مکاتیب

ادارہ

(۱)

(فروری ۲۰۰۵ کے ’الشریعہ‘ میں ’’پیر محمد کرم شاہ الازہری اور فتنہ انکار سنت‘‘ کے زیر عنوان پروفیسر محمد اکرم ورک کے مضمون میں علامہ تمنا عمادی مرحوم کا شمار منکرین حدیث کے ضمن میں کیا گیا تھا۔ اس پر کراچی سے جناب سید عماد الدین قادری نے بھارت سے شائع ہونے والے جریدہ ’’اردو بک ریویو‘‘ کے نومبر ؍دسمبر ۲۰۰۴ کے شمارے میں مطبوعہ ایک خط کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں تمنا مرحوم کے ایک قریبی رفیق یوسف ریاض صاحب نے اس امر کی تردید کی ہے۔ یہ خط قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


برادرم محمود عالم کی بدولت اردو بک ریویو دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ کساد بازاری کے اس دور میں جس لگن اور محنت سے آپ اردو کی خدمت کر رہے ہیں، کسی داد سے مستغنی ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

ستمبر ؍اکتوبر ۲۰۰۴ء کے شمارے میں یوں تومضامین رنگا رنگ ہیں اور سب ہی دعوت غور وفکر دے رہے ہیں، مگر یہاں ہماری نظر ’ادراک زوال امت‘ پر ہے۔ تبصرہ بڑا بھرپور لگتا ہے، شاید مصنف ادھر توجہ مبذول کر سکیں۔ فی الوقت ہم صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے۔ فاضل تبصرہ نگار نے حسان الہند علامہ تمنا عمادیؒ کو منکرین حدیث میں شمار کیا ہے اور عام تاثر بھی یہی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ان کے مضامین اتفاق سے منکرین حدیث ہی کے رسالوں میں چھپتے رہے ہیں۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ وہ ایک دن کے لیے بھی اس گروہ میں شامل نہ تھے۔ یہ صحیح ہے کہ حدیث کے باب میں ان کا مسلک بہت، بلکہ کہنا چاہیے کہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی محتاط بلکہ سخت تھا۔ فن اسماء الرجال پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ ہر روایت کو خوب اچھی طرح کھنگالنے کے قائل وعادی تھے۔ ان کا بڑا واضح بیان تھا اور بھری محفلوں (محفل نہیں، ان گنت محفلوں) میں خود ہماری موجودگی میں انھوں نے بیان کیا کہ حدیث کا منکر کافر ہے۔ حدیث رسول کا انکار اور ایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ہاں حدیث کی چھان پھٹک بہت ضروری ہے، کیونکہ ان کے نزدیک خاص طور سے روافض کا ایک بہت متحرک طبقہ حدیثیں گھڑنے، اس میں سابقہ اور لاحقہ ملانے میں ید طولیٰ رکھتا تھا اور ایک سوچی سمجھی اسکیم کے ساتھ یہ کام کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے خیال کے مطابق بخاری تک میں تلبیس کی ہر ممکن کوشش کی۔ اپنے مسلک سے متعلق انھوں نے ایک مضمون ’تجلی‘ کو بھی بھیجا تھا۔ ایک انٹرویو خود ہم نے بھی تجلی کو بھیجا تھا مگر عامر عثمانیؒ نے اسے شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ علامہ نے خود ہم سے بیان کیا کہ ’طلوع اسلام‘ اور اس طرح کے رسالے ہی ہمارا مضمون اور وہ بھی جسے وہ مفید مطلب سمجھتے ہیں، چھاپ دیتے ہیں اور اس کی کم سے کم کاپیاں ہمیں بھیجتے ہیں۔ بات آہی گئی ہے تو یہ بات بھی ریکارڈ میں لانا چاہیں گے کہ وہ جناب غلام احمد پرویز کو ایک جاہل مصنف سمجھتے تھے۔ ہم ’طلوع اسلام‘ کے مطبوعات انھی سے حاصل کیا کرتے تھے۔ ہماری تنقیدوں سے بہت خوش ہوتے تھے۔ ’مفہوم القرآن‘ کے چند ابتدائی حصے پر ہم نے بڑی سخت گرفت کی تھی۔ ہم سے پوری طرح متفق تھے۔ ایک مرتبہ تو شاباشی کے روایتی انداز میں ہماری پیٹھ ٹھونکی اور کہا، ایک جاہل سے تم اور کیا توقع کرتے ہو۔ انھوں نے ہماری ہر تنقید کا ساتھ دیا۔

ایک بات اور۔ قادیانی عالموں کا ایک ٹولہ ان کے پاس آیا۔ بہت سی باتیں ہوئیں، مگر دلچسپ ترین بات یہ تھی: کہنے لگے ’مرزا صاحب جب اپنی طرف سے عربی لکھتے ہیں تو لا باس بہ، مگر جب وحی اور الہام کی حیثیت سے لکھتے ہیں تو غلطیوں کا پلندہ ہوتی ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جو ہستی مرزا صاحب پر وحی کرتی ہے، وہ مرزا صاحب سے زیادہ جاہل ہے۔ اس نشست میں انھوں نے چند کی نشان دہی کی۔ پھر وہ طائفہ بغیر کسی حیل حجت کے اٹھ کر چلا گیا۔

