دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام

ادارہ

(۱۹ فروری ۲۰۰۹ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام تنظیم؍ وفاق ہاے مدارس کے سربراہان کے ساتھ ’’تدریب المعلمین‘‘ اور ’’تخصصات دینیہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ نشست کی روداد۔)


۱۹ فروری ۲۰۰۹ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام تنظیم؍ وفاق ہائے مدارس کے سربراہان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ 

نشست کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز خالد رحمن نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے آئی پی ایس کا مختصر تعارف پیش کیا اور بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ نے قیام کے آغاز ہی سے تعلیم، قومی تعلیمی پالیسی اور تعلیمی نظام کی اسلامائزیشن کو اپنے علمی اور تحقیقی منصوبوں میں شامل کیا ہوا ہے۔ اس کام کے تسلسل میں ۱۹۸۶ء سے دینی مدارس پر تحقیق اور ادارتی سطح پر ان کی نشوو نما کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ اس موضوع پر ’’دینی مدارس کا نظام تعلیم‘‘ انسٹی ٹیوٹ کی پہلی کتاب ہے جو ۲۳، ۲۴ نومبر ۱۹۸۶ء کو منعقد ہونے والے سیمینارکی کارروائی پر مشتمل تھی۔ تحقیق کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ کا کام تین نوعیت کا ہے: مجالس مذاکرہ، تربیت اساتذہ اور مطبوعات۔ اب تک منعقد ہونے والے تربیتی پروگرامات اور مجالس مذاکرہ کی تعداد چالیس سے متجاوز ہے جبکہ مقالات و مطبوعات کی تعداد دس ہے۔ 

تدریب المعلمین کے سلسلے میں منعقد ہونے والے پروگرامات میں اب تک کم و بیش ایک ہزار افراد نے شرکت کی ہے۔ یہ پروگرامات کم از کم ایک روز اور زیادہ سے زیادہ پندرہ روز پر مشتمل تھے، اور بالعموم ان میں تمام وفاق ؍ تنظیم کے مدارس کی بیک وقت شرکت کا اہتمام کیا گیا۔ ان پروگرامات کے شرکا کی تجاویز کی روشنی میں کام کو وسیع تر دائرے میں آگے بڑھانے اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تمام وفاق؍ تنظیم کے ذمہ داران کے ساتھ آج کی نشست کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نشست کے پہلے حصہ میں تدریب المعلمین کے آئندہ پروگرام پر گفتگو ہوگی جب کہ دوسرے حصہ میں تخصصات دینیہ کے حوالے سے جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تجویز کی روشنی میں گفتگو ہو گی۔ 

انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام آئندہ پروگرام ترتیب دیتے ہوئے ہم آج کی اس نشست کو اپنے لیے راہنمائی کا ایک اہم موقع سمجھتے ہیں ۔

تدریب المعلمین

مولانا محمد حنیف جالندھری 

(وفاق المدارس العربیہ)

میں پروفیسر خورشیداحمد، جناب خالد رحمن اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے دیگر رفقا کا شکر گزار ہوں۔ جناب خالد رحمن نے انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام اب تک مدارس کے حوالہ سے کیے جانے والے کام کا بڑا اچھا تعارف پیش فرمایا ہے۔ اسی تسلسل میں آج کی نشست کے دونوں موضوعات بڑے اہم ہیں۔ جہاں تک تدریب المعلمین کا تعلق ہے، اس کی ضرورت، افادیت اور اہمیت سے کسی بھی ذی شعور کو انکار نہیں ہوگا۔ درحقیقت ذرائع علم میں کتابیں، ماحول اور مدرسہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ استاد سب سے اولین حیثیت رکھتا ہے،اس لیے کہ باقی تمام چیزیں جاندار نہیں ہیں۔ نہ کتابیں بولتی ہیں، نہ ماحول بولتا ہے اور نہ ہی درسگاہ اور اس کے در و دیوار۔ استاد ہی ایک جاندار آلہ علم اور ذریعہ علم ہے۔ تو استاد چونکہ اصل ہے، اس لیے جتنا وہ ماہر ہو گا، اس سے کسب فیض کرنے والے شاگرد بھی اسی قدر ماہر ہوں گے۔ اس تناظر میں آپ نے تدریب المعلمین کی جو تجویز دی ہے، اس سے اصولی طور پر اتفاق ہے، لیکن تدریب المعلمین کے دو پہلو سامنے رہنا ضروری ہیں۔ ایک پہلو کا تعلق نصاب تعلیم سے اور دوسرے کا تعلق نظام تعلیم یا انداز تدریس سے ہے۔ 

جہاں تک نصاب تعلیم کا تعلق ہے، اس میں ضروری ہے کہ استاد کویہ معلوم ہو کہ فلاں فن، فلاں کتاب اور فلاں علم میں نے کیسے پڑھانا ہے ۔ ظاہر ہے کہ استاد کو یہ تربیت ماہر اساتذہ ہی دے سکتے ہیں جن کا اس میدان میں بہت زیادہ تجربہ ہو، کیوں کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ تدریس کے دوران بعض اوقات غیر ضروری مباحث بیان ہو جاتے ہیں اور ضروری مباحث کسی وجہ سے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ جسے اختصار کے ساتھ بیان ہونا چاہیے، اس میں بہت زیادہ طوالت ہوجاتی ہے یا چند ابواب جو کہ ہر کتاب میں مکرر ہوتے ہیں، ان میں تکرار ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کتاب الطہارۃ پر تدریس کے دوران لمبی لمبی بحث ہو جاتی ہے، لیکن اس کے بعد اخلاقیات، کتاب البیوع یا دیگر پر سرسری انداز سے گزرتے ہوئے پوری طرح توجہ نہیں ہو پاتی ۔ عرض کرنے کا منشا یہ ہے کہ تدریب المعلمین کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق درس نظامی کے نصاب اور اس کے طریقہ تدریس کے ساتھ ہے۔اس کے لیے ضروری ہو گا کہ جو ماہر اساتذہ ہیں، وہ اپنے تجربے کی روشنی میں بتائیں کہ فلاں فن کے لیے یہ کتابیں ہیں جن سے مدد لی جاسکتی ہے، اور یہ یہ مباحث زیادہ ضروری ہیں، ان کو بیان کریں اور یہ غیر اہم مباحث ہیں، ان کو بیان کرنے سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں تدریب المعلمین کے لیے ایسے ماہر اساتذہ درکار ہوں گے جن کا تجربہ میرے خیال میں کم از کم بیس سال ہونا چاہیے، کیوں کہ اتنا تجربہ رکھنے والے ہی صحیح رہنمائی کر سکتے ہیں۔ 

دوسرا پہلو نفسیاتی ہے کہ آج کے دور میں جو طریقہ تدریس یا طریقہ تعلیم ہے، اس کے اندر طلبہ کی نفسیات، علمی سطح، ذہنی سطح اور ان کے فہم و دانش کو سامنے رکھ کر تعلیم دینے کا اہتمام کرنا۔ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایک بات کو بار بار دہراتے تھے تاکہ اچھی طرح سے سمجھ لی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پڑھاتے ہوئے دائیں، بائیں اور ہر طرف اپنے چہرہ انور کو پھیرتے تھے، اس لیے کہ مواجہہ سے بہت ساری باتیں سمجھ آتی ہیں۔ اسی طرح یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج مار کا زمانہ نہیں ہے۔ اگر آپ طالب علم کو ماریں گے تو وہ کبھی بھی پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ ایک دور تھا جب آپ طلبہ کی پٹائی کرتے تھے تو وہ اس کو بھی سعادت سمجھتے تھے۔ آج تو اپنے بچے کو بھی کچھ کہتے ہوئے انسان محتاط ہوتا ہے۔تو یہ نفسیاتی چیزیں ہیں کہ بچے کو پڑھانا کیسے ہے؟ پیار، محبت اور ترغیب کے کون سے انداز ہیں؟ یہ تدریب المعلمین کا دوسرا حصہ ہے۔

تیسرا حصہ تدریب کا وہ آجا تا ہے کہ استاد اپنے تدریسی عمل میں ملکی اور عالمی حالات کو پیش نظر رکھے۔ اس حوالہ سے ایک بہت بڑی کمی جومیں محسوس کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ہمارا پڑھانا تطبیقی نہیں ہوتا یعنی آج جو کچھ ہم پڑھا رہے ہیں، ان کو موجودہ حالات پر منطبق کرنا۔ مثال کے طور پر اگر ہم کتاب البیوع پڑھا رہے ہیں تو بیع کی کچھ تو وہ صورتیں ہیں جو قدیم زمانے میں رائج تھیں۔ آج صورت حال کئی طرح سے مختلف ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ بیع غررہے، آج اس کی کیا صورتیں ہیں؟ بیع حبل الحبلہ ہے، اسی طرح ملابسہ ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں یہ جاننا کہ موجودہ زمانے میں ان کی کیا صورتیں ہیں؟ یا جیسے ہم کتاب المساقات و المزارعات پڑھاتے ہیں جس میں باغوں کا، کھیتیوں کا اور کاشت کا بیان پڑھاتے ہیں۔ ان کی آج مروجہ صورتیں کیا ہیں؟ ان کا کیا حکم ہے؟ اس زمانے میں صورتیں کچھ اور تھیں جو آج سے مختلف ہیں۔ اس زمانے میں کنویں تھے، ان کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ یہ صورت ہو تو کنواں ناپاک ہوجائے گا، پاک کرنے کا یہ طریقہ ہے، لیکن آج تو طالب علم کو کہیں کنواں نظر نہیں آتا۔ ہمارا جو معاشی نظام ہے، آج اس میں ایک بینکنگ کا شعبہ ہے۔ تجارت صرف مقامی اور قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہو رہی ہے۔ ٹیلی فون، فیکس اور ای میل پر تجارت ہو رہی ہے ۔ تجارت کی ان صورتوں کا کیا حکم ہے؟ موجودہ بینکاری کے نظام پر یہ صورتیں کیسے منطبق ہو تی ہیں ؟ خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے ہاں تدریس تطبیقی نہیں ہے۔ طالب علم جو پڑھ رہا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے علم مل رہا ہے اور یہ برکت کے لیے بھی ہے، لیکن آج کی زندہ دنیا میں، باہر مارکیٹ میں میں اپنے علم کو کیسے منطبق (Apply) کروں گا، یہ اس پر پوری طرح واضح نہیں ہے اور یہ میرے خیال میں زیادہ ضروری ہے ۔

اس ضمن میں ایک بڑا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تمام وفاق مل کر یہ انتظام کریں، آئی پی ایس کا تعاون بھی حاصل ہو، کہ چند ایک اہل علم اس کام پر اس طرح لگائے جائیں کہ ان کی ضروریات کاباقاعدہ انتظام بھی کیا جائے۔ ان کی ذمہ داری ہو کہ احادیث کی کتب میں سے چند ایک صلبی کتب کا انتخاب کریں اور ان میں شریعت کے جتنے بھی احکام اور مسائل ہیں، ان کو انطباقی انداز میں مرتب کریں تو وہ استاد کے لیے ایک رہنما چیز ہو گی جو کم از کم اس وقت موجود نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کتب کی جو شروح لکھی گئی ہیں، ان میں بعض حضرات نے موجودہ دور کے مسائل کے احکام منطبق کیے ہیں، لیکن اکثر شروح میں آج کی مروجہ صورتیں نظر نہیں آئیں گی۔ یوں دوران تعلیم لگتا یہ ہے کہ جو میں پڑھ رہا ہوں، اس کا تعلق دور ماضی سے ہے، دور حاضر اور مستقبل سے نہیں ہے۔ 

تدریب المعلمین کے حوالہ سے یہ چند تجاویز میرے ذہن میں ہیں۔ یہ کام بہت اہم ہے، البتہ صرف دو یا تین دن کی ورکشاپ میرے خیال میں اتنی زیادہ مفید نہیں ہو گی۔ اس میں صرف آپ اخلاقی پہلو اورطلبہ کے نفسیاتی پہلو بتا سکتے ہیں، اسی طرح کچھ تھوڑے بہت اجمالاً عالمی حالات اور تقاضے بتا سکتے ہیں، لیکن طویل المیعاد پروگرام کے نقطہ نظر سے ضرورت یہ ہو گی کہ تدریب المعلمین میں نصاب تعلیم، نظام تعلیم اور طرق تدریس سے متعلق موضوعات پر ٹھوس کام ہو اور اس کے لیے ضروری مواد بھی تیار ہو۔

مولانا یا سین ظفر 

(وفاق المدارس السلفیہ)

تدریب المعلمین کے سلسلے میں قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے تمام ضروری باتوں کااحاطہ کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں دو تین تجاویز میرے ذہن میں بھی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام تربیتی پروگرام کے حوالہ سے اکثر میں سوچتا ہوں کہ آپ کے ہاں ہمارے جو اساتذہ آتے ہیں، وہ تدریسی فرائض چھوڑ کر آتے ہیں تو ظاہر ہے وہاں بھی ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہاں ایسے ماہرین ان کو تربیت دیتے ہیں جن کی اکثریت براہ راست مدارس سے متعلق نہیں ہوتی اوروہ اپنے تجربات کی روشنی میں ہی ساری بات کرتے ہیں۔ آئندہ کے لیے میری تجویز یہ ہے کہ اگر ہر وفاق اپنے ہاں سے ایسے اساتذہ، جن کی تدریسی خدمات کو بیس سے پچیس سال ہو چکے ہوں، ان کو تدریس سے کچھ عرصہ کے لیے فارغ وقت دیں اور وہ یہاں آکر تربیت حاصل کر سکیں، جیسا کہ قاری صاحب نے متوجہ کیا کہ وقت تھوڑا زیادہ ہونا چاہیے تا کہ اس سلسلے میں جتنے بھی ضروری موضوعات ہیں، ان کو سمیٹا جا سکے۔

