طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ

قاضی محمد رویس خان ایوبی

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے اختتامی خطاب۔)


میں نے ۱۹۶۳ء میں جامعہ اشرفیہ سے دورۂ حدیث پڑھا۔ بڑی پرانی بات ہے۔ میرے اساتذہ میں وہ لوگ شامل ہیں، صرف شامل ہی نہیں بلکہ وہی ہیں کہ جن کو دیکھ کر محاورتاً نہیں، حقیقتاً خدا یاد آ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے چہرۂ انور کی برکت ہے کہ آج تک ہمارے اندر ایمان کی رمق موجود ہے۔ یقیناًوہ بہت اونچے لوگ تھے، مولانا رسول خان ؒ صاحب، مولانا کاندھلویؒ ، اورمولانا عبیداللہ صاحب، اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز فرمائے۔ اس کے بعد سے مسلسل چالیس پینتالیس سال سے میں حدیث کا مطالعہ کر رہا ہوں۔

مفتی برکت اللہ صاحب نے انٹرنیٹ اور تمام سورسز آف نالج کو استعمال کرنے کا کہا۔ امام بخاریؒ ، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوداؤد سجستانی، یہ سارے کے سارے ائمہ اور امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل، فقہا، مجتہدین، محدثین سب کے سب اس دور میں اونٹوں، گھوڑوں، گدھوں اور خچروں پر سوار ہو ا کرتے تھے اور بہت عرصے کے بعد جا کر منزل مقصود تک پہنچتے تھے۔ آج کوئی مولوی یہ نہیں چاہتا کہ میں گھوڑے یا گدھے پر سفر کروں۔ وہ جہاز کا ٹکٹ پہلے تلاش کرتا ہے۔ اسی طرح علمی طور پر کسی تیز رفتار ذریعے کو اختیار کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ آج الیکٹرانک دور ہے۔ اس دورمیں کوئی بندہ اگر دین پڑھ جائے گا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اپنی کتنی صلاحیتوں کو دین کے لیے صرف کر سکے گا۔ میرے پاس کراچی سے ٹی وی کے حوالے سے ایک فتویٰ آیاتھا کہ کراچی میں کچھ صاحبان نے مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں ٹی وی کو حرام قرار دیا ہے۔ ذرا بتائیے کہ آپ مجھ سے کوئی یہ کہے کہ مفتی صاحب!آپ آئیے اور مجھ سے کشتی لڑیں تو میں کہوں گا کہ شرم کریں بھائی، یہ میرے بچوں کی جگہ ہے۔ میں کوئی کشتی لڑنے آیا ہوں؟ مجھے اپنی ٹوپی، اپنی شیروانی، اپنی عینک کی عزت کا خیال ہے کہ یہ مہذب لوگوں کا شیوہ نہیں ہے، لیکن میرے آقانے کشتی لڑی اور اس پہلوان کا نام رکانہ تھا۔ اس نے کہا آپ مجھ سے کشتی لڑیں تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ پیغمبر نے بازو اوپر کر لیے اور کہا کہ لڑتا ہوں۔ دین پھیلانے کی خاطر کشتی لڑنا بھی حرام نہیں۔ آج کے جدید دور میں لوگ طرح طرح کے پروگرام ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلا رہے ہیں تو آپ صرف الشریعہ اکادمی یا کسی مسجد کے اند ربیٹھ کر اس پیغام کو عام نہیں کر سکتے۔ لہٰذا جدید ذرائع سے استفادہ کرنا نہ صرف پیغمبر کی سنت ہے، بلکہ تمام مولویوں کی سنت ہے۔ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ ٹی وی میں اشتہار آتے ہیں تو بھائی، اشتہار جبریل نازل نہیں کر تا، لوگ اشتہار دیتے ہیں تو آتے ہیں، آپ نہ دیں تو اشتہار نہیں آئیں گے۔ باقی رہی یہ بات کہ انٹرنیٹ میں گند بھی ہوتاہے تو انٹرنیٹ واقعی ایک سمندر ہے، لیکن اس سے وہیل مچھلیاں، شارک مچھلیاں، گھونگے، زعفران اور مرجان نکالنا ان کا کام ہے جو جانتے ہیں۔ ہوتا تو سب کچھ ہوتا ہے۔ 

