مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں

ڈاکٹر محمود احمد غازی

(۲ جنوری ۲۰۰۵ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس میں عمرانی علوم کی تدریس کی ضرورت واہمیت ‘‘ کے زیر عنوان منعقد ہونے والی فکری نشست سے خطاب۔)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

قابل احترام جناب مولانا زاہد الراشدی، علماء کرام، برادران محترم، عزیز طلباء کرام!

سب سے پہلے میں آپ سب حضرات کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے عزت بخشی، یہاں حاضری کا موقع عطا فرمایا اور اپنے بعض ناچیز خیالات پیش کرنے کی ا جازت دی۔ 

برادران محترم! اس وقت دنیاے اسلام جس دور سے گزر رہی ہے، یہ دور اسلام کی تاریخ کا انتہائی مشکل دور ہے۔ امت مسلمہ کو جو مشکلات آج درپیش ہیں، شاید ماضی میں اتنی مشکلات کبھی درپیش نہیں ہوئیں۔ ایک اعتبار سے امت مسلمہ کی پوری تاریخ بحرانوں کی تاریخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور نبوت کے آغاز سے لے کر، جب آپ دار ارقم میں قیام فرما تھے، آج تک کوئی صدی، اور صدی کا کوئی حصہ یا کوئی عشرہ ایسا نہیں گزرا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس میں مسلمانوں کو کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔ لیکن ان ساری مشکلات میں اور آج کی مشکل میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ ماضی کی جتنی مشکلات اور پریشانیاں تھیں، وہ عموماً زندگی کے کسی ایک گوشے تک محدود ہوتی تھیں۔ مسلمانوں کو عسکری اعتبار سے کسی دشمن کامقابلہ کرنا پڑا، پیچھے ہٹنا پڑا، پسپائی اختیار کرنا پڑی، یہ ایک عسکری شکست یا عسکری ہزیمت کا معاملہ تھا۔ یا مسلمانوں کی کوئی حکومت کمزور ہوئی، غیر ملکی قوتیں مضبوط ہو گئیں اور مسلمان سیاسی طور پر پس ماندگی کا شکار ہوئے، یہ سیاسی میدان میں کمزوری تھی۔ اس طرح کی کمزوریاں جو عموماً سیاسی، مالی، عسکری یا مادی ہوتی تھیں، تقریباً ہر دور میں پیش آتی رہیں، لیکن ان سارے ادوار میں مسلمانوں کا خاندان، مسلمانوں کی تعلیم، مسلمانوں کا نظام تربیت اور مسلمانوں کی جو اندرونی ساخت اور تشکیل (Internal fabric) تھی، وہ اکثر وبیشتر بیرونی خطرات اور حملوں سے محفوظ رہی۔ تاتاریوں کے حملے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیاے اسلام پر اس سے برا وقت کوئی نہیں آیا، اور یقیناًوہ بہت برا وقت تھا کہ افغانستان کے مشرقی علاقوں سے لے کر مصر کے حدود تک اور ترکی کے جنوبی علاقوں سے لے کر جزیرۃالعرب کے وسط تک، یہ سارا علاقہ تاتاریوں کی تاخت وتاراج کی آماجگاہ تھا۔ انھوں نے ہزاروں علماے کرام کو شہید کیا اور بڑے بڑے جید ترین اکابر اسلام ان کی تلوار کا نشانہ بنے۔ خواجہ فرید الدین عطار، جن کے بارے میں مولانا رومؒ نے فرمایا:

عطار او بود وسینائی دو چشم او
ما از پئے سینائی وعطار آمدیم

اس درجے کے انسان کہ جن کی پیروی پر مولانا روم جیسے آدمی نے فخر کا اظہار کیا ہے، ایسے اونچے اونچے لوگ تاتاریوں کی تلوار کا شکار ہوئے۔ کتب خانے انھوں نے جلا دیے، شہر برباد کر دیے، یہاں تک کہ ابن کثیرؒ نے اپنی مشہور کتاب ’البدایہ والنہایہ‘ میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی شکست خوردگی اور پست ہمتی کا یہ عالم تھا کہ ’اذا قیل لک ان التتار انھزموا فلا تصدق‘، یعنی اگر تمھیں یہ خبر دی جائے کہ تاتاریوں کو شکست ہو گئی ہے تو اس پر یقین نہ کرو۔ گویا تاتاریوں کی شکست ناقابل تصور سمجھی جاتی تھی اور یہ بات ضرب المثل بن گئی تھی۔ لیکن اس ساری تباہی اور بربادی کے باوجود تاتاریوں کی شکست وریخت کا دار ومدار سارا کا سارا مسلمانوں کی عسکری اور سیاسی کمزوری پر تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کو سیاسی نقصان پہنچایا، عسکری نقصان پہنچایا، لیکن ان کے پاس کوئی دین نہیں تھا، کوئی پیغام نہیں تھا، کوئی تہذیب نہیں تھی، کوئی مذہب نہیں تھا، کوئی فکری ایجنڈا نہیں تھا، اس لیے مسلمانوں کی تہذیب وتمدن، تربیت اور خاندانی نظام ان کے حملوں سے محفوظ رہا اور ان میں سے کوئی چیز متاثر نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی اندرونی قوت نے ان کا ساتھ دیا اور بہت جلد وہ تاتاریوں کی شکست کے نتائج اور ثمرات بد سے نکلنے میں کام یاب ہو گئے۔ یہی کیفیت بقیہ بہت سے معاملات کی بھی رہی۔ 

آج جو صورت حال درپیش ہے، اور آج سے نہیں، پچھلے ڈیڑھ سو سال سے درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ ہر آنے والا دن، ہر نکلنے والا سورج خطرے کی یا پریشانی کی ایک نئی جہت لے کر آتا ہے۔ آج اسلامی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو خطرات سے دوچار نہ ہو۔ فرد کے ذاتی کردار اور تربیت کا معاملہ ہو، گھر کے اندر ماں اور بچوں کے درمیان کامعاملہ ہو، میاں بیوی کے تعلقات کا معاملہ ہو، گھر کی خواتین کے رویے کا معاملہ ہو، تعلیم وتربیت کا معاملہ ہو، یا مساجد کے جاری اندر سرگرمیوں اور معمولات کا معاملہ ہو، ان میں سے ہر چیز آج براہ راست مغربی حملے کی زد میں ہے۔ تاتاریوں نے شاید کبھی یہ نہیں پوچھا ہوگا کہ جامعہ ازہر میں کیا پڑھایا جا رہا ہے، مسلمانوں کی نصاب کی کتابوں میں کیا لکھا جا رہا ہے یا فقہ کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ انھوں نے کبھی یہ چیز زیر بحث لانے کی کوشش نہیں کی۔ اسی طرح انگریز جب شروع میں یہاں آئے تو انھوں نے بھی ان معاملات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریز کے ڈیڑھ دو سو سال یہاں رہنے کے باوجود مسلمانوں کی اندرونی ساخت بڑی حد تک (by and large) مغربی اثرات سے محفوظ رہی اور ایسے لوگ ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں کروڑوں تھے جن کی زندگی کا ایک لمحہ یا ایک گوشہ بھی انگریزی اثرات سے متاثر نہیں ہوا۔ 

میرے خاندان کے ایک بزرگ تھے، حافظ محمد اسماعیل جو بڑے عالم اور محدث تھے۔ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے والد تھے اور رشتے میں میرے والد کے چچا تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں کسی انگریز کی شکل نہیں دیکھی، انگریزی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا اور اپنے گھر میں کسی کو انگریزی کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہندوستان میں پہلے شاید ٹماٹر نہیں ہوتا تھا، بعد میں جب یہاں ٹماٹر آیا تو یہ لفظ شاید انگریزی کے tomato کی اردو شکل تھی۔ حافظ اسماعیل صاحب ٹماٹر کا لفظ استعمال نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی یہ لفظ بولتا تھا تو اس پر ناخوشی کا اظہار کرتے تھے۔ انھوں نے اس کا نام لال بینگن رکھا ہوا تھا۔ میرے والد صاحب بتاتے تھے کہ ایک دن گھر میں انھوں نے پوچھا کہ سالن میں کیا ڈالا ہے؟ ان سے کہا گیا کہ ٹماٹر ڈالا ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے کہ نصرانیت میرے گھر میں گھس آئی؟ اس کو لال بینگن کیوں نہیں کہتے؟ 

بظاہر یہ بات آج ہمیں لطیفہ معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر مسلمانوں میں کچھ لوگ اتنی شدت کے ساتھ مغربی اثرات میں رکاوٹ پیدا نہ کرتے تو مغربی اثرات آج سے سو سال پہلے اسی طرح لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے جیسا کہ آج گھستے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں ایک دو نہیں، ہزاروں ہیں اور سیکڑوں، لاکھوں، بلکہ کروڑوں انسان ایسے ہیں جنھوں نے مغربی اثرات کے خلاف مزاحمت کی اور مسلمانوں کو ان سے محفوظ رکھنے کی سعی کی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ انھوں نے مغرب کی مثبت چیزوں کو بھی روکا۔ یقیناًبعض باتیں مغرب میں مثبت بھی تھیں جن کے ثمرات سے مسلمان محروم رہے، لیکن آج یہ بات کہنا اور تبصرہ کرنا تو بڑا آسان ہے کہ فلاں بزرگ نے پابندی لگا دی تھی اور مغربی اثرات کے ثمرات سے مسلمانوں کو محروم رکھا، لیکن آج سے سو سال پہلے کے ماحول میں جو انسان طوفان کے سامنے کھڑا ہے، وہ اس کو نظر آ رہا ہے اور اس کے اثرات وثمرات اس کے سامنے ہیں، وہ ایک فیصلہ کر لے اور اس فیصلے کے نتیجے میں بعض منفی اور بیشتر مثبت سامنے چیزیں آئیں، تو آج ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ فیصلہ کرنے والے کو کیا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ ویسے بھی ’لغو‘ سے حضور نے منع فرمایا ہے۔ ماضی میں جس نے کوئی فیصلہ کیا، اس نے اس کی ذمہ داری بھی لی۔ بعض لوگوں نے ایک فیصلہ کیا تو بعض نے دوسرا۔ دونوں کے ثمرات ونتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نتائج پر تو بات کر سکتے ہیں، لیکن ماضی کو مستقبل کی طرف سے مشورہ دینا کہ ان کو کیا کرنا چاہیے تھا، یہ ایک غیر ضروری مشورہ ہے جس کا کوئی نتیجہ مستقبل میں نکلنے والا نہیں۔ 

آج کی صورت حال یہ ہے کہ جن حضرات نے سو سال پہلے امت مسلمہ کو مغرب کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی تھی، وہ جذبہ اور رویہ کمزور پڑ گیا ہے اور مغرب کے اثرات کے لیے مسلمانوں کے ہر گھر کے دروازے اور ہر کمرے کی کھڑکیاں اس طرح کھلی ہیں کہ اس میں مغرب کے کسی اچھے یا برے اثر کو آنے سے آپ نہیں روک سکتے۔ ہمارے ہاں بہت سے حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب کے مثبت پہلوؤں کو ہمیں اپنے اندر آنے کا موقع دینا چاہیے اور اس کے منفی اثرات کا راستہ روکنا چاہیے۔ یقیناًیہ درست رویہ ہے اور ہر مسلمان اس سے اتفاق کرے گا۔ یہ ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ کا اصول ہے جس سے مسلمانوں نے ہمیشہ اتفاق کیا اور جو مسلمانوں کی فکری اور علمی تاریخ کا ہمیشہ طرۂ امتیاز رہا ہے، لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ یہ اندازہ نہیں کر پاتے کہ کیا مغرب کا ایجنڈا بھی یہی ہے کہ ہم ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ پر عمل کریں۔ جو چیز ہمارے لیے قابل قبول ہو، وہ ہمارے سامنے پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیں اور جو چیز ہمارے لیے قابل قبول نہ ہو، اس کو واپس اپنی الماری میں رکھ دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مغرب اپنا پورا ایجنڈا یہاں لانا چاہتا ہے اور انھوں نے ہم سے زیادہ اس پر غور کیا ہے کہ ان کی تہذیب کا جو پورا پیکج ہے، اس کی کون سی چیزیں ہماری تہذیب کے لیے مفید ہیں اور کیا چیزیں اس پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اس پر باقاعدہ کتابیں لکھی گئی ہیں اور صرف عام سطح پر نہیں بلکہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر اس پر غور وخوض ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ نے سابق امریکی صدر نکسن کی کتاب ’Seize the Moment‘ پڑھی ہو تو اس میں اس نے پوری تفصیل سے یہ بات بیان کی ہے کہ دنیاے اسلام میں مغربی اثرات کا نفوذ کس حد تک ہے اور کس طرح ہونا چاہیے۔ یہ بات نہ صرف نکسن نے لکھی ہے، بلکہ ا ن کے صف اول کے تمام دانش ور، مفکرین اور مدبرین یہ بات لکھ رہے ہیں۔ 

