حضرت شیخ الہند ۱۲۶۸ھ بمطابق ۱۸۵۱ء میں بریلی میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد مولانا ذوالفقار علی بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے۔ مولانا ذوالفقار علی ان نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جو دارالعلوم دیوبند کے قیام میں ساعی تھے اور اس کی پہلی مجلسِ شوریٰ کے ایک ممتاز رکن تھے۔
تعلیم
حضرت شیخ الہند نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے پائی۔ ابتدائی کتابوں سے آگے بڑھے تو انہیں مولانا محمد قاسم نانوتوی کے سپرد کر دیا گیا۔ مولانا کا قیام اس وقت میرٹھ میں تھا اور وہ منشی ممتاز علی کے مطبع میں مصحح کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ۱۸۶۶ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا تو حضرت شیخ الہند دیوبند تشریف لائے اور دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے مولانا محمود (عرف ملا محمود)، مولانا محمد یعقوب ابنِ مولانا مملوک العلی، اور سید احمد دہلوی سے علوم کی تکمیل کے بعد ۱۸۷۳ء میں تحصیلِ علوم سے فراغت حاصل کی۔
سلسلۂ تدریس
تدریس کا سلسلہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب آپ آخری کتابیں پڑھ رہے تھے۔ فراغت کے بعد ۱۸۷۴ء میں معاون مدرس کی حیثیت سے ان کا تقرر عمل میں آیا، لیکن ایک سال تک انہیں اس خدمت کی کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ اس سے اگلے سال انہیں مدرسِ چہارم کی حیثیت سے متعین کیا گیا اور پندرہ روپے مشاہرہ مقرر ہوا۔ ۱۸۸۴ء میں انہیں مدرسِ سوم اور تقریباً دو سال کے بعد مدرسِ دوم بنایا گیا۔ ۱۸۸۷ء میں مولانا سید احمد دہلوی نے دارالعلوم چھوڑا تو ان کی جگہ حضرت شیخ الہند کو مدرسِ اول مقرر کیا گیا، ساتھ ہی آپ کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہوا، جسے آپ نے باصرار منظور فرمایا۔
دارالعلوم کا عہدۂ صدارت
عہدۂ صدرِ مدرسی کے بارے میں مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں:
’’دارالعلوم کا عہدۂ صدارتِ تدریس محض مدرسی کا عہدہ نہیں، بلکہ مقتدائی کا عہدہ رہا ہے، جس پر آنے والے کے علمی اثرات سے قلوب متاثر اور مستفید رہتے آئے ہیں۔‘‘ (نئی دنیا دہلی، عظیم مدنی نمبر، ۱۹۰۵ء، ص ۷۲)
لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ’’مقتدائی‘‘ فقہ کے کسی خاص مکتبۂ فکر یا تصوف کے کسی خاص سلسلۂ رشد و ہدایت کی نہ تھی، نہ کسی خانقاہ کی تولیت یا کسی صاحبِ سلسلہ کی خلافت سے حاصل ہوئی تھی۔ دارالعلوم کے عہدۂ صدرِ مدرسی کو کسی کلیہ کی پرنسپل شپ یا کسی جامعہ کی وائس چانسلر شپ سے بھی مماثل قرار نہیں دینا چاہیے، کہ محض تعلیم و تدریس میں رہنمائی و نگرانی اور چند انتظامی امور کی بجاآوری سے اس کا تعلق ہو۔
تحریکِ آزادی کا مرکز
دارالعلوم کی تحریک اور اس کے مقاصد و طریقہ کار کے لیے تو الگ ایک باب کی ضرورت ہوگی۔ یہاں اتنی بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ دارالعلوم نہ محض ایک درسگاہ تھی، نہ کوئی خانقاہ؛ دارالعلوم اسلام کے احیاء اور مسلمانوں کی زندگی کے قیام اور سیاسی آزادی کی تحریک کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ دارالعلوم بیک وقت دینی و سیاسی تعلیم گاہ اور تربیت کا مرکز تھا۔ حضرت شیخ الہند نے یہاں مولانا محمد قاسم نانوتوی سے دین اور سیاست کی تعلیم بھی حاصل کی تھی اور تربیت بھی پائی تھی۔ اب اس تحریک کے مجاہدوں کی تعلیم و تربیتِ دینی و سیاسی کی ذمہ داری آپ پر تھی۔