مفتی صاحب نے جدید ذرائع کے استعمال سے متعلق تو بات کی ہے لیکن حدیث کے فہم کے حوالے سے بات نہیں کی۔ میں نے حضرت کاندھلوی اور مولانا رسول خان صاحبؒ سے حدیث پڑھی ہے۔ کچھ احادیث ایسی ہیں جو آج تک میری سمجھ میں نہیں آئیں۔ مثلاً تمیم داری کی حدیث جو مسلم شریف میں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سمندر کے سفر پر گئے اور کشتی ٹوٹ گئی تو ہم ایک جزیرے پر جا پہنچے۔ وہاں بالوں سے بھرے ہوئے جسم والی ایک چیز ہمیں ملی جس کے جسم کے اگلے اور پچھلے حصے کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ وہ با ت کرتی تھی لیکن ’’لانفقہ مایقول‘‘، ہمیں سمجھ نہیںآتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ پھر وہی راوی یہ بتاتا ہے کہ اس نے کہا کہ کیا بحیرہ طبریہ خشک ہوگیا؟ ہم نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، قریش کے نبی ظاہر ہو گئے؟ ہم نے کہا، ہاں۔ سوال یہ ہے کہ جب اس کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی تو یہ سوال وجواب کیسے ہوا؟ یہ غور طلب بات ہے۔ پھر یہ قصہ جو خاتون سنا رہی ہیں، ان سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سناؤ تووہ خاتون کہتی ہے، میرانکاح الف سے ہوا، وہ مرا، ب سے ہوا، وہ مرا، ت سے ہوا، وہ مرا، ج سے ہوا، پھرایک دن ’’الصلوۃ جامعۃ‘‘ کی آواز لگائی گئی۔ ہم وہاں پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دجال والاقصہ سنایا کہ تمیم داری وہاں گئے۔ بھئی اس نکاح کا حدیث سے کیا تعلق ہے ؟ پھر وہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ دجال آ گیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ھو فی بحرالشام، لا ھو فی بحر الیمن، لا ہو فی الشرق۔ فرمایا وہ شام میں ہے، نہیں نہیں، وہ یمن میں ہے،نہیں نہیں، وہ تومشرق میں ہے۔ وہ یہاں نہیں آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس کی باتیں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں، یمن میں ہے۔ نہیں ، شام میں ہے۔ نہیں، وہ مشرق میں ہے۔ نہیں ، وہ مغرب میں ہے۔ میں اعتراض نہیں کر رہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب محدث اور شیخ الحدیث پڑھائے تو طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پیغمبر کا کیا مقصدہے؟ لیکن اگر وہ یہ پوچھتا ہے تو مدرسے والے اسے دوپہر سے پہلے پہلے نکال دیں گے کہ یہ بے ایمان اور پرویز ی ہے اور یہ مدرسے کی روٹیاں کھا کر مفکر بننا چاہتا ہے۔ یہ اس کا حل نہیں ہے۔ 