آج سے چند سال پہلے مجھے جرمنی میں ایک اجتماع میں جانے کا موقع ملا جس میں مختلف ممالک کے دانش ور اور مفکرین مدعو کیے گئے تھے جن میں واحد مسلمان شریک میں تھا۔ میرے علاوہ باقی لوگ مغربی یورپ اور خاص طور پر وسطی یورپ سے بلائے گئے تھے۔ اس اجتماع کا عنوان تھا: Is Islam a threat to West and Europe? (کیا اسلام مغرب اور یورپ کے لیے ایک خطرہ ہے؟) اس میں انھوں نے مجھے بلایا تھا کہ اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ یہ کوئی ایک ہفتہ کی نشست تھی جس میں انھوں نے چودہ آدمیوں کو دعوت دی تھی۔ ایک د ن میں دو آدمیوں کی گفتگو ہوتی تھی جس میں ہر شخص تفصیل سے اپنے خیالات حاضرین کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اس میں ایک دن مجھے بھی گفتگو کرنے کا موقع ملا جس میں یہ سوال سامنے آیا کہ دنیاے اسلام میں مغربی اثرات کے حوالے سے کیا رویہ رہا ہے؟ اس کے جواب میں، میں نے کہا کہ عالم اسلام میں جب سے مغربی اثرات آئے ہیں، جس کو کم وبیش دو سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے، اس کے بارے میں دنیاے اسلام نے تین رویے اختیار کیے ہیں۔ ان میں سے دو رویے تو بتدریج کمزور ہو رہے ہیں یا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ کمزور ہو رہے ہیں، اور تیسرا رویہ بڑھتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اس میں پچھلے پچاس سو سالوں میں قوت پیدا ہوئی ہے۔

ایک رویہ جو سمٹ رہا ہے اور سمٹتے سمٹتے یقیناًختم ہونے کے قریب ہے، وہ ہے جس کی مثال میں نے لال بینگن اور ٹماٹر کے حوالے سے دی۔ اب شاید دنیاے اسلام میں اس طرح کی مزاحمت کرنے والے لوگ موجود نہیں بلکہ اس طرح کی مزاحمت کی افادیت کے قائل بھی میں سمجھتا ہوں کہ نہیں رہے۔ اگر ہیں تو بہت تھوڑے لوگ ہیں جن کا کوئی قابل ذکر اثر معاشرے میں نہیں ہے۔ یہ وہ رویہ تھا جو ابتدا میں بہت مضبوط تھا لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا گیا۔ 

دوسرا رویہ جو شروع میں بہت قوت سے سامنے آتا محسوس ہوتا تھا، مسلمانوں کی اکثریت نے اس سے بھی زیادہ اتفاق نہیں کیا اور یہ رویہ بھی کمزور ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو مکمل طور پر مغرب کے رنگ میں رنگ جانے کا رویہ ہے جس نے یہ سمجھا کہ مسلمان اگر مغرب کے ساتھ سو فیصد ہم آہنگی کر لیں تو شاید ان کے تمام مسائل حل اور تمام مشکلات دور ہو جائیں گی۔ اس رویے کے ترجمان ۱۹ ویں صدی کے اواخر اور ۲۰ ویں صدی کے آغاز میں دانشوروں میں بھی، سیاسی لیڈروں میں بھی اور عام سطح پر بھی کثرت سے پائے جاتے تھے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ رویہ بھی کمزور ہو رہا ہے۔ 

تیسرا رویہ جو آغاز میں بہت کمزور اور تقریباً برائے نام تھا، اب دنیاے اسلام میں اس نے اپنی جگہ بنا لی ہے اور مسلمان مفکرین اور دانش وروں کی ایک بڑی تعداد اس کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ وہی ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ کا رویہ ہے کہ مغربی تہذیب کے مثبت پہلوؤں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہیے، ان کی سائنس، ان کی ٹیکنالوجی، ان کی سہولتیں، یہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہونے چاہییں اور ان کو اپنانا چاہیے، جبکہ ان کے جو منفی پہلو ہیں، مثلاً اخلاقی اقدار کے متعلق ان کے خیالات ونظریات، یا سیکولرازم اور لا مذہبیت، یا مرد وزن کی آزادی کا تصور جو ان کے ہاں ہے، یہ چیزیں دنیاے اسلام کو قبول نہیں کرنی چاہییں۔ یہ رویہ پہلے بہت محدود تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور آج دنیا ے اسلام کی ایک بڑی تعداد اس رویے پر قائم محسوس ہوتی ہے۔ 

۱۹۹۲ء، ۱۹۹۳ء میں مذکورہ اجتماع میں جب میں نے ایک سوال کے جواب میں مذکورہ تجزیہ تفصیل سے بیان کیا تو اس کے جواب میں اجتماع کے شرکا نے، جن میں فرانسیسی نمائندے بھی شامل تھے، جرمن بھی شامل تھے اور آسٹریلیا کے لوگ بھی تھے، تقریباً بالاتفاق مجھے controvert کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اس رویے کو درست سمجھتے ہوں گے لیکن مغرب ان شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی تہذیب وتمدن سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت پہلی مرتبہ یہ پہلو میرے سامنے آیا۔ اس سے پہلے میرا ذہن اس طرف متوجہ نہیں تھا کہ آیا مغرب بھی اس بات پر تیار ہے یا نہیں کہ آپ کی شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی اور تہذیب سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دے۔ کم از کم اس اجتماع کے شرکا کا جواب بالاتفاق یہی تھا کہ مغرب آپ کو اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ ایک پورا پیکج ہے جس کو آپ کو جوں کا توں قبول کرنا پڑے گا اور اس میں وہ آپ کو اخذ وانتخاب (pick and choose) کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس وقت میں نے یہ سمجھا کہ یہ دانش ور اور مفکرین شاید اپنی main stream کی ترجمانی نہیں کر رہے، اور مغربی تہذیب میں جو فیصلہ کن قوتیں ہیں، ان کی زبان نہیں بول رہے۔ جیسے ہر شخص اپنی تہذیب کے بارے میں ایک عصبیت کا رویہ رکھتا ہے، یہ بھی اپنی تہذیب کے بارے میں ایک عصبیت اور حمیت رکھتے ہیں اور اس عصبیت کی وجہ سے یہ بات ان کو پسند نہیں آئی کہ ہم ان کی تہذیب کے بعض پہلوؤں کو منفی قرار دے کر مسترد کرنا چاہتے ہیں۔ ایک کمزور اور غریب فقیر آدمی کسی دولت مند آدمی سے یہ کہے کہ آپ کی کوٹھی یا محل میں فلاں فلاں چیزیں مجھے غلط معلوم ہوتی ہیں اور میں انھیں مسترد کرتا ہوں تو ظاہر ہے کہ اسے اچھا نہیں لگے گا اور وہ اس کو بے وقوف سمجھے گا۔ میرا تاثر یہ تھا کہ شاید وہ اس نفسیاتی کیفیت میں میری بات کی تردید کر رہے ہیں، لیکن پچھلے بارہ پندرہ سالوں میں مغرب کے بہت سے لوگوں سے ملنے، ان کی باتیں سننے اور ان کی تحریریں پڑھنے کا اتفاق ہوا، اور اب مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ان کی طے شدہ پالیسی ہے جو انھوں نے سوچ سمجھ کر اختیار کی ہے کہ دنیاے اسلام اپنے آپ کو مکمل طور پر مغرب کے رنگ میں رنگے اور مکمل طور پر مغربی ایجنڈے کو اختیار کرے، اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہ ہو تو مغربی تہذیب کے فوائد یا مثبت اثرات سے مسلمانوں کو متمتع ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ بات جو ۱۹۹۳ء سے پہلے میرے علم میں نہیں تھی، اب وقت کے ساتھ ساتھ روز روشن کی طرح یوں واضح ہے کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ پوری دنیاے مغرب کا ایک طے شدہ فیصلہ ہے کہ پوری دنیاے اسلام پر مغرب کے ایجنڈے کو سو فی صد مسلط کر دیا جائے۔ 

مغرب کے ایجنڈا ایک ہمہ گیر ایجنڈا ہے اور اس میں ہر چیز شامل ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں جو بہت سے کام ہو رہے ہیں، وہ محض اتفاق سے یا مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ یقیناًمسلمانوں میں کمزوریاں بھی ہیں اور ان کی دینی حمیت میں کمی بھی آئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ بالادست قوتیں بھی ہیں جو طے شدہ پروگرام کے تحت آگے بڑھ رہی ہیں اور دنیاے اسلام کو ایک خاص رخ پر چلانا چاہتی ہیں۔ اب مسلمان کس حد تک اس میں ساتھ جانے کو تیار ہیں، مسلمان دانش ور جو سمجھتے ہیں کہ مغرب کی مثبت چیزوں سے اتفاق کریں اور منفی چیزوں کو مسترد کر دیں، وہ کس حد تک اس میں کام یاب ہوں گے، اور مستقبل کیا خبر لائے گا، یہ اللہ ہی کو بہتر معلوم ہے، لیکن اس رویے کی کامیابی کا سارا دار ومدار مسلمانوں کے فہم صحیح پر، مسلمانوں کی بصیرت اور ان کے عزم وارادے پر ہے، اور اس کے لیے جو چیز سب سے پہلے درکار ہے، وہ خود دنیاے اسلام میں اسلامی تہذیب، اسلامی علوم وفنون اور معارف اسلامی سے گہری اور ماہرانہ واقفیت ہے۔ جب تک شریعت اور شریعت کے پیغام اور تعلیم میں یہ گہری بصیرت اور ماہرانہ واقفیت پیدا نہیں ہوگی، اس وقت تک کوئی ایسی بنیاد فراہم نہیں ہو سکتی جس پر آگے چل کر عمارت کھڑی کی جا سکے۔ 