یہ تجویز بھی اچھی ہے کہ وہ بعد میں جا کر اپنے اپنے مسالک یا وفاقوں کے زیر اہتمام مدارس میں یہ فریضہ سر انجام دیں، لیکن یہ بھی تب ہی ممکن ہے جب ان کے پاس تدریسی فرائض سے کچھ فرصت ہوگی۔ اگر واپسی پر جا کر وہ خود ہی اپنی تدریس میں مصروف ہو گئے تو کیسے یہ کام کر سکیں گے۔ مدارس کا سلسلہ پورے پاکستان میں پھیلا ہو اہے۔ سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ممکن نہیں ، البتہ صوبوں یا ڈویژن کے اعتبار سے ان کو اکٹھا کر کے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اگر ایسے اساتذہ کی خدمات لی جائیں، ان کو تربیت دی جائے، وفاق ان کا بوجھ اٹھائیں اور وہ اساتذہ یہ فریضہ مختلف مقامات پر سر انجام دیں تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری رہ سکتا ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہو گا جیسے نصاب سازی اورکتابوں کی تبدیلی ہر سال ہر وفاق کرتا ہے اور اس پر غور و فکرجاری رہتا ہے۔ اسی طرح تدریب کے اندر بھی نئی نئی چیزیں شامل ہوتی رہیں گی۔ اس اعتبار سے یہ کام ضرور ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مدارس میں اساتذہ کا بھی بعض موضوعات میں تخصص ہوتا ہے۔ کسی کا فقہ میں، کسی کا تفسیر اور حدیث، یا ادب اور تاریخ میں۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام پروگراموں میں جولوگ آتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ان سارے ہی موضوعات پر دسترس رکھتے ہوں بلکہ ان کی شناخت اور دائرہ کار کسی ایک موضوع میں ہو گا۔ فطری طور پر اگر اسی موضوع پر فیلڈ میں جا کر وہ بتائے گا تو زیادہ بہتر ہوگا۔اس اعتبار سے وفاق بھی اور آپ (آئی پی ایس) بھی یہ اہتمام کریں کہ ایسے لوگوں کو شامل کریں جن کا مطالعہ وسیع ہے۔ اگر ان کی اچھی تربیت ہو جائے گی تو وہ جا کر کسی بھی موضوع پر عمدہ بات کر سکیں گے۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ بلاشبہ اصول تدریس، اسلوب یا تربیت کے کئی پہلو نکل آتے ہیں،لیکن اس سے بڑھ کر ایک موضوع جس کو ہم مدارس والے بھی محسوس کرتے ہیں، وہ نظم و نسق اور نظام کی پابندی ہے۔ہمارے ہاں اساتذہ بہت اچھی تدریس کر لیں گے، لیکن نظام میں رہ کر اصولوں کی پابندی اکثر ان کے لیے مشکل ہوتی ہے۔ مثلاً کچھ مدارس ایسے ہیں جن میں عمر کی کوئی قید نہیں ، کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ابتدائی کلاسوں کے ساتھ بخاری پڑھنا چاہے تو اسے کیوں روکا جائے۔وہ کسی وقت بھی ایک پیریڈ یا دو پیریڈ پڑھ لے ، عمر کے کسی حصے میں بھی آجائے تو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ یہ تصورات بہر حال موجود ہیں۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ نظام اور قواعد و ضوابط جو اداروں کی بہتری کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کے فوائد اور ثمرات سے بھی متعلمین کو آگاہ کیا جائے کہ مدارس کے اندر جہاں اسلوب تدریس پر بات ہو، وہیں نظام کی پابندی کے حوالے سے بھی توجہ دلائی جائے۔

علامہ نیاز حسین نقوی 

(وفاق المدارس الشیعہ)

قاری حنیف جالندھری صاحب اور ڈاکٹر یاسین ظفر صاحب نے اچھی باتیں کی ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ دینی اور دنیوی تعلیم میں کافی فرق ہے، لہٰذا اس کے اسلوب میں بھی فرق ہے۔ دینی تعلیم میں چار مرحلے ہیں جو ہمارے مدارس میں تعلیم کے دوران مد نظر رکھے جاتے ہیں ۔ ایک ابتدائی مرحلہ ہے جس میں میرے خیال میں سارے وفاق شریک ہیں جس کو ہم ادبیات کہتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ہر طالب علم کے لیے نحو ، صرف، منطق اور فلسفہ کا جاننا ضروری ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی وفاق سے کیوں نہ ہو۔ اس مرحلے کے دورانیے میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ فن ہر طالبعلم کو پڑھنا پڑتے ہیں۔ اس کے بعد کے مراحل میں فقہ اور اصول، منطق اور فلسفہ میں بھی بڑی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تو ظاہر ہے کہ تعلیم کا طریقہ کار سب مراحل کے لیے ایک جیسا نہیں، چنانچہ ایک استاد سب مراحل کو نہیں پڑھا سکتا ۔ 

اس تناظر میں تدریب المعلمین کے عنوان سے پروگرام بناتے ہوئے ان مراحل کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ ابتدائی مراحل کے استاد کو جو طریقہ سکھانا ہے، وہ دوسرے، تیسرے اور چوتھے مرحلے کے استاد کے مقابلہ میں مختلف ہوگا۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام جو پروگرامات ہوتے رہے ہیں، ان میں ہمارے مدارس کے اساتذہ بھی شریک رہے ہیں۔ یہ کہنا تو ٹھیک نہیں کہ ان کا کوئی فائدہ نہیں، کیوں کہ ہر کام کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ہوتا ہے لیکن جوایک یا دو اساتذہ آتے ہیں، ان کو ایک ہی طرح کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ یوں جو کچھ وہ سیکھتے ہیں، وہ ہرمرحلے پر لاگو نہیں ہوتا۔ سب ہی لوگ یہ جانتے ہیں کہ بچوں اور بڑوں کو تعلیم سکھانے کا طریقہ کار مختلف ہے۔ چنانچہ جس آدمی نے چھوٹے بچوں کو پڑھانا ہے، وہ اسی انداز سے بیس سال یا اس سے زائد کے طلبہ کو نہیں پڑھا سکتا۔ یوں یہ ایک پیچیدہ اور مشکل کام ہے، اس میں آپ اور اسی طرح تنظیم ؍وفاق ہاے مدارس کے علما بیٹھ کر مختلف مراحل کے حساب سے طریقہ کار اپنانے کا پروگرام بنائیں۔ اسی طرح وہ استاد جا کر ان بچوں کو تعلیم دے گا جن کی عمر کے لحاظ سے اسے رہنمائی حاصل ہو۔

ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ آج کل کے تناظر میں مشکل کتابوں کی جگہ آسان کتابیں شامل کی جائیں اور جس موضوع پر ایسی آسان کتب نہ ہوں تو لکھنے کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ جو مشکل کتابیں ہم لوگ پڑھاتے ہیں تو اس کامقصد یہ ہوتاہے کہ طالبعلم میں استعداد اور قوت اور قدرت پیدا ہو ، تا کہ وہ صحیح معنوں میں عربی اصطلاحات سمجھ سکیں۔ جب بچہ ایک مشکل کتاب سمجھ لیتا ہے تو باقی کتابیں وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ مشکل کتب کو چونکہ ہر استاد نہیں پڑھا سکتا لہٰذا اس درجہ کے اساتذہ کے لیے خاص تربیت کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ ہم ہر اس فرد کو بھیج دیں جس کا کام تعلیم و تدریس ہے وہ یہ ساری باتیں سیکھ سکیں۔ 

اس سلسلے میں ایساطریقہ کار وضع کیا جائے کہ ہر ہر مرحلہ کے استاد کے لیے الگ تربیتی پروگرام رکھا جائے۔ کتابوں کے حساب سے بھی پانچوں وفاق مشورہ کریں اور کم از کم وہ کتابیں جو مشترک ہیں، اس کے حوالے سے ایسا نصاب منتخب کریں جو ہر وفاق پڑھا سکتا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ صرف، نحو اور منطق جیسے فنون کی الگ الگ کتابیں پڑھا رہے ہوں۔ کم از کم فقہ کے مرحلے سے پہلے سب وفاق ایک نصاب بنا سکتے ہیں۔ اور جب ایک نصاب ہو گا تو تربیت کا کام بھی آسان ہو گا۔ وفاقوں سے اس سلسلے میں بھی گفتگو کی جائے کہ پہلے تین سال جس کو ہم نحو ، صرف اور ادبیات کا مرحلہ کہتے ہیں، اس کے لیے ایک نصاب اور نظام بنایا جا ئے اور جب فقہ اور تفسیر کا مرحلہ شروع ہو تو ہر وفاق اپنے لحاظ سے کتب کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ مربی کی تعلیم زیر تربیت اساتذہ سے زیادہ ہو، ایسا نہ ہو کہ زیر تربیت بہت بڑا علامہ ہو جبکہ مربی کم تعلیم یافتہ ہو۔چونکہ تربیت کے بعد اساتذہ نے جن کتابوں کو پڑھانا ہے، اس کا اگر مربی کو علم ہی نہیں تو وہ ان کی صحیح رہنمائی کیسے کر سکتا ہے۔اس کو بھی ضرور مد نظر رکھیں۔ پہلے سے جو طریقہ کار آپ کے ہاں چل رہا ہے، اس کے فائدے سے تو انکار نہیں البتہ وہ کافی نہیں تھا۔

ایک تجویز یہ ہے کہ اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو تدریب المعلمین کے لیے سب لوگوں کو اسلام آباد بلانے کے بجائے ہر صوبے یا ہر ڈویژن میں یہ پروگرام منعقد ہو،کیوں کہ اسلام آباد میں تو ایک یا دو اساتذہ آسکتے ہیں لیکن اگر لاہور یا دیگر شہروں میں ہو تو سب اساتذہ اس میں شرکت کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اور ایسے وقت کا انتخاب ہو کہ استاد کی تدریسی مصروفیات بہت زیادہ متاثر نہ ہوں۔

مولانا ڈکٹر محمد سرفراز نعیمی 

(تنظیم المدارس اہل سنت)

میں محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب اوراس انسٹی ٹیوٹ کے ان تمام ذمہ دار افراد کاشکریہ ادا کرتا ہوں جو ایک جذبے اور مشن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اس زمانے میں کتنے افراد ہیں جو دینی مدارس کے بارے میں واقعی اصلاح کے نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔ یہ تو سوچا جا رہا ہے کہ مدارس کو کس طرح کنٹرول یا ختم کیا جائے، لیکن ان میں اصلاح اور ان کی بارآوری کے بارے میں شاید ہی کوئی آپ کے علاوہ سوچ رہا ہو۔ انفرادی اعتبار سے شاید کوئی مثال موجود ہو لیکن اجتماعی اور اداراتی اعتبار سے آپ کا یہ عمل بہت قابل تحسین و تعریف ہے۔ 

وفاقوں کے منضبط اور منظم ہونے سے ایک فائدہ باقاعدہ نظام کی تشکیل کی صورت میں ہوا ہے۔ اب ایسا نہیں کہ ایک بچہ دو سال میں دورہ کر کے فارغ ہو جائے، بلکہ ایک سسٹم بن گیا ہے کہ مڈل کے بعد اس نے آٹھ سال لگانے ہی لگانے ہیں۔ مڈل کے بعد اس کو ثانویہ عامہ، خاصہ اور اس کے بعد عالیہ اور عالمیہ کرنا ہو گا۔ دورانیے کے اعتبار سے یہ بڑا منظم سسٹم بن گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ چونکہ اب امتحانات تحریری ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ میں اظہار اور ما فی الضمیر کا ملکہ پہلے سے بہتر پیدا ہوا ہے۔

دینی نظام تعلیم میں ایک چیز جو اہمیت کی حامل ہے، وہ کتاب ہے۔ کتاب کو پڑھاتے ہیں اور مضمون اس کے تابع ہوتا ہے، جبکہ عام تعلیمی نظام میں مضمون اصل ہوتا ہے اور کتاب رہنمائی کرتی ہے۔ استاد لیکچر دیتا ہے، ضروری نہیں ہے کہ طالبعلم کتاب کو لفظ بہ لفظ یاد کرے۔ جبکہ درس نظامی کی کتاب میں ہر ہر لفظ کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ مثلاً مصنف نے یہ لفظ یہاں کیوں ذکر کیا، اس کا ماقبل و مابعد سے کیا تعلق ہے ، اس میں کیا معنی پوشیدہ ہیں۔ اس ساری گفتگو اور بحث کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالبعلم کے اندر سوچ بچار کا ملکہ اور تفکر کا انداز پیدا ہو۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ مدارس کے نظام میں دوسرے نظاموں کے مقابلہ میں شروع سے آخر تک تدبر اور تفکر کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، کیونکہ درس نظامی کے پورے نظام کا مقصد قرآن و حدیث کو سمجھنا ہے اور تفقہ اور تدبر کیے بغیروہ سمجھا نہیں جا سکتا۔ قیاس کرنا ہے، دلیل تلاش کرنی ہے، علت مشترکہ تلاش کرنی ہے۔یہ سب تدبر و تفقہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر یہ نظام تشکیل دیا گیا ہے جس سے ہم بالکل انکار نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہاں کتابوں کی اپنی ایک اہمیت ہے اور ان کا وجود باقی رہنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ تدریس کے اصول و ضوابط اپنی جگہ قائم رہنے چاہییں، لیکن اس پرغور کرنے کی ضرورت ہے کہ فی زمانہ اس اصول اور ضابطے پر کیا مثال منطبق آ رہی ہے تا کہ ماضی اور حال کا ایک امتزاج اس کے اندر پیدا ہو سکے۔ مثال کے طور پر صرف (عربی گرامر)کے اندر ضرب یضرب(مارنا) کی مثال دی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ مثال موجود ہے۔ کسی زمانے میں علما نے قرآن کو سمجھنے کے لیے وہ چیزیں لیں جن کا تعلق قرآن کے ساتھ تھا، لیکن فی زمانہ اس مثال کے بجائے کوئی اور مثال بہتر ہوگی کیونکہ اس مثال سے ہر بچے اور استاد کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ مارنا اور مار کھانا زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ مشترکہ کوشش کر کے مثالوں کو اس انداز سے بدلیں جو زمانہ حال کے تقاضوں کو پورا کر سکیں اور اس کے ساتھ ہی طلبہ کے اندر وہ ملکہ پیدا ہو کہ وہ مشرق وسطی میں بولی جانے والی عربی زبان کو آسانی کے ساتھ سمجھ اور بیان کر سکیں۔ اس پس منظر میں مدارس میں ابتدائی تین چار سال کے لیے کتاب زیادہ اہمیت کی حامل ہے البتہ اس کے بعد لیکچر کا طریقہ بھی استعمال ہونا چاہیے، کیوں کہ ایک لیکچر بیک وقت بہت سے پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔

اب تک درس نظامی میں جو کوشش ہوئی ہے، وہ ہے انفرادی ملکہ۔ استاد کی اپنی خصوصیات جن کی مدد سے وہ طلبہ کو پڑھائی کی طرف لاتا ہے۔ یہ بنیادی طورپر افراد پر منحصر ہے۔ ہر معلم کا انداز تدریس اس میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہ چیز اپنی جگہ قابل تحسین ہے لیکن زیادہ بہتر ہو گا کہ بنیادی طورپر نفسیاتی پہلو اور عمر کے تقاضوں کو بھی مد نظر رکھ کر کام کیا جائے۔ اس اعتبار سے اصول تو وہی رہیں گے، مثالوں میں تبدیلی آئے گی۔ اس کی ایک مثال نیا بینکنگ سسٹم ہے۔ اس نظام میں نئی نئی اصطلاحات آئی ہیں، اب ضرورت پڑے گی ایسی کتاب کی تالیف کی جس میں آج کی اصطلاحات ہوں۔ یہ واضح ہوکہ PLS، Debit ، Credit کا مطلب کیا ہے ؟ تا کہ ایک استاد جب یہ موضوع پڑھانا چاہے تو بہتر انداز سے پڑھا سکے۔ 

جس طرح اسکولوں میں بی ایڈ، ایم ایڈ وغیرہ علیحدہ علیحدہ ڈگریاں ہیں، جس طرح وہاں مختلف درجات میں تدریس کے لیے سسٹم آف ایجوکیشن بنائے گئے ہیں، اسی طرح ہمیں بھی ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ، عالیہ اور عالمیہ جو کہ میٹرک سے لے کر ماسٹر تک کے مساوی ہیں، ان کے علیحدہ علیحدہ درجات کے اعتبار سے پروگرام بنانا چاہیے تا کہ اساتذہ کی اہلیت کے مطابق ان کو تربیت دی جا سکے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہیے کہ مدارس کے اندر تقریباً پچاس فیصد افراد عمر کے اعتبار سے پچاس سے متجاوز ہیں۔ اب عمر رسیدہ افراد کوبالعموم ان تربیتی پروگراموں شریک کرنا ممکن نہیں۔ امکان ہے کہ وہ اس میں اپنے لیے کم ہی قبولیت محسوس کریں گے۔ ایسے افراد کے لیے تدریسی مہارتوں کے حوالہ سے ایک کتاب تیار کی جائے تا کہ وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ نوجوان اساتذہ کے لیے البتہ دو صورتیں ہیں ۔ ایک وہ جو تدریس کر رہا ہے اور ایک وہ جو ابھی فارغ ہوا ہے اور تدریس شروع کرنی ہے۔ نئے فارغ ہونے والوں کے لیے نصاب بنایا جائے تا کہ وہ آگے جا کر بہتر انداز سے تدریس شروع کر سکیں، جبکہ تدریس کے عمل میں شریک اساتذہ کو ورکشاپ کے ذریعے تربیت دی جاسکتی ہے۔ 

اب چونکہ جدید اور قدیم نظام تعلیم مختلف ہے، لہٰذا تدریب المعلمین کے لیے دونوں طرح کے افراد کو بٹھا کر نصاب بنانا پڑے گا تا کہ نئے اور پرانے تقاضے اس میں جمع ہو جائیں اور اُن میں تعارض نہ ہو۔ اس کے لیے ایسے ماہرین کا انتخاب کیا جائے جو تدریس کر رہے ہیں اور اپنے اپنے میدان میں اہل فن میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی مشترکہ کوشش سے یہ نظام ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ جب یہ سسٹم بن جائے گا تو اس کا نفاذ کیسے ہو؟ جبری نفاذ تو ممکن نہیں ہے، لیکن اگر باہم مشاورت سے کیا جائے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ ہم نئے آنے والے اساتذہ کو بہتر انداز سے اپنا کام شروع کرنے میں رہنمائی فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ممکن ہے۔ 

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ خطیب صاحب خطبہ ارشاد کر رہے ہیں لیکن بیشتر مقامات پر سامعین کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، لہٰذا وہ بمشکل اس وقت آتے ہیں جب نماز کے وقت میں محض پانچ منٹ باقی رہ جائیں۔ اس کی وجوہات اور اسباب ہمیں تلاش کرنے چاہییں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم حالات حاضرہ اور وقت کے تقاضوں کے حوالے سے ابلاغ اورعلم کا کوئی ایسا فورم مہیا نہیں کر رہے جس کو سننے کے لیے لوگ جمعے کے دن جلدی آئیں۔ ہمیں اس بارے میں بھی سوچنا چاہییے اور معلمین کے تربیتی پروگرام میں شامل کیا جائے کہ جمعہ کے خطبات میں اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھیں۔ 

ایک تجویز ہے کہ جب آپ یہاں ورکشاپ کریں تو جو اساتذہ شریک ہوں، ان کی رہایش کاذمہ دار خود وفاق ہو۔ وفاق اپنے مدارس مقرر کریں کہ رہایش انہوں نے دینی ہے۔ اس سے آپ کا خرچہ کم ہو گا جو دیگر مقامات پر استعمال ہو سکے گا۔اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی جب پروگرام ہو تو وفاق اور تنظیم اپنے اپنے اساتذہ کے اخراجات کا انتظام کریں۔ یہ قابل عمل تجویز ہے۔ 

مولانا ڈاکٹر طاہر محمود 

(الجامعۃ السلفیہ ۔ اسلام آباد)

آئی پی ایس اور اس کے ذمہ داران لائق تبریک ہیں کہ انہوں نے آج کی اس مجلس میں ایک خوبصورت گلدستہ سجایا جس کے ہر پھول کی خوشبو دوسرے کو معطر کر رہی ہے۔ محترم قاری حنیف جالندھری نے ابتدا میں جن دو باتوں کی طرف توجہ دلائی، نظام تعلیم اور طریقہ تدریس، اس کے ساتھ میری متواضع رائے کے مطابق اگر نظام اخلاقیات کو شامل کر لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ مدارس کے ذمہ داران کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو کتاب و سنت کی جو تعلیم دے رہے ہیں، اس کا اثر ان کی اخلاقیات میں بھی بھرپور طورپر نظر آئے۔ اگر ہم معلم کو اس بات پر توجہ دلائیں کہ اخلاقیات میں وہ نمایاں ہوں تو اس کے اثرات طلبہ پر بھی منعکس ہوں گے۔ میں چونکہ عصری اور دینی دونوں طرح کے ماحول میں رہا ہوں، اس لیے اس حوالہ سے فرق کو محسوس کرسکتا ہوں۔ درحقیقت عصری علوم و فنون کے طلبہ اور دینی علوم و فنون کے طلبہ کے تعامل اور انداز گفتگو میں بڑا فرق ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب اخلاقیات کے شعبہ کی کمزوری ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

انسٹی ٹیوٹ کی جو کوششیں میں نے دیکھی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ ان کو آج کی تجاویز کی روشنی میں بڑھایا جائے ، البتہ اس میں یہ اضافہ کیا جائے کہ جہاں آپ مختلف مدارس کے اساتذہ کو دعوت دیتے ہیں تو وہیں وفاق کے مرکزی ادارے سے کسی مرکزی استاد کو بطور مربی بلائیں کہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے اپنے فن سے متعلق اساتذہ کی رہنمائی کریں۔ 

وفاق کے ارباب کی خدمت میں گزارش ہے کہ جب بھی وہ کسی استاد کو متعین کریں تو اس کے لیے شرط ہو کہ اس نے کم از کم تین ماہ کا تدریس کا کورس کیا ہو جس کا اجرا بھی وفاق کی ذمہ داری ہے۔ یہ پروگرام ہر مدرسے میں ہو سکتا ہے کہ نئے آنے والے اساتذہ کے لیے تین ماہ کا کورس رکھا جائے اور تجربہ کار اساتذہ کی ذمہ داری لگائی جائے کہ وہ ان کی رہنمائی کریں، اور تعیین کے بعد نئے آنے والے اساتذہ کو پرانے اساتذہ کے زیر نگرانی رکھا جائے جو دوران تدریس اس کو چیک اور اصلاح کریں۔ اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دوران تدریس طلبہ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیں ۔ استاد کو چاہیے کہ شخصی طور پر یہ معلومات رکھے کہ میرا شاگرد کن صلاحیتوں کا مالک ہے اور ان معلومات کی روشنی میں حسب موقع انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے۔

آخرمیں تدریب المعلمین کے حوالہ سے ایک مفید کتاب کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ کتاب ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب پر انہیں صدارتی ایوارڈ ملا ہے۔ کتاب کا خاصہ ہے کہ اس میں مصنف نے کتاب و سنت، تاریخ اور تذکرہ اسلاف سے جو نکات بیان کیے ہیں، وہ تدریسی عمل میں راہنمائی کے لیے انتہائی مفید ہیں ۔

ڈاکٹر محمد حنیف

(وزارت تعلیم)

تدریب المعلمین کے حوالے سے گزارش ہے کہ جب بھی ایساکوئی پروگرام ہو تو مشمولات کی فہرست باقاعدہ مرتب ہونی چاہیے تا کہ تکرار نہ ہو اور وہی باتیں بار بار نہ بتائی جائیں جو وہ پہلے سے جانتے ہوں۔ مربیین کے حوالے سے بھی خیال رکھا جائے کہ کم تجربے والا بڑی عمر کے افراد کو نہ سکھائے، کیوں کہ عموما یہ چیز قبول نہیں ہوپاتی۔

کورسز دو قسم کے ہونے چاہییں ۔ ایک طویل المیعاد ، یہ کورس تمام وفاقوں کی مشاورت اور تعاون سے طے کیا جائے جو تین سے چار مہینے کے دورانیے پر محیط ہو جس میں اصول تدریس کے متعلق سکھایا جائے۔ مثال کے طورپر آسان سے مشکل کی طرف، مثالوں کے ذریعے اور معلوم سے نامعلوم کی طرف وغیرہ تربیت اساتذہ کے بڑے بڑے اصول ہیں۔ اصول تدریس کے ساتھ دوسری چیز طریقہ تدریس ہے ۔ اب بہت سے نئے نئے طریقے رائج ہیں۔ ان سے استفادہ کیا جائے۔ اس ضمن میں بالواسطہ یا بلا واسطہ طریقہ تدریس جیسے اصولوں اور مدرسے کے حالات کو مد نظر رکھ کر اصول وضع کرنے ہوں گے۔ تعلیمی نفسیات کے پہلو کو بھی شامل کرنا ضروری ہے کیوں کہ اس کے بغیر ایک معلم آگے بڑھ نہیں سکتا۔ ساتھ ہی نظم و ضبط کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی جائے تا کہ استاد اگر کسی مرحلہ پر مہتمم یا ناظم بن جائے تو با آسانی انتظامات سنبھال سکے۔

نفس مضمون کے حوالے سے مولانا حنیف جالندھر ی صاحب نے جو اشارہ کیا اس پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہو گی کہ تفسیر، حدیث اور فقہ کو کیسے پڑھانا ہے۔ جولوگ تدریس میں مشغول ہیں، ان کے لیے تین چار مہینے کے کورس میں شمولیت ممکن نہیں ہوگی، ان کے لیے مختصر مدت کے کورسز ترتیب دیے جائیں اور مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں ان کو رہنمائی فراہم کی جائے۔ 

اس سلسلے میں جدید اداروں کے ایسے افراد سے مدد لی جا سکتی ہے جو فن میں مہارت کے ساتھ ساتھ دینی جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر مدارس کے ماحول، نظم وضبط اور تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ارباب مدارس کے مشورے سے یہ پروگرام ترتیب دیا جائے تو بہتر نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے وقت کی اہم ترین ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان حضرات کو اکٹھا کیا، اور یہ حضرات بھی قابل فخر ہیں کہ انہوں نے اپنی مصروفیت سے وقت نکالا۔ 

مفتی شکیل احمد 

(جامعہ محمدیہ۔ اسلام آباد)