’’ثمرۃ التربیت‘‘ کا قیام
اسی مقصد کے پیشِ نظر آپ نے فضلاء اور بہی خواہانِ تحریکِ دارالعلوم کی ایک جماعت ’’ثمرۃ التربیت‘‘ کے نام سے ۱۸۷۸ء میں قائم کی تھی۔ اور اس طرح علومِ دینی کی تدریس اور سیاسی تعلیم و تربیت نہایت خوش اسلوبی اور کامل درجۂ توازن کے ساتھ ہو رہی تھی۔ مولانا محمد میاں نے اس کے ثمرات کے متعلق لکھا:
’’آپ حجت الاسلام مولانا محمد قاسم کے تلمیذِ خاص اور ہم راز رفیق تھے۔ لہٰذا آپ تحریکِ دارالعلوم دیوبند کے اصلی منشا سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ آپ کی تدریس خشک اور جامد زہد و تقویٰ کی تلقین نہیں ہوتی تھی، بلکہ آپ کی تربیت نے ایسے حضرات کو پیدا کیا جو آسمانِ سیاست کے روشن ستارے مانے گئے۔‘‘ (علمائے حق، حصہ اول، مولانا سید محمد میاں، کتب خانہ فخریہ مراد آباد، ۱۹۴۶، ص ۱۳)
ارشد تلامذہ
مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبید اللہ سندھی، مفتی کفایت اللہ، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا احمد علی لاہوری (امیر انجمن خدام الدین لاہور)، مولانا محمد صادق سندھی (بانی مدرسہ مظہر العلوم کراچی)، مولانا عزیز گل (حضرت شیخ الہند کے رفیقِ اسارتِ مالٹا)، مولانا عبد الرحیم پوپلزئی (آخر الذکر دونوں علمائے کرام شمال مغربی سرحدی صوبے سے تعلق رکھتے تھے) وغیرہ حضرات تو آپ کے شاگرد اور تحریکِ آزادی کے عظیم رہنماؤں میں سے ہیں، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا اشرف علی تھانوی بھی حضرت علیہ الرحمہ کے شاگردوں میں تھے۔
مرکزِ کششِ ثقلِ سیاسی
لیکن اس عہد کے اکابر سیاست دانوں میں سے کون ہے جو شیخ الہند کے افکارِ سیاسی سے مستفید نہ ہوا ہو اور جس نے آپ کے عمل و سیرت سے عزیمت و استقامت کا سبق نہ سیکھا ہو؟ ڈاکٹر مختار احمد انصاری تو آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے۔ حکیم اجمل خان، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی وغیرہ — کون تھا جو وقت کے اس سیاسی سورج کے نظامِ کشش سے کلیۃً آزاد ہو؟
علمائے دہلی و یو پی
اگرچہ علومِ دینی میں دہلی، لکھنؤ وغیرہ میں بعض دوسرے منابعِ نور بھی تھے اور ان کے اپنے الگ الگ نظامِ قمری تھے، لیکن سیاسی روشنی وہ اسی منبعِ نور سے حاصل کرتے تھے۔ سیاست میں انہیں پیشوائی و مقتدائی کا جو مقام حاصل تھا، وہ بذاتہ نہ تھا بلکہ بغیرہ تھا۔ علمائے فرنگی محل کے شیخُ الوقت مولانا عبد الباری آپ کی بزرگی، مشیخت اور سیاسی رہنمائی کے معترف و مداح تھے۔ مولانا محمد الیاس، جنہوں نے تبلیغی جماعت کے بانی اور امیر کی حیثیت سے عالمگیر شہرت پائی، حضرت شیخ الہند کے دستِ حق پرست پر بیعت کر چکے تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد آپ کے حسنِ سیرت کے گرویدہ اور عزیمت کے معترف تھے۔
علمائے پنجاب
علمائے لاہور و لدھیانہ میں سے اکثر ایک الگ فقہی مسلک رکھنے کے باوجود، سیاسی میدان میں ان کے مطاع و مرشد بھی حضرت شیخ الہند تھے۔
اکابرِ علی گڑھ
حضرت شیخ الہند کی دینی بزرگی اور سیاسی رہنمائی کا اعتراف مذہبی حلقے ہی میں نہیں کیا گیا، سیاست کے دوسرے مکتبۂ فکر، یعنی علمائے علی گڑھ کے اکابر نے بھی کیا۔ ۱۹۱۰ء میں دارالعلوم دیوبند کا جو عظیم الشان جلسۂ دستار بندی ہوا، اس میں تحریکِ علی گڑھ کے اکابر بھی شریک ہوئے۔ اس جلسے میں صاحبزادہ آفتاب علی خان نے یہ تجویز پیش کی کہ