ایک زمانہ تھاکہ دنیاے اسلام میں علوم وفنون کی اساس قرآن مجید تھا۔ قرآن مجید وہ جڑ فراہم کرتا تھا جس سے علوم وفنون کا گلشن پیدا ہوا۔ یہی وہ درخت تھا جس کے برگ وبار اور ثمرات مسلمانوں کے بقیہ علوم وفنون کی صورت میں سامنے آئے۔ آج سے کم وبیش ایک ہزار سال پہلے قاضی ابوبکر بن العربی نے، جو ایک مشہور مفسر اور مالکی فقیہ ہیں، کہیں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے جملہ علوم وفنون کی تعداد سات سو ہے۔ ان سات سو علوم وفنون کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ سنت سے اور یہ سب کے سب سنت کی شرح ہیں، اور سنت رسول قرآن مجید کی تشریح وتفسیر ہے۔ اس لیے قرآن مجید کی حیثیت اس بنیاد اور جڑ کی ہے جس پر مسلمانوں کی ساری تعلیمی، فکری اور تہذیبی سرگرمی کا دارومدار ہے۔ یہ کیفیت کم وبیش گیارہ، بارہ سو سال رہی اور ایک ایسے نظام تعلیم نے جس کی اساس قرآن مجید، سنت رسول اور ان دونوں سے پیدا ہونے والے علوم وفنون پر تھی، امت مسلمہ کی تمام ضروریات کو پورا کیا۔ امت مسلمہ میں بڑی بڑی ریاستیں بھی قائم ہوئیں، بڑی بڑی تہذیبیں سامنے آئیں، اور یورپ کے کم وبیش آدھے حصے پر مسلمانوں کی حکومت رہی۔ مسلمانوں کی فوجیں آسٹریلیا کے حدود تک پہنچیں اور مشرقی اور جنوبی یورپ میں مسلمانوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح اسپین میں آج بھی مسلمانوں کی سات سو سالہ حکومت کے آثار موجود ہیں۔ جہاں بانی کے اس پورے سلسلے میں اسلامی علوم وفنون اور وحدت پر مبنی نظام تعلیم نے مسلمانوں کے خالص دینی تقاضے بھی پورے کیے اور خالص دنیوی تقاضے بھی۔ یہ تاثر کہ دینی اور دنیوی علوم جدا جدا ہیں، اسلامی تاثر نہیں، بلکہ یہ مغرب کا تحفہ اور مغربی سیکولر ازم کے باقیات واثرات میں سے ہے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں اور میں بغیر کسی تردد کے یہ بات عرض کرتا ہوں کہ جب تک یہ دو نظام الگ الگ رہیں گے، دنیاے اسلام میں سیکولر ازم کو فروغ ملتا رہے گا۔ سیکولر ازم کیا ہے؟ سیکولر ازم یہ ہے کہ جو چیز مذہبی ہے، وہ مذہبی دائرے میں رہے اور جو غیر مذہبی ہے، وہ غیر مذہبی دائرے میں رہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق پیدا نہ ہو۔ یہ دونوں ایک نہر یا ایک دریا کے دو کنارے ہیں جو کبھی آپس میں نہیں ملتے اور ایک دوسرے کے متوازی چلتے رہتے ہیں۔ زندگی کو دو متوازی نظاموں اوردو متوازی حصوں میں تقسیم کرنا، اسی کو سیکولر ازم کہتے ہیں۔ یہی لا مذہبیت اور لادینیت ہے۔ لا دینیت کسی اور چیز کا نام نہیں ہے۔

انگریز کے زمانے میں جب main stream کی قیادت مسلمانوں سے چھن گئی تو اس وقت مسلمانوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں تھا کہ وہ اسلامی علوم وفنون کے تحفظ کے لیے ایک خالص دینی نظام تعلیم کے قیام پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ یہ ایک دفاعی حکمت عملی تھی اور امت مسلمہ میں مذہب کی باقیات کو بچانے کا واحد طریقہ تھا کہ مذہبی تعلیم کے نام پر جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ کیا جائے اور جس حد تک مسلمانوں کی مذہبی زندگی کوبرقرار رکھا جا سکتا ہے، رکھا جائے۔ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں تھا کہ دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم کے دو الگ الگ نظام موجود رہے ہوں۔ چنانچہ مغلیہ دور میں جس درس گاہ نے، جس نظام تعلیم اور نصاب تعلیم نے مجدد الف ثانی جیسا شخص پیدا کیا، جس کے بارے میں علامہ اقبال مرحوم کا یہ جملہ ہمیشہ دہرایا کرتا ہوں کہ The greatest religious genious produced by Muslim India، (مسلم ہندوستان نے سب سے بڑا جو مذہبی عبقری پیدا کیا، وہ شیخ احمد سرہندی تھے)، اسی نظام میں نواب سعد اللہ خان بھی تیار ہوا تھا جو مجدد صاحب کا کلاس فیلو تھا اور جو سلطنت مغلیہ کا وزیر اعظم بنا۔ وہ سلطنت مغلیہ جو موجودہ افغانستان، پاکستان، ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، سکم، برما، ان سب ریاستوں پر مشتمل تھی۔ اس کے نظام کو اس نے شاہ جہان کے زمانے میں کامیابی سے چلایا تھا۔ پھر استاد احمد معمار جس نے تاج محل بنایا، یہ بھی مجدد صاحب کا کلا س فیلوتھا۔ یہ تینوں ایک ہی استاد کے شاگرد تھے اور ایک ہی درس گاہ کے پڑھے ہوئے تھے۔اب دیکھیے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیا کی متمدن ترین سلطنت کو اس کے کامیاب ترین ادوار میں قیادت فراہم کی اور اس کا نظام چلا کر دکھایا، دوسرا وہ شخص جو ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مذہبی عبقری ہے، جس کی عظمت کو بیان کرنا دشوار ہے اور جس نے برصغیر کی دینی تحریکات پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ بعد کی کوئی دینی تحریک اور کوئی دینی سرگرمی اس کے اثر اور شخصیت کے احترام سے خالی نہیں ہے، اور تیسرا وہ شخص جس نے دنیا کے سات عجائب میں سے ایک عجوبہ بنایا، یہ تینوں افراد یہ ایک ہی نصاب کے پڑھے ہوئے اور ایک ہی تعلیمی نظام کی پیداوار تھے۔ یہی اسلام کا آئیڈیل اور یہی اسلام کا معیار ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان بننے کے بعد ہم اس پر ازسرنو غور کرتے، لیکن یہ کام نہ حکومتوں نے کیا اور نہ اہل علم نے اس پر ابھی تک کوئی توجہ دی ہے، لیکن اس پر جتنی جلدی غور ہو جائے، اچھا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام پوری امت مسلمہ کی تاریخ کے ایک مرحلہ کی تشکیل نو کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے اور میں اس کو اس سے کہیں زیاد ہ اہم سمجھتا ہوں جتنی اہمیت دار العلوم دیوبند کے قیام کی تھی۔ میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا اور اسے غیر اہم نہیں سمجھتا۔ برصغیر اور پورے جنوبی ایشیا میں پچھلے دو سو سال کی پوری مذہبی تاریخ دار العلوم دیوبند اور اس کے موسسین کی مرہون منت ہے، لیکن یہ کام جس کا آغاز مولانا زاہد الراشدی اور ان کے ہم خیال اہل علم نے کیا ہے یا کر رہے ہیں، اگر یہ نتیجہ خیز ثابت ہو تو اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ دیرپا اور دور رس ہوں گے، اس لیے کہ یہ اس روایت کا احیا کرنے کے مترادف ہے جو اصل اسلامی روایت ہے۔ دار العلوم دیوبند کی کاوش یا مہم ایک بدلی ہوئی صورت حال میں دفاعی اور وقتی کوشش تھی۔ وہ آئیڈیل صورت نہیں تھی اور نہ ہی وہ آئیڈیل حالات تھے۔ نہ وسائل دست یاب تھے، نہ حکومتی سرپرستی دست یاب تھی، اور نہ وہاں کے فارغ شدہ حضرات کے لیے قیادت کے مناصب موجود تھے۔ معاشرہ ان کی قیادت کو ماننے اور ان سے رہنمائی لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کی رہنمائی مسجد اور مدرسے کے خاص دائرے تک محدود تھی۔ اس کے لیے انھوں نے جو کچھ کیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزاے خیر دے گا اور جتنا دین موجود ہے، انھی کی کاوش سے موجود ہے۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو دین موجود ہے، اس کو زندگی کے روز مرہ معاملات سے Relate کیا جائے اور اس کو معاشرے میں فعال قائدانہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اہل دین کے پاس دینی علوم کا تخصص بھی موجود ہو اورجس دنیا اور جس معاشرے میں انھیں قیادت فراہم کرنی ہے، اس کے بارے میں بھی قائدانہ اور ناقدانہ واقفیت انھیں حاصل ہو۔ 

جب میں یہ بات عرض کرتا ہوں تو بعض علماء کرام یہ سمجھتے ہیں اور مجھ سے انھوں نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں اس بات کا داعی ہوں کہ دینی مدارس کو میڈیکل کالجز میں Convert کر دیا جائے یا انھیں انجینئرنگ کے ادارے بنا دیا جائے۔ ایک بڑے محترم اور بزرگ عالم نے مجھ سے غصے سے پوچھا کہ کیا انجینئرنگ کالج میں مولوی تیار ہوتے ہیں؟ نہیں تو پھر دینی مدارس میں انجینئر کیوں تیار ہوں؟ لیکن یہ اعتراض درست نہیں ہے، اس لیے کہ نہ انجینئر تیار کرنا مقصد ہے اور نہ میڈیکل ڈاکٹر تیار کرنا بلکہ علماء کرام ہی تیار کرنا مقصد ہے، لیکن نواب سعد اللہ کی طرح کے علما۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر دور کا ایک محاورہ اور ایک زبان ہوتی ہے۔ قرآن مجید اور سنت تو ایسی چیز ہیں جو ہمیشہ کے لیے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ان کا محاورہ ہر دور کے لیے ہے اور ہر دور کے لیے رہے گا۔ ان کے محاورے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ وہ ہمیشہ وہی رہے گا، اور ان کو ہمیشہ انھی کے محاورے اور انھی کی اصطلاح میں سمجھا جائے گا، لیکن فقہاء کرام، شارحین حدیث اور مفسرین نے شریعت کے نصوص کو اپنے اپنے زمانے سے Relate کیا اور اپنے زمانے کے محاورے میں اس کی تعلیم کو مرتب کیا ہے۔ یہ محاورہ حالات کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔ ماضی میں بھی بدلتا رہا ہے اور آئندہ بھی بدلتا رہے گا۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال میں آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ وہ علماء کرام جن کے پاس ٹھوس دینی علوم موجود ہیں، جن کے پاس پاور ہاؤس اور اس میں قوت کا ذخیرہ موجود ہے، چونکہ ان کا محاورہ آج کے محاورے سے مختلف ہے، اس لیے دور جدید کا آدمی ان کے علم سے استفادہ نہیں کرتا۔ آج سے کم وبیش ۲۵ سال پہلے وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی۔ جسٹس صلاح الدین مرحوم اس کے پہلے چیف جسٹس تھے۔ بہت نفیس انسان تھے۔ میرے مشورے سے انھوں نے بعض علماء کرام کو وفاقی شرعی عدالت کا مشیر مقرر کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ جن حضرات کو آپ نے مشیر مقرر کیا ہے،جن کی تعداد ۳۰، ۳۵ کے قریب تھی، ان سب کو آپ کھانے کی دعوت دیں۔ چنانچہ انھوں نے پورے پاکستان سے ان جید علماء کرام کو کھانے کی دعوت دی۔ ایک بزرگ جو بہت ٹھوس عالم تھے، انتہائی گہرا علم رکھتے تھے، وہ ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئے۔ چیف جسٹس صاحب نے ان سے پوچھا کہ حضرت! Islamic Stateکی Minimum requirement کیا ہے؟ بالکل یہی الفاظ تھے، یعنی کسی ریاست کے اسلامی ریاست ہونے کے کم سے کم تقاضے کیا ہیں؟ اس کا وہ کوئی جواب نہیں دے پائے۔ شاید سمجھے نہ ہوں۔ جسٹس صاحب نے دوبارہ اردو میں پوچھا تو وہ پھر بھی اس کا کوئی صحیح جواب نہیں دے پائے۔ میں تھوڑے فاصلے پر تھا۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ صف اول کے عالم ہیں، اگر ان کے اس سوال کا جواب نہ دے سکے تو ہو سکتا ہے کہ علما کے بارے میں ایک منفی تاثر جسٹس صاحب کے دل میں بیٹھ جائے۔ میں نے درمیان میں مداخلت کی گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ شاید چیف جسٹس صاحب یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ’دار الاسلام‘ کی تعریف کیا ہے؟ اب انھوں نے فوراً جواب دیا اور بڑے مدلل انداز میں جواب دے کر چیف جسٹس کو بڑی حد تک مطمئن کر دیا۔ اس وقت یہ بات مجھ پر واضح ہوئی کہ علماء کرام کے پاس علم تو ہے، لیکن محاورہ نہیں۔ 

محاورہ ہر زمانے کا مختلف ہوتا ہے اور ہر زمانے کے علوم سے متاثر ہوتا ہے۔ جس زمانے میں منطق نہیں آئی تھی، آپ اس زمانے کی اصول فقہ کی کتابیں دیکھیں کہ ان کا انداز کیا تھا؟ امام شافعی کی کتاب ’الرسالہ‘ پڑھیں۔ اس کے بعد آپ خود شافعی فقیہ امام غزالی کی ’المستصفیٰ‘ پڑھیں۔ دونوں کے محاورے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے اسرار حدیث پر کتاب لکھی ہے۔ اسرار حدیث پر ’معالم السنۃ‘ میں امام خطابیؒ نے بھی لکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ آپ ان دونوں کتابوں کو پڑھیں تو دونوں کے محاورے میں زمین آسمان کا فرق محسوس ہوگا۔ شاہ ولی اللہ کا محاورہ سارے کا سارا یونانی فلسفے پر مبنی ہے اور یونانی فلسفہ جیسا کہ برصغیر میں پڑھایا جاتا تھا، میبذی اور شرح ہدایۃ الحکمۃ اور فلسفہ کے بارے میں جو جو کتابیں اس وقت رائج تھیں، ان سب کے اثرات اور مصطلحات شاہ صاحب کی ’حجۃ اللہ البالغہ‘ میں موجود ہیں۔ اب خالص علم حدیث ہے اور شاہ صاحب علم اسرار حدیث پر بات فرما رہے ہیں، لیکن منطق اور فلسفے کے محاورے میں۔ جو بات خطابی نے کی ہے، وہی بات شاہ صاحب کہہ رہے ہیں اور اسی کو آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن اگر خطابی ہوتے تو شاید ایک لفظ نہ سمجھتے کہ شاہ صاحب کیا کہہ رہے ہیں، جیسا کہ چیف جسٹس صاحب کی بات وہ بزرگ عالم نہیں سمجھ پائے۔ 

اگر آپ کے پاس ریڈیو سیٹ تو ہو، لیکن ریڈیو اسٹیشن سے جس فریکونسی پر پیغام نشر ہو رہا ہے، آپ کا ریڈیو سیٹ اس فریکونسی پر کام نہ کرتا ہو تو آپ کے لیے وہ بے کار ہے۔ جب تک آپ اپنے ریڈیو سیٹ کو مطلوبہ فریکونسی پر نہیں لائیں گے، آپ ریڈیو اسٹیشن کی نشریات سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ ضروری ہے کہ علماء کرام کے پاس جو علم دین کا پاور ہاؤس ہے، اور ایک عام آدمی جو دین کی راہنمائی چاہتا ہے اور جس کو آپ راہنمائی دینا چاہتے ہیں، ان دونوں کی فریکونسی ایک ہو۔ اس فریکونسی کو موافق بنانے کے لیے ایک تو تخصص ضروری ہے جس پر میں ابھی مزید بات کروں گا، اور دوسرا دور جدید کا محاورہ درکار ہے۔ یہ خلط مبحث اور غلط فہمی ہے کہ علما کو انجینئر یا ڈاکٹر بنانا مقصود ہے۔ نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ علوم وفنون جنھوں نے آج کل کی تہذیب کی تشکیل کر رکھی ہے اور جن کی بنیاد پر آج ساری دنیا کا نظام چل رہا ہے، حتیٰ کہ پاکستان، سعودی عرب اور ایران میں بھی چل رہا ہے، ان سے علما بھی مناسب طور پر واقف اور مانوس ہوں۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں علوم وفنون کی ایک الگ تقسیم کی تھی۔ کچھ علوم مقاصد یا علوم حقیقی ہیں اور کچھ علوم وسائل یا علوم آلیہ ہیں۔ اسی طرح کچھ علوم ہیں، کچھ صنائع ہیں اور کچھ فنون ہیں۔ یہ مسلمانوں کی تقسیم تھی۔ آج عملاً یہ تقسیم موجود نہیں ہے۔ آج تعلیم کا نظام عملاً اس تقسیم پر نہیں چل رہا۔ آج دنیا میں ایک نئے انداز سے علوم کی مختلف تقسیمیں کی جاتی ہیں۔ ان میں ایک اہم تقسیم علوم عمرانی (Social sciences) اور علوم انسانی (Humanities) کی ہے۔ سوشل سائنسز میں وہ ان علوم وفنون کو شامل کرتے ہیں جو انسانی معاشرے کی تشکیل اور معاشرتی زندگی سے بحث کرتے ہیں۔ ان میں تاریخ، سیاسیات، معاشیات، عمرانیات اور کسی حد تک قانون شامل ہیں۔ یہ عمرانی علوم ہیں جن سے اجتماعی رویوں کی تشکیل ہو رہی ہے۔ Humanities وہ علوم ہیں جو انسان کے مطالعے پر مبنی ہیں، یعنی فرد کے خیالات، فرد کے افکار، فرد کی نفسیات، فرد کے احساسات وجذبات، یہ سب کے سب ہیومینٹیز کہلاتے ہیں۔ اس میں فلسفہ، نفسیات اور بشریات شامل ہیں۔ یہ دو میدان وہ ہیں جن سے دور جدید میں تہذیب کی تشکیل ہوئی ہے۔ آج ہمارا ایک پڑھا لکھا انسان، چاہے وہ پاکستان کا ہو یا سعودی عرب کا یا مصر کا یا کسی بھی اسلامی ملک کا، جب وہ بات کرتا ہے تو اسلامی علوم اور تصورات کے تناظر (perspective) میں بات نہیں کرتا۔ وہ اسلامی اصطلاحات یا فقہی سیاق وسباق یا فقہی محاورے میں بات نہیں کرتا، بلکہ وہ مغربی سوشل سائنسز کے محاورے میں بات کرتا ہے۔ عمرانی علوم اور انسانی علوم کے کے علاوہ مختلف قسم کے طبیعی علوم بھی ہیں جن کی حیثیت Tools اور آلات کی ہے جن سے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا مقصود ہے۔ ان کا دینی علوم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں بنتا۔ بالواسطہ جس چیز کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ یہ ہے کہ علماء کرام بقدر ضرورت سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز سے واقفیت رکھتے ہوں۔ اسی طرح کی واقفیت رکھتے ہوں جیسے آج سے ایک ہزار سال پہلے منطق سے واقفیت کی ضرورت پیش آئی تھی۔ 

اگر آپ اس دور یعنی تیسری صدی کے مباحث پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جب یونانی منطق اور فلسفہ کی کتابیں ترجمہ ہونا شروع ہوئیں، تو مسلمانوں میں اسی طرح کے تین رویے تھے جو آج مغربی تہذیب کے بارے میں ہیں۔ علماء کرام، محدثین اور مفسرین کا ایک بہت بڑا طبقہ وہ تھا جو ان سب چیزوں کو ناپاک اور گردن زدنی سمجھتا تھا، جو یونانی منطق اور فلسفہ سے اعتنا رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج یا اس کی حدود پر سمجھتا تھا، ان کو مسلمانوں کا نمائندہ نہیں سمجھتا تھا۔ یہ بحثیں موجود تھیں کہ منطق کی کتابوں سے استنجا جائز ہے یا نہیں۔ یہ جزئیات آپ کو فقہ کی کتابوں میں مل جائیں گی، یعنی یہاں تک ناپسندیدگی اور نفرت کی کیفیت تھی۔ یہ شعر آپ نے اکثر پڑھا ہوگا کہ 

وا عجبا لمنطق الیونان
کم فیہ من افک ومن بہتان
مخبط لجید الاذہان

ایک لمبی نظم ہے، پتہ نہیں کس بزرگ کی ہے۔ تو منطق کے بارے میں یہ کیفیت تھی ۔ اس کے بعد یہ رویہ محدود ہوتا گیا، جیسا وہ ٹماٹر والا رویہ محدود ہو گیا۔ پھر یہ کیفیت آئی کہ خالص اسلامی علوم میں منطق وفلسفہ آ گیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب کی ’حجۃ اللہ البالغہ‘ علم اسرار حدیث پر بہترین کتاب ہے۔ میری دانست اور رائے میں اس سے بہتر اسلامی علوم کی نمائندہ کتاب برصغیر میں نہیں لکھی گئی اور میں شاہ صاحب کو برصغیر میں مسلمانوں کا امیر المومنین فی الحدیث سمجھتا ہوں۔ لیکن جب تک آپ منطق اور فلسفہ کی اصطلاحات سے واقف نہ ہوں، انھی یونانیوں کی منطق جو بت پرست اور مشرک تھے، بدکار تھے، اخلاقی اعتبار سے بھی کچھ اونچے لوگ نہ تھے، تو ان کی کتابوں کو سمجھے اور ان کے افکار کو جانے بغیر آپ علم اسرار حدیث پر اسلامی لٹریچر کی بہترین کتاب نہیں سمجھ سکتے۔ شاہ ولی اللہ تو بعد کے ہیں۔ امام غزالی جیسے حجۃ الاسلام کی کتاب ’المستصفیٰ‘، جو اصول فقہ جیسے خالص اسلامی علم پر ہے، اگر آپ منطق میں اچھی بصیرت نہیں رکھتے تو اس کو نہیں سمجھ سکتے اور اس میں منطق اتنی گھسی ہوئی ہے کہ اگر ’المستصفیٰ‘ کو سمجھ کر پڑھ لیں تو منطق بھی آپ کو آ جائے گی۔ انھوں نے منطق کو اس کتاب میں اتنا سمو دیا ہے۔ امام شاطبی کی کتاب ’الموافقات‘ آپ نے پڑھی ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اصول فقہ پر انسانی تاریخ کی بہترین کتاب ہے۔ انسانی تاریخ میں اصول قانون پر اس سے بہتر کتاب موجود نہیں ہے۔ لیکن جب تک آپ منطق وفلسفہ نہ جانتے ہوں، اس کتاب کے مضامین کو بھی نہیں سمجھ سکتے حالانکہ وہ ایسے علاقے، شمالی افریقہ اور اسپین وغیرہ میں لکھی گئی جہاں منطق وفلسفہ کا رواج کم تھا۔ لیکن اس کے باوجود ساری کتاب کی اٹھان، اس کا استدلال، اس کی ترتیب، اس کا اسلوب اس دور کے عقلیات کے معیارات کے مطابق خالص عقلی ہے۔ 

یہ ایک ایسی تہذیب یا ایک ایسے علاقے کی نمائندہ تہذیب کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ تھا جس سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا، نہ سیاسی طور پر ان کی مسلمانوں کے ساتھ کوئی کشمکش تھی، نہ عسکری طور پر وہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا سکتے تھے، نہ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ اگر مسلمان ان کے نقطہ نظر کا مطالعہ نہ کریں تو وہ اسے زبردستی مسلط کر دیں۔ یہ تو مسلمانوں نے خود ہی ان کے علوم وفنون کا ترجمہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب اگر یونانیوں کے علوم وفنون جو نہ مسلمانوں پر حاکم تھے، نہ بالادست تھے، نہ ان کے پاس اقتدار تھا، نہ وہ مسلمانوں کے لیے خطرہ تھے، مسلمانوں نے محض علمی دلچسپی کی خاطر انھیں اختیار کیا اور ان سے استفادہ کیا تو وہ علوم وفنون جو ایک بالادست طاقت نے آپ پر مسلط کر دیے ہیں اور جن کے تصورات اور اسلوب استدلال کے مضر اثرات مسلمانوں میں داخل ہو رہے ہیں، انھیں سیکھنا اور ان سے واقفیت پیدا کرنا کیونکر مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟ آج اس کی ضرورت اس سے کئی ہزار گنا بلکہ کئی لاکھ گنا زیادہ ہے جتنی ضرورت یونانی علوم وفنون کے مطالعے کی تھی۔ 

یہ ٹھیک ہے کہ یونانی منطق اور فلسفہ سے اشتغال رکھنے والے بہت سے لوگوں نے ایسے خیالات کا اظہار بھی کیا جو اسلام کی ترجمانی نہیں کرتے تھے۔ آپ فارابی کی کوئی کتاب پڑھیں، مثلاً اس کی کتاب ہے ’آراء اہل المدینۃ الفاضلۃ‘ جس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلم سیاسی فکر کی پہلی کتاب ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اسلامی تعلیم وعقائد سے ہم آہنگ نہیں ہیں، لیکن ایک اعتبار سے وہ بڑی غیر معمولی کتاب ہے کہ اس نے یونانی علوم وفنون پڑھے اور ارسطو کی Politica یعنی ’سیاسیات‘ کا ترجمہ اس نے پڑھا، شاید افلاطون کی Republic کا بھی ترجمہ دیکھا ہو، لیکن بظاہر اس کے شواہد کم ہیں۔ سیاسیات پر وہ ارسطو کے نقطہ نظر سے متاثر ہوا۔ اس کے بعد اس نے ایک کتاب لکھی اور کوشش کی کہ ان خیالات کو اسلام سے ہم آہنگ کر کے بیان کرے۔ میرے خیال میں یہIslamization of Knowledge کی پہلی کوشش تھی۔ یہ داعیہ اس کے دل میں کیوں پیدا ہوا کہ وہ یونانیوں کے خیالات کو اسلام کے مطابق بنائے؟ اس کے دل میں کوئی اسلامی حمیت تھی اور کوئی اسلامی جذبہ تھا تو پیدا ہوا۔ اس اسلامی جذبے نے اس کو ارسطو کے خیالات کو جوں کا توں مسلمانوں میں پیش کرنے سے باز رکھا اور اس حد تک اس کا اسلامی فہم قابل ستایش ہے۔ اس کے مطابق اس نے ایک ایسی چیز کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر لوگوں کی رہنما بنی۔ اس نے اسلام کی سیاسی فکر اور اس کے دستوری تصورات کو اس طرح مرتب کیا کہ وہ نقل کے معیار کے ساتھ ساتھ عقل کے معیار پر بھی پورا اترے۔ اسی وجہ سے میں ابن سینا اور فارابی کا بڑا احترام کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بڑی قدر ہے، اس کے باوجود کہ ان کے بہت سے خیالات اسلامی عقائد سے متعارض ہیں۔

آج بھی اسی بات کی ضرورت ہے کہ وہ حضرات جو یہ صلاحیت رکھتے ہوں یا ارادہ اور خواہش رکھتے ہوں کہ آگے چل امت مسلمہ کی فکری قیادت کی ذمہ داری انجام دیں، ان کو بقدر ضرورت مغربی علوم سے ناقدانہ اور قائدانہ واقفیت ہونی چاہیے۔ ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مثلاً وہ اصول قانون کے اس طرح عالم ہوں جس طرح کوئی ماہر مغرب میں پایا جاتا ہے۔ اگر ہونا چاہتا ہے تو ضرور ہو جائے، لیکن اتنی مہارت کی ضرورت نہیں۔ اصول قانون جیسا کہ مغرب میں ہے، اس کے بنیادی تصورت، اس کے بنیادی عقائد، اس کے بنیادی concerns and issues جس سے وہ بحث کرتا ہے، وہ کیا ہیں، کیوں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے جو basic issuesہیں، وہ گرفت میں آ جائیں۔ اس کے بعد ان پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر ایک صاحب علم فقیہ یہ دیکھے کہ اس میں کیا چیز ہے جو کمزور ہے، کیا چیز ہے جو مضبوط عقلی بنیادوں پر قائم ہے، اور کیا چیز یا کیا اسلوب استدلال ہے جس سے کام لے کر اصول فقہ کے اس تصور یا نظریہ کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ ناقدانہ انداز ہے۔ 

آپ دیکھیں کہ اصول فقہ کو جس طرح امام شافعی نے مرتب فرمایا تھا اور جس طرح امام سرخسیؒ نے اس پر ’اصول السرخسی‘ لکھی تھی جو فقہ حنفی میں پہلی کتاب ہے، اس انداز کی کتابیں بعد میں نہیں لکھی گئیں۔ امام رازی اور امام غزالی کی کتابیں اس انداز کی نہیں ہے۔ ان میں منطق اور فلسفہ آ گیا ہے جو جائز تھا۔ امام غزالی نے اصول فقہ کے ہر مسئلہ کو منطق کے دلائل سے اس طرح ثابت کر کے دکھایا کہ یونانی فلسفہ ومنطق کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر امام غزالی کے استدلال سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ اس طرح انھوں نے اصول فقہ کو یونانی منطق کے ماہرین کے فہم کے قریب کیا۔ منطق سے متاثر لوگ اصول فقہ سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اصول فقہ کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ فن عقل ونقل دونوں کی میزان پر پورا اترتا ہے۔ یہی کام آج ہمیں کرنا پڑے گا۔ جب تک نہیں کریں گے تو بات آگے نہیں بڑھے گی۔ 

اسی طرح آج جو سارا طبقہ ہمارا اور آپ کا نظام چلا رہا ہے، یہ اصول فقہ سے واقف نہیں۔ یہ انگریزی اصول قانون سے واقف ہیں۔ اینگلو سیکسن لا، اس کے تصورات و استدلالات اور عقائد، سب ان کے رگ وپے اور گھٹی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب یا تو آپ انھیں مجبور کریں کہ وہ اپنا سب کام چھوڑ کر اصول فقہ پڑھیں تو یہ عملاً ہوگا نہیں۔ اگر آپ سے کوئی کہے کہ آپ اپنی ملازمت، تدریس، نوکری چھوڑ کر پانچ سال یا دس سال اصول قانون پڑھنے پر لگائیں تو آپ تیار نہیں ہوں گے۔ آپ کے پاس وقت نہیں ہے، آپ کے وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ کے مشاغل اس کے متحمل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ان لوگوں کے مشاغل بھی اس کے متحمل نہیں ہوتے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر قدیم محاورے میں لکھے ہوئے اسلامی علوم وفنون میں مہارت حاصل کریں۔ ایک وکیل اپنی وکالت کیوں چھوڑے؟ اگر چھوڑ دے تو کھائے کہاں سے اور وہ کیوں پانچ سال اصول فقہ یا فقہ پڑھنے پر لگائے؟ پانچ سال میں بھی اتنی واقفیت پیدا نہیں ہوگی جتنی ہونی چاہیے۔ اس لیے مطالبے کرنے سے، جلوس نکالنے سے، بینر لگانے سے کوئی جج یا وکیل خود بخود فقہ کاماہر نہیں ہو جائے گا۔ وہ تو تب بنے گا جب وہ پڑھے گا اور تب پڑھے گا جب آپ اسے پڑھانا چاہیں گے اور جب پڑھانا چاہیں گے تو اس کے لیے اس کے ذہنی پس منظر اور اس کے مزاج کے مطابق آپ کو تیاری کرنی پڑے گی۔ اس میں شارٹ کٹ کوئی نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوگا کہ آج کوئی اسلامی تحریک یا دینی جماعت دھرنا دے دے اور کل اس کے نتیجے میں جتنے جج صاحبان اور وکلا ہیں، جن کی تعداد بالترتیب پانچ ہزار اور بارہ ہزار کے قریب ہے، سب کے سب فقہا ہو جائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی صورت حال یہی رہے گی جو آج ہے۔ اس کے لیے بہت long term جانا پڑے گا۔ جب دو سو سال میں یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے تو کم از کم دو سو نہیں تو پچاس سال تو کام کرنا پڑے گا۔ پچاس سال کم از کم تبدیلی کے لیے درکار ہیں، اس وقت سے جب تبدیلی کے لیے کام شروع ہوگا۔ اگر پچاس سال پہلے شروع ہو چکا ہوتا تو آج تبدیلی آ چکی ہوتی۔ اس لیے اصول فقہ کو اس انداز سے مرتب کرنا پڑے گا کہ دور جدید کا انسان جو قانو ن تو جانتا ہے اور مغربی اصول قانون سے مانوس ہے، وہ اس تصور کو سمجھ سکے اور اس تصور کو اپنے فہم کے قریب لا سکے۔ مسلمانوں کو ان علوم میں اتنی واقفیت پیدا کرنی ہوگی کہ ان کے اسلوب استدلال کے ذریعے سے اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیم کو پیش کر سکیں، جس طرح امام غزالی نے منطق سے کام لے کر اصول فقہ کے اصولوں کو پیش کیا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگ موجود ہوں۔ 

اس کی دو شکلیں ہیں۔ ایک شکل تو یہ ہے کہ جو لوگ اصول قانون کے ماہر ہوں، انھیں اصول فقہ کا ماہر بھی بنا دیا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ جو اصول فقہ کا ماہر ہو، اسے بقدر ضرورت اصول قانون کاماہر بنا دیا جائے۔ دوسری صورت زیادہ آسان معلوم ہوتی ہے۔ میں نے یہ ایک مثال صرف اصول قانون کی دی ہے۔ یہ مثال علم سیاسیات، سوشیالوجی اور دیگر علوم پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ ان علوم وفنون سے ایک ناقدانہ واقفیت درکار ہے، لیکن اس ناقدانہ واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی علوم کا تخصص گہرا ہو، ورنہ مغربی علوم وفنون کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ یہ درست ہے اور یہ غلط ہے، یہ عقیدہ ٹھیک ہے، اسلام کے مطابق ہے اور یہ عقیدہ اسلام کے خلاف ہے، ا س کا پتہ نہیں چلے گا۔ ایک کچا آدمی ان کی گمراہیوں سے بھی متاثر ہوجائے گا جیسا کہ آج تک ہوتا رہا ہے۔ علماء کرام جو متامل ہیں، شاید اسی وجہ سے ہیں کہ ایسی مثالیں سامنے آئیں کہ کچا علم رکھنے والوں نے مغربی علوم وفنون اپنائے اور اسلام کی وہ تعبیریں کیں جو اسلام کی روایت کے مطابق نہیں تھیں اور ان میں انھوں نے اسلام کی علمی روایت کے تسلسل کو محفوظ نہیں رکھا تھا۔ اس لیے جب تک علم میں پختگی نہ ہو، اس وقت تک ناقدانہ تصور نہیں پیدا ہو سکتا۔ پختگی پیدا کرنے کے لیے بھی ابھی تک ہمارے ہاں کوئی انتظام نہیں ہے۔ 

آج جو دینی تعلیم ہم دے رہے ہیں، اس کے مقاصد کیا ہیں؟ وہ ہمارے سامنے ہونے چاہییں۔ میں ذرا بے تکلف بات کروں گا۔ آپ برا نہ مانیے گا۔ میرا تعلق آپ ہی کے طبقہ سے ہے۔ وہ ایک شعر ہے کہ

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی

تو گفتگو میں تھوڑی سی تلخ نوائی کا عنصر آنے کی اجازت دیجیے۔ جب دار العلوم دیوبند قائم ہوا، اس وقت مسلمانوں کو مسئلہ کیا درپیش تھا؟ اس وقت مسلمانوں کومسئلہ یہ درپیش تھا کہ انگریز نے پورے برصغیر پر قبضہ کر لیا تھا، مسلمانوں کے اوقاف سب ختم کر دیے گئے تھے، ایک ایک کر کے ضبط کر لیے گئے تھے، تعلیمی ادارے سب بند کر دیے گئے تھے۔ علماء کرام جو سارے نظام کو چلا رہے تھے، ان کو ملازمتوں سے الگ کر دیا گیا۔ عدالتوں کا نظام جو شریعت کے مطابق تھا، اس کو ختم کر کے انگریزی عدالتیں قائم کر دی گئیں، انگریزی قانون شریعت کی جگہ نافذ کر دیا گیا۔ فارسی جو نظام حکومت کی زبان تھی، اس کو ختم کر کے انگریزی جاری کر دی گئی۔ جہاں جہاں مسلمان مقرر تھے، ان کی جگہ ہندووں کو مقرر کر دیا گیا۔ بڑے مناصب پر انگریز آ گئے اور مسلمان ہٹ گئے۔ جو چیزیں مسلمانوں کی عزت کا ذریعہ تھیں، وہ مسلمانوں کی ذلت کا ذریعہ بنا دی گئیں۔ مسلمانوں کا لباس، مسلمانوں کے عہدے، مسلمانوں کے مناصب، مسلمانوں کے القاب، ہر چیز جواونچے درجے کی تھی، اس کو نیچے درجے میں انھوں نے متعارف کروا دیا۔ یہ وہ حالات تھے جن میں انھوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ نصاب یا وہ نظام جو آسانی سے اس وقت اپنایا جا سکتا ہے، اس کو اپنا لیا جائے۔ 

اس وقت درس نظامی برصغیر میں رائج تھا۔ درس نظامی کیا ہے؟ یہ بھی میں عرض کر دوں۔ درس نظامی نہ کوئی آسمانی چیز ہے، نہ قرآن میں آیا ہے نہ حدیث میں، نہ اس کا اسلام کے مستقبل یا ماضی سے کوئی تعلق ہے۔ یہ ایک اچھی مفید چیز ہے، اس کی افادیت سے انکار نہیں۔ اصل میں انگریز کی حکومت جب برصغیر میں قائم ہوئی تو اس وقت ہندوستان میں چار پانچ قسم کے درس رائج تھے۔ ایک درس مشرقی ہندوستان، جون پور وغیرہ میں رائج تھا جو شیراز ہند کہلاتا تھا۔ شیراز ہند اس لیے کہلاتا تھا کہ جون پور اور مشرقی علاقوں میں عقلیات اور فلسفے پر زور زیادہ تھا اور وہاں کے فارغ التحصیل حضرات منطق اور فلسفے کے ماہر ہوتے تھے۔ مسلمانوں میں عقلیات پر جتنی کتابیں برصغیر میں لکھی گئیں، وہ خیر آبادی سکول کی طرف سے لکھی گئیں۔ فضل حق خیر آبادی اور فضل امام خیر آبادی اس اسکول کے معروف نام ہیں اور ان کی لکھی ہوئی کتابیں ’ہدیہ سعیدیہ‘ اور ’شمس بازغہ‘ وغیرہ سے آپ واقف ہیں۔ 

ایک دوسرا درس تھا جو افغانستان کے اثرات سے آیا تھا اور موجودہ صوبہ سرحد، افغانستان اور موجودہ پنجاب وغیرہ میں رائج تھا۔ اس میں صرف ونحو اور نحوی بحثوں پر زور دیا جاتا تھا۔ کافیہ اور اس کی شرح پڑھنے پر لوگ دس دس سال لگا تے تھے۔ کافیہ میں کیا لکھا ہے، اس سے بحث نہیں ہوتی تھی، لیکن مفردا مرفوع ہے یا منصوب یا مجرور، اس پرتین تین دن بحث ہو تی رہتی تھی۔ پھر کافیہ کی شرح، شرح جامی پڑھائی جا تی تھی۔ پھر شرح جامی کی شرح، پھر اس کے حواشی سوال باسولی، سوال کابلی، تحریر سنبٹ وغیرہ، اور دس دس سال اس میں لگ جاتے تھے۔ بہرحال، یہ تخصص کا ایک میدان تھا۔ ان کی دلچسپی تھی جس پر ہمیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔

تیسرا نصاب وہ تھا جو مغربی ہندوستان اور سندھ میں رائج تھا جس میں علم حدیث پر نسبتاً زیادہ زور تھا۔ شیخ علی المتقی، کنز العمال کے مصنف عبد الوہاب المتقی، ہمارے سندھ کے علماء کرام شیخ محمد حیات سندھی، شیخ محمد عابد سندھی اور شیخ ابو الحسن سندھی وغیرہ حضرات اس نظام سے وابستہ تھے۔ ان حضرات کا اعتنا علوم حدیث سے زیادہ تھا۔ 

یہ تین مختلف نظام ہندوستان میں رائج تھے اور کچھ تھوڑی تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ ان سے مختلف بھی تھے، لیکن بڑے اندا ز یہی تین تھے۔ اس کی تفصیل اگر آپ دیکھنا چاہیں تو مولانا مناظر احسن گیلانی کی ضخیم کتاب ’’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت‘‘ میں دیکھ لیجیے۔ جب انگریز ہندوستان میں آئے، ایسٹ انڈیا کمپنی آئی تو اس نے سب سے پہلے بعض سرحدی علاقوں بمبئی، مدراس اور کلکتہ وغیرہ پر قبضہ کیا۔ کلکتہ پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے تجارتی کوٹھیاں بنائیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی پولیس اور فوج رکھنا شروع کی جس کی ایک لمبی داستان ہے۔ آج کل اس کے parallels اور اس کی مشابہتیں بڑی نمایاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ملک میں بد امنی ہے، آپ کے ہاں راستوں میں ڈکیتیاں بہت ہوتی ہے، اس لیے ہم اپنی جان ومال اور راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی فوج الگ رکھیں گے۔ ان کو فوج رکھنے کی اجازت دے دی گئی اور انھوں نے راستوں پر سپاہی رکھنے شروع کر دیے۔ ہوتے ہوتے انھوں نے پورے بنگال پر قبضہ کر لیا اور بالآخر نواب سراج الدولہ کے خلاف فوج کشی کر کے اس کو demote کر دیا گیا۔ بنگال پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے بہار اور اڑیسہ پر قبضہ کر لیا اور الٰہ آباد پہنچ گئے جو مشرقی یوپی کا سب سے بڑا شہر تھا۔ جب تین صوبوں بنگال، بہار اور اڑیسہ پر ان کا قبضہ ہو چکا تو ہندوستان میں مسلمانوں کے کان پر جوں رینگی اور یہاں کا جو حکمران تھا، غالباً شاہ عالم ثانی، وہ ان کے مقابلے کے لیے اپنی فوج لے کر نکلا۔ اس کو ناکامی ہوئی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں الٰہ آباد میں ایک معاہدہ ہوا جو معاہدۂ دیوانی کہلاتا ہے۔ یہ معاہدہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے انتقال کے کوئی تین سال بعد ہوا۔ اس معاہدہ میں شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ان تینوں صوبوں کا انتظام سپرد کر دیا یعنی اس کو قانونی طور پر ایک جائز قبضہ تسلیم کر لیا اور کہا کہ میری طرف سے آپ ان تینوں صوبوں کا نظام چلائیں گے، لیکن اس کے یہ شرائط ہوں گے۔ (انگریز ہمیشہ شروع میں شرائط مان لیتے ہیں جو ان کو سوٹ کرتے ہیں۔ پیروی اور پابندی وہ کتنی کرتے ہیں، یہ ہم سب کے سامنے ہے) 

ان شرائط میں ایک بات یہ تھی کہ مسلمانوں کے سارے معاملات شریعت حقہ محمدیہ کے مطابق ہوں گے۔ یہ معاملات مسلمان قاضی اور مفتی طے کریں گے کہ شریعت کیا ہے اور اس کو کیسے نافذ کیا جائے۔ یہ ان شرائط میں ایک چیز تھی۔ جب انگریزوں نے یہ شرائط مان لیں تو انگریزوں میں یہ خوبی ضرور ہے، ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ ہر کام بڑے methodical طریقے سے کرتے ہیں۔ ہر کام کا ایک نظام اور ایک سسٹم ہوتا ہے۔ پہلے قانون بنتا ہے، اس کے مطابق نظام چلتا ہے۔ تو انگریزوں نے یہ معلوم کیا کہ مسلمانوں میں کسی کو جج مقرر کرنے کے لیے اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ وہ عالم یا فقیہ ہے؟ انھوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ تین چار قسم کے نصاب رائج ہیں اور ہر ایک کے فارغ التحصیل کو عالم کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ایسا نصاب ہونا چاہیے جو ان تینوں خصائص کا جامع ہو۔ اب ان تینوں خصائص کا جامع نظام وہ تھا جو فرنگی محل میں رائج تھا۔ 

فرنگی محل ایک بہت بڑے مکان کا نام تھا جو جہانگیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دے دیا تھا۔ جہانگیر اس زمانے میں بیمار ہوا، کئی لوگوں نے اس کا علاج کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ ایک انگریز ڈاکٹر نے علاج کر دیا تو اس نے خوش ہو کر پوچھا کہ کیا چاہیے؟ انگریز ہمیشہ اپنی قوم کا وفادار ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ میری قوم کے کچھ لوگ یہاں لکھنو میں تجارت کے لیے آئے ہیں، ان کو مشکل پیش آتی ہے تو آپ ان کو تجارت کی اجازت دے دیں اور ان کو کوئی charter یا کوئی guarantees ایشو کر دیں۔ جہانگیر نے فرمان جاری کر دیا اور لکھنو میں ایک بہت بڑا محل یا کوٹھی ان کو دے دی۔ انگریزوں کی وجہ سے وہ کوٹھی ’فرنگی محل‘ کہلاتی تھی۔ اورنگ زیب کے زمانے میں کسی حوالے سے اس کو خبر ملی کہ انگریزوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جو جہانگیر نے طے کی تھیں اور بعض ایسے کام کیے ہیں جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھے۔ اورنگ زیب نے وہ کوٹھی ان سے ضبط کر لی اور ان کو نکال کر وہ کوٹھی ملا نظام الدین سہالوی کو دے دی جنھوں نے فتاویٰ عالم گیری مرتب کرایا تھا اور کہا کہ آپ یہاں درس گاہ قائم کر دیں۔ چنانچہ اس درس گاہ کے علما فرنگی محلی کہلانے لگے۔ مولانا جمال میاں فرنگی محلی، عبد الوہاب فرنگی محلی، عبد الباری فرنگی محلی، یہ نام آپ نے سنے ہوں گے۔ فرنگی محل میں ملا نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ جو نصاب تعلیم تھا، اس میں انھوں نے منطق، فلسفہ، نحو اور حدیث کے ساتھ ساتھ اصول فقہ اور فقہ کی بنیادی کتابیں بھی شامل کر دیں، اس لیے کہ وہ خود فقہ کے متخصص تھے، مفتی اور محتسب رہے تھے اور فتاویٰ عالم گیری کی ترتیب میں بھی شریک رہے تھے۔ 