برادرم محمود حسن نے خلیفہ عبد الحکیم اور غلام جیلانی برق کو بھی منکرین حدیث میں شامل ہونے کا تاثر دیا ہے۔ خلیفہ عبد الحکیم پر فلسفہ کا غلبہ ضرور تھا، مگر منکر حدیث ہرگز نہ تھے۔ جناب برق کے سر پر تجدد اور سائنس کا سودا تھا، مگر آخر میں اس سے بھی تائب ہو گئے تھے۔ اللہ سے دعا ہے ان کی مغفرت فرمائے۔ آخر میں ایک بار پھر آپ کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

یوسف ریاض

الدار العالمیۃ للکتاب الاسلامی، ص ب ۵۵۱۹۵

الریاض ۱۱۵۳۴، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ


(۲)

مکرمی ومحترمی جناب محمد عمار خان ناصر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاج گرامی؟

’الشریعہ‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے جس میں اہل علم کے تجدیدی مضامین پڑھ کر اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہوں۔ جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے حکم پر ’’اقوام متحدہ کے منشور کا تحقیقی جائزہ‘‘ لکھا تھا جو ’المنبر‘ فیصل آباد کے شوال کے شمارہ میں شائع ہوا، جبکہ ’الشریعہ‘ میں ہیکل سلیمانی کی تولیت پر بحث ومباحثہ پڑھتا رہا جس پر اپنا نقطہ نظر ’الاعتصام‘ کو ارسال کیا۔ وہ بھی شعبان کے شماروں میں شائع ہوا۔ اس بحث کو بند کرنے کے بعد جو آپ نے اسلامی مکاتب فکر میں تحمل وبردباری کا درس دینے کی مہم شروع کی ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ بقول ندوی فکر ’’اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے باوجود ہمارے دل اتنے وسیع ہوں کہ فروعی اختلافات ہمیں فرقہ بندی اور گروہ بندی کی دلدل میں نہ پھنسا سکیں۔‘‘ 

اللہ کرے آپ کی محنت بار آور ثابت ہو اور اسلامی مکاتب فکر آپس میں بھائی بھائی بن کر ملت کفر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔

عطا محمد جنجوعہ

کوٹ بھائی خان

براستہ جھاوریاں۔ ضلع سرگودھا


(۳)

۰۵/۲/۲۱

مولانا ابو عمار زاہد الراشدی

رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

’الشریعہ‘ کے فروری ۲۰۰۵ء کے شمارے میں شائع ہونے والے پروفیسر محمد سرور کے مضمون ’’علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کا فکر وفلسفہ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ:’’اقبال دل سے چاہتے تھے کہ قرآن کی حکومت بروئے کار آئے اور اسلام پر بالکل ایک نئی دنیا کی تعمیر ہو، لیکن قرآن اور اسلام کی عملی تشریح جو آج کے زمانے میں قابل قبول اور قابل عمل ہو سکے، یہ ان کے بس میں نہ تھی، کیونکہ وہ جماعت کے روایتی اثرات اور اس کے قوانین وضوابط سے ذہناً باہر نہیں نکل سکے تھے اور وہ قرآن واسلام کے نظام کو مجموعی انسانیت کا نظام بنا کر پیش کر نے کا حوصلہ نہیں کر سکتے تھے۔‘‘

میرا کہنا بس یہ ہے کہ اگر مذکورہ فکر کے حامل خود روایتی اثرات اور قوانین وضوابط کے خول سے باہر نکل آئے ہیں اور قرآن واسلام کو مجموعی انسانیت کا نظام بنا کر پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو بسم اللہ کریں، قدم بڑھائیں اور امت کی رہنمائی کریں۔ اگر یہ نظام آپ کے بس میں ہے تو پیش کریں اور امت کا بھلا کریں۔

اسی مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’’فکراً خواہ وہ کچھ بھی ہوں، اقبال کا اسلام عملاً ایک فرقہ پرست ہندوستانی بلکہ پنجابی مسلمان کا اسلام تھا۔‘‘ یہ محض ایک تہمت ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ اقبال نے کبھی فرقہ واریت اور پنجابیت کو فروغ دینا تو کجا، ان کا نام تک نہیں لیا۔ وہ تو آفاقیت کے مبلغ تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا عبید اللہ سندھی دار العلوم دیوبند میں تکمیل علم کے بعد ۱۹۱۵ میں افغانستان چلے گئے اور کابل میں کانگرس کمیٹی کی بنیاد رکھی جس کا الحاق ہندوستان کی کانگرس سے کیا گیا۔ کانگرس کے نظریے کے مطابق ہندوستانی مسلمان اور ہندو ایک ہی قوم تھے اور ہیں۔ کانگرس دو قومی نظریہ کو فرقہ پرستی قرار دیتی تھی، اس لیے مولانا نے اقبال کو فرقہ پرست قرار دیا ہے۔ 

آخر میں آپ سے یہ سوال ہے کہ ایسے مضامین آپ کے رسالے میں کیوں شائع ہوتے ہیں؟ کانگرس کا ایک قومی نظریہ لوگوں کو اقبال سے تو شاید دور کر سکتا ہے، لیکن اس کے بعد عدم رہنمائی کے باعث لوگوں کو جنگل میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اب تو بے شمار حقائق وشواہد، خصوصاً بھارتی صوبہ گجرات میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام نے ثابت کر دیا ہے کہ کانگرس کا ایک قومی نظریہ بالکل باطل تھا اور حق یہی ہے کہ مسلمان، ہندوؤں سے الگ ایک قوم ہیں۔وما علینا الا البلاغ۔

محمد خورشید

پلاٹ ۱۴ /سی۔ بلاک بی، پیپلز کالونی۔ اٹک شہر


مکاتیب

(مارچ ۲۰۰۵ء)

Flag Counter