دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس

محمد عمار خان ناصر

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے افتتاحی گفتگو۔)


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد

محترم حاضرین! میں سواے اس کے کہ معزز مہمانان اور تشریف لانے والے محترم حاضرین کا شکریہ اداکروں اور مختصراً اس پروگرام اور اس کے پس منظر کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں، آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ اس سے قبل ہم الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام دینی مدارس کے نظام ونصاب اور تدریس کے طریقے اور تعلیم وتربیت کے مناہج کے حوالے سے وقتا فوقتا مختلف نشستیں منعقد کر چکے ہیں۔ آج کا پروگرام بھی اسی کی ایک کڑی ہے اور اس میں خاص طور پر علم حدیث پر، جو مدارس کے تعلیمی نظام اور اس کے نصاب کا ایک بڑا محور ومرکز ہے، گفتگو کو مرکوز کیا گیا ہے تاکہ خاص طورپر علم حدیث کی تدریس کے حوالے سے جو مسائل اور مشکلات ہیں، جو خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جنھیں ہمارے جید اہل علم اور ہمار ے تجربہ کار اور کہنہ مشق مدرسین محسوس کرتے ہیں، وہ خاص طور پر موضوع بحث بنیں۔ اسی غرض سے یہاں گفتگو کی دعوت علم حدیث اور اس کی تدریس سے وابستہ پرانے اور جید اہل علم کو دی گئی ہے۔ حاضرین میں بھی عام لوگوں کو کم دعوت دی گئی ہے اور زیادہ تروہ لوگ تشریف لائے ہیں جو مدارس میں علم حدیث کی تدریس سے وابستہ ہیں یا کم سے کم اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس میں موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں تفصیلی گفتگو تو ہمارے معزز مہمانان ہی کریں گے، میں صرف دو مختصر گزارشات کے ذریعے سے اس گفتگو میں شرکت کی سعادت حاصل کرنا چاہوں گا۔

قرآن مجید اور حدیث مسلمانوں کے نصاب تعلیم کا ہمیشہ سے محور ومرکز رہے ہیں ۔ دینی تعلیم کا نصاب دراصل انھی کو سمجھنے کے لیے اور انھی کے معانی ومطالب تک پہنچنے کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے۔ ان کے تابع بہت سے علوم جوان کو سمجھنے میں مفید ہیں یا ان سے اخذ کر کے بنائے گئے ہیں، مثلاً علم کلام ہے، علم فقہ ہے اورعلم اصول فقہ ہے، سارے ان سے ماخوذ ہیں اور ایک لحاظ سے ان کو سمجھنے میں مفید اور ممد ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر دور کی ایک خاص ذہنیت ہوتی ہے اور ہر دور کے طالب علم کے سامنے کچھ سوالات اور اس کی کچھ ذہنی ضروریات ہوتی ہیں جو اس خاص دور کے فکری اور عملی پس منظر سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کو حل کرنے کے لیے اور ان پر روشنی ڈالنے کے لیے از سر نو قرآن مجید کی طرف اور حدیث کی طرف رجوع کیا جائے اوراس دور میں پڑھنے والوں کو وہ رہنمائی فراہم کی جائے جو ان کو چاہیے، قرآن وحدیث سے جواہر تلاش کیے جائیں اور نکات اخذ کیے جائیں اور پڑھنے والوں کے سامنے پیش کیے جائیں۔ 

ہمارے دور میں جب ہم حدیث کو خاص طور پر اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ علم حدیث کو پڑھنے اور پڑھانے والوں کے سامنے کون سے سوالات ہیں اور کون سی علمی وفکری الجھنیں ان کے سامنے ہیں جنھیں حدیث اوراس کے متن کو پڑھتے ہوئے اور شارحین کی تشریحات وافادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بطور خاص نمایاں کرنا چاہیے تو سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ دین کے مجموعی نظام میں اور خاص طورپر قرآن مجید کے ساتھ تعلق کے حوالے سے حدیث کا مقام کیا ہے؟ جس طرح قرآن مجید دین کا مستقل ماخذہے، اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی بھی دین کا مستقل ماخذ ہیں۔ یہ بات ہمیشہ سے امت مسلمہ میں مانی جاتی رہی ہے۔ البتہ اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اپنی تشریعی حیثیت اور فی نفسہ دین کا ایک مستقل ماخذ ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید سے اپنے معنوی تعلق کے لحاظ حدیث اس کی فرع اور شرح ہے۔ اس پہلو پر اس سے پہلے اہل علم عمومی گفتگو کرتے رہے ہیں ا ور اپنے اپنے ذوق کے مطابق قرآن کریم اور حدیث کے مضامین کا باہمی ربط اور تعلق بھی واضح کرتے رہے ہیں، لیکن میرے خیال میں اس دور میں دین کے فہم کے حوالے سے جو ایک عمومی نفسیات پائی جاتی ہے، ایک عمومی فضا پائی جاتی ہے، اس میں اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم حدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے اور حدیث اپنے طلبہ کو سمجھاتے ہوئے احادیث کو فی الجملہ قرآن کی شرح اور فرع کے طور پر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایک روایت کے تحت قرآن مجید کے ساتھ اس کے تعلق کو واضح کریں۔

موجودہ دور میں مختلف فکری عوامل کے تحت جو ایک عمومی نفسیات بنی ہے اور ایک عمومی ذہن بنا ہے ، وہ اصل اور فرع کے اس تعلق کو پوری طرح سمجھنا چاہتا ہے کہ کیسے قرآن نے ایک بات کہی ہے اور حدیث نے اس پر احکام مرتب کیے ہیں، کیسے قرآن نے ایک اصول بیان کیاہے اور حدیث میں اس پر فروع متفرع ہوئے ہیں، کیسے قرآن نے ایک عمومی رہنما اصول دیا ہے اور اس کی حکمت کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے بے شمار حکیمانہ فقہی اور علمی فروع وجزئیات اس پر مرتب کی ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا پہلوہے کہ حدیث کے طلبہ کو بھی اور حدیث کے معانی ومطالب طلبہ تک پہنچانے والے اساتذہ کو بھی بطور خاص اس کو غور وفکر کا موضوع بنانا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ اصولاً سب اہل علم یہ مانتے ہیں کہ حدیث قرآن کی شرح ہے اور بہت سی اہم جگہوں پر اس کی تفصیلات بھی اہل علم نے بیان کی ہیں۔ میرے خیال میں اس دور کے فکری مزاج کی یہ ضرورت ہے کہ ہم ہر ہر حدیث کو اور ہرہر روایت کے حوالے سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی کن ہدایا ت سے، قرآن مجید کے کن اشارات سے اور کن تلمیحات سے اس بات کو اخذ کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس علوذہنی کے ساتھ اور جس رسائی کے ساتھ قرآن مجید سے مطالب کو اخذ کرکے بیان کر یں ،گے اس کی کوئی دوسرا آدمی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخذ کیے ہوئے معانی کا تعلق سمجھنے کی کوشش کریں گے تو یہ چیز طلبہ کے لیے اور اہل علم کے لیے اپنے فہم کی سطح کوبلند کرنے اور حکمت دین میں گہرائی اور بصیرت پیداکرنے کا ایک بہت موثر ذریعہ ثابت ہوگی۔

دوسری بات یہ ہے کہ حدیث کو جس طرح سے ہم قرآن مجید کے تعلق سے اس کی فرع اور اس کی تشریح کے طورپر سمجھیں گے، اسی طرح سے اس کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں حدیث جو بعض دوسرے علوم وفنون کی خادم بن گئی ہے، اہل علم کو اور اہل مدارس کو اس رویے کو زیادہ تنقیدی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ حدیث قرآن کی خادم تو ہے، حدیث قرآن کی شارح ہے اور قرآن کے ساتھ حدیث کے تعلق کو سمجھنے اور اسے قرآن کے تحت رکھ کر سمجھنے میں بڑی بصیرت کا سامان ہے، لیکن ہمارے ہاں حدیث عملاً فقہا کے اختلافات اوران کے فقہی استنباطات اورفقہی اجتہادات کی خادم بن کر رہ گئی ہے۔ حدیث پر غور کرتے ہوئے اور حدیث سے معانی اور مطالب اخذ کرتے ہوئے اصلاً زیر بحث ہوتا ہے کہ اس حدیث سے فلاں فقیہ نے کیا استنباط کیا اور پھر اس کے تحت دلائل، جواب، معارضہ و مناقشہ کا سلسلہ چلتا رہتا ہے کہ اگر دوسروں نے یہ اخذ کیا ہے تو ہم اس کے جواب میں کیا کہیں گے اور ہم نے کوئی نکتہ اخذ کیا ہے تو وہ اس کے جواب میں کیا کہیں گے۔ تو معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ عملاً حدیث بعض دوسرے علوم کی خادم بن گئی ہے۔ اس پرپہلے بھی تنقیدی گفتگو کئی دفعہ ہو چکی ہے۔ آج کی نشست میں، میرا خیال ہے، ذرازیادہ وضاحت سے ہوگی۔ تو اس پہلو کو بھی ہمیں ذراکھلے دل سے، کھلے ذہن سے سوچنا چاہیے کہ حدیث کی شان اس سے بہت بلندہے کہ اس کو انسانوں کے ، چاہے وہ کتنے ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہوں، اخذ کردہ معانی ومطالب اور ان کی تشریحات کے خادم کے طور پر پڑھایا جائے۔ ان تشریحات کو اس کے تحت پڑھنا چاہیے۔ حدیث کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا ایک اپنا پس منظر ہے، ایک اپنا مرتبہ ہے، دین کی تفہیم وتعبیر میں اس کی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے سمجھنا چاہیے۔ اس کے ضمن میں البتہ کوئی حرج نہیں بلکہ یہ ایک علمی ضرورت بھی ہے کہ فقہا کے استنباطات اور استدلالات کو زیربحث لایا جائے۔ 

میں مزید آپ کی سمع خراشی کرنے کے بجائے انہی گزارشات پر اکتفا کروں گا اور چاہوں گا کہ ہمارے معزز مہمان اپنے علم، تجربہ اور مشاہدے کی روشنی میںآپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔ 

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