جب انگریزوں کو پتہ چلا کہ فرنگی محل کا جو نصاب تعلیم ہے، اس میں فقہ کی اچھی بنیاد موجود ہے اور وہاں کے فارغ التحصیل حضرات فقہ کے ماہر ہوتے ہیں تو انھوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اسی درس نظامی کے فارغ التحصیل حضرات کو قاضی ومفتی مقرر کیا جائے گا۔ چنانچہ بڑے پیمانے پر چونکہ قاضی ومفتی مقرر ہونے لگے اور درس نظامی کے فارغ التحصیل حضرات کو ایک اچھا دنیاوی موقع ملا، ان کی تنخواہیں اچھی تھیں، ان کے وسائل اچھے تھے، معیارات اچھے تھے تو بڑے پیمانے پر مدارس نے اسی نصاب کو اپنانا شروع کر دیا اور بڑی تعداد میں انگریزوں نے اس نصاب کے فارغ التحصیل علماء کرام کو مفتی ومحتسب مقرر کر دیا۔ آپ ۱۸۵۷ء سے پہلے کی تاریخ میں بیسیوں علماء کرام کے نام سنیں گے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کے طور پر کام کرتے تھے۔ مفتی صدر الدین آزردہ کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ وہ اسی درس نظامی کے پڑھے ہوئے تھے اور انگریزوں کے نظام میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ ’صدر الصدور‘ تھے یعنی دہلی اور اس کے قرب وجوار کے مذہبی امور کے جتنے قاضی تھے، ان کی سربراہی ان کے پاس تھی۔ آپ انھیں اس علاقے کا چیف جسٹس کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ 

یہ نصاب تھا جس سے لوگ مانوس تھے اور گزشتہ کم وبیش سو برس یا ۸۰ برس سے لوگ اس نصاب کو پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے تھے۔ جب مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے دار العلوم کے قیام کا فیصلہ کیا تو انھوں نے بھی اسی نصاب کو اپنا لیا۔ اور لوگوں کے ساتھ وہ بھی اس نصاب کے پڑھے ہوئے تھے۔ ان کے والد، ان کے ساتھی دوسرے علماء کرام، مثلاً مولانا محمد یعقوب نانوتوی جو دار العلوم کے پہلے صدر مدرس بھی منتخب ہوئے، ان کے والد مولانا مملوک علی، سب اسی نظام کے پڑھے ہوئے تھے اور وہ دہلی کالج میں، جسے ایسٹ انڈیا کمپنی چلاتی تھی، عربی کے پروفیسر تھے۔ اس نصاب کو اپنانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ دینی تعلیم بقدر ضرورت اس میں شامل تھی۔ اس میں عربی زبان بھی تھی، فقہ بھی تھی، اصول فقہ بھی تھی، حدیث بھی تھی، تفسیر کی ایک دو کتابیں بھی انھوں نے شامل کر دیں۔ حدیث کی مزید کتابیں شامل کر دیں۔ اس سے پہلے تک حدیث کی صرف ایک کتاب مشکوٰۃ اور ایک آدھ کتاب ہوتی تھی۔ ان حضرات نے مزید کتابیں شامل کر دیں اور ایک نیا نصاب انھوں نے بنا دیا جس نے ہندوستان کے دینی تقاضوں کو اس وقت پورا کیا۔

کیا پاکستان بننے کے بعد بھی دینی مدارس کے تقاضے یہی تھے؟ میرے خیال میں یہ نہیں تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اب دینی مدارس سے تین قسم کے تقاضے ہیں اور ان تینوں تقاضوں کی ضروریات الگ الگ ہیں۔ ایک تقاضا تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو مساجد ہیں، ان میں ہمیں تربیت یافتہ امام درکار ہیں۔ یہ سب سے پہلا تقاضا ہے جو مسلمانوں کی دینی زندگی کا سب سے لازمی مطالبہ ہے جسے پورا ہونا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ایک امام مسجد کو درس نظامی پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر وہ ’ہدیہ سعیدیہ‘ اور ’سوال کابلی‘ اور ’سوال باسولی‘ اور ’تحریر سنبٹ‘ وغیرہ نہیں پڑھے گا تو بھی وہ ایک اچھا امام ہو سکتا ہے۔ اور اگر پڑھ لے گا تو اس کے اچھا امام بننے میں ان کتابوں سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اچھا امام بننے یا نہ بننے میں ان علوم وفنون کا سرے کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لیے یہ تحصیل حاصل ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہے اور وسائل کا بھی۔ آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا اور آگے چل کر کروڑوں ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جنھوں نے آٹھ دس سال لگا کر یہ ساری چیزیں یاد کیں، پھر پچاس سال امامت کی اور پچاس سالہ امامت میں کسی نے ان سے ’ہدایۃ الحکمۃ‘ کا کوئی سوال نہیں پوچھا۔ ان کو کبھی ’تحریر سنبٹ‘ کا کوئی مسئلہ وہاں بیان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ جو مسائل لوگ پوچھتے ہیں اور جوروزانہ دین کی راہنمائی میں درکار ہوتے ہیں، وہ تو ان کو پڑھائے نہیں جاتے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ شیئرز مارکیٹ میں پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں، اور ان میں سے اکثر کو یہی پتہ نہیں ہوتا کہ شیئر کہتے کس کو ہیں۔ ا س کے معنی یہ ہیں کہ یہ نظام اچھا امام تیار نہیں کر سکتا۔ اب ایک اچھے امام کی حقیقی ضروریات کیا ہیں، اس پر غور وفکر ہونا چاہیے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ایک کم از کم تعلیمی معیار کے بعد، جو میٹرک ہو سکتا ہے، آپ دینی مدارس میں طلبہ کو داخلہ دیں۔ میٹرک کے بعد حفظ قرآن لازمی ہونا چاہیے۔ میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ دینی مدارس میں حافظ کے علاوہ کسی کو داخلہ نہیں دینا چاہیے۔ اس وقت جامعہ ازہر کے تحت جو ادارے کام کر رہے ہیں، ان میں طلبہ کی تعداد کم وبیش پندرہ لاکھ ہے جو پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان کی آبادی ہم سے آدھی بلکہ اس سے بھی کم ہے، لیکن وہاں حفظ قرآن لازمی ہے۔ گویا پندرہ لاکھ حافظ طلبہ اس وقت جامعہ ازہر کے زیر انتظام اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ اگر وہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ 

اس کے بعد تین سال کا ایک نظام اور نصاب ایسا ہو جس میں بقدر ضرورت عربی زبان پڑھائی جائے۔ اتنی کہ طالب علم تفسیر اور حدیث کی کتابیں اور فقہ کی عام کتابیں پڑھ سکے۔ عربی زبان کے علاوہ حدیث اور علوم حدیث پر کوئی ایک آدھ جامع کتاب مثلاً مشکوۃٰ کا انتخاب یا معارف الحدیث یا کوئی اور اچھی کتاب پڑھا دی جائے۔ اسی طرح اردو کی کوئی تفسیر، مثلاً تفسیر عثمانی اور کوئی ایک عربی کی مختصر تفسیر پڑھائی جائے۔ ایک دو فقہ کی کتابیں ہوں اور کوئی ایک آدھ کتاب جدید معاشیات پر۔ اس طرح کا ایک تین سالہ کا نصاب ہو جس میں تقریر کی مشق بھی ہو اور تجوید بھی اس میں شامل ہو۔ جو یہ نصاب مکمل کر لے، وہ امام بننے کا اہل ہو اور اس کو پھر امام بننے کا موقع دینا چاہیے تاکہ وہ اپنا اور ادارے کا مزید وقت اور وسائل ضائع نہ کرے، اس لیے کہ اس کو اس سطح سے آگے کام نہیں کرنا۔ 

اب یہ ایک تقاضا ہے جس کے لیے آپ جب تک کوئی نظام نہیں بنائیں گے، وہی کچھ ہوتا رہے گا جو آج ہو رہا ہے۔ آپ ایک اور تلخی کی بات سنیے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے اور جب تک آپ حقائق کاسامنا نہیں کریں گے، مستقبل کی تشکیل نہیں کر سکتے۔ آج ہمارا امام جب سوسائٹی میں جا کر یہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو کچھ پڑھا ہے، وہ تو irrelevant ہے اور یہاں لوگ جو سوال کر رہے ہیں، اس کا میرے پاس جواب نہیں ہے تو وہ اپنی پڑھی ہوئی چیزوں کو relevant بنانے کے لیے وہاں وہ مسائل پیدا کرتا ہے جو اس کے اپنے مسائل ہیں تاکہ وہ لوگوں کے بھی مسائل بن جائیں اور جب وہ ان کے مسائل بن جائیں گے اور وہ پوچھیں گے تو میں ان کا جواب دوں گا۔ وہ مسائل کیا ہوتے ہیں؟ وہ فرقہ وارانہ ہوتے ہیں۔ اب جن بیچاروں کو کچھ پتہ نہیں ہوتا اور نہ کبھی ان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہوتا ہے کہ حضور نور تھے یا بشر تھے، ان کے لیے امام یہ مسئلہ پیدا کر دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم واجب التعمیل ہے، یہ کوئی نہیں بتاتا، لیکن ایک اس پر زور دینا شروع کرتا ہے کہ آپ بشر تھے اور دوسرا اس پر کہ آپ نور تھے۔ وہ نور کا ایک محدود مفہوم بیان کرتا ہے، یہ بشر کا ایک محدود مفہوم بیان کرتا ہے۔ اور جب علم کی کمی کی وجہ سے لوگوں کا ایک گروہ اس کام کے لیے تیار ہو جائے گا تو اب امام صاحب کی نوکری پکی ہو جائے گی اور انھیں کوئی وہاں سے نہیں ہٹائے گا۔ یہ ایک افسوس ناک بات ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔ اس کو محض تنقید کے مفہوم میں نہ لیں۔ جب تک مرض کی آپ تشخیص نہیں کریں گے، اس وقت تک اس کا علاج نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے امام کو اس کام کے لیے تیار کریں جو سوسائٹی کے relevant مسائل ہیں۔ جب اسے یہ مسائل معلوم ہوں گے تو وہ غیر متعلق مسائل پیدا نہیں کرے گا۔ 

اس کے بعد تعلیم کا دوسرا درجہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دینی علوم کے مدرس یا معلم بننا چاہتے ہیں۔ آج پاکستان کے ہر اسکول اور کالج میں ایف اے تک اسلامیات لازمی ہے۔ بہت سے لوگ بی اے میں بھی پڑھتے ہیں۔ ہر کالج اور ہر اسکول میں اسلامیات کے ٹیچر ہوتے ہیں۔ یہ دو طرح کے لوگ ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جو سرکاری اداروں سے ایم اے کر کے آئے ہیں جن کا علم بڑا ناپختہ ہوتا ہے۔ وہ اردو میں پڑھ کر امتحان پاس کر لیتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ قرآن پاک بھی ناظرہ نہیں پڑھ سکتے۔ میں نے اسلامیات کے ایسے اساتذہ دیکھے ہیں کہ جن سے نماز پڑھانے کے لیے کہا جائے تو نماز نہیں پڑھا سکتے۔ قرآن پاک کی شاید چار سورتیں بھی ان کوحفظ نہ ہوں، اس لیے کہ انھوں نے پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ اردو میں پڑھ کر پاس کر لیتے ہیں اور اسلامیات کی ڈگری ان کو مل جاتی ہے اور وہ اسلام کے مجتہد اور مفتی بھی بن جاتے ہیں۔ یہ ایک دوسری خطرناک بات ہے جو ہو رہی ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو مدرسوں کی لائن سے آئے ہیں۔ مدرسوں میں میبذی، شرح عقائد اور خیالی قسم کی جو اسلامیات پڑھائی جاتی ہے، وہ یہاں کام نہیں کرتی۔ یہاں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے ہم نے ان لوگوں کو تیار نہیں کیا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ابتدائی تین چار سال کے بعد مزید تین سال کا ایک نصاب ہونا چاہیے جس کا مقصد یہی ہو کہ آپ کو اسکولوں اور کالجوں کے لیے اسلامیات کے معلم تیار کرنے ہیں۔