غزوہ خیبر کے موقع پر صفیہ بن حیی بن اخطب ایک خاتون تھیں جو دحبہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ یہ وہی صحابی ہیں جبریل سے مشابہت والے۔ آپ نے ان کو دے دی توصحابہ کا ایک گروپ آیا اور آپ سے عرض کیا کہ ’’الا انہا اجمل نساء الیہود‘‘ یہ یہودیوں کی سب سے خوبصورت خاتون ہے، آپ نے کس کو پکڑا دی ہے! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کو بلایا اور کہا، کیا تم اس سے میرے لیے دستبردار نہیں ہو سکتے؟ تو دحیہ نے جواب دیا کہ فداک ابی وامی‘ ایک صفیہ کیا، ہزاروں آپ پر قربان۔ حضور نے صفیہ کو ان سے واپس لے لیا اور واپسی کے لیے اپنی سواری پر سوار ہوگئے۔ صحابہ کرامؓ نے سوچا کہ یہ بیوی بنتی ہے یا لونڈی۔ اگر تو اس سے پردہ کرایا تو زوجہ محترمہ ام المومنین ہوگی اور نہ کرایا تو لونڈی شمار کی جائے گی۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو اونٹ پر بٹھانے کے لیے اپنا گھٹنا مبارک دہرا کیا اور اس پر صفیہ نے اپنے پاؤں رکھا۔ یہ غزوہ خیبر کے حوالہ سے فتح الباری میں واقعہ موجود ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پرصفیہ نے پاؤں رکھا تو فتح الباری میں ہے کہ فتمعر وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہر بندہ جو صنفی معاملات کو جانتا ہے، سمجھ سکتا ہے کہ تمعر کا کیا مطلب ہے اور حضور کا چہرہ کیوں سرخ ہو گیا۔ جب آپ کجاوے میں بیٹھ گئے اور کجاوہ اوپر سے بندہے تو صحابہؓ نے سمجھ لیا کہ یہ ام المومنین ہیں، لونڈی نہیں ہیں۔ واقعے کے مطابق کجاوے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو چھیڑا تو انہوں نے کہنی ماری جس پر حضور پیچھے ہٹ گئے۔ جب ایک جگہ جا کر اترے تو حضور نے پوچھا کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہے؟ صفیہ نے جواب دیا، نفرت تو نہیں ہے، لیکن چونکہ یہودی قرب وجوار میں تھے اور میں سردار کی بیٹی ہوں تو مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ غیرت کی وجہ سے حملہ نہ کر دیں اورآپ کو نقصان نہ پہنچائیں، اس لیے میں نے آپ کو روک دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ سارا واقعہ کجاوے کے اندر ہوا ہے۔ کجاوے کے اندر کی بات باہر کیسے آئی؟ جس راوی نے اس کو بیان کیا ہے، اس کو کس نے بتایا؟ سوا ل یہ ہے کہ میاں بیوی کی جو آپس کی بات ہے، یہ راوی کو کہاں سے ملی ہے؟ اگر پیغمبر نے اس کو بتایاہے تو یہ بھی پیغمبر کی حدیث کے خلاف ہے کہ میاں بیوی اپنی باتیں باہر بتائیں۔ 

اسی طرح حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرۃ پربے شمار اعتراضات ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ عرصہ تو ابوبکرؓ رہے، عمرؓ رہے، عثمان غنیؓ رہے اور حضرت امیر معاویہؓ کاتب وحی تھے تو سب سے زیادہ روایات ابوہریرہؓ سے کیوں مروی ہیں۔ یہ سارے وہ مسائل ہیں جو طالب علمی کے دور میں ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، مگر وہ استاد سے پوچھ نہیں سکتا، اس لیے ا س با ت کی بھی ضرورت ہے کہ طلبہ کو حوصلہ دیا جائے کہ اگرکوئی شک پڑجائے تو پوچھ لیا کرو، اور اس کے جوابات بھی موجود ہیں۔ 

آج میں قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا جو مجھے سمجھ میں نہیں آئی۔ ’’لیسو ا سواء من اہل الکتاب امۃ قائمۃ‘‘ کہ سارے اہل کتاب برابر نہیں ہیں۔ ان میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں جو ’’آناء الیل وآناء النہار‘‘ تلاوت آیات کرتے ہیں، سجدوں میں مصروف رہتے ہیں، اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ ’’واولئک من الصالحین‘‘ وہ صالحین ہیں، نیک لوگ ہیں۔ اس سے دور حاضر کے یہودیوں نے استدلال کیا ہے۔ اسی طرح ’’ان الذین آمنوا والذین ھادوا والنصاری والصابئین‘‘ والی آیت ہے کہ جو یہودی ہوئے، عیسائی ہوئے، صابی ہوئے، ان میں سے جواللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آخرت پر ایمان لائے، وہ سارے کے سار ے جنتی ہیں۔ یہودیوں کا نارتھ کیرولینا میں ایک سکول ہے۔ میں اس میں خود گیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں آیات سے پتہ چلتاہے کہ رسالت محمدی پر ایمان لائے بغیر بھی بندہ جنت میں جا سکتا ہے۔ اب یہ سوال اگر کوئی طالب دورۂ تفسیر میں رد مذاہب باطلہ کے دس دس فٹ لمبے اشتہار لگانے والوں سے پوچھے گا تو وہ کہیں گے کہ تو تو بے ایمان ہے۔ رد مذاہب سے مراد ہے شیعہ، ردمذاہب سے مرا دہے بریلوی، رد مذاہب سے مراد ہے آٹھ رکعتیں یا بیس رکعتیں، رد مذاہب با طلہ سے مراد زیادہ سے زیادہ آگے چلے گئے تو مرزائی۔ ان آیتوں پر اعتراض تو کہاں سے لے آیا؟ تو کافر ہے۔ تو اس رویے کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