الشریعہ اکادمی میں یوم کشمیر کے موقع پر تقریب

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۵ فروری ۲۰۰۵ بروز ہفتہ یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز جناب غلام اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ابوبکر محمود نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب رمضان خالد آف وہاڑی نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ راجہ گلاب سنگھ نے ۱۵۵ روپے فی مربع میل کے حساب سے پچھتر لاکھ روپے میں انگریزوں سے پورے کشمیر کا سودا کر لیا تھا جس سے کشمیری مسلمانوں کی اصل غلامی شروع ہوئی۔ جناب توقیر معاویہ آف ساہیوال نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل یہی ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ 

مولانا زاہد الراشدی نے اختتامی کلمات میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے دو پہلو ہیں، ایک مذہبی اور دوسرا سیاسی۔ سیاسی لحاظ سے بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق انڈیا سے کشمیریوں کے جائز اور برحق مطالبہ آزادی کو تسلیم کروانا اقوام عالم کی ذمہ داری ہے، جبکہ مذہبی لحاظ سے کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد ضروری ہے، کیونکہ اس کے لیے علما نے فتویٰ جاری کیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے کشمیر کا کچھ حصہ تو آزاد کرا لیا تھا جبکہ باقی حصے کو آزاد کرانا ابھی ہمارے ذمے ہے۔ 

تقریب کے آخر میں دنیا کے تمام خطوں میں مسلمانوں کی آزادی اور شہداے اسلام بالخصوص کشمیری شہدا کے لیے دعا کی گئی۔ 

(ابوبکر محمود۔ شریک خصوصی تربیتی کورس، الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)

الشریعہ اکادمی

(مارچ ۲۰۰۵ء)

Flag Counter