تربیت کے ضمن میں آئی پی ایس کے تحت ہونے والے پروگرامات کے حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ شخصی و ادارتی نشوو نما کے اعتبار سے ایک انتہائی جامع پروگرام ہے، لیکن اس کی افادیت عام نہیں ہے۔ عام نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر پاکستان میں بیس ہزار سے زائد مدارس ہیں تو یہاں آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کر واپس جا کراس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو بھی یہ بہت محدود ہوگی۔ اس لیے ایسے پروگرامات کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی افادیت کو بڑھانے کے لیے یہ تجویز میں نے پہلے بھی دی تھی کہ تدریب المعلمین کے حوالے سے کتاب مرتب کی جائے جس میں جدید اور قدیم دونوں تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے۔ اگر آئی پی ایس یہ کام کر لے تو یہ پہلی کوشش ہو گی۔ دوسری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مشورہ کے بعد وفاقوں کی وساطت سے اس کتاب کو نصاب میں شامل کیا جائے اور اسے نئے آنے والے اساتذہ کے لیے لازمی قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ پروگرام بتدریج سو فیصد لوگوں تک اپنے اثرات پہنچا سکتا ہے۔ یہ تو تدریب المعلمین کے پروگرام کے متعلق ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ مدارس کے نظام میں حقیقی بہتری مہتمم کے بغیر ممکن نہیں ۔ جو مزاج مہتمم کا ہے، وہ اوپر سے نیچے تک ہر شخص میں پایا جاتا ہے۔ اگر مہتمم نیکی اور تقویٰ میں مثالی ہے تو اس ادارے کے ہر فرد میں یہ جھلک نظر آتی ہے۔ اسی طرح اگر مہتمم علمی اعتبار سے ٹھوس صلاحیت اور مضبوط استعداد کا حامل ہے تو وہ دیگر مدرسین کی بھی اس حوالہ سے نگرانی کرتا ہے۔اگر مہتمم خود کمزور ہوگا تو وہ دیگر اساتذہ کی رہنمائی اور نگرانی بھی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا مہتمم کے انتخاب یا مدرسے کے وفاق کے ساتھ الحاق کے وقت چار چیزوں کا لحاظ رکھا جائے۔ اوّل: مہتمم ذی استعداد ہو۔ دوم: تعلیم کے اندر اس کی ذاتی دلچسپی ہو۔ سوم: نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے مضبوط ہو اور چہارم: دینی اور دنیاوی تعلیم کا جامع ہو۔ ان چار چیزوں کی موجودگی میں وہ ساری باتیں جو ہم یہاں کر رہے ہیں خود بخود مدرسے میں آجائیں گی۔ 

مدارس کے اندر تعلیمی انحطاط کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مہتمم کی ذاتی دلچسپی دو باتوں میں ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ مدرسے کی عمارت بڑی سے بڑی ہو اور دوم یہ کہ طلبہ کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ لیکن ایک بنیادی چیز جس پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کا معیار متاثر ہوتا ہے، وہ اساتذہ کی معاشی حالت کو بہتر نہ بنانا ہے۔ اگر اساتذہ مختلف مدارس میں دو دو گھنٹے ٹائم دیں گے تو وہ کہیں پر بھی پوری توجہ نہیں دے سکتے۔ اس لیے وفاق کی سطح پر اس کی نگرانی کی جائے کہ اگر کسی مدرسے کی مالی حالت بہتر ہے تو اساتذہ کا معاوضہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ 

تدریب المعلمین کے سلسلے میں ایک اور عرض یہ ہے کہ مدرسے میں استاد کا انتخاب کرتے وقت اکثر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس میں قابلیت کتنی ہے بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی آمد سے مدرسے کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہو گا۔ وفاقوں کی سطح پر بھی ایسانظام بنایا جائے جس کے تحت اساتذہ کی تعیین کی شرائط طے کی جائیں۔ اسی طرح یہ بھی عام ہے کہ ایک استاد کو کئی کئی مضامین دے دیے جاتے ہیں،جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہر فن کے لیے ایک استاد مختص ہو۔ 

محترم قاری حنیف جالندھری صاحب نے فرمایا تھا کہ تدریب کے لیے ایسے اساتذہ کو منتخب کیا جائے جن کا کم از کم تجربہ بیس سال ہو۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ پچاس سال کا تجربہ رکھنے والے بھی اچھی تدریس نہیں کر سکتے جب تک انہیں اس فن سے ذاتی دلچسپی نہ ہو۔اگرچہ استاد کا تجربہ کم بھی ہو، لیکن وہ ذاتی دلچسپی لیتا ہو تو وہ زیادہ مفید ہو گا۔ اسی طرح نصاب میں کچھ پرانی کتابیں چلتی آرہی ہیں جن میں فن کم اور آج کے تناظر میں غیر متعلقہ باتیں زیادہ ہوتی ہیں، جیسا کہ بلاغۃ کی کتاب مختصر المعانی ہے۔انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی کتابیں اگرچہ تبدیل نہیں ہو سکتیں، لیکن مختلف فنون پر جو کتابیں نئی آرہی ہیں، ان کو رائج کیا جانا چاہیے۔ 

مولانا محمد ہاشم 

(جامعہ نعیمیہ ۔ لاہور)

مجموعی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تدریب المعلمین کے حوالہ سے انسٹی ٹیوٹ کی کاوشیں انتہائی مفید ہیں۔ آئندہ مراحل میں ان کو مفید تر بنانے کے لیے مختلف تجاویز کو عملی شکل دی جائے۔ آج کی نشست میں بہت سی مفید باتیں سامنے آئی ہیں۔ جناب جالندھری صاحب نے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم و تدریس کے حوالے سے دو اہم باتیں ذکر کیں۔اسی طرح ڈاکٹر طاہر صاحب نے نظام الاخلاق کا اضافہ کیا۔ میں چوتھی چیز، نظام الاوقات کا اضافہ کروں گا۔ اس کی انتہائی زیادہ ضرورت ہے۔ اس حوالے سے بعد میں مزید ذکر کروں گا۔

یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اس وقت دینی مدارس کے اندر علمی ذوق کا فقدان نظر آرہا ہے۔ طلبہ کے اندر علمی ذوق، جستجو اورتحقیق کے لیے جو جدوجہد ہونی چاہیے، وہ بالعموم بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ابتدائی درجات کے اندر پڑھانے والے اساتذہ نئے ہوتے ہیں اور خاطر خواہ تجربہ نہیں رکھتے، لہٰذا نتقال علم کما حقہ نہیں کر پاتے۔ اس وجہ سے طلبہ کی بنیادی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔ بعد میں جب طلبہ بڑے درجات میں جاتے ہیں تو اساتذہ ان کی کمزوری کا سارا دوش ابتدائی درجات کے اساتذہ کو دے دیتے ہیں کہ ان کی بنیادہی ٹھیک نہیں رکھی گئی، اب ہم ان کو کیا پڑھائیں۔ یوں طلبہ آٹھ سال کی تعلیم کے بعد آخر میں دامن جھاڑ کر چلے جاتے ہیں اور ہمیں ان سے جو توقعات ہوتی ہیں وہ پوری نہیں ہوتیں۔ اس اعتبار سے سب سے پہلے ہمیں سوچنا یہ ہے کہ طلبہ میں علمی ذوق کے فقدان کو کیسے ختم کیا جائے، استاد طالبعلم میں علمی ذوق کیسے پیدا کریں اور پھر اس ذوق کی آبیاری کیسے کریں۔ آج کے دور میں اگر کوئی صرف دینی تعلیم حاصل کیے ہوئے ہے تو وہ ناکافی ہے، اسی طرح ا گر کوئی صرف دنیاوی تعلیم یافتہ ہے تو وہ بھی کامل نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں دونوں کا امتزاج کرنا پڑے گا۔ 

علمی طورپر صورت حال یہ ہے کہ جن دینی اداروں میں عصری تعلیم نہیں ہے، ان کے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہیں اور جن اداروں میں عصری تعلیم بھی ہے، وہاں کے طلبہ میں علمی پختگی کی کمی ہوتی ہے۔ بہت کم طلبہ ایسے ہیں جو دونوں کو اچھے انداز میں چلا سکتے ہیں۔اور جن اداروں میں دینی اور عصری تعلیم ہے، وہاں بعض ادارے ایسے ہیں جوابتدائی وقت میں انگلش اور ریاضی جیسے لازمی مضامین دیگر دینی کتب کے ساتھ ہی پڑھاتے ہیں اور بعض مدارس میں ابتدائی وقت میں درس نظامی اور ظہر کے بعد کے وقت میں علوم عصریہ پڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال کا ایک نقصان یہ ہے کہ استادتو انتہائی محنت کر کے اپنے طلبہ کو پڑھانے کے لیے آتا ہے، لیکن طلبہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ عصری اور دینی علوم کو ساتھ ساتھ چلا سکیں اور آئندہ کے سبق کی تیاری بھی کریں۔ ضرورت طلبہ میں ایسا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ہے کہ وہ بذات خود بھی پڑھنے کے لیے تیار ہوں ۔ اس حوالے سے وفاق سے وابستہ اداروں کی ایسی رہنمائی کرنی چاہیے کہ وہ عصری اور دینی تعلیم کو کس طرح اچھے انداز سے رائج کر سکتے ہیں اور نظام الاوقات کو بہتر انداز سے کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔

ایک بات اور بھی واضح ہونی چاہیے کہ ہم دینی مدارس کے طلبہ سے کیا توقعات رکھتے ہیں اور کیا طلبہ ہماری توقعات پر پورے اتر رہے ہیں؟ مشاہدہ یہ ہے کہ طلبہ کی بڑی تعداد توقعات پر پوری نہیں اتر رہی۔ دیکھنایہ ہو گا کہ وہ کیا اسباب ہیں جو رکاو.ٹ بنے ہوئے ہیں اور ان اسباب کو دور کرنے کے لیے اساتذہ کیا رہنمائی دے سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پھر اساتذہ کی مشکلات اور طلبہ کی استعداد کو سامنے رکھ کر ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی کہ دینی اور عصری علوم سے یکساں استفادہ ممکن ہو سکے۔ اس وقت بہت سے دینی مدارس کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ طلبہ کے وقت کو بڑی بے دردی سے ضائع کیا جاتا ہے۔ اگرا ساتذہ میں یہ احساس پید ا کر دیا جائے کہ طلبہ کے وقت کا خیال رکھیں تو اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر حبیب الرحمن عاصم 

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد)

دینی مدارس سے میرا تعلق اس انداز کا ہے کہ ۱۹۸۳ ء سے میں اسلامی یونیورسٹی میں عربی کی تدریس کی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں۔ اس یونیورسٹی میں تعلیم کے لیے آنے والے ہزاروں طلبہ میں سے، بالخصوص اصول الدین، شریعہ اینڈ لا اور عربی کے شعبہ جات میں ، ستر فیصد سے زائد طلبہ کا تعلق دینی مدارس سے ہوتا ہے، چنانچہ دینی مدارس میں کیا اور کس طرح ہو رہا ہے، نیز کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے؟وہ موضوعات ہیں جن پر طلبہ سے ملاقاتوں اور تعلیم کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی روشنی میں کسی حد تک آگاہی ہوجاتی ہے۔

آج کی مجلس میں کچھ چیزوں پر عمومی اتفاق نظر آرہا ہے۔ ایک یہ کہ اساتذہ کی تربیت کا اہتما م ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں یہ بات دہرانے کو طبیعت چاہتی ہے کہ استاد تعلیم کا ایک زندہ ذریعہ ہے، باقی سب جمادات ہیں۔ استاد کے ساتھ رابطہ زندگی کے تمام مراحل میں رہتا ہے اور کتابیں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہ بات قابل تحسین ہے کہ تمام ہی وفاقوں کے ذمہ داران اس پر متفق ہیں کہ تعلیمی اداروں میں جو اساتذہ پڑھاتے ہیں، ان کی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔پھر اس میں چار پانچ باتیں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں جس کی جانب سب ہی حضرات نے اشارہ کیا ہے۔ یہ کہ اساتذہ کے انتخاب میں مراحل کا لحاظ رکھا جائے۔ جو ابتدائی پروگرام آئی پی ایس اور مدارس کے تعاون سے ہوتے رہے، وہ ایسے تھے جن کا مقصد عمومی طور پر تعلیم کو بہتر بنانے کے اصول اور ضابطے کو باہم مشاورت سے آگے بڑھانا تھا۔ اس اعتبار سے مراحل تعلیم کا انتخاب کرنا اور اساتذہ میں سے جو شرکاے تربیت بننے ہیں، ان کا انتخاب بذات خود ایک اہم کام ہے۔ کیا ہر مرحلے کے کسی بھی استاد کو اس پروگرام میں شریک کر لینا چاہیے یا یہ انتخاب کسی خاص بنیاد پر ہونا چاہیے؟ مثلاً یہ کہ جو آئندہ بھی بطور مربی کام کر سکتا ہو۔ ڈاکٹر محمد حنیف صاحب نے درست توجہ دلائی ہے کہ اس بات کا باقاعدہ تعین ہو کہ اساتذہ کو کس چیز کی تربیت دینی ہے۔ بعض چیزیں تو عمومی تعلیم کے لیے ہوتی ہیں لیکن تخصص کی تعلیم میں مصروف علماے کرام کے لیے جو موضوعات منتخب کیے جائیں، ان کی نوعیت مختلف ہوگی۔ 

اس کے بعد مربیین اور مدربین کا معاملہ ہے۔ اس بات کا اہتمام پہلے بھی کیاگیا ہے تاہم اس میں مزید خوبی پیدا کرنے کی گنجایش ہمیشہ رہتی ہے۔ مربیین کے انتخاب میں دو باتیں اہم ہیں جن کایہاں ذکربھی کیا گیا۔ کچھ اساتذہ ایسے ہوں جو تعلیم کے میدان میں شہرت رکھتے ہوں اوربعض ایسے ہوں جو اپنے مضمون میں خاص قسم کی مہارت رکھتے ہوں۔ اس سے یقیناًپروگرام کی افادیت میں اضافہ ہوگا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقوں کی طرف سے ایک جانب شرکاے کورس یہاں آئیں، دوسری جانب ایسے اساتذہ بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں جو تربیت دینے کے عمل میں شریک ہوں۔ 

تالیف کتاب والی تجویز بہت اچھی ہے لیکن اس کو تدریبی پروگرام کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ان پروگراموں کے اساتذہ کی تجاویز اور پروگراموں کے لوازمے سے جو کتاب تیار ہوگی، وہ زیادہ مفید ہو گی۔یہ تجویز بھی بہت اچھی ہے کہ پہلے مرکزی طور پر وفاقوں کی طرف سے اساتذہ مربیین اور شرکاے تدریب کے طور پر آئیں اور جب ایک مناسب تعداد تیار ہوجائے تو ہروفاق اپنے طورپر خود اس پروگرام کا اہتمام کرے اور ہر نئے آنے والے استاد کے لیے یہ شرط لگا دی جائے کہ جب تک وہ تدریب المعلمین کے اس کورس سے نہ گزرا ہو، اس وقت تک اس کو تدریس کے اس مرحلے میں داخل نہیں کیا جائے گا تو یہ بہت بہتر ہو گا۔

اخلاقی اعتبار سے مدارس کے طلبہ میں فقدان کی بات کی گئی لیکن دونوں نظام تعلیم سے وابستہ افراد سے جو میرا تعامل ہے، اس کے نتیجے میں میرا تاثر یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ سے کہیں بہتر ہیں ۔ جتنا مضبوط نظام الاخلاق دینی مدارس کا ہے، وہ تمام تر کمیوں کے باوجود دیگر اداروں سے بہت بہتر ہے ۔ اگر کوئی کمی ہے تو اس کے کچھ اسباب ہیں۔ اگر مشاورت کا عمل جاری رہا تو ہم کمزوریوں پر قابو پا سکتے ہیں اور تدریب کے عمل کومزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ 

مولانا محمد اسحق ظفر 

(جامعہ رضویہ ضیاء العلوم۔ راولپنڈی)

آج کی نشست کے حوالے سے تشکر کے کلمات سب بزرگوں نے کہے ہیں۔ میں بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ بڑی اچھی کوشش ہے۔ مل بیٹھنے سے بہت ساری باتیں اچھائی کی طرف جاتی ہیں اور کمزوریوں کی نشاندہی ہو جائے تو ازالہ کا امکان ہو جاتا ہے اور اگر نشاندہی نہ ہو تو انسان سمجھتا ہے سب اچھا ہے۔

گفتگو میں جدید وسائل تعلیم و تدریس کا استعمال زیر بحث نہیں آیا۔ اس حوالے سے مدارس میں کمزوری ہے۔ اگر چہ ہمارے بزرگ اساتذہ کرام بہت مہارت اور علم رکھتے ہیں، لیکن طلبہ میں اتنی استعداد نہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچ جائیں۔ اس لیے اگرجدید تعلیمی وسائل کے استعمال کے لیے ایسی کوششیں کی جائیں کہ سب اساتذہ اس کو قبول کر لیں تو بہت اچھا ہو گا۔

مدارس کے حوالہ سے انسٹی ٹیوٹ کی یہ کتاب جو ہمیں پہنچی ہے، یہ آپ کے تبصروں اور علما کی آرا پرمشتمل ہے ۔ ماشاء اللہ اچھی کاوش ہے، مگر بعض باتوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ بالخصوص مدارس کے بورڈز کا ذکر ہوتو ایک اشتباہ لفظ وفاق اور تنظیم کے لحاظ سے پیش نظر رہنا چاہیے تھا۔ لفظ تنظیم کا اطلاق اگر الگ سے نہ کیا جائے تو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ پانچ میں سے تین بورڈز کے ناموں میں وفاق کا لفظ شامل ہے جبکہ تنظیم المدارس اور رابطۃ المدارس کے نام مختلف ہیں۔ اس لیے جہاں مجموعی طورپر بورڈز کا ذکر ہو، وہاں وفاق کے ساتھ لفظ تنظیم کا استعمال ضرور کیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح دیگر وفاقوں کے ساتھ العربیہ، السلفیہ اور الشیعہ کے لاحقے ما بہ الامتیاز ہیں، اسی طرح تنظیم کا ما بہ الامتیاز اہل سنت ہے۔ اس لیے اس کا لحاظ بھی ضرور کیا جائے۔ نیز اس کتاب میں مدارس کا انتخاب کرتے وقت تنظیم المدارس کا تناسب بہت کم رکھا گیا ہے حالانکہ تعداد کے اعتبا ر سے تنظیم اور وفاق المدارس العربیہ سب سے نمایا ں ہیں۔ آئندہ اگر اس کا ازالہ ہو جائے تو اچھا ہو گا۔ 

اللہ تعالیٰ آپ کے اس کام میں برکت دے اور ہمیں بھی اس کام میں آپ کے ساتھ شریک کار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

خالد رحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)

اس سے قبل کہ اس نشست کے اختتامی کلمات کے لیے پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دعوت دوں تاکہ ان کی رہنمائی ہمیں مل جائے، یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میں نے تدریب المعلمین کے حوالہ سے پیش کردہ بنیادی سوال کے سلسلے میں چند ضمنی سوالات ترتیب دیے تھے۔ ان میں ایک یہ تھا کہ کیا ایسے کسی پروگرام کے بارے میں اصولاً اور عملاض اتفاق موجود ہے؟ نیز یہ کہ دورانیے کے بارے میں کچھ رہنمائی مل جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کے جواب میں ہمیں آپ حضرات کی جانب سے بہت ا چھی رہنمائی مل گئی ہے کہ بڑی ضرورت تو ایک طویل المیعاد پروگرام کی ہے، لیکن اگر مختصر دورانیے کے پروگراموں کا سلسلہ ہو تو وہ بھی ضرورت کو ایک دائرے میں کسی نہ کسی حد تک پورا کرتا ہے ۔ شرکا کے انتخاب کی بنیاد کیا ہو؟ یہ سوال بھی میرے پیش نظر تھا، اس حوالے سے بھی آپ کی جانب سے رہنمائی مل گئی ہے اور جیسا کہ پروفیسر حبیب الرحمن صاحب نے ذکر کیا، اگرا س کو سامنے رکھیں توآئندہ کے لیے پروگراموں کو زیادہ بہتر طریقے پر منعقد کرنے میں مدد ملے گی۔ 

موضوعات کی نوعیت سمجھنا بھی میرے پیش نظر تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالہ سے بھی آج کی گفتگو سے بہت مفید رہنمائی ملی ہے۔ جناب حنیف جالندھری نے ابتدا کرتے ہوئے جو باتیں کہیں اس نے گفتگو کو وہ رُخ دیا ، جس پر ہم سب اتفاق محسوس کرتے ہیں۔

نیاز حسین نقوی صاحب توجہ دلا رہے تھے کہ اگر پروگرام اسلام آباد میں کریں تو مدارس کے افراد کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے۔ دوسری جانب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہاں سے لوگوں کو ساتھ لے کر دیگر شہروں میں جائیں تو یہ بھی بہت زیادہ قابل عمل نہ ہوگا۔ اسی لیے ہمارے ذہن میں یہ تجویز آئی تھی کہ تنظیم؍ وفاق کی قیادت کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں کسی آئندہ لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہے ہوں تو اس پروگرام کو کئی سطحوں پر منظم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سطح یہ ہو کہ سال میں ایک دو نشستیں اسلام آباد میں منعقد کریں جس میںآپ کی طرف سے نامزد کردہ لوگ ہوں۔ یہ نامزدگی اس نقطہ نظر سے ہو کہ وہ کچھ وقت بھی نکال سکتے ہوں اور انہیں وفاق کی رہنمائی اور تائید حاصل ہو۔ بعدازاں وہ اپنے اپنے علاقے میں کسی نہ کسی درجے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔ وہ کردار باہم مشورے سے متعین کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں نسبتاً بڑے دائرے میں مدارس سے متعلق مربیین کا جو حصہ ہونا چاہیے، وہ بھی خود بخود بڑھ جائے گا۔ جیسا کہ ہماری ہر مجلس میں شرکا نے یہ بات کہی کہ آپ نے جہاں اتنے ا چھے پروگرام کیے ہیں، وہاں مدارس سے وابستہ مربیین کی بھی ایک تعداد ہو تو زیادہ مفید ہو گا۔

اسی حوالہ سے یہ نکتہ بھی پیش نظر تھا کہ ہم مشاورت کے نتیجے میں اس فیصلے تک پہنچ جائیں کہ پورے ملک سے چالیس سے پچاس لوگوں کا ایک پینل بنا لیں جو بیک وقت دونوں طرح کے لوگوں پر مشتمل ہو۔ وہ جو مدارس سے وابستہ ہیں اور وہ جو دیگر تدریسی امور میں مہارت رکھتے ہوں اور ہمارے مجموعی پروگرام سے اتفاق رکھتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہوں کہ وہ مناسب طریقے پر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ اس پینل میں کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر شہروں سے بھی لوگ ہوں جن کو ہم اپنے پروگرامات میں شامل کریں تو دیگر شہروں میں یہ پروگرام منعقد کرانا آسان ہو جائے گا۔

اس ضمن میں ہم تنظیم اور وفاق سے یہ توقع کریں گے کہ آپ اپنی جانب سے نام دیں کہ جن کو مربی کے طور پر استعمال کرنا چاہیے جو پیمانے آپ نے بتائے، ان کو سامنے رکھ کر۔ دوسری جانب ایسے افراد جواگرچہ مدارس سے وابستہ تو نہیں لیکن تدریسی علوم میں مہارت رکھتے ہیں اور ہم فکر ہوں، انہیں اس پینل میں شریک رکھا جائے۔ اس طرح جو پینل تشکیل پائے گا، وہ پورے ملک کے لیے مفید ہوگا اور قابل عمل پروگرام بن جائے گا۔

تدریسی لوازمے کی تیار ی کا کام بھی پیش نظر تھا کہ تدریب المعلمین کے پروگرام میں درجہ بندی، یکسانیت اور معیار ہو اور ایک سمت متعین ہو، نیز یہ بھی واضح ہو کہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں کیسے داخل ہوا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی مفید تجاویز آئی ہیں۔ اس کی کوئی عملی صورت مزید مشورے سے بنانے کی کوشش کریں گے۔ 

کتاب کے بارے میں مولانا اسحاق ظفر صاحب نے توجہ دلائی ہے۔ میں اس پر شکرگزار ہوں ۔ ہر انسانی کام میں بہتری کی گنجایش موجود ہوتی ہے۔ یقیناًاس میں بھی بہتری کی گنجایش ہے۔ ہم اگلے ایڈیشن میں اس کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ یہ وضاحت کر دوں کہ اس کتاب کی تیاری کے دوران اور اشاعت کے وقت یہ سوچ بچارہم کرتے رہے کہ کہیں اس سے ہمارے ہی دوستوں میں بدگمانیاں اور شکوے شکایات پیدا نہ ہو جائیں۔ ایک حادثہ تو خود جناب یاسین ظفر صاحب کے ساتھ ہوگیا کہ ان سے انٹر ویو بھی ہوا ، سوال نامہ بھی موجود تھا لیکن آخری مرحلے میں اُن کا سوال نامہ گم ہوجانے کی بنا پر جامعہ سلفیہ کے کوائف کتاب میں شامل ہونے سے رہ گئے۔ تاہم میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کتاب کی تیاری میں مخاطب کے طورپر ہمارے پیش نظر آپ نہیں تھے، کیوں کہ آپ تو مدرسہ کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ہمارے پیش نظر وہ لوگ تھے جو مدرسے اور اس کے بارے میں حقائق سے ناواقف اور غلط پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ان کو سامنے رکھ ہم نے تحقیق کی ایک بنیاد بنائی ، اور اس بنیاد پر مدارس کا انتخاب کیا۔ اس پر کسی کو شکایت ہو سکتی ہے اور بجا ہو گی لیکن رائے قائم کرتے ہوئے اس پیمانے کو سامنے رکھیں کہ ہم لوگوں کے سامنے یہ بات لانا چاہتے تھے کہ مدارس اس وقت کیا کر رہے ہیں۔ یہی اس ریسرچ کی بنیاد پر ہے ۔ آپ اس پہلو سے اس کا تنقیدی جائزہ لیں اور ہماری رہنمائی کریں کہ اس میں کیا کمی ہے۔ درحقیقت آپ اس کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ شریک کار ہیں۔ 

پروفیسر خورشید احمد 

(چیئر مین، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)

سب سے پہلے تو میں آپ حضرات کی بھرپور شرکت اور نہایت ہی مفید اور عملی حیثیت سے اہمیت رکھنے والے مشوروں پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے بہترین اجر کی دعا کرتا ہوں۔ تمام اہم باتیں آ گئی ہیں، خاص طور پر پروفیسر حبیب الرحمن صاحب نے بحث کا خلاصہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا۔ میں صرف دو تین باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

پہلی بات یہ کہ ہماری دلی خواہش اور تمنا ہے کہ جوپروگرام بن رہا ہے، اسے آپ اور ہم سب مل کر اپنے لیے بنائیں۔ یہ وہ اسپرٹ ہے کہ ہم ایک ٹیم کی حیثیت سے مشاورت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہوئے آگے بڑھیں اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ حضرات نے اسی جذبے سے اب تک بھی شرکت فرمائی ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہی در اصل ہماری آرزو ہے کہ یہ حقیقی طورپر ہمار اایک مشترک پروگرام ہے۔ مجھے بے حد مسرت اس بات پربھی ہے کہ آپ سب ہی نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اساتذہ کی تربیت اور تیاری معنوی اور ابلاغی دونوں اعتبار سے ضروری ہے۔ جس علم اور جس مضمون کا استاد ہو، اس پر دسترس اور ساتھ ہی ابلاغ کے اعتبار سے مہارت کا حصول دونوں ہی کی ضرورت پر اتفاق ہے کہ اسی صورت میں بہتر سے بہتر انداز میں علم کو منتقل کیا جا سکتا ہے ۔ آج کی اس گفتگو کی روشنی میں عملی نقطۂ نظر سے تین چار چیزیں سامنے آئی ہیں۔

پہلی جو اس وقت قابل عمل ہے، وہ مختصر متعین مدت کے پروگرام ہیں جو ان شاء اللہ اسلام آباد میں بھی اور ملک کے دوسرے مقامات پر آپ کی میزبانی سے منعقد کیے جائیں ۔ یہ پائلٹ پروجیکٹ کی حیثیت ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے ذریعے ہم ایک نئے پراسیس کا آغاز کر دیں گے۔ دوسری چیز جو ان شاء اللہ ان کوششوں سے نکلے گی، وہ تدریب کا لوازمہ اور ایک ایسی کتاب ہے جو آئندہ بنیاد بن سکے گی۔ اس پورے معاملے کے تمام پہلووں کا احاطہ کرے گی اور توقع ہے کہ پھر اس کی مدد سے ہر ادارے میں کام آگے بڑھے گا۔

تیسری چیز جس میں شاید ابھی وقت لگے، وہ یہ کہ جس طرح جدید تعلیم میں بی اے، ایم اے، اور پی ایچ ڈی کے ساتھ ٹیچر ٹریننگ کا بھی بی ایڈ اور ایم ایڈ کی صورت میں اہتمام ہوتا ہے، خدا کرے کہ ان تمام تجربات کی روشنی میں اور ان کے نتائج کو دیکھ کر ہم کوئی ایسا نظام بھی ترتیب دے سکیں کہ جس سے تدریب کا یہ پروگرام انسٹی ٹیوشنلائز ہو جائے اوریوں وہ کوئی ڈگری یا سرٹیفیکیٹ بھی دے سکے۔ اس طرح آئندہ اساتذہ کے تقرر اور سروس پروموشن کے لیے ایک ذریعہ بن جائے۔

شاید کچھ وقت لگے گا لیکن اس گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس مرحلہ سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان شاء اللہ باہم مشورے اور ایک دوسرے سے مدد لیتے ہوئے ہم نے اس کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ اس کو بارآور فرمائے اور صحیح نتائج رونما ہوں۔ جس محبت، اعتماد، دل سوزی اور بالغ نظری سے آپ سب حضرات اس میں شریک ہو رہے ہیں، اس کا فائدہ اس امت کوہو۔ اس وقت دینی تعلیم کو جس ا نداز سے ہدف بنایا ہوا ہے، یہ ہمارے لیے ایک موقع بن جائے اور ہم اس نظام کو اس مقام پر لے آئیں کہ امت مسلمہ کی رہنمائی اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے واقعی قابل ہو جائیں۔

تخصصات دینیہ 

خالد رحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)

مولانامحمد حنیف جالندھری صاحب تشریف لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ تفصیلی تجاویز بعد میں دیں گے، البتہ ان کے خیال میں سر دست دوصورتیں ہیں جن پر ابھی غور کیا جا سکتاہے۔ پہلی بات یہ کہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک کانفرنس یا سیمینا ر ایسا ہو جس میں کچھ منتخب لو گ شریک ہوں اور تخصصات دینیہ کے بارے میں مختلف پہلووں کو زیر بحث لائیں تاکہ اس کے نتیجے میں جامع رپورٹ اور تجاویز تیار ہو سکیں۔ دوسر ی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ تما م بورڈز (وفاق، رابطہ اور تنظیم) سے ان کے منتخب کردہ ایک ایک یا دو دو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو ایک جائزہ رپورٹ تیا ر کر ے۔ اس کا اہتمام آئی پی ایس کرے۔ پھر اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ برائے مہربانی اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا محمد حنیف جالندھری کی دونوں تجاویز بھی پیش نظر رکھیں ۔

مولانا ڈاکٹرمحمد سرفرازنعیمی 

( تنظیم المدارس اہل سنت)

ایجنڈے کے دونوں موضوعات یقیناًانتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔آج کل دینی مدارس میں اپنا ایک نظام تعلیم توہے جس میں قرآن ، حدیث اور فقہ کے ماہرین تیار کیے جاتے ہیں لیکن مختلف النوع عملی، سماجی اور معاشرتی دائروں میں رہنمائی کی ضرورت کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ واقعتا ناکافی ہے۔ دوسرے شعبوں پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کی مثال ایسے نظر آتی ہے کہ آج ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے باوجود طب کے میدان میں الگ الگ شعبوں ( ہارٹ، کڈنی وغیرہ) میں اسپیشلائزیشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماضی کی طرح ایم بی بی ایس کی موجودگی ان ساری ضروریا ت کے لیے عموماً کافی نہیں سمجھی جاتی۔ بعینہ اسی طر ح دینی مدارس میں ماہرین قرآن وسنت کی موجودگی کے باوجود مختلف ذیلی عنوانات میں تحقیق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ آئی پی ایس کی تیار کردہ رپورٹ میں جو لکھا گیا ہے کہ ’’تخصص فی الفقہ زیادہ ہور ہا ہے‘‘ وہ صحیح ہے ۔ حدیث اور تفسیر سمیت دیگر شعبوں میں بھی تخصص کی ضرورت ہے ۔تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ زندگی کے دوسرے میدانوں کی طرح طلب اور رسد کے اصول کے مطابق طلب یہا ں بھی اثر انداز ہے۔ مسائل کے حوالے سے فقہ کے ساتھ ہر شخص کا تعلق ہے ، جبکہ تفسیر اور حدیث میں ضرورت تو ہے لیکن اس کی طلب فقہ کی طلب سے نسبتاً کم ہے ۔

اسی طر ح بعض مدارس میں یہ خواہش موجود ہے کہ طلبہ زیادہ ہونے چاہییں ، لیکن تخصص کے لیے تعداد کے بجائے معیارکو مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم سے ملحقہ مدارس میں ہم تخصص کی ایک کلاس میں پندرہ سے بیس طالبعلم لیتے ہیں تاکہ فراغت کے بعد معاشر ے کا ایک مفید شہری ہونے کے ساتھ اس کے اندرمطلوبہ قابلیت اور ملکہ بھی پیدا ہو سکے۔ اس وقت تک تخصص کا نظام مربوط نہیں ہے۔ یہ مختلف مقامات پر الگ الگ ہورہے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ بورڈز تمام مدراس کو اجتماعی لائحہ عمل دے دیں (جزوی فرق کی گنجایش موجود ہو) جو من حیث المجموع ایک آئیڈیل شکل ہو اور سب کے سامنے آ جائے۔ اس کے لیے جامعہ بنوریہ، جامعہ قادریہ، جامعہ نعیمیہ سمیت جن مدارس میں تخصص ہور ہا ہے، ان کا نصاب لے لیا جائے اور اس کی روشنی میں بہتر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ سب کے ہاں جو چیزیں مشترک ہیں، انہیں بر قرار رہنے دیا جائے اور مختلف فیہ چیزو ں کو سامنے رکھ کر افراط وتفریط سے گریز کرتے ہوئے سب سے بہتر چیزکو شامل نصاب کیا جائے۔

آج کی اس مختصرنشست میں ہم کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے بہتر ہے کہ ہم کمیٹی کی صورت میں تجاویز کے حصول کے طر یقے پر عمل کر کے کسی بہتر نتیجے تک پہنچ سکیں۔ اس کے لیے یہ ہوسکتا ہے کہ آپ تما م متعلقہ مدارس سے نصابات منگواکر ان میں سے بہتر چیزوں کا انتخاب کریں اور ایک علیحدہ اجلاس میں یہ تجاویز شرکا کے سامنے پیش کر یں تا کہ ایک جامع چیز سامنے آ سکے۔ اس وقت تجاویز تو سامنے آ جائیں گی لیکن عملاً ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ اصولی طور پر یہ کام بالکل ٹھیک ہے۔ اس میں اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ہے البتہ اس کی تفصیلات ہم بعد میں بھی طے کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ذکر کرنا چاہوں گا کہ تنظیم سے ملحقہ مدارس کے نصاب میں معاشیات کے حوالے سے نظام بینکاری ایک پرچے کی حیثیت سے موجود ہے جس میں طلبہ کومبادیات سکھائی جاتی ہیں،تاہم زیادہ گہرائی میں اس حوالے سے ہمارے ہاں فی الحال بہت زیادہ کچھ نہیں ہو رہا۔

اس مر حلے پر علامہ نیاز حسین نقوی نے اس جانب توجہ دلائی کہ تخصص کی حقیقی رو ح تک پہنچنے کے لیے دو یا تین سال کا عرصہ بالکل ناکافی ہے۔ اس کا دورانیہ ہمارے ہا ں تو چالیس پچاس سال تک سمجھا جاتا ہے۔ اس قدر علم اور تجربے کے بعد ہی کہیں کوئی مفتی یا مفسر تیار ہوتاہے۔ تخصص کے اس مثالی تصور کو آگے بڑھانا چاہیے،کیونکہ دوتین سال حتیٰ کہ پانچ سال میں بھی بس اس قدر استعداد ہو سکتی ہے کہ طالبعلم کتب کی مدد سے تخریج کے بعد معاملات پر مشورہ دے سکے، وہ خود رہنمائی کر نے کے قابل نہیں ہو سکتا ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب نے رائے دی کہ نصاب کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آدمی اس میں عالم فاضل ہو جائے بلکہ نصاب سے ایک راستہ متعین ہوتا ہے جو آئندہ ملکہ پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے، البتہ متخصص کے لیے تو درجات ہوتے ہیں۔ مجتہدفی المذہب، مجتہد فی المسائل، پھر اصحاب ترجیح، اس کے بعد پھر اصحا ب تخریج، تویہ اپنے اپنے درجات ہوتے ہیں ۔تخصص کے بعد یہ توقع ہوتی ہے کہ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر آگے مزید علم حاصل کرسکیں گے۔

مولانا یاسین ظفر 

(وفاق المدارس السلفیہ )

ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کی تجویز اس اعتبار سے بہتر معلوم ہوتی ہے کہ کچھ وقت ملنے سے زیادہ جامع اندازمیں غور وفکر کا اچھا موقع مل جائے گا۔ درحقیقت مدارس خود اس موضوع کی ضرورت کومحسوس کرتے ہوئے اسے اپنے ہاں بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا تخصص کا مقصدعصری تعلیم کی مانند ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حصول ہے؟یا اس کا مقصد رسوخ فی العلم یا اپنے اندر کوئی خاص صلاحیت پید ا کرنا ہے؟ یا آئی پی ایس طرز کے ادارے یاانسٹیٹیوٹ سے منسلک ہوکر وقت گزا رنا ہے؟ ہمارے ادارے مر کز التربیہ فیصل آبادمیں یہ کام ہو رہا ہے۔ تین سالہ کورس میں طلبہ میں صلاحیت تو پیدا ہو جاتی ہے تاہم یہ ادارہ ڈگری جاری نہیں کرتا ۔ تخصص کے نصاب میں عمومی طور پر طالبعلم کو گائیڈ لائن دے دی جاتی ہے، تاہم ایک نصاب کی ضرورت موجود ہے ۔

ہم نے جامعہ سلفیہ میں ماہرین کی زیر نگرانی نصاب سازی کے لیے ابتدائی کام کا آغاز کردیا ہے ۔ ہمارے خیال میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ تخصص کے لیے موضوع کے تعین میں معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہی ضروریات کے مطابق موضوعات کا تعین کیا جائے۔ ہمیں تخصص کے لیے دینی مدارس کی ضروریات کے موضوعات تدریس، افتا، دعوت و ارشاد کو بھی مد نظر ضرور رکھنا چاہیے تاہم معاشرے کی عمومی ضروریات کچھ اور ہیں اوربطور خاص اقتصادیات و معاشیات کے جو نئے نئے مسائل پیش آرہے ہیں، ان میں تخصص ہونا چاہیے تا کہ صحیح اسلامی نقطہ نظر سامنے آ سکے۔ اسی طرح سیاسیات اور نظام حکومت کے معاملات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کل کے تخصصات میں اس وسیع دائرے کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے۔ اس اعتبار سے آج کا یہ فورم بہت اچھا ہے اور اس فورم پر یہ بات ضرور زیر بحث آنی چاہیے، البتہ متعلقہ مقامات (جہاں فی الوقت تخصصات جاری ہیں) سے نصاب وغیر ہ منگوالیے جائیں اور تخصص سے متعلقہ ماہرین کو بلوا کر ان سے مشاورت کی جائے۔ہمارے ہاں نصاب کی تشکیل کسی حد تک ہوچکی ہے اور وفاق کے تحت تخصصات کے نظام کو منظم کرنے کی طرف پیش قدمی بھی جاری ہے۔

علامہ نیاز حسین نقوی 

(وفاق المدارس الشیعہ)

کم وقت ہونے کے باوجود تخصصات کے حوالے سے ابتدائی کام کا آغاز ہو جانا خوش آئند ہے، لیکن درحقیقت ان مباحث کے لیے ایک پورا دن بھی ناکافی ہے۔ اس کے لیے کم ازکم دو دن مختص کیے جائیں۔ اس موقع پر اس فن کے متخصصین کو دعوت دی جائے اورشرکا اس کے لیے پہلے سے تیاری کریں۔ ان کی مفصل گفتگو کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے، ورنہ فی البدیہہ تجاویز زیادہ موثر نہیں ہوں گی۔

تخصص کے حوالے سے سبھی جانتے ہیں کہ ایک یا دو سال میں کسی کو مفسر ، محدث یا مفتی نہیں بنایا جا سکتا۔ فقہ کے میدان کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ دعویٰ کرناکہ ’’فلاں فقہ میں متخصص ہے‘‘ اس تناظر میں بہت بڑا دعویٰ ہے کہ پندرہ بیس کتابیں ہیں اور ہر ایک میں متعدد موضوعات ہیں۔نکاح، طلاق اور بیوع وغیر ہ میں اتنی طویل مباحث ہیں کہ دو تین سال تو ایک طالبعلم کو صرف متن پڑھانے پر لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں تین سال میں کسی کو متخصص بنا نا مشکل ہے۔ تخصص کا مقصد قرآ ن وسنت کی روشنی میں حکم خدا کو سمجھناہے، اس کے لیے اجتہاد کی صلاحیت ضروری ہے۔ یوں جب تک کوئی شخص اجتہا دکی صلاحیت حاصل نہیں کرتاتو وہ صحیح معنوں میں مسئلہ نہیں بتا سکتا۔ مسئلہ بتانا مجتہدکاکام ہے اور مجتہد بننا دو یا تین سال میں ممکن نہیں ہے اور پھر اس کام کے لیے سارے متعلقہ علوم میں مہارت ضروری ہے، اس لیے صرف ایک ہی علم پر دسترس رکھنے والا شخص یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کام کو صحیح معنوں میں کرنے کے لیے کم از کم آٹھ دس سال کا عرصہ چاہیے۔ ایک متخصص مطلوبہ مقدار میں ضروری علوم پڑھ کر آئے، پھر وہ کسی بھی شعبے میں تخصص حاصل کرے ۔

موجودہ نظام اور حالات میں جب کوئی طالبعلم آٹھ سالہ مروجہ نصاب پڑھ لے، اس کے بعد تخصص کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا، اس لیے ہمارے ہاں محض چند اداروں میں تخصص ہو رہاہے۔ اس کے بعد بھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ طالبعلم مفسر بن گیا ہے اور قرآ ن کے بارے میں اس کی رائے قابل تقلید ہے۔ اگر مفتی کا مطلب فتویٰ نقل کرنا ہے تو دو تین سال کی مدت ٹھیک ہے، لیکن اگر مفتی کا مطلب استنباط اور اجتہاد کی صلاحیت حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے چالیس پچاس سال کی مدت بھی شاید ناکافی ہو، لیکن آج کے دور میں بھی کم ازکم پندرہ بیس سال تو ہونے ہی چاہییں۔ دو یا تین سال کی مدت میں تو حقیقتاً قرآن کا ایک جزو پڑھنا بھی مشکل ہے تو مفسر کیسے بنا جا سکتا ہے؟ وقت کی کمی کے پیش نظر اس پر مزید گفتگو نہیں کر سکتا۔ بہر حال یہ کا م انتہائی ضروری ہے اور اسے ضرور ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد حنیف

(وزارت تعلیم )

دو باتوں کی طر ف اشارہ کروں گا۔ ایک یہ کہ فی الحقیقت مدارس کے بورڈز کی ذمہ داری ہے کہ وہ تخصص کے لیے کوئی معیار اور مقیاس مقرر کریں، اور دوسری بات تخصص کے لیے نصاب سے متعلق ہے۔ نقوی صاحب نے چالیس پچاس سالہ مدت کی بات کی ہے ،موجودہ حالات میں یہ عملاً مشکل دکھائی دیتا ہے۔البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ تفسیر حدیث اور فقہ میں جو تخصص اس وقت ہور ہا ہے، اسے آگے بڑھایا جائے ۔پھر تخصص فی التخصص کے تحت ذیلی عنوانات کی صورت میں مزید پیش رفت کی جائے۔ اس میں متخصص جتنا بھی عرصہ لگانا چاہے، اپنی گنجایش کے مطابق لگاسکتا ہے۔ البتہ مدت اور دورانیہ کا تعین اس اعتبار سے ہونا چاہیے کہ اسناد کا معادلہ بھی ہوسکے،کیونکہ معادلے کے لیے دورانیہ کی بنیادی اہمیت ہے۔نیز دور حاضر کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بورڈز باہمی مشاورت سے طریقہ کار طے کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں عمومی تعلیم سے وابستہ دین دار طبقے سے بھی مشاورت کی جا سکتی ہے۔

مفتی شکیل احمد 

(جامعہ محمدیہ۔ اسلام آباد)

وفاق المدارس العربیہ میں مرکزی سطح پرتخصص کے حوالے سے اب تک کوئی انتظام نہیں ہے ۔البتہ وفاق کی تخصصات کمیٹی کے زیر اہتما م مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ذمے یہ کا م لگایا گیا ہے کہ وہ اس نظام کو مربوط کرنے کے لیے کوشش کریں۔ اس سلسلے میں انکی کوششیں جاری ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے اخبار میں اشتہا ر کے ذریعے لوگو ں سے آرا بھی طلب کیں ۔ ان کوششوں کے نتیجے میں یہ کام تقریباً آخری مراحل کے اندر ہے جو جلد ہی کسی منضبط شکل میں سامنے آجائے گا۔ اس وقت سب سے قدیم تخصص فقہ میں ہے جو وفاق سے ملحق بیشتر مدارس میں ہو رہا ہے۔ اسی طر ح بنوری ٹاؤن اور جامعہ فاروقیہ (کراچی) میں تخصص فی الحدیث ہورہا ہے۔ جامعہ فاروقیہ میں تخصص فی الادب والانشاء بھی کچھ عرصے سے جاری ہے۔ تخصص فی التفسیر بہت کم مقامات پر ہے، البتہ دو یا تین ماہ کے دورانیے پرمشتمل دورہ جات کی صورت میں کئی مقامات پر دورہ تفسیر ہوتا ہے۔ اس کو تخصص تو نہیں کہا جاسکتا، البتہ ترجمہ اورتفسیر کے دورہ جات کا نام دیا جاسکتا ہے ۔

تخصص فی الفقہ کا کم سے کم دورانیہ ایک سال ہے جو جامعۃ الرشید اور جامعہ محمدیہ میں ہے۔ زیادہ تر مدارس میںیہ دورانیہ دو سال ہے جبکہ دارلعلوم کراچی اور جامعہ امدادیہ میں تین سال میں تخصص کروایا جاتاہے۔ دو سال کورس ورک کے بعد ایک سال میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔ ان تخصصات میں کورس ورک، فتویٰ نویسی اور مقالہ، تین بنیادی کا م ہوتے ہیں۔جامعہ امدادیہ اور دارالعلوم کراچی کا مقالہ خاصا ضخیم ہوتا ہے۔ نظام کچھ اس طر ح ہے کہ ایک سالہ کورس میں تین ماہ، دوسالہ میں چھ ماہ اور تین سالہ کورس میں ایک سال مقالے کے لیے مختص ہوتا ہے۔ مقالے کو بنیادی اہمیت حیثیت حاصل ہے، کیونکہ چھوٹے مسائل میں تو ایک دو لائن کا فتویٰ لکھ دیا جاتا ہے، لیکن تفصیل طلب مسائل کے لیے پوری تحقیق کر نا پڑتی ہے اور یہی تحقیق ایک مقالے کی صورت اختیارکر لیتی ہے ۔

تخصص میں پڑھانے والے اساتذہ کی تربیت کے لیے تدریب المعلمین کا ایک سلسلہ موجود ہے تاکہ قابل اساتذہ تیا ر کیے جائیں جو صحیح انداز میں تعلیم دے سکیں۔ مختصراً یہ کہ سب سے پہلے نصاب اور مقالہ، اس کے ساتھ ساتھ قابل اساتذہ کا تعین اور تیسر ے نمبر پر طلبہ کے معیار پر توجہ ضروری ہے۔ ہمارے ہاں طلبہ میں عبارت فہمی کی صلاحیت (کہ طالبعلم عربی کتب سے استفادہ کرنے کے قابل ہو) کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔ خوشخطی بھی مد نظر ہوتی ہے تاہم یہ کوئی لازمی شرط نہیں ہے، البتہ ترجیحاً شامل ہے۔اس کے علاوہ انگریزی زبان کی مہارت بھی پیش نظر ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی طالبعلم انگریزی نہ جانتاہو تو اسے انگریزی سکھانے کا اہتما م ہوتاہے، کیونکہ آج کے دور میں اس کی ضرور ت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قابل ترجیح سمجھی جاتی ہیں۔ تخصص کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہا ں طلبہ کو یہ تصور دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو مفتی نہ سمجھیں بلکہ تکمیل تخصص کے بعد کسی تجربہ کا ر مفتی کی زیر نگرانی فتویٰ نویسی کا کام کر یں، اس کے بعد آپ دارالافتاء کھولنے کے قابل ہوں گے۔

خالد رحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)

اب تک کی گفتگوسے یہ احساس ہور ہا ہے کہ کچھ نہ کچھ معیار ات طے کر نے نا گزیر ہیں۔ جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، وہ ایک حد تک فوری ضرورت کو پورا کرنے کے نقطہ نظر سے ہو رہا ہے، البتہ ضرور ت اس سے کہیں زیاد ہ کچھ کر نے کی ہے۔چنانچہ فوری ضرورت اور مستقل ضروریات کے دونوں سوالات کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے ۔

مولانا امیر عثمان 

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد )

زیادہ مدت کے حوالے سے جو بات علامہ نقوی صاحب نے کی ہے، وہ آئیڈیل ہے جبکہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کی بات کاتعلق شاید عملی (پریکٹیکل) صورت حال کے ساتھ ہے ۔آئیڈیل چیزوں کا حصول بہت بڑی بات ہے تا ہم عملًا جن چیزوں کا حصول وسائل اور دیگر معاونات کی روشنی میں ممکن ہے، میرے نزدیک ان کے لیے کوشش کر نا زیادہ بہتر ہے۔ البتہ آئیڈیل اور پریکٹیکل کے فرق کو کم کر نے سے ہی ہم کسی بہتر نتیجے پر پہنچ پائیں گے ۔ 

تخصصات کے حوالے سے طلب اور رسد کا پہلو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مزیدیہ ہو سکتا ہے کہ تخصص کے لیے علماے کرام اولویات مقرر کریں کہ ہمارے موجودہ تخصصات ہماری اولویات کے مطابق ہیں یا نہیں؟یا یہ کہ طلب ورسد سے قطع نظر ہم نیا رجحان معاشرے میں متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ایک اور تجویز یہ ہوسکتی ہے کہ تخصص کے شوقین طلبہ کے لیے ورکشاپس کا اہتما م کیا جائے تاکہ انہیں بہتر رہنمائی مل سکے اور وہ اپنی ترجیحات کا تعین کر سکیں اور اپنی مرضی کا تخصص، وہ جہاں سے چاہیں کر لیں۔ورکشاپ کی نوعیت باہمی مشاور ت سے طے کی جا سکتی ہے ۔

تدریب کے حوالے سے یہ بات درست ہے کہ مدرسے کے تجربہ کار اساتذہ ضروری ہیں تاکہ دوسر ے نئے اساتذہ براہ راست ان کے تجربات سے استفادہ کرسکیں، تاہم میرا تھوڑا سا اختلاف یہ ہے کہ اگر ہم جدید تعلیم کے ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں تو کرنا چاہیے اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے کہ قدیم علو م کا ماہر جدید علوم کی معرفت نہیں رکھتا۔ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ ناگزیرہے ،کیونکہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دونوں طر ح کے علوم پر دسترس رکھتے ہوں ۔یعنی بنیادی طور پر مہارت سیکھنی ہے اور وہ کسی ماہر فن سے ہی سیکھی جا سکتی ہے۔

تخصص کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے لائبریریز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے،لیکن مالی وسائل کی عدم دستیابی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس کے حل کے لیے میر ی تجویزیہ ہے کہ ڈیجیٹل لائبریریز کو استعمال میں لانے کی کوشش کی جائے اور بلامبالغہ پوری دنیا میں اس وقت تفسیرو حدیث وغیر ہ میں اتنا ڈیجیٹل کام ہو چکا ہے جس کا ہم میں سے بہت سے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔

تخصص کے معیار میں بہتری کے لیے دو اور چیزوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ایک یہ کہ مقالہ کا نظام جو چل رہا ہے، اس کے ساتھ کچھ فیلڈ ور ک طالبعلم کو دیا جائے، کیونکہ معاشرتی کام کے جائزے سے طلبہ کے وژن میں اضافہ ہو گااور تخصص کے کام میں مزید بہتری آئے گی اور مدارس کے طلبہ کے بار ے میں یہ تاثر (کہ یہ لوگ معاشرے کے بارے میں انجان ہوتے ہیں) کم کر نے میں مدد ملے گی، کیونکہ اس انجان پن کی ایک وجہ ان کی معاشر ے سے دوری ہے۔ اسی طر ح تخصص کے موضوعات میں تقابل ادیان کو شامل کر نا ضر وری ہے ۔ یہ چاہے بڑے مدارس کی حد تک ہی ہو، لیکن بہر حال اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر طاہر محمود

(الجامعہ السلفیہ۔ اسلام آبا د )

تجاویز وآرا کی روشنی میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ علما کے درمیا ن تخصصات کے اجرا کے حوالے سے اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔درحقیقت علامہ سرفراز نعیمی صاحب اور علامہ نیاز حسین نقوی صاحب کے افکار میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے ۔ نقوی صاحب کی بات کا تعلق کمال سے ہے جبکہ سرفراز نعیمی صاحب اس کا معروف معنوں میں استعمال بتا رہے ہیں۔ میں ان سفارشات کوعملی شکل دینے کے لیے دو حوالوں سے بات کر وں گا ۔ پہلی بات IPS کے حوالے سے ہے اور دوسر ی ارباب وفاق سے متعلق ہے۔ آئی پی ایس کو چاہیے کہ بورڈز کے ذمہ دارا ن سے بالعموم اور ان مدارس کے ذمہ داران ومتخصصین(جو اس وقت عملاً تخصصات کروارہے ہیں ) سے بالخصوص تجاویز طلب کرے اور ان تجاویز کی روشنی میں دو یا اڑھائی سالہ تخصص کا اجرا کرے۔ اس کے لیے طریقہ کا ر ایسا اختیار کیا جائے جواتحاد ملت کا مظہر ہو۔ اس تخصص کے لیے بورڈ کی طر ف سے نامزد کر دہ ممتاز طلبہ کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے نصاب میں عصر حاضر کے مسائل کو جگہ دی جائے۔ یوں ایک آئیڈیل چیز ہمارے سامنے آجائے گی۔ اس کی عملی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مختلف سرکاری یا پر ائیویٹ یونیورسٹیز کے ساتھ اس انداز میں اشتراک عمل کیا جائے کہ فکر ی اور علمی رہنمائی ہمار ی ہو اور اکیڈیمک معاملات ان کے ذمے ہوں۔ اس سے ایک تو ان حلقوں میں تخصص کی اہمیت اجاگر ہو گی اور دوسراڈگری کے حصول کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہوجائے گا۔

دوسرا پہلو بورڈز کے حوالے سے ہے کہ وہ تخصص کی سند کے ایم فل یا پی ایچ ڈی لیول تک معادلے کی کوشش کریں تا کہ عملی زندگی اور روزگارکے لحاظ سے بھی اس پر وگرا م میں دلچسپی کا عنصر پیداہو سکے۔ تخصصا ت کے لیے موضوع کی توضیح بورڈ کی طر ف سے ہو، یعنی بورڈ اپنے ساتھ منسلک اداروں کو اپنی طر ف سے منتخب کر دہ موضوعا ت میں سے کسی ایک یا دو موضوعات پر تخصص کر وانے کا پابند بنائے۔ اس سے طلبہ کو اپنی پسند اور ترجیح کا موضوع منتخب کر نے میں آسانی ہو گی اور وہ اسی موضوع سے متعلقہ ادارے سے تخصص کر یں گے۔ اسی سلسلے کی ایک کوشش کاہم نے اپنے ادارے میںآغازکیا ہے کہ تخصص کے شعبہ جات تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، خطابت، ادب والانشاء وغیرہ کے حوالے سے حلقات قائم کیے ہیں ۔ان حلقات کی مختلف ایام میں نشستیں منعقد ہوتی ہیں۔ یوں ایک متخصص استاد کی جانب سے طلبہ کی مختلف حوالوں سے رہنمائی مستقبل میں آنے والے تخصص کے مراحل کے لیے ایک بہترین بنیاد بن سکتی ہے۔

پروفیسر حبیب الرحمن عاصم 

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ۔اسلام آباد)

تخصص کے حوالے سے مفید گفتگو کی گئی ہے اور آئی پی ایس کی طرف جو تجاویز تحریری شکل میں موجود ہیں، گفتگو میں بھی بیشتر انہی کا یہاں اعادہ ہو گیا ہے۔ میرے ذہن میں بھی ابتدائی طو ر پر یہی اغراض سامنے آئیں جو ان تجاویز میں تقریباً موجود ہیں کہ ایک بہترین استاد وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے شعبے میں تخصص کیا ہو، اور اسے اپنے علمی دائرے میں تخصص جاری رکھنا چاہیے۔ اس پر وگر ام کی تشکیل کے پس پر دہ محوری اور بنیادی نقطہ یہ تھا( علامہ زاہد الراشدی صاحب نے بھی اپنی تجاویز میں اسی طرف اشارہ کیا ہے) کہ دینی مدارس اس معاشر ے اوراس میں موجود مختلف اداروں کی رہنمائی کیسے کریں؟ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہنمائی کا سلسلہ تو علماے کرام جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن بڑے بڑے مسائل میں دینی مدارس کی طر ف سے رہنمائی کی کمی مختلف موقعو ں پر اٹھنے والے سوالات کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔معاشرے کی رہنمائی کے محوری نقطے کو اپنے تخصص میں بنیاد بنا لیا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ نئے نئے آنے والے سوالات اور مسائل کے حل کے لیے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کر تا ہوا علماے کرام کا مشترکہ بور ڈ ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی پیش آمدہ مسئلے کے بارے میں کوئی مشترک رائے سامنے آسکے۔اسلامی نظریاتی کونسل اس حوالے سے حکومتی چھاپ کی وجہ سے کوئی بہتر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے فیصلوں کے حوالے سے اکثر علما میں اختلاف ہی نظر آیا ہے ۔اس لیے اگر مختلف بورڈز کے علما غیر سرکاری طور پر اس طر ح کا کوئی بورڈ قائم کرسکیں (جو لوگوں کی رہنمائی کرے) تو یہ بہت مفیدہو گا۔میں اس تجویز سے بھی متفق ہوں کہ تخصص کے مختلف اداروں کے ماہرین سے تجاویز طلب کی جائیں اور ان تجاویز پر غور وخوض کرنے کے لیے الگ سے اجلاس بلایا جائے جس میں کسی حتمی بات کا تعین ممکن ہو سکے۔

پروفیسر خورشید احمد 

(چیئرمین آئی پی ایس)

مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ تخصص کی اہمیت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہورہا ہے ا ور جہاں کہیں اس سلسلے کا آغاز ہوا ہے، وہ مفید بھی ہے اور اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ اس سلسلے میں مزید معلومات جمع کی جائیں تاکہ پوری تصویر ہمارے سامنے آسکے۔بنیا دی بات یہ ہے کہ دینی مدارس نے دین،اس کی تعلیم اور اس کے علمی اثاثے کی حفاظت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ابتلا کے دور میں اس پوری اما نت کی حفاظت اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کا کا م ایک تاریخی خدمت ہے جو مدارس نے سرانجام دی ہے۔ دوسری جانب مدارس نے معاشرے کے عام انسان کی روز مرہ ضروریات کے لیے ایسے افرادتیار کیے جو دینی خدمات بھی انجام دیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کو دینی معلومات بھی فراہم کریں۔ مدارس کے موجودہ نظام نے ان دو ضرورتوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ پور ا کیا ہے۔البتہ معاشرے کی ضروریات اس سے کچھ زیادہ ہیں اور بطور خا ص، مسلمان ممالک میں آزادی حاصل ہونے کے بعدیہ سوال فطری طور پرپیدا ہواکہ اب اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے دین سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے نئی زندگی کی تشکیل وتعمیر کیسے ہو سکتی ہے ؟ اس رہنمائی کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو ایک طرف تودینی علو م میں گہری نظر رکھتے ہوں اور ساتھ ہی دور جدید کے مسائل ، پیچیدگیوں اور امکانات سے و اقفیت رکھتے ہوں۔ مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے تطبیق کی بات کی تھی کہ فقہی مسائل کی تطبیق کے حوالے سے خلا ابھی موجود ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انسانی تجربات اور ٹیکنالوجی کی بنیا د پر جومزید مسائل پیدا ہوئے ہیں اور نئے نئے سماجی اقتصادی اور سیاسی ادارے بنے ہیں، ان کی بنیاد پر بہت سے پالیسی معاملات نے جنم لیا ہے۔ ضرورت ہے کہ ا ن میں ہم قرآ ن وسنت کی روشنی میں رہنمائی دے سکیں۔اس ضرورت کو پور ا کرنے کے لیے ہما رے دینی نظام میں ایک گنجایش پیدا ہونی چاہیے کہ عمومی تعلیم کے بعد تخصص کازیادہ جامع مربوط اور مؤثرنظام وضع کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

تخصص کی کم ازکم تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ اس تخصص سے فارغ ہونے والا اپنے میدان تخصص سے متعلقہ جملہ اہم باتوں سے واقف اور ان کی حقیقت سے آگاہ ہو تاکہ پھر آگے ان کے استعمال کی راہیں کھولی جا سکیں۔اس لیے آخری درجے کے بعدجن طلبہ میں خود شوق بھی ہو، انہیں ترغیب دی جائے اور ان کے لیے Incentive (محرک) پیدا کیا جائے تاکہ وہ اس مرحلے میں ذوق وشوق سے داخل ہوسکیں۔تخ صص کی یہ صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد ہم نئی تحقیق کریں اور اس تحقیق میں علوم اسلامی کے ساتھ ساتھ عصری علوم و مسائل کو لازماً شامل کریں۔ لیکن ابھی فوری آغاز کے لیے اگر کوئی نظام نہیں ہے تو مل جل کر اس کمی کو پور ا کیا جائے۔اس سلسلے میں مصطفی زر قا اور ابوزہرہ وغیرہ نے جو اجتماعی اجتہاد کی بات کی ہے، وہ لائق توجہ ہے، یہ کہ مختلف علوم میں نگاہ رکھنے والے، حتیٰ کہ جدید وقدیم دونوں علوم کے جاننے والے (بشرطیکہ ان کی نیت درست ہو) ساتھ بیٹھیں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ ہندوستان میں مولانا مجاہد الاسلام صاحب نے فقہ اکیڈمی قائم کرکے اس سلسلے میں مفید خدمات انجام دی ہیں ۔ انہوں نے ہر سال ایک موضو ع کو لے کر اس پر جدید وقدیم علوم کے ماہرین کو دعوت دی کہ وہ آرا لکھیں، اس پر بحث کر یں، اس کے بعد پھر انہوں نے اس کام کو شائع کر کے آگے بڑھایا۔ کم وبیش دس جلدوں میں انہوں نے عصری مسائل پر اسی انداز میں کام کیا۔ اسی طرح رابطہ عالم اسلامی اور اوآئی سی کی فقہ اکیڈیمیز اپنے اپنے انداز میں یہ کا م کررہی ہیں اور باقی مسلم دنیا میں بھی کوششیں ہو رہی ہیں ۔یوں پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں جہاں جو بھی کا م ہورہا ہے، اس کی معلوما ت حاصل کی جائیں اور ان اداروں نے جو کا م کیا ہے، اسے بنیاد بنا کر آگے کام کیا جائے ۔ البتہ اس موضوع پر کانفرنس کا وقت ابھی نہیں آیا، لیکن اس چیز کی ضرور ت ہے کہ ہربورڈ سے ایک نمائندہ فرد لیا جائے اور ان منتخب افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے تا کہ پاکستان میں جو صورت حال ہے، وہ ہمارے سامنے آ سکے اور اسی طرح کچھ افراد کے سپر د یہ کا م کیا جائے کہ عالم اسلام میں اس سلسلے میں جہاں جہاں جو کام ہوا ہے، اس پر تحقیق کریں۔

اسلامی معاشیات سے مجھے کچھ واقفیت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دس پندرہ سالوں میں معاشیات کے میدا ن میں تحقیق وتطبیق کا نمایاں کام ہوا ہے، لیکن لوگوں کو اس کی واقفیت نہیں ہے ، مختلف انسائیکلوپیڈیا تیار ہوئے ہیں لیکن وہ عموماً دستیاب نہیں ہیں۔ ان تمام چیزوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اپنے اساتذہ کے لیے نظام بنانے اورانہیں یہ جذبہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ خود تحقیق پر توجہ دیں، ذاتی ذوق کی مناسبت سے بھی اور اجتماعی ضرور ت کو پور ا کرنے کے لیے بھی۔ اس معاملے میں آپ کی کمیٹی ایک مفید خدمت انجام دے سکتی ہے کہ تعلیم میں آگے کے درجات میں کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ میراذاتی تجربہ یہ ہے کہ اگر اسے آپ باقاعدہ نظام کا حصہ بنائیں گے تو کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس امر میں کوئی قباحت نہیں کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی طر ز پر ہم اپنے نظام میں بھی گنجایش پیدا کریں۔ اصو ل وضوابط بنائیں اور ان پر عمل کریں اور ساتھ ہی اس قسم کے اجتماعات کیے جائیں جن میں اہل علم جمع ہوں اور کم ازکم فوری اور وقتی رہنمائی دینے کا کا م انجام دے سکیں۔ ساتھ ساتھ تمام اہل علم کو مناسب محرکات فراہم کیے جائیں ۔ یہ ایک ایسا کام ہے جسے کرنے کی ضرور ت ہے اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس کا م میں خاصا وقت درکار ہوگا۔

خالدرحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)

آپ سب حضرات کا بہت بہت شکریہ ۔آج کی گفتگو کو ہم باقاعدہ مرتب کرکے آپ تمام حضرات تک پہنچا دیں گے اور جوجو تجاویزیہاں پیش ہوئی ہیں ان پر عمل در آمد، ان کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل کے لیے ہونے والی پیش رفت کے سلسلے میں آپ سے مسلسل رابطہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