اس کے بعد تیسری ضرورت یہ ہے کہ ہمیں ایسے لوگ درکار ہیں جو خود ان دینی مدارس میں اعلیٰ درجے کے متخصص ہوں، جو کتابیں پڑھا سکیں اور اعلیٰ درجے کے علوم وفنون کی تدریس کر سکیں۔ ہمیں فقہا درکار ہیں، محدثین درکار ہیں، مفسرین درکار ہیں، مفتی درکار ہیں جو ان سب علوم کے متخصص ہوں۔ اس کے لیے الگ سے چار پانچ سال کی تیاری چاہیے۔ جب تک وہ تیاری نہیں ہوگی، مطلوبہ افراد تیار نہیں ہوں گے۔ اس وقت درس نظامی میں کیا ہوتا ہے؟ درس نظامی میں سب سےeglected n چیز قرآن پاک ہے، جس پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔ اب بعض مدارس میں ترجمہ قرآن شروع ہوگیا ہے۔ اول سے آخر تک ترجمہ پڑھا دیتے ہیں جس کی نوعیت اس عام درس سے مختلف نہیں ہوتی جو عام مسجدوں میں ہوتا ہے جس میں بیٹھ کر لوگ سن لیتے ہیں۔ ایک عالم صاحب نے درس دے دیا، لوگوں نے عقیدت سے سن لیا۔ کچھ یا درہا، کچھ یاد نہیں رہا۔ اسی طرح سے مدرسوں میں جو درس ہوتا ہے، وہ اکثر لوگوں کو یاد نہیں رہتا۔ جو تفسیر پڑھاتے ہیں، وہ بیضاوی کی سورہ بقرہ ہے۔ میرے خیال میں بیضاوی کوئی اچھی تفسیر نہیں ہے۔ میں امام بیضاوی کے پورے احترام کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں۔ نہ وہ تفسیر کا اچھا نمونہ ہے، نہ کسی اور چیز کا۔ تفسیر بیضاوی انھوں نے کیوں لکھی؟ وہ اصل میں متکلم تھے اور اصول فقہ کے آدمی تھے۔ انھوں نے بطور متکلم یہ دیکھا کہ زمخشری کی تفسیر بڑی مقبول ہو رہی ہے اور اس کے ہاں معتزلی عقائد ہیں تو انھوں نے کہا کہ زمخشری کی تفسیر سے اس کے جو بلاغت کے نکتے ہیں، وہ لے لیے جائیں اور معتزلی عقائد کو نکال کر اشعری عقائد اس میں ڈال دیے جائیں اور اس طرح سے تفسیر بیان کر دی جائے۔ اب جن جن باتوں میں انھوں نے زمخشری کی تردید کی ضرورت سمجھی، وہ ساری سورہ بقرہ میں آ گئیں، اس لیے وہ تو بڑی لمبی ہو گئی اور باقی تفسیر میں بس مختصر حواشی ہیں جنھیں کوئی پڑھتا نہیں۔ چنانچہ عملاً تفسیر قرآن تو طلبہ کو پڑھائی نہیں جاتی۔ میں نے جید علما میں سے بھی بہت سوں کو دیکھا کہ علم تفسیر سے واقف ہیں، نہ علوم قرآن میں جو مسلمانوں کے کارنامے ہیں، ان سے آشنا ہیں۔ اکثر لوگوں کو بڑی تفسیروں کے نام بھی پتہ نہیں ہوتے۔ آپ چاہیں تو بیضاوی کے کسی استاد سے پوچھ لیں کہ دس بہترین تفسیروں کے نام بتا دیں تو شاید طبری اور ایک آدھ کے علاوہ وہ چھٹا ساتواں نام نہ بتا سکیں۔ یہ اکثر صورتوں میں واقفیت کا عالم ہوتا ہے۔ بعض صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ 

اب اگر قرآن پاک ہمارے علوم وفنون کی اساس ہے تو پھر اس کو فی الواقع تعلیم کی بھی اساس ہونا چاہیے۔ یہ بات کہ آپ نے پہلے طالب علم کو ساری چیزیں پڑھا کر اس کے ذہن کا ایک سانچہ بنایا، اس کے بعد اس سانچے کے مطابق آپ اسے قرآن پڑھا رہے ہیں، یہ میرے خیال میں قرآن کی توہین ہے۔ قرآن اصل سانچہ ہے۔ قرآن کے سانچے سے باقی علوم کو جانچنا چاہیے ۔ باقی علوم کے سانچے سے قرآن کو نہیں جانچنا چاہیے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے، میں اس کو غلط سمجھتا ہوں۔قرآن معیار ہے، قرآن اصل کسوٹی ہے، قرآن کے معیار اور کسوٹی پر فقہ اور اصول فقہ اور عقائد اور ہر چیز کو جانچنا چاہیے۔ ہم پہلے متاخرین کے عقائد اور فتاویٰ پڑھا کر طالب علم کا ایک ذہن بناتے ہیں، پھر اس ذہن سے کہتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ کو توڑو مروڑو اور توڑ مروڑ اس کے مطابق ایڈجسٹ کرو۔ یہ میرے خیال میں قرآن کا صحیح استعمال نہیں ہے۔ اس لیے میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ علوم قرآن کی تعلیم کا ایک نیا نظام ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ اس پر کبھی بات ہوگی تو اس پر میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ علوم قرآن میں تخصص موجودہ درس نظامی سے حاصل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی ذاتی دلچسپی یا ذوق سے پیدا کر لیں تو کر لیں، نظام میں اس کا بندوبست نہیں ہے۔ کوئی inherent mechanism نظام میں نہیں ہے کہ قرآن کے متخصصین پیدا ہوں۔ 

یہی حال علم حدیث کا ہے۔ علم حدیث کا متخصص ازخود کوئی پیدا ہو جائے، اللہ تعالیٰ انور شاہ کشمیری کی طرح کے کسی آدمی کو پیدا کر دے تو کر دے، لیکن اس نصاب کو پڑھ کر جو لوگ تیار ہوتے ہیں، ان میں کوئی علم حدیث کا متخصص نہیں ہوتا۔ ان کو محض چند فقہی موضوعات سے متعلق وہ حدیثیں یاد ہوتی ہیں جن میں فقہاے احناف کا کوئی کلام یا فقہاے شوافع کا کوئی مستدل ہے۔ مدارس میں تین تین ماہ تک اس پر بحث ہوتی رہتی ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ یہاں لوگوں کے ایمان ضائع ہو رہے ہیں۔ لوگ ایمان ہی کو نہیں مان رہے کہ ایمان بھی کوئی چیز ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر آپ تین مہینے اس پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے کسی کو بحث نہیں۔ آپ نے ایمان کے بارے میں کیا فرمایا، وہ کسی کا concern نہیں۔ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے کسی مقتدا یا پیشوا کے نقطہ نظر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت کر دیں۔ اس کے بعد اگلے چھ مہینے ان احادیث پر خرچ ہو جاتے ہیں جن میں فاتحہ خلف الامام اور رفع یدین کی طرح کے اختلافی موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد جو طالب علم سب سے تیز پڑھنے والا ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں کہ تم پڑھو اور روزانہ چالیس صفحے پڑھو۔ نہ استاد کو اس سے کوئی بحث ہوتی ہے اور نہ شاگردوں کو ہی کچھ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی، جو ساری شریعتوں کاناسخ اور ہر چیز کا معیار ہے اور جس کے بعد ہر بات کالعدم ہے، اس میں کیا بات کہی گئی ہے۔ کتب حدیث کی شروح کو دیکھ لیجیے۔ جو شروع کی بحثیں ہیں، ان میں ایک باب تین جلدوں میں آیا ہے تو دوسرا باب چار جلدوں میں، جبکہ آخر میں تین تین چار چار سطروں کے حاشیے ہیں کہ کذا قال فلان یا انظر فلانا ۔ یہ شرحوں کی کیفیت ہے۔ تو حدیث میں بھی کوئی تخصص مدارس میں پیدا نہیں ہوتا۔ فقہ میں تخصص کی صورت حال بھی یہی ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ان دو مرحلوں کے لیے متخصصین کے لیے ایک نیا نصاب ہو جس میں درس نظامی کی ساری کتابیں شامل ہوں۔ درس نظامی کی کسی کتاب کو میں متخصصین کے لیے غیر ضروری نہیں سمجھتا، لیکن اس کے ساتھ مزید بہت کچھ شامل کرنا ضروری ہے تاکہ واقعی ایسے متخصص پیدا ہوں جو اس فن یا علم کو آگے چل کر پڑھا سکیں۔ 

یہ تین درجے تو عام ہیں جن کی ہر وقت ضرورت ہے۔ ان کے بعد ایک درجہ اور ہے جس کے لیے مزید محنت درکار ہے۔ یہ درجہ وہ ہے کہ جو مغربی علوم وفنون کی تنقیح کا فریضہ انجام دے اور ناقدانہ جائزہ لے کر یہ بتائے کہ ان میں کیا چیز کمزور ہے اور کیا چیز مضبوط ہے، کون سی بات اسلام کے مطابق ہے اور کون سی اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ ان میں جو فقہ کا متخصص ہو، وہ مغربی قانون کا تنقیدی جائزہ لے۔ جو فقہ المعاملات کا متخصص ہو، وہ ان کی معاشیات کا جائزہ لے۔ جو اصول فقہ کا متخصص ہو، وہ ان کے اصول قانون کاجائزہ لے۔ اس میں کتنا وقت لگے گا، کتنے لوگ تیار ہوں گے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ لیکن جب تک یہ سارے کام نہیں ہوں گے، اس وقت تک امت مسلمہ کا مستقبل اس طرح بن نہیں سکتا جس طرح ہم بنانا چاہتے ہیں۔ آج صورت یہ ہے کہ نظام ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اسلام سے واقف نہیں ہیں۔ اسلام کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی تو ہے اور ان میں بہت سے اچھے مسلمان بھی ہیں، لیکن جذباتی وابستگی کی بنیاد پر عمارت بنانے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ ریت پر بیس منزلہ عمارت بنانا چاہیں۔ جیسے وہ قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح یہ عمارت بھی لازماً گر جائے گی۔ چنانچہ جب تھوڑی سی ایسی بات آتی ہے جو اس طبقے کے خیالات سے مختلف ہو تو وہ فوراً اس پر تاویلیں کرتے ہیں، کیونکہ intellectual framework نہیں ہے، اس کا انفرا سٹرکچر نہیں ہے۔ اس کے لیے وقت درکار ہے۔ وہ ایک دو دن میں نہیں ہوگا۔ کسی وعظ یا مطالبے یا بینر یا دھرنے سے نہیں بنے گا۔ اس کے لیے لگ کر کام کرنا پڑے گا۔ 

حاضرین محترم! یہ وہ چند باتیں تھیں جو میں اسلامی علوم وفنون کے طلبہ سے کرنا چاہتا تھا۔ چونکہ آپ اس میدان کے شہسوار ہیں اور اس ضرورت کی تکمیل کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے، اس لیے میری گفتگو میں تھوڑی سی تلخی آگئی جومیں نے جان بوجھ کر شامل کی تاکہ اس تلخی کا احساس آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ ہم جو بات کر رہے ہیں، اس کا تعلق کسی ذہنی عیاشی یا محض فکری سرگرمی سے نہیں ہے، بلکہ وہ واقعی بڑی اہم بات اور مسلمانوں کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ میں ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں۔ فارسی کا شعر ہے:

نواے من ازاں پرسوز وبے باک وغم انگیز است
کہ خاشاکم در شعلہ افتاد وباد صبح دم تیز است

یعنی میں اس لیے تلخ باتیں کر رہا ہوں کہ میرے آشیانے کو آگ لگ گئی ہے، اور ہوا تیز ہے اور مجھے جلدی بچانے کی ضرورت ہے۔ امر واقعہ یہی ہے کہ آشیانے کو آگ لگ چکی ہے اور باد صبح دم تیز ہے۔ آشیانہ جل جانے کا خطرہ ہے اور بہت جلد اس کو بچانے کی ضرورت ہے۔ 

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

عالم اسلام اور مغرب

(مارچ ۲۰۰۵ء)

Flag Counter