- دارالعلوم کے تعلیم یافتہ علی گڑھ کالج میں انگریزی پڑھنے جایا کریں،
- اور علی گڑھ کے گریجویٹ دینی تعلیم کے لیے دیوبند آئیں۔
اس تجویز کو اکابر دیوبند نے بھی پسند کیا، لیکن افسوس کہ اس تجویز کے مطابق علی گڑھ سے جو گریجویٹ سب سے پہلے دینی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، وہ برٹش حکومت کے سی آئی ڈی تھے، جنہیں بعد میں حسنِ خدمات کے صلے میں سپرنٹنڈنٹ سی آئی ڈی کا عہدہ حاصل ہوا۔
نواب وقار الملک (مولوی مشتاق حسین)
نواب وقار الملک حضرت شیخ الہند کے نہایت درجہ معتقد اور ان کی سیاسی تحریک کے معترف تھے۔ اس کے ثبوت کے لیے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ ۱۹۱۳ء میں ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کے نام سے جو ایک سیاسی ادارہ حضرت شیخ الہند نے قائم کیا اور اپنے شاگردِ رشید مولانا عبید اللہ سندھی کو اس کا ناظم بنایا، اس کے سرپرستوں میں حکیم اجمل خان دہلوی اور نواب وقار الملک یکساں طور پر شریک تھے۔ نظارۃ المعارف کا مقصد پڑھے لکھے خصوصاً علی گڑھ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سیاسی تربیت، اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفہ و حکمت کے مطابق ہندوستان کے موجودہ حالات میں سیاسی رہنمائی کرنا تھا۔
سیاسی تعلیم و تربیت
حضرت شیخ الہند کے نزدیک دینی و سیاسی دونوں قسم کی تعلیم و تربیت کی ضرورت اور اہمیت تھی۔ دینی تعلیم کے مرکز کی حیثیت سے سب سے اول دارالعلوم دیوبند تھا، اور دوسرے شہروں میں بہت سے چھوٹے بڑے دینی مدارس یہ خدمت انجام دے رہے تھے، لیکن سیاسی تعلیم و تربیت کا انتظام اس طرح نہ تھا۔ ملک میں کوئی سیاسی تنظیم اور جماعت موجود نہ تھی، جس کی عملی جدوجہد سے مسلمانوں کی ذہنی و فکری رہنمائی اور عملی تربیت کی ضرورت کسی نہ کسی حد تک پوری ہوتی رہتی۔ دراصل جماعت سازی کے اصول اور طریقہ کار سے ابھی ہندوستان کی سماجی تاریخ آشنا ہی نہیں ہوئی تھی۔ سیاسی تربیت کا کام بھی درس گاہیں اور خانقاہیں انجام دیتی تھیں۔ اگر دارالعلوم میں مصروفِ تعلیم طلبہ ہی کی سیاسی تعلیم و تربیت پر اکتفا کر لیا جاتا، تو یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ تھا، جب کہ حالات کا تقاضا دوسرا تھا۔
اس لیے ایک درس گاہ کی حدود سے زیادہ وسیع حلقے میں اپنے افکارِ سیاسی کی اشاعت، اور حلقۂ تلامذہ کے علاوہ سیاسی رجحانِ فکر رکھنے والے نوجوانوں کی سیاسی تعلیم و تربیت بھی حضرت شیخ الہند کے پیشِ نظر تھی۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے آپ نے ۱۸۷۸ء میں ’’ثمرۃ التربیت‘‘ کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔
’’جمعیت الانصار‘‘ کا قیام
اس کے بعد ۱۹۱۰ء میں جمعیت الانصار کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا عبید اللہ سندھی اس کے ناظم تھے۔ اپریل ۱۹۱۱ء میں مراد آباد میں اس کا جلسہ مولانا احمد حسن امروہوی کی صدارت میں ہوا۔ جلسے میں مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے دین اور زعمائے ملت نے شرکت فرمائی۔ جلسے کا اہتمام دارالعلوم کے قدیم طالب علموں نے کیا تھا۔ لیکن برٹش حکومت سے جمعیت کے مقاصد اور شیخ الہند اور ان کے تربیت یافتگان کے دلی عزائم چھپے نہیں رہے۔ اور اگرچہ رسمًا ایک تجویز میں حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا، لیکن جس جمعیت کے خطبۂ صدارت میں اس کے صدر مولانا احمد حسن امروہوی نے یہ کہہ دیا ہو:
’’جمعیت الانصار ہرگز کسی انجمن کی نقل نہیں ہے اور نہ کسی کے ذاتی مقاصد سے بحیثیتِ دنیاوی اس کا تعلق ہے، بلکہ اس کے مقاصد وہ ضروری مقاصد ہیں جن کی آج بہت کچھ ضرورت ہے۔‘‘
تو اس کے بارے میں حکومت کسی خوش فہمی میں کیونکر مبتلا رہ سکتی تھی اور کب تک؟ سیاسی جدوجہد کے لیے صدر محترم کے اس صاف صاف اعلانِ جہاد کے بعد ’’تجویزِ شکریہ‘‘ کی لیپاپوتی کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے، اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ چنانچہ انگریزوں کی بدگمانی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔
۱۹۱۳ء میں اربابِ اہتمام کے خاص رویے اور بعض خاص واقعات کے ظہور میں آنے کے بعد مناسب سمجھا گیا کہ سیاسی تعلیم و تربیت کا مرکز دیوبند سے دہلی منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ حضرت شیخ الہند کے حکم سے مولانا عبید اللہ سندھی دہلی تشریف لے گئے۔ ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کے نام سے ایک مرکز قائم کیا اور پیشِ نظر سیاسی کام شروع کر دیا۔ سیاسی تربیت کے لیے حضرت شیخ الہند کے طریقِ کار پر مولانا عبید اللہ سندھی کے ان الفاظ سے روشنی پڑتی ہے:
’’حضرت شیخ الہند نے جس طرح چار سال دیوبند میں رکھ کر میرا تعارف اپنی جماعت سے کرایا تھا، اسی طرح دہلی بھیج کر مجھے نوجوان طاقت سے ملانا چاہتے تھے۔ اس غرض کی تکمیل کے لیے دہلی تشریف لائے اور ڈاکٹر انصاری سے میرا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر انصاری نے مجھے مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی مرحوم سے ملایا۔ اس طرح تخمیناً دو سال مسلمانانِ ہند کی اعلیٰ سیاست سے واقف رہا۔ ۱۹۱۵ء میں شیخ الہند کے حکم سے کابل گیا۔ مجھے کوئی مفصل پروگرام نہیں بتایا گیا تھا، اس لیے میری طبیعت اس ہجرت کو پسند نہ کرتی تھی، لیکن تعمیلِ حکم کے لیے جانا ضروری تھا۔ کابل جا کر مجھے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند قدس سرہ جس جماعت کے نمائندہ تھے، اس کی پچاس سال کی محنتوں کا حاصل میرے سامنے غیر منظم شکل میں تعمیلِ حکم کے لیے تیار ہے۔ اس میں میرے جیسے ایک خادمِ شیخ الہند کی اشد ضرورت تھی۔ اب مجھے اس ہجرت اور شیخ الہند کے اس انتخاب پر فخر محسوس ہونے لگا۔‘‘ (کابل میں سات سال، ص ۱۰۴-۱۰۵)
حضرت شیخ الہند کا انقلابی اقدام
۱۹۱۲ء تک حضرت شیخ الہند کا طریقِ کار وہی رہا جس کی طرف اوپر کی سطروں میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی دینی و سیاسی تعلیم و تربیت سے ایک ایسی جماعت تیار کر دی جائے جو قیامِ شرع، ادائے فرضِ اسلامیہ، احیاء و تجدیدِ ملت، ملکی سیاست اور آزادی کی جدوجہد میں اپنی ذمہ داریوں کا شدید احساس، اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت رکھتی ہو۔
جنگِ بلقان و طرابلس
لیکن ۱۹۱۲ء میں جنگِ طرابلس اور کارزارِ بلقان کے سنگین واقعات اور برطانوی پالیسی نے ان کی روح کو تڑپا دیا اور جس کی وجہ سے برٹش حکومت سے ان کا جذبۂ نفرت اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ ترکوں پر ظلم و ستم اور ان پر مصیبتوں کی خبروں نے ان کا خواب و خور حرام کر دیا۔ اس زمانے میں ان کی بے چینی اور بے قراری کا عالم دیدنی تھا۔ ان کا نحیف و نزار جسم بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کو بند کر دیا۔ طلبہ کے وفود ملک میں بھیجے، خود بھی نکلے، چندہ جمع کیا اور ترکوں کی امداد کے لیے جو کچھ ہو سکتا تھا، کیا۔ ترکی میڈیکل مشن بھجوانے کا انتظام کیا اور اس کے لیے سروسامانِ سفر کی جمع و فراہمی کا بندوبست کیا۔
بقولِ شیخ الاسلام مولانا مدنی:
’’مولانا نے تھوڑی مدت میں بہت کچھ کامیابی حاصل کر لی اور کام کرنے والوں کے لیے شاہراہِ عمل قائم کر دی۔‘‘
مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں:
’’جنگِ بلقان کے وقت حضرت شیخ الہند ترکوں کی شکست کی خبر سنتے تو آپ کی ریشِ مبارک پر آنسو گرتے تھے، راتوں کو دعا مانگا کرتے۔ اگر کوئی دیکھتا تو بالکل یہ حالت تھی کہ اگر حضرت کے بس میں ہوتا تو انگریزوں کو کچا چبا ڈالتے۔ بہر حال پھر بھی جس قدر بس میں تھا، کیا۔ مدرسہ کی چھٹی کر دی۔ طلبہ اور مدرسین کو گاؤں گاؤں بھیجا، چندہ کیا۔ خود اپنی تنخواہ اور تمام ملازمین اور مدرسین کی تنخواہیں چندہ میں دے دیں۔ طلبہ نے آپ کے اشارے پر اپنے انعامات اور مطبخ کی خوراک بھی چندہ میں دے ڈالی۔ اس طرح تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ ترکی بھیجا۔ جس کے صلے میں ترکی حکومت نے آپ کا شکریہ ادا کیا، اور وہ رومال جس میں جنابِ رسول اللہ ﷺ کا پیراہنِ مبارک رکھا رہتا تھا، دارالعلوم کو بطورِ تبرک اور عطیہ بھیجا، جو آج بھی دارالعلوم کے خزانے میں بطور تبرکاً موجود ہے۔‘‘ (تذکرہ شیخ الہند، ص ۱۶۳)
اس زمانے کے حوادث میں حضرت شیخ الہند کی بے چینی، سینہ فگاری اور دور بینی کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی تحریر فرماتے ہیں:
’’بلقان کے خونخوار اور طرابلس کے سنگین واقعے نے مولانا کے دل و دماغ پر نہایت عجیب مگر بے چین کنندہ اثر ڈالا۔ چنانچہ اس وقت حسبِ طریقۂ استادِ اکبر مولانا محمد قاسم صاحب (در جنگِ روس) مولانا نے اپنی جان توڑ کوشش امدادِ اسلام میں فرمائی۔ فتوے چھپوائے، مدرسے کو بند کر دیا، طلبہ کے وفود بھجوائے، خود بھی ایک وفد کے ساتھ نکلے، چندے کیے، اور ہر طرح سے مدد کی ترغیب دے کر ایک اچھی مقدار بھجوائی۔ مگر اس پر بھی چین نہ پڑا، کیونکہ جنگِ بلقان کے نتیجے نے دور بینوں کو بالکل غیر مطمئن کر دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ یورپ کے سفید عفاریت اسلام کے ٹمٹماتے چراغ کو گل کرنے کی فکر میں ہیں۔
پھر ذمہ دارانِ برطانیہ مسٹر اسکویتھ وغیرہ کی روباہ بازیاں، خرسِ روس کی جفا کاریاں تو یقین دلاتی ہیں کہ تقسیمِ ترکی اور اجرائے وصایائے گلیڈسٹون کا زمانہ سر پر ہی آ گیا ہے۔ جو مقاصد مسیحی دنیا کے عرصۂ دراز سے چلے آتے تھے اور جن چالوں سے اسلامی دنیا اور خلافتِ مقدسہ کے تکے بوٹی کیے جا رہے تھے، اب ان کی انتہا کا زمانہ آ گیا ہے۔ اب کوئی دن میں اسلامی وجود دنیا سے اس طرح مٹا دیا جائے گا جس طرح یہودیت تمام عالم سے اور اسلام اسپین اور پرتگال سے۔
مولانا مرحوم کو اس فکر نے سخت بے چین کر دیا، زندگی بھاری ہو گئی، نیند اچٹ گئی، مگر زمانے کی تاریکیاں، موسم کی کالی گھٹائیں، احوال کی نزاکتیں، مسلمانوں اور اہلِ ہند کی ناگفتہ بہ کمزوریاں ہر طرح اس میدان میں قدم رکھنے سے مانع ہوتی رہیں۔ چونکہ اس مقدس ہستی کو فقط اپنے خدائے قدوس پر بھروسