عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں

حافظ محمد زبیر

’’پاکستان کی جہادی تحریکیں۔ ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ کے زیر عنوان ہمارا ایک مضمون ’الشریعہ‘ کے نومبر؍دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون پر عبد المالک طاہر صاحب کا تبصرہ مارچ ۲۰۰۹ء کے شمارے میں دیکھنے میں آیا۔ ذیل میں ہم اس ضمن میں چند معروضات پیش کر رہے ہیں جن پر غور کرنے سے إن شاء اللہ ان کے ذہن میں پائے جانے والے کئی ایک اشکالات رفع ہو جائیں گے۔ امید ہے کہ عبد المالک طاہر صاحب اس بحث کوکس نتیجے تک پہنچانے کے لیے ان معروضات پر غور فرمائیں گے:

۱۔موجودہ حالات میں جہاد (بمعنی قتال) فرض عین ہے یا نہیں؟اگر ہے تو جہادی تحریکوں کے امراء‘ مسؤولین‘ مفتیان کرام ‘ شیوخ الحدیث ‘مدرسین صرف و نحو اور علوم لغت‘ معلمین منطق و بلاغہ تو قتال نہیں کر رہے ہیں؟ ہاں عبد المالک صاحب کے بقول اپنے خطبات‘ تقاریر‘ تعلیم و تربیت کے ذریعے جہاد( قتال) میں تعاون ضرور کر رہے ہیں؟ تو عبد المالک طاہر صاحب کے بقول فرض عین توجہاد ( قتال) میں کسی بھی قسم کا علمی ‘ اخلاقی‘ عملی ‘ مالی‘ لسانی تعاون ہوا نہ کہ خودجہاد( قتال)؟ اور ہم بھی اسی کے قائل ہیں۔

چلیں! یہ تو مان لیا کہ جہادی تحریک کے شیخ الحدیث صاحب ’صحیح بخاری ‘ میں سے’ کتاب الجہاد‘ پڑھاتے ہوئے اپنے فرض عین کی ادائیگی فرما لیتے ہیں لیکن ایک جہادی تحریک سے تعلق نہ رکھنے والے شیخ الحدیث جب وہی ’کتاب الجہاد‘ پڑھاتے ہوئے موجودہ دور میں جہاد و قتال کے صحیح منہج اورطریقے کو واضح کرتے ہیں اوراحادیث بخاری کی روشنی میں جہادی تحریکوں کے غلط مناہج کی اصلاح کرتے ہیں تو ان کا فرض عین اداکیوں نہیں ہوتا؟کیا فریضہ جہاد کی ادائیگی میں علمی‘ لسانی ‘ دعوتی اورتبلیغی تعاون سے مراد صرف جہادی تحریکوں کی غیر مشروط حمایت ہے یا جہاد کے بارے میں قرآن وسنت میں بیان شدہ شرعی حکم کی صحیح تعبیر و تشریح؟اسی سے متعلقہ ایک یہ سوال بھی ہمارے ذہن میں ضرور پیدا ہوتاہے کہ شیخ الحدیث صاحب کا فریضہ جہاد تو ’کتاب الجہاد‘ پڑھا کر ادا ہو گیا لیکن جہادی تحریکوں کے مدارس میں علوم لغت و ادب و دیگر فنون کے مدرسین کا فریضہ تعاون جہاد (قتال)کیسے ادا ہوتا ہے؟ کیا علم الصرف کے پیریڈز میں جہادی تحریکوں کے مدارس میں صرف ’جاھد یجاھد مجاھدۃ وجھادا‘ کی گردان ہی سارا سال رٹوائی جاتی تا کہ علم الصرف کے مدرسین کا بھی فرض عین ادا ہو جائے؟ یا ایسا نہیں ہے۔اگر نہیں ہے تو اس قدر فرض عین کی ادائیگی تو ہر مدرسے کے طلبہ اور اساتذہ‘ ہر مذہبی تحریک کے کارکنان اور ہر سچا و مخلص مسلمان اور پاکستانی ادا کررہا ہے‘ لیکن اس جوہری فرق کے ساتھ کہ وہ پروفسیر سعید صاحب یا بیت اللہ محسود صاحب سے بیعت نہیں ہیں۔اب اس جوہری فرق کی قرآن و سنت کی روشنی میں کیا اہمیت ہے ‘ ہمیں امید ہے اس پر جناب عبد المالک صاحب ضرور روشنی ڈالیں گے۔ 

۲۔ موجودہ جہادی تحریکوں کے رہنما اللہ کے نبی کی طرح معصوم نہیں ہیں کہ ان کے جہادی منہج و طریقہ کار میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی ۔پس جب ان جہادی تحریکوں کا منہج خطا سے مبرا نہیں ہے تو اس منہج کی اصلاح بھی ان کے ساتھ علمی تعاون کی ایک صورت ہے۔جناب عبد المالک طاہر صاحب ہر اس دعوت ‘ خطاب اور تعلیم و تربیت کو جہاد کے فریضہ کی ادائیگی میں شمار کر رہے ہیں جو معاصر جہادی تحریکوں کی تائید میں ہو اور جوعلمی ‘ اخلاقی ‘ عملی ‘ مالی‘ لسانی اور تحریری کوشش ان کی اصلاح کے لیے ہوں وہ ان کے ہاں جہاد کے فریضہ کی ادائیگی سے خارج ہیں۔کیا جہاد ‘ جہادی تحریکوں کا نام ہے یا یہ ایک شرعی حکم ہے؟بلاشہ جہاد ایک شرعی حکم ہے اور اس شرعی حکم کی تعیین میں معاصرتحریک جہاد و قتال میں علمی تعاون کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ اس کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس کا شرعی طریقہ کار اور کامیابی کی حتمی صورتیں متعین کی جائیں جیسا کہ ہم نے اپنے مضمون میں جہاد(یعنی قتال) کے فرض عین ہونے کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ واضح کیا کہ یہ کس پر فرض عین ہے؟ اسی طرح ہم نے یہ نہیں کہا کہ موجود زمانے میں قتال ساقط ہو گیا ہے بلکہ ہم نے ان حالات میں قتال کے صحیح منہج و طریق کار کوواضح کیا ہے۔کیا جہاد(قتال) کی فرضیت اور اس کے صحیح منہج پر مضامین لکھنے سے جہاد( قتال) کا فریضہ ادا نہیں ہوتا؟

۳۔جب جہادی تحریکوں میں جہاد (قتال)کے طریقہ کار‘ منہج اور تطبیق کے حوالے سے اختلافات ہو جائیں تو اس کے باوجود بھی وہ مجاہدین اور غازی کہلواتے ہیں۔مثلاً پاکستان کے طالبان کو کشمیری جہادی تحریکوں کے ساتھ شدید اختلافات ہیں اور یہ اختلافات اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ طالبان تحریک کے دیوبندی اور سلفی مجاہدین کشمیری تحریکوں کے مجاہدین کو ایجنسیوں کے کتے بلے کہتے ہیں۔ طالبان جہادی رہنماؤں کی ایسی ویڈیوز اب عام ملتی ہیں جن میں ایجنسیوں کی سرپرستی میں ہونے والے کشمیری جہادی تحریکوں کے جہاد کا انکار کیا جاتا ہے اور اس سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔حال ہی میں روزنامہ جنگ اورکئی دوسرے معروف اخبارات کے پہلے صفحہ پر تحریک طالبان کے رہنماؤں کا یہ بیان شائع ہو اہے کہ کشمیری جہادی تحریکوں کے امراء حافظ سعید صاحب اورصلاح الدین صاحب وغیرہ طالبان تحریک اور ان کے قتال کی غیر مشروط تائید کریں، ورنہ...۔ جب ایک جہادی تحریک کے رہنما دوسری جہادی تحریک پر قرآن و سنت کے بیانات کی روشنی میں یہ الزام عائد کر سکتے ہیں کہ ان کا جہاد حقیقی یا اسلامی جہاد نہیں ہے بلکہ ایجنسیوں یا طاغوت کا جہاد ہے ۔جبکہ دوسری جہادی تحریک کے مفتیان اور شیوخ الحدیث پہلی جہادی تحریک کے منہج کو خوارج کا طریقہ کاراور حکومت کے خلاف ان کی کارروائیوں کو بغاوت او ر خروج کانام دیں تو جناب عبد المالک طاہر صاحب کے بقول یہ فریضہ جہاد(قتال) میں تعاون شمارہو گا اور جہادی تحریکوں کے ان علماے دین‘ مفتیان کرام‘ امراء‘ مسؤولین اور اراکین شوری کا فرض عین ادا ہو جائے گا۔جبکہ اس کے برعکس ا گر ان دونوں تحریکوں سے باہر ‘ دین کے حقیقی تصور کے حاملین علماء ان دونوں تحریکوں کے مناہج پر نقد کریں تو ان کا فریضہ جہاد ادا نہیں ہوتا؟ فیا للعجب!!! کیا قرآن و سنت میں بیان شدہ فریضہ جہاد میں تعاون صرف اسی صورت ہی ادا ہوتا ہے جبکہ کسی ایسی جماعت کی رکنیت حاصل کی جائے جوآئی۔ ایس۔ آئی سے رجسٹرڈ اوراس کی پروردہ ہویا اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ان جہادی مفتیان کرام سے اتفاق ضروری ہے جو افواج پاکستان‘ رینجرز‘ پولیس ‘ حکومتی عہدیدران او ر سرکاری ملازمین کو طاغوت کا معاون ہونے کی وجہ سے کافر اور واجب القتل قرار دیتے ہیں اور خود کش حملوں کے ذریعے شہید ہونے والے مسلمان اور کلمہ گو عام شہریوں کے قتل ناحق کو ’جنگ میں سب جائز ہے‘یا’جنگ میں تو پھر ایسا ہوتاہے‘ کے فتوے سے حل کرتے نظر آتے ہیں۔کیا فریضہ جہاد(قتال) کے فرض عین ہونے کا جو معنی جناب عبد المالک طاہر صاحب نے بیان کیا ہے‘ اس کے مطابق کیا کسی جہادی تحریک میں شمولیت کے بغیریہ فریضہ ادا نہیں ہو سکتا ؟یقیناہو سکتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جہادی تحریکوں کے رہنماؤں اور کارکنا ن کی دعوت میں فریضہ جہاد(قتال) کی ادائیگی پر زور کم ہوتا ہے اور ساری توانائیاں اپنی اپنی خاص جہادی تحریکوں میں شمولیت اور ان کی رکنیت کے حصول پرکھپائی جاتی ہیں او رصرف اور صرف اسی تحریک میں شمولیت یا اس کی رکنیت کا حصول ہی درحقیقت اس جہادی تحریکوں کے رہنماؤں‘ کارکنان اور مفتیان عظام کے نزدیک جہاد (قتال) کے فریضہ کی ادائیگی کا اصل معیار قرار پاتا ہے۔ 

کیا سوات‘ مالاکنڈ‘ وزیرستان‘ لال مسجد ‘ کشمیر اور افغانستان کے طالبان اور جہادی تحریکوں کے تصورجہاد اور منہج قتال میں اتفاق ہے۔اگرایسا اتفاق ہے تو ایک مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے اتنے دھڑے بنانے کے کیا فائدے ہیں؟اور ایک دوسرے کے خلاف ویڈیوز اور اخباری بیانات شائع کرنے کا مقصد کیاہے؟اگر یہ اتفاق نہیں ہے اور یقیناًنہیں ہے تو ایک عامی کون سا جہاد کرے ؟ ایجنسیوں اور طاغوت کی سرپرستی میں ہونے والا لشکر طیبہ کا جہاد یا بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو جائز قرار دینے والے بعض طالبان کا جہاد؟جبکہ دونوں جہادی گروہ ایک دوسرے کے جہاد کو جہاد بھی نہیں سمجھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان جہادی تحریکوں کے غازی اور بالفعل لڑائی کرنے والے مجاہدین دین کے ساتھ انتہائی مخلص اور حقیقی ایمان و تقوی کے بلند تر مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں لیکن ایمان و تقوی ‘ علم کا بدل نہیں ہے اور نہ ہی صرف اخلاص سے جہالت ختم ہو سکتی ہے۔دین میں کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز؟کیا جہاد ہے اور کیا بغاوت ؟جہادی تحریکوں کی کون سے اقوال و افعال واجب ہیں اور کون سے حرام؟ اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ اخلاص و تقوی نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کا گہرا فہم و شعور ہے۔

۴۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ ‘ برطانیہ‘ اسرائیل ‘ انڈیا اور ان کے حواریوں کے ظلم و بربریت کے خلاف قتال فرض عین ہے‘ فرض عین ہے ‘ فرض عین ہے‘ اگر یہ صفحات اجازت دیتے تو ہم ستر مرتبہ اس جملے کو دہراتے ۔ہمیں اختلاف قتال کی فرضیت میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ کس پر فرض ہے؟ ہمارے نزدیک یہ قتال اسلامی ریاستوں کے سربراہان ‘ حکمرانوں اور اصحاب اقتدار پرفرض ہے اور عامۃ الناس پر فرض یہ ہے کہ اپنے ملک کے حکمرانوں اور اصحاب اقتدار کو اس قتال پر ہر آئینی ‘ احتجاجی‘ قانونی ‘ لسانی‘ علمی ‘ اخلاقی اور تحریری ذرائع و وسائل‘ اخبارات ‘ رسائل و جرائد ‘ الیکٹرانک میذیا‘ جلسے جلوسوں‘ دھرنوں‘ سیمینارز اور کانفرنسوں کے انعقاد ‘ اجتماعی مباحثوں اور مکالموں اورعوامی دباؤ کے ذریعے مجبور کریں اور اگر پھر بھی حکمران اس فریضے کی ادائیگی سے انکار کریں تو مذکورہ بالا تمام پر امن کوششیں کے ذریعے‘ ان حکمرانوں کی معزولی اور ان کی جگہ اس عہدے کی اہلیت رکھنے والے اصحاب علم و فضل کی تقرری‘ عامۃ الناس کا بنیادی فریضہ ہو گا تاکہ ریاستی سطح پر قتال کا فریضہ سر انجام دیا جا سکے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ’ زکوٰۃ‘ فرض عین ہے لیکن کس پر فرض عین ہے(یعنی صاحب نصاب پر) اور کب فرض عین ہے(یعنی سال گزرنے کے بعد)‘ اور کس جگہ (یعنی کس مال میں ) فرض عین ہے یہ تمام باتیں بحث طلب ہیں۔صرف زکوۃ کو فرض عین مان لینے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر شخص پر زکوۃ ہر حال میں فرض قرار دی جائے۔پس قتال فرض عین ہے‘ لیکن کس پر(یعنی فرد واحد پر‘ جماعت پر یا ریاست پر) فرض ہے اور کب (یعنی کن شرائط و اسباب کی موجودگی میں) فرض ہے یہ بحث اختلافی ہے۔اس بحث کو واضح کرنا اور نکھارناہی جہاد کے ساتھ تعاون تو ہے ہی‘ بلکہ شایدحقیقی جہادبھی یہی ہے۔

ہمارے نزدیک عوام الناس کا جہاد یہ ہے کہ علمائے کرام‘دینی جماعتیں اور ان کے کارکنان اوردینی مدارس کے طلبہ‘ وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں ہونے والے وحشیانہ ڈرون حملوں اورسوات وغیرہ میں پاکستانی افواج کی پرتشدد کاروائیوں کے خلاف ملک گیر سطح پر پرامن جلسے اورجلوسوں کا اہتما م کریں۔عوام الناس کی رائے ہموار کریں۔سٹریٹ پاور بڑھائیں۔اسلامی نظام عدل اجتماعی کے نفاذ تک وکلاء کی طرح مسلسل مظاہرے کریں۔امریکہ کی حمایت ختم کرنے کے لیے حکومت وقت کے خلاف دھرنے دیں ۔بے غیرت‘ بے دین اور ظالم حکمرانوں کی معزولی کی خاطرپرعزم لانگ مارچ کریں۔پاکستان کی پاک سر زمین پر اللہ کے دین کو غلب کرنے کے لیے ہر پر امن جدود جہد اختیار کریں اور نتائج اللہ کے حوالے کر دیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا مذہبی طبقہ اس طرح کی پرامن جدود جہد کے ذریعے اسلام‘ جہاد اور مجاہدین کی جو مدد کر سکتا ہے وہ تووہ کرتا نہیں ہے بس ساری توانائی اس پر ہی خرچ ہوجاتی ہے کہ کون کافر ہے اور کون مسلمان یا قتال فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟مدراس میں بیٹھ کر جہاد کے حق میں فرض عین ہونے کے فتاوی جاری کرنے سے یہ نفسیاتی تسکین تو کسی مفتی صاحب کو حاصل ہو سکتی ہے کہ انہوں نے جہاد کی خاطر بہت گراں قدر خد مات سر انجام دی ہیں لیکن اگر وہی مفتیان حضرات جہاد اور مجاہدین کے حق میں حکومت کے خلاف پر امن مظاہرہ کرتے اورجماعت اسلامی کے کارکنان یا وکلا کی طرح سر پھڑواتے تو خارج میں نتائج بہت مختلف ہوتے۔ہم میں اور جہادی تحریکوں میں فر ق یہ ہے کہ ہم پاکستان میں نفاذ شریعت اور نظام عدل کے قیام کی خاطر پر امن جدوجہد کرتے ہوئے صرف جان دینے کی بات کرتے ہیں ‘ لینے کی نہیں۔ہمارے خیال میں پاکستان میں اسلام کانفاذ پر امن جدو جہد اور جانیں دینے سے ہو گاجبکہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے بعد جہادو قتال کا مر حلہ آئے گا۔اورساری دنیامیں اسلام کا غلبہ ریاستی سطح پر ہونے والے جہاد و قتال سے ہو گا۔ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ انڈیا ہو امریکہ ‘ اسرائیل ہو یا برطانیہ ‘ ان ظالم اقوام کے خلاف کے جہاد و قتال اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان میں پہلے اسلامی نظام کا نفاذ ہو جائے۔پس پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ صحیح منہج پر قائم ہونے والی جہاد و قتال کی عالمی تحریک کا پہلا زینہ ہے اور اس پہلے زینے تک پہنچنے کے لیے کامیاب طریقہ کار وہی ہو گا جو کہ عدم تشدد پر مبنی ہو۔

علماے دیوبند کی تبلیغی جماعت‘ مولانا مودودی کی جماعت اسلامی‘ ڈاکٹر اسرار احمد تنظیم اسلامی اور مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی اس وقت تک اسی منہج پر مختلف مراحل اور مدارج میں کام کر رہی ہیں اور پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے پر امن جدو جہد کے ذریعے راہ ہموار کررہی ہیں۔ہر مسلمان جو اپنے اندر جہاد کا جذبہ اور ولولہ رکھتا ہے ‘ پوری دنیا میں اسلام کے غلبے کے خواب کی تکمیل چاہتا ہے‘ اسے ان تمام جماعتوں کے مقاصد میں بغیر کسی تعصب اور گروہ بندی کے تعاون کرنا چاہیے۔ ان جماعتوں کے کارکنان کو بھی ایک دوسرے کو امداد باہمی پہنچانی چاہیے۔ یہی ہمارے نزدیک جہاد کاوہ حقیقی عمل ہے جسے تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ 

آراء و افکار

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