’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات

محمد انور عباسی

محترم محمد عمار خان ناصر صاحب کی قابل قدر کتاب ہمیں بذریعہ ڈاک بروقت موصول ہوئی تھی، مگر بعض مصروفیات آڑے آئیں اور جلد اس کتاب کامطالعہ نہ کیاجا سکا۔ ایک وقفے کے بعد کتاب شروع کی تو ایک ایک سطر بغور پڑھی جس کے نتیجے میں یہاں چند تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ہمیں کتاب کے زیادہ تر مندرجات سے نہ صرف اتفاق ہے بلکہ خوشی ہے کہ بڑے سلجھے ہوئے انداز، اسلوب بیان اور منطقی استدلال سے بڑے مشکل اور حساس موضوعات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایسی کتاب ایک عرصے کے بعد پڑھنے کو ملی جس میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا اسلوب، زورِ بیان اور متانت نظر آئی۔ کسی خاص Mindset کے بغیر اگر غیر جانبدارانہ ذہن سے مطالعہ کیا جائے تو محترم مصنف کے اخذ کردہ نتائج سے اتفاق کے سوا اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ بالکل ایسے لگتا ہے کہ انگلی پکڑ کر قاری کی رہنمائی کی گئی ہے۔ محترم مصنف بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت میں بالعموم اور طبقہ علما میں بالخصوص ایسے باحوصلہ اور بلند فکر کے حامل افراد سامنے آئیں۔

اصولی بات: ہمیں کتاب کے دیباچے میں مذکور مولانا ابوعمار زاہد الراشدی صاحب کی اس راے سے بالکل اتفاق ہے کہ آج کے نوجوان اہلِ علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پرکھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مولانا محترم کی یہ پیشین گوئی اس کتاب کے حوالے سے تو تقریباً پوری ہو چکی ہے کہ ایسے اہلِ علم بیک وقت قدامت پرستی اور تجدد پسندی کے القابات سے نوازے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ تو غالباً کبھی بھی بند نہیں ہو سکتا ، لہٰذا اس طرز فکر کی حوصلہ افزائی ہمیشہ جاری رہنی چاہیے۔ بالخصوص طبقہ علما میں اس نوعیت کی کوشش کو، جو یقیناًایک اجتہادی کوشش کہلائی جا سکتی ہے، برداشت کرنا بلکہ ایک لحاظ سے تحسین کرنا بجائے خود قابل تحسین ہے۔ 

فقہی مباحث سے ذرا ہٹ کر اگر ہم ماضی کے علم الکلام پر ایک نظر ڈالیں تو ایک حقیقت جو سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب اشاعرہ کے عقائد کو اہلِ سنت والجماعت کے مسلمہ عقائد کی حیثیت دی جاتی تھی۔ اس دور میں امام ماترید ی ؒ کے عقائد کو، جو زیادہ تر احناف کے ہاں مقبول تھے، اہل سنت کے نمائندہ عقائد کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ آج ہم جائزہ لیں تو اہلِ سنت کے ہاں اشاعرہ کے عقائد میں ماتریدیہ عقائد کو بھی کافی جگہ دے دی گئی ہے، بلکہ ماتریدیہ کو بھی جانے دیں اور یہ دیکھیں کہ اپنے بعض عقائد کو مثلاً ’’خدا کو جائز ہے کہ انسان کو اس کام کی تکلیف دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے‘‘ کے برعکس معتزلہ کے عقیدے کو درست سمجھا جانے لگا ہے کیونکہ یہ عقیدہ بداہتاً قرآن کے خلاف ہے۔(سورۃ البقرہ ۲۸۶) کہنے کامقصد یہ ہے کہ اگر عقائد میں اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد سے خروج جائز ہے تو یہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ بقول مولانا محترم ’’ اہلِ سنت والجماعت کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو‘‘ (ص۱۳) یا بقول محترم مصنف ’’ ہم کسی تقلیدی ذہن کے تحت نہیں بلکہ علیٰ وجہ البصیرت اہلِ سنت کے اساسی منہج اور علمی اصولوں کو درست سمجھتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۹)

سوال محض یہ نہیں کہ علمی اصول اور اساسی منہج درست ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے طے شدہ Mindset کے تحت اگر علمی کام کو آگے بڑھائیں گے تو کیا تقلیدی ذہن شعوری طور پر نہیں تو لاشعوری طور پرہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کرتا رہے گا؟ مصنف موصوف کو خود اعتراف کرنا پڑا ہے کہ دو مستقل فقہی مکتب سے استفادے کا دائرہ محض اس وجہ سے محدود ہو گیا کہ ان ائمہ کی فقہوں کی پیروی کرنے والے مکاتب فکر بعض کلامی اور سیاسی نظریات کے حوالے سے اہلِ سنت کے عمومی رجحانات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ (ص ۲۱) غور طلب بات یہ ہے کہ اسلام میں صرف اہلِ سنت کی مجموعی علمی روایت ہی کو گرفت میں لانے سے کیا ایک مخصوص ذہنیت پیدا نہ ہوگی؟ معتزلہ، خوارج یا اثنا عشری حضرات کی علمی میراث کو پہلے ہی کلی طور پر رد کر دینا کیا کوئی علمی طریقہ ہوگا؟ کیوں نہ ہم بحیثیت ’’مسلم‘‘ تمام فقہی یا گروہی مکاتب فکر سے بلند ہو کر صرف وحی کی روشنی میں سب کا بے لاگ تجزیہ کر کے اپنے عہد کی روشنی میں کوئی لائحہ عمل تیار کریں؟ ظاہر ہے ’’قلوبنا غلف‘‘ یا خصوصی Mindset کے تحت کام کیاجائے گا تو یہ بہرحال محدود ذہن ہی کی عکاسی کرے گا اور ہم وسیع علمی میراث سے استفادہ نہ کر سکیں گے اور یوں موجودہ عالمی چیلنج سے شایدہی کماحقہ عہدہ برا ہو سکیں۔ اگر چہ ہمیں ا س کتاب میں کمال ہمت و جرأت اور اجتہادی شان نظر آتی ہے، تاہم کئی مواقع پر، جس کی تفصیل اپنے موقع پر آئے گی، یہ مشکل صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ 

دوسری بات جو ہمارے نزدیک اہم ہے، وہ’ سنت‘ کی تعریف ہے۔ اگر ہم ’’قرآن وسنت‘‘ کی بات کریں تو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ’سنت ‘سے دراصل مراد کیا ہے۔ (قرآن کا مفہوم تو واضح ہے) یہ اس لیے اہم ہے کہ آج کل’ سنت‘ کی تعریف اہل علم کے درمیان کوئی متفقہ دکھائی نہیں دیتی۔ (الشریعہ، جنوری ص ۳۶، فروری، کلمہ حق، ص ۳) غالباً یہی وجہ تھی کہ مولانا زہدالراشدی صاحب نے کتاب کے دیباچے میں اس کی وضاحت ضروری سمجھی (ص ۱۰) لیکن مصنف موصوف نے اس کی کوئی تعریف نہیں کی جس کی ضرورت تھی ۔ ’سنت‘ کا مفہوم متعین کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسلاف بھی جب یہ لفظ بولتے تھے تو غلط فہمی کے احتمال کا موجب بن سکتاتھا۔ مثلاً محترم مصنف لکھتے ہیں کہ ’’سعید ابن المسیبؒ کے اس فیصلے کو ’سنت ‘قرار دینے سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے کہ تابعین اور اتباع تابعین کے ہاں نہ صرف ناقص اور غیر مستند معلومات کی بنا پر کسی عمل کو ’سنت ‘ قرار دینے کی مثالیں مل جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات وہ منصوص اور مرفوع احکام کے علاوہ صحابہ و تابعین کے طرز عمل اور وسیع تر مفہوم میں بعض مستبط آرا پر بھی سنت کے لفظ کا اطلاق کر دیتے ہیں۔‘‘ (ص ۔۱۰۲، ۱۰۳) وہ مزید رقمطراز ہیں : ’’ امام ابو یوسف ؒ ، امام اوزاعی ؒ کی ایک رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ شاید (امام) اوزاعیؒ نے شام کے بعض بزرگوں کو، جنہیں نہ اچھی طرح وضو کر نا آتا ہے اور نہ تشہد پڑھنا اور نہ وہ فقہ کے اصولوں سے واقف ہیں، ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہو گا اور کہہ دیا ہو گا کہ ’ سنت ‘ یہی چلی آرہی ہے۔‘‘ (ص ۱۰۳) ہم صرف یہ کہنا چاہیے ہیں کہ اگر سعید ابن المسیبؒ ہو ں یا امام اوزاعیؒ یا تابعین کے ہاں بھی ناقص اور غیر مستند معلومات کی بنا پر’ سنت ‘ کا لفظ مستعمل تھا اور امام شافعی جیسے مجتہد بھی ’سنت‘ بولتے اور بعد ازاں ترک بھی کردیتے تھے تو اس دور کے اہل علم کے ہاں نہ معلوم ’سنت‘ کا اطلاق کن کن چیزوں پرہوتا ہو گا۔ 

مصنف محترم کتاب کا آخری باب ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ شروع ہی اس جملے سے کرتے ہیں: ’’ اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو’ قرآن و سنت‘ کے مقرر کردہ حدود اور ان کے منشا کے مطابق ؟؟ کرنا ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’ ۔۔۔ ایک اہم اور بنیادی بحث یہ ہے کہ ’قرآن و سنت‘ میں قانون سازی کے لیے عمومی نوعیت کے رہنما اصولوں کے علاوہ جو متعین احکام اور قوانین بیان ہوئے ہیں، ان کی قدروقیمت کیا ہے ۔‘‘ (ص ۳۲۳) اگر ہمیںیہی معلوم نہیں ہو گا کہ’سنت ‘ ہے کیا تو اس کے مقرر کردہ حدود کا علم کیسے ہو گا؟ ہم کیسے جان سکیں گے کہ کون سے متعین احکام و قوانین ’سنت‘ کے مطابق ہیں؟ عین ممکن ہے کوئی صاحب سعید ابن المسیب ؒ کا مسلک رکھتے ہوں اور ہم ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی سے کسی فعل کو ’سنت‘ سمجھنا شروع کر دیں۔ بالخصوص جب یہ بھی کہا جا رہاہو کہ ’’ جن معاملات سے متعلق قرآن میں کوئی متعین حکم نہیں دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ’سنت‘کی حیثیت سے کسی عمل یا طریقے کو جاری نہیں فرمایا۔‘‘ (ص ۳۵۳) 

اب احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے کہ نہ صرف’سنت‘ کی واضح تعریف موجود ہو بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل یا طریقے کا منشا یا نیت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ آپ کے فلاں عمل کو ’سنت‘ کی حیثیت حاصل ہے اور فلاں عمل ’سنت ‘ نہیں ہے۔ آپ کی منشا یا نیت کے تعین کو علماے کرام کے اجتہاد پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح قول موجود ہونا چاہیے کہ آپ فلاں عمل کو’ سنت‘ کی حیثیت سے جاری رکھنا چاہتے ہیں اور فلاں عمل کو محض عادت یا رواج کا درجہ حاصل ہے۔ اگر ایسانہ ہو گا تو عملی طور پر ’سنت ‘کے تعین میں ہی اختلاف ہو گا اور ہر فرد اپنے اپنے ذوق کے مطابق ایک فعل کو’ سنت ‘کہہ رہا ہو گا اور دوسرا بدعت ۔ اس مسئلے کے حل ہونے کے بعد ہی ہم اس پوزیشن میں ہو سکتے ہیں کہ اس سوال پر غور و فکر کر سکیں کہ حالات کے تغیّر سے کون سے احکام میں تبدیلی کی جا سکتی ہے اور کون سے احکام قیامت تک تغیّر و تبّدل سے بالا ہوں گے۔ 

۱۔ شرعی سزاؤں کی ابدیت و آفاقیت

یقیناًاس رائے سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ کسی بھی معاشرے کی نفسیات اور تمدنی حالات و ضروریات کے لحاظ سے قرآن کی بیان کردہ سزاؤں سے مختلف سزائیں تجویز کی جا سکتی ہیں۔ مصنف نے نہایت ہی جاندار دلائل سے اس غلط نقطہ نظر کو مسترد کیا ہے اور بجا طور پر فرمایا ہے کہ قرآن کا زاویہ نگاہ جوہری طور پر زیر بحث زاویہ نگاہ سے مختلف ہے۔ لیکن اس موضوع پر مزید گفتگو اس پہلو سے مفید رہے گی کہ یہ نقطہ نظر آیا صرف قرآنی سزاؤں کے لیے ہی درست ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافذکردہ سزائیں (اور اسی طرح دوسرے احکام) یہی درجہ رکھتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے ہادی و راہنما تھے، چنانچہ اپنے اس منصب کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے خیالی نہیں بلکہ عملیت پسندی کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ کی ذمہ داری جہاں یہ تھی کہ رہتی دنیا تک انسانوں کے لیے رہنما اصول دیں، وہاں یہ ذمہ داری زیادہ شدت کے ساتھ یہ تھی کہ اپنے عہد کے لوگوں کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی اصولوں کو اپنے معاشرے میں عملی طور پر نافذکریں۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ ان ہی مسائل کا حل ڈھونڈیں جو فی الحقیقت موجود ہوں۔ ہمارے خیال میںیہی وجہ تھی کہ مکی زندگی میں زراعت (زمین کی بٹائی) کے بارے میں آپ سے کوئی حکم منقول نہیں۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں جب آپ کا واسطہ ایک زرعی معاشرے سے پڑا تو ایک عملیت پسند راہنما کی طرح مسائل کا عملی حل بھی پیش کیا۔ چنانچہ جب مکی زندگی میں مدنی زندگی کے عملی حالات کا کوئی نقشہ پیش کرنا آپ کے پیش نظر نہیں تھا تو یہ کس طرح ممکن ہو سکتاہے کہ آج کل کے پیچیدہ معاشی و معاشرتی حالات کے متعلق تفصیلی احکامات بھی ’سنت‘ میں تلاش کیے جاسکیں؟ اس موضوع کی حساسیت بھی تقاضا کرتی ہے کہ’سنت‘ کی کوئی جامع و مانع تعریف سامنے ہو اور اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہو جائے۔ 

۲۔ قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار

اس عنوان کے تحت ایک خوبصورت بحث پڑھنے کو ملی۔ کتاب ہذا کے صفحہ ۷۲ کے فٹ نوٹ میں اصولی طور پر ایک درست اور معقول بات کہی گئی ہے،لیکن یہ ایک اجتہادی معاملہ ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات و احکامات کی تشریح کرتے ہوئے ایک شخص اس کو قانونی نتیجہ قرار دے اور دوسرا اخلاقی۔ اس طرح کی موضوعی اپروچ کے ساتھ کیا ہم گلوبل چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اس طرح کہیں ہم مزید انتشار کا شکار تو نہیں ہو ں گے؟ کہنے کا مقصد ہے کہ امت میں زیادہ سے زیادہ معروضی پیمانے اگر دستیاب ہو سکیں تو اتفاق و یکجہتی دیکھنے کو ملے گی اور معاشرے میں کم خلفشار ہوگا۔ نیز اسی کے نتیجے میں ہم عالمی سطح پر عملی و علمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ 

اس باب میں مصنف نے کئی پہلوؤں پر بات کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہر جگہ اس کا حق ادا کیا ہے، تاہم اولیاے مقتول کے معاف کردینے پر قاتل سے قصاص کو ساقط کر دینے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے مصنف نے فقہاے احناف کا ذکر کیا ہے کہ قصاص کی معافی کی صورت میں مقتول کے وارث کے لیے دیت کا اختیار اس بات سے مشروط ہے کہ خود قاتل بھی دیت دینے پر رضامند ہو۔ اگر وہ اس بات پر راضی نہیں ہو تو اسے مجبور نہیں کیاجا سکتا اور اس صورت میں اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔ (ص ۷۳) اس مشروط حکم کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل سامنے نہیں آئی۔ عقلاً یہ بات ذرا مشکل ہی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ قاتل جان بچانے کے لیے دیت دینے کے بجائے جان دینے پر ہی اصرار کرے۔ یہ شرط تو عملی دنیا سے متعلق دکھائی نہیں دیتی۔ آخر دنیا میں کون سا قاتل ہوگا جو جان بچانے کی کوشش ہی نہ کرنا چاہے گا؟ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ امام جصاص ؒ کی یہ رائے درست نہیں کہ ’فمن عفی لہ من اخیہ شئً فاتباع بالمعروف‘ کا حکم اس قید کے ساتھ مقید ہے کہ مقتول کے وارث کی طرف سے معافی کی صورت میں خود قاتل بھی دیت کی ادائیگی پر رضامند ہو، ورنہ اسے دیت کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا اور اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔ ہمیں قرآن کے اس حکم میں اس قید یا شرط کا ذکر دکھائی نہیں دیتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مصنف نے خود بھی (غالباً) اس رائے کو کمزور سمجھتے ہوئے یہ لکھنا ضروری سمجھا کہ ’’اس رائے سے اتفاق ضروری نہیں‘‘ (ص۷۴) اسی طرح صفحہ ۷۸ کے فٹ نوٹ میں مذکور دلیل اور اس رائے کے بارے میں یہی رائے ظاہر کی گئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ زیرِ بحث موضوع اپنے دلائل کے اعتبار سے کافی جاندار تھا۔ اسے ان کمزور سہاروں کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ ہماری رائے میں یہ مثالیں دے کر ایک معقول و مضبوط موقف کو کمزور کر دیا گیاہے۔ 

اسی طرح (قتل کے) جرم کی سنگینی کے تناظر میں معافی کے امکان کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مصنف موصوف نے علی الاطلاق ایک اصول بیان کر دیا کہ ’’سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی شخص کی جان لینا اسی زمرے میں آتا ہے‘‘ (ص ۸۳)۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اصول میں استثنا لازمی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدل جس قدر ناپید ہے، شاید ہی کوئی دوسری جنس ناپید ہو۔ ایک ظالم ڈاکو، وڈیرہ، خان یا چودھری اپنے زیردستوں پر جو بے طرح ظلم ڈھاتاہے، ان کا قتل اگر ان حالات میں ہو جائے یعنی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جان لی گئی ہو تو عدالت اس کا معروضی جائزہ لے کر فیصلہ کرے اور معافی کی گنجایش ضرور نکالے کہ عدل کا تقاضا یہی ہے۔ 

۳۔ دیت کی بحث 

عنوان بالا کے تحت بحث میں بہت ہی اہم اور اصولی باتیں آ گئی ہیں۔ کتاب مذکور پر مولانا مفتی عبدالواحد صاحب کی تنقید زیادہ تر اسی بات تک محدود نظر آتی ہے۔ ہمیں اس مباحثے سے چنداں غرض نہیں، طرفین کا معاملہ اہل علم خود ہی جانچ لیں گے۔ ہم اصولی طور پر صرف چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ 

مصنف محترم نے لکھا ہے ’’کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر و تصویب کو ’شرعی‘ حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم بعض معاصر اہل علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ تشریعی نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ آ پ نے عرب معاشرے میں دیت کی پہلے سے رائج مقدار کو بطور قانون نافذ فرما دیا تھا اور زمانہ اور حالات کے تغیّر کے تناظر میں دیت کے اصل مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے مختلف قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے۔‘‘ (ص ۸۹) 

اس تحریر سے بظاہر یہ نتیجہ نکلتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام ’ شرعی‘ نہیں ہوتے تھے اور اصلاً ’’قضا‘‘ یا ’’سیاسہ‘‘ کے دائرے میں آتے تھے، ایسے احکام ابدی نہیں ہوتے تھے۔ اور بعض احکام ’ شرعی‘ ہوتے تھے جو ناقابل تغیّرتھے، مثلاً زکوٰۃ وغیرہ۔ زکوٰۃ کو ابدی اور مہر وغیرہ کو غیر ابدی قرار دینا ہمارے نزدیک کسی اصول کے مطابق نہیں بلکہ یہ ایک موضوعی (Subjective) مسئلہ ہے جس کا تعلق ایک فرد کے ذوق، علم، تجربے اور Mindset سے ہے، جو کسی اصول اور ضابطے کے تحت نہیں آسکتا۔ چنانچہ ہم، قطع نظر اس بحث سے کہ وہ کون سے احکام ہیں جو انفرادی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے تھے اور کون سے نہیں، یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام ’’شرعی‘‘ ہوتے تھے اور بعض’’غیر شرعی‘‘ یعنی قضا اور سیاسہ سے متعلق۔ اس بحث سے پہلے کہ کلاسیکی فقہی موقف کے مطابق دیت یا بعض دوسرے احکام ابدی ہیں یا بعض معاصر اہلِ علم کے مطابق غیر ابدی، ہمارا خیال یہ ہے کہ اہلِ علم اس بحث پر توجہ دیں کہ کیایہ ممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام ’ شرعی‘ ہوتے ہیں اور بعض ’غیر شرعی‘ ؟ ہمارا فہم دین ----اور ہمیں اس پر اصرار نہیں کہ یہ غلطی سے مبرا ہے---- تقاضا کرتا ہے کہ اصولاً ہم انبیا علیہم السلام پر ایمان کا مفہوم یہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں آئے ہی اس غرض کے لیے تھے کہ انسانیت کو شریعت کا علم عطا کریں۔ انبیاء دین اسلام لائے تھے اور اس دین میں ’’دین و دنیا‘‘ میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی گئی۔ اس میں یہ نہیں تھا کہ کچھ احکام ’’شرعی‘‘ نوعیت کے ہیں اور کچھ ’غیر شرعی‘ یا ’’قضاء‘‘ یا ’’سیاسہ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں مانی جا سکتی کہ آپ کا دیت کی مقدار کا فیصلہ یا تصویب ’ شرعی‘ نہیں تھا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہی اگر ’ غیر شرعی‘ ہو تو آپ کے بعد کے حکمرانوں کو تو غیر شرعی فیصلے کرنے کی مخالفت آخر کس بنیاد پر کی جا سکتی ہے؟ تاہم یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس کو ’شرعی‘ فیصلہ مان کر ابدیت کا درجہ دے دینا بھی درست نہ ہوگا۔ آپ کے وہ فیصلے جو زمان و مکان کے تحت تھے---- اور یقیناًایک عملیت پسند ہادی و راہنما کی حیثیت سے قرآنی اصولوں کو اپنے معاشرے پر نافذکرنا آپ کی ذمہ داری تھی---- آخر کس طرح زمان و مکان سے ماورا ہو سکتے ہیں، اگرچہ ایسے فیصلے’ شرعی‘ ہی تھے کیونکہ آپ کے اجتہاد پر مبنی تھے۔ دوسرے الفاظ میں کسی حکم کی ابدیت اور غیر ابدیت کا تعلق ’ شرعی‘ اور ’ غیر شرعی‘ سے نہیں بلکہ اس بات پر ہو گا کہ زمان و مکان یا حالات کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔ سادہ سی مثال اذان جمعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی ’ شرعی‘ تھا اور حضرت عثمانؓ کا فعل بھی ’شرعی ‘ تھا، اگرچہ حالات کے فرق کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک اذان جمعہ کا رواج تھا جو حضرت عثمانؓ کے عہد میں دو اذانوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا جو آج تک چلا آرہاہے۔ 

۴۔ قصاص و دیت میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز

اس عنوان کے تحت بھی نہایت اہم اصول زیر بحث آگئے ہیں۔ اجمالاً کہا جا سکتا ہے کہ مصنف محترم کا موقف مبنی برحق اور اقرب الی الصواب ہے، تاہم اس مسئلے کی تفصیل میں جزئیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جس استدلال میں وزن محسوس کیا ہے، وہ امام ابن حزمؒ کے بیان کردہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین قانونی و معاشرتی امتیاز کے بعض مظاہر ہیں، مثلاً انہیں تنگ جگہ پر چلنے پر مجبور کرنا، ان کی گردنوں پر علامتی مہر لگانا وغیرہ، جو ہمیں اسلام کے عمومی مزاج اور نظام عدل سے اتنا ہم آہنگ معلوم نہیں ہوتے۔ اس ضمن میں جزیہ کی بحث بھی آگئی اور محترم مصنف نے جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے نقطہ نظر کو ترجیح دی یا کم از کم قابل غور تو ضرور سمجھا ہے۔ یہ مسئلہ قدرے زیادہ تفصیل کا محتاج ہے اور غلبہ دین، اتمام حجت اور انبیا اور رسولوں میں فرق کی بحث کو محیط ہے۔ یہ موضوع بذات خود ایک الگ مقالے کا متقاضی ہے جسے ہم ا ن شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر زیر بحث لائیں گے۔

۵۔زنا کی سزا

ہمیں اس ضمن میں محترم مصنف کے استدلال اور اس کے نتیجے سے بالکل اتفاق ہے کہ قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے مجرم کی ازدواجی حیثیت کو موضوع بحث بنایا ہی نہیں، نیز یہ کہ یہ سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے بیان کی ہے۔ (ص ۱۳۶) تاہم سورۃ نساء کی آیت ۱۵ پر تبصرہ کرتے ہوئے صحیح مسلم کی حدیث رقم ۳۲۰۰ نقل کی ہے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔ اس سلسلے میں ہماری طرف سے دو گزارشات ہیں۔ اولاً یہ کہ اگر فی الواقع یہ حکم آپ کو اللہ کی طرف سے عطا کیاگیا تھا تو کیا وجہ ہے کہ سورہ نور میں ہی کہیں آس پاس اس ’’وحی‘‘ کو جگہ نہ مل سکی؟ ثانیاً ’’یہ کہ اس کتاب میں زنا سے متعلق دور اول کے جتنے واقعات درج ہوئے ہیں، ان میں اس پرعمل نہ ہو سکنا بڑا ہی عجیب لگتاہے، یعنی کسی بھی مقدمے میں بیک وقت شادی شدہ حضرات و خواتین کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگسار کرنے پر کیوں عمل نہ کیا گیا؟ اس لیے اس کے برعکس ہم مصنف محترم کی دوسری رائے ( ص ۱۳۹) کو قابل ترجیح اور درست سمجھتے ہیں کہ ’’ہمارے نزدیک درست بناے استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے زنا کی سزا کے بیان کو چونکہ خود موضوع بنایا ہے، اس لیے نفس زنا کی سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے خود بیان کی ہے ( یعنی سو کوڑے )‘‘۔ مصنف موصوف قرآن کی سز اے زنا کے بارے میں محصنہ اور غیر محصنہ کی تفریق کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نقطہ نظر پر بہت ہی زبردست اور جامع تنقید فرمائی ہے جس پر شاید ہی کوئی علمی اعتراض کیا جا سکے۔ لیکن اگریہ درست ہے، جو یقیناًدرست ہے، تو مصنف محترم کا یہ قول عجیب سا لگتا ہے جو انہوں نے کتاب کے صفحہ ۵۷ میں حضرت عمرؓ کے پاس لائی جانے والی خاتون کے بارے میں کہا کہ ’’یہ خاتون محصنہ ہونے کی بنا پر رجم کی سزا کی مستحق تھی، لیکن سیدنا عمر نے اس کے حالات کے پیش نظر اسے سو کوڑوں کی سزا دینے پر اکتفا کی‘‘۔ نیز کیایہ بات عجیب تر نہیں کہ یہ عورت جس کے بارے میں بتایا گیاکہ وہ نادار اور محتاج ہے اور جو لوگ اس پر ترس کھا کر اس کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، چنانچہ وہ جسم فروشی کر کے کچھ نہ کچھ پیسے جمع کر لیتی ہے، اس حقیقت کے باوجود اسے سو کوڑوں کی سزا دی گئی مگر اسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ محترم مصنف نے بیہقی کی السنن الکبریٰ رقم ۱۶۸۲۷ وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیدنا عمرؓ ہی کے سامنے ایک ایسی عورت کا مقدمہ پیش کیا گیا جس نے بتایا کہ وہ پیاسی تھی اور چرواہے نے مفت پانی نہیں دیا بلکہ زنا کی شرط کے ساتھ پانی دیا۔ اس مقدمے کا فیصلہ حضرت عمرؓ نے یہ کیاکہ اس خاتون کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ (ص ۵۶) ان دونوں مقدمات کی یکسانی کے باوجود دو مختلف فیصلے ! مصنف محترم کو اس سلسلے میں کوئی دو ٹوک اور ایک بات کہنی چاہیے تھی۔ 

ان چند گزارشات کے باوجود یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ زیر بحث کتاب فی الحقیقت دینی لٹریچر میں ایک انتہائی اہم اور گراں قدر اضافہ ہے جسے قدیم اور جدید اہلِ علم یکساں اہمیت دینے پر مجبور ہوں گے۔ چند مستثنیات بہر حال ہر دور میں موجود رہی ہیں جو جمود اور تقلیدی فکر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رہتی ہیں۔ لہٰذا کتاب میں اگر کوئی غلط بات آ بھی گئی ہو تو امت کا اجتماعی ضمیر اس کو ہضم نہیں کر سکے گا۔ اللہ تعالیٰ مصنف محترم کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین 

آراء و افکار

(مئی و جون ۲۰۰۹ء)

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ

Flag Counter