخ اور جغرافیہ کا اتنا علم ضروری ہے جن سے ان اقوام کے بارے میں ضروری معلومات حاصل ہوسکیں۔ قربِ قیامت کے بارے میں احادیث میں ’’روم‘‘ کا تذکرہ بہت کثرت سے ملتا ہے، جبکہ اس وقت روم نام کی کوئی طاقت دنیا میں موجود نہیں ہے۔ جو رومی سلطنت تھی، اس کے مشرقی اور مغربی حصے دونوں کبھی کے ختم ہو چکے۔ اب قربِ قیامت میں ’’روم‘‘ کی ممکنہ صورت کیا ہو سکتی ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عربوں کے ہاں ’’روم‘‘ کن کو کہا جاتا تھا، یہ جاننے کے لیے رومی تاریخ سے موٹی موٹی واقفیت ضروری ہے۔ اس کے مختلف ادوار کیا تھے، مغربی اور مشرقی حصوں میں تقسیم، عیسائیت اور رومیت کاملاپ اور اس کے اثرات، مغربی رومی سلطنت کا خاتمہ اور شارلمین (Charlemagne 742-814) اور اوتو (Otto 912-973) وغیرہ کے ہاتھوں اس کے احیا کی کوششیں اور ان کے کوششوں کے محرکات، مشرقی رومی سلطنت (بیزنطینی سلطنت) کا خاتمہ وغیرہ، اس طرح کی چیزوں سے واقفیت ان احادیث کے سمجھنے میں کافی مدد گا ر ہو سکتی ہے ۔

(۶)

فہمِ حدیث کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ بعض تعبیرات کے اجمال کا ہوتاہے۔ اس کے پیشِ نظر نہ رہنے کی وجہ سے بعض اوقات فہمِ حدیث میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ ویسے تو اس اصول کی ضرورت ہر زمانے میں رہی ہے، لیکن عصرِحاضر میں حدیث پرکام کرتے ہوئے اس کا پیشِ نظر رہنا بہت ضروری ہے ، جیساکہ آگے ذکر کی جانے والی مثالوں سے واضح ہوگا۔

بات درحقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ اپنے محسوسات اور مشاہدات کا اسیر ہوتا ہے، اسی کے مطابق کسی دور کے محاورات جنم لیتے ہیں، اور انسان کو اس کے مشاہدے سے ماورا کسی چیز کے بارے میں بتانا ہو تو بھی اس کے مشاہدات ومحسوسات اور اس کے محاورے کا ہی سہارا لینا پڑتاہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ متکلم کے پیشِ نظر کوئی ایسی حقیقت ہوتی ہے جو کم از کم تاحال اس کے مخاطب کے سامنے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی محسوس اور مشاہد دنیا سے بہت ماورا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں متکلم کے لیے ابلاغ ایک مسئلہ ہوتاہے۔ یہ مسئلہ ضروری نہیں کہ متکلم کی ابلاغی صلاحیت کی کمزوری سے پیدا ہو، بلکہ عین ممکن ہے کہ متکلم تو اس کے لیے موزوں ترین تعبیرات پر قادر ہو، لیکن وہ تعبیر مخاطبین کے لیے سودمند نہ ہو۔ ایسے موقع پر یا تو مجاز کا سہارا لینا پڑتاہے اور اس حقیقت کے مشابہ ترین چیز کسی کا استعارہ اختیار کرلیا جاتاہے، یا اس میں کسی قدراجمال باقی رہنے دیا جاتاہے جس کا بیان خود واقعہ یا کسی زمانے کی معلومات کی ترقی سے ہو جاتاہے۔ اسی طرح کسی ٹھیٹھ حقیقت کے اظہار اور محاورے میں تعارض کی صورت میں اگراس حقیقت کا بیان بذاتِ خود مقصود نہ ہو یا اصولیین کی اصطلاح میں اس حقیقت کا بیان ’’ما سیق لہ الکلام‘‘ نہ ہو تو ایسی صورت میں محاورے کے پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ اصل مقصود کا ابلاغ درست طریقے سے ہو سکے۔ نصوص میں اس کی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں۔

کسی زمانے میں یہ بحث چلتی رہی ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی سمجھ بوجھ کا تعلق دل سے ہے یا دماغ سے۔ مسلمان مفکرین میں بھی یہ مسئلہ زیرِ بحث رہا ہے۔ کئی حضراتِ متکلمین نے اسے دل کا کام قرار دیا ہے، جبکہ جدید کی طرح قدیم اطبا اسے دماغ کا وظیفہ قرار دیتے تھے۔ امام ابو حنیفہ سے بھی یہ بات نقل کی گئی ہے۔ بظاہر امام صاحب نے اس مسئلے میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شریعت کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،ایک طبی مسئلہ ہے اور جس فن کامسئلہ ہو، اس میں اسی کے ماہرین پر اعتماد کرنا چاہیے۔ جہاں تک ان نصوص کا تعلق ہے جن میں سمجھنے اور غور کرنے کی نسبت دل کی طرف کی گئی ہے، ان میں بنیادی طور پر تعبیر کا وہی اصول کار فرماہے جس کا ابھی ذکر ہوا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی بھی نہیں کہے گا کہ نصوص کا مقصود اصلی بطور عضو دل کا وظیفہ بیان کرناہے۔ اصل مقصود غور وفکر کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی دعوت دیناہے ، عضو اس کے لیے جو بھی استعمال ہو۔ محاورے میں چونکہ ایسے موقع پر دل ہی کی طرف نسبت کی جاتی تھی، اس لیے اسی محاورے کو اصل مقصود کے ابلاغ کے لیے استعمال کر لیا گیا ، اور اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ پہلے محاورے کی اصلاح کرکے اصل مقصود سے توجہ ہٹائی جائے۔ میں اس کی یہ مثال دیا کرتاہوں کہ جدید سائنس میں طے شدہ ہے کہ سوچنے سمجھنے کی طرح انسانی جذبات کا محل بھی دماغ ہی ہوتاہے۔ اب سائنس کا ایک استاد جو اپنے طلبہ کو دلیلوں سے سمجھا تا ہے کہ یہ سب کچھ دماغ سے ہوتاہے، اس کے جذبات کو کسی سے ٹھیس پہنچے تو وہ کبھی یہ نہیں کہے گا کہ تمہارے اس طرزِعمل سے میرا دماغ دُکھا ہے، وہ یہی کہے گا میرادل دُکھاہے۔ وہ یہ توکہے گا کہ میرادل ٹوٹا ہے، یہ نہیں کہے کہ دماغ ٹوٹا ہے۔ بیگم کا پکایا ہوا کھانا اگر پسند نہیں ہے تو یہ کہے گا میرا اسے کھانے کو دل نہیں چاہ رہا، یہ نہیں کرے گا کہ پہلے لیکچر دے کر اسے سمجھائے کہ چاہنے کا تعلق دل سے نہیں دماغ سے ہوتاہے، پھر اسے یہ بتائے کہ فلاں چیز کھانے کو میرا دماغ چاہ رہاہے اور فلاں کو نہیں چاہ رہا۔

دجال کی احادیث میں اس کے گدھے کا ذکر ہے کہ وہ غیر معمولی بڑاہوگا، اس کی رفتار بھی غیر معمولی ہوگی، خاص طور پر اس کے کانوں کے بارے میں آتاہے کہ وہ بہت بڑے ہوں گے۔ یہاں پر بھی تعبیر کے اسی مسئلے کا انطباق ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے وہ گدھا ہی ہو لیکن خرقِ عادت طور پر اتنا بڑا ہو، ہو سکتاہے کہ اس وقت تک جینیٹک انجینئرنگ اتنی ترقی کرجائے کہ اتنے بڑے بڑے گدھے پیدا ہونے لگیں ، ہوسکتاہے گدھے سے مراد جہاز ہو ، لیکن ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری حقیقت منکشف بھی ہواور آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ اس زمانے میں اسے ہوائی جہاز کہا جائے گایا کوئی نام ہوگا، تب بھی آپ اگر یہ لفظ بولتے توعصر حاضر تک بلکہ شاید دجال کے زمانے تک وہ لفظ ’’متشابہات‘‘ میں سے رہتا۔

اسی اصول کا اطلاق نظامِ کائنات سے متعلق کئی احادیث پر بھی ہو سکتاہے۔ مثال کے طور پر حدیثوں میں زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ فاصلہ بعض روایات میں تقریباً سترسال کی مسافت اور بیشتر میں پانچ سو سال کی مسافت بیان کیا گیاہے۔ اب اُس دور کے اعتبار سے ایک دن کی مسافت کو لیا جائے تو وہ تقریباً سولہ میل بنتی ہے، اور سال ۳۶۵ دن کا بھی لگالیں تو ایک سال کی مسافت ۸۵۴۰ میل بنتی ہے۔ اس طرح ستر سال کی مسافت ۴۰۸۸۰۰میل اور پانچ سو سال کی مسافت ۲۹۲۰۰۰۰ میل بنتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ تو سورج کی زمین سے مسافت ہے۔ یہ حساب تو اونٹوں کی رفتار سے تھا۔ اگر گھوڑوں کی رفتارسے بھی حساب لگا لیا جائے تویہ عدد اگرچہ زیادہ ہو جائے گا، لیکن تب بھی جو عدد سامنے آئے گا، وہ آج کے خلائی علم کے لحاظ سے، جس میں فاصلوں کی پیمایش میں نوری سال بھی چھوٹے محسوس ہو رہے ہوں، کوئی بہت بڑا عد نہیں ہوگا،اس لیے کہ ایک نوری سال ہمارے سالوں کے اعتبار سے کھربوں سال کا ہوتاہے اور اکثر ستارے زمین سے کئی کئی نوری سال کے فاصلے پر ہیں، بلکہ کئی تو سینکڑوں، ہزاروں یا اس سے بھی زیادہ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہیں،اور یہ بات بھی مشاہدے میں آچکی ہے کہ یہ سب ستارے آسمان سے نیچے ہیں۔ ان کے راستے میں کوئی آسمان موجود نہیں ہے۔ (اسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کی عظمت کے ایک پہلو کا اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ اتنے مختصر وقت میں اتنا طویل فاصلہ طے فرمایا کہ ہماری گنتیاں تاحال اس کے شمار سے عاجز ہیں) اس لحاظ سے مذکورہ حسابات سے دیکھا جائے تو پانچ سو سال کی مسافت کوئی بڑی مسافت نظر نہیں آتی، یہ تو آسمانوں سے بہت نیچے پوری ہو جاتی ہے۔ بات در اصل یہاں بھی وہی ہے کہ ان احادیث کا اصل مقصود اس کائنات کی وسعت کو بیان کرناہے۔ اس وقت کے لحاظ یہ تعبیر بھی اس مقصد کے لیے کافی تھی۔ جہاں تک اصل پوری حقیقت کا تعلق ہے تو یہ کہنا پڑے گاکہ ان حدیثوں میں اگرچہ وہ بھی بیان ہوئی ہے اور اصل حقیقت کے اعتبار یہ تعبیرات امرِ واقعہ پر منطبق ہوتی ہیں، لیکن ہمارے اعتبار سے اس طرح کی روایات میں دو طرح کا اجمال ہے جو آج تک بھی برقرار ہے۔ ایک یہ کہ رفتار کس چیزکی؟ اونٹوں کی، گھوڑوں کی، آوازکی، روشنی کی جس سے نوری سال ناپا جاتاہے یا کسی اور چیزکی جس سے آج کا انسان بھی ناواقف ہے؟ دوسرے یہ کہ سال تو کسی چیز کی گردش کانام ہے، زمین کاسال اور ہے دیگر سیاروں کااور، کہکشاؤں کے اور۔ ضروری نہیں کہ یہاں زمین کا سال ہی مرادہو، اتنی وسیع کائنات میں نہ معلوم کون کون سے سال ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پوری کائنات، جس کی وسعتوں سے آج کا انسان بھی ناواقف ہے، اس کی عمومی گردش کے اعتبار سے کوئی مجموعی سال ایسا ہو جو ابھی تک انسان کے علم میں نہ آسکاہو۔ آخرت کا تو ایک سال نہیں، صرف ایک دن دنیا کے پچاس ہزار سالوں کا ہوگا۔ حاصل یہ کہ پانچ سو سال کی مسافت میں سال کون سا مرادہے اور ایک سال میں کس چیزکا مسافت طے کرنامرادہے، اس حوالے سے حدیث میں تاحال اجمال موجودہے اور جیساکہ پہلے عرض کیاگیا، یہ اجمال متکلم کی ابلاغی قدرت کی کمی کی وجہ سے نہیں، مخاطب کی رعایت کی وجہ سے ہے، لیکن اس اجمال کے باوجود اصل مدعااور پیغام واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بہت بڑی اور وسیع ہے۔ عین ممکن ہے کسی زمانے میں انسان کا علم ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں یہ اجمال یا اس اجمال کے بعض حصے باقی نہ رہیں۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(مئی و جون ۲۰۰۹ء)

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ

Flag Counter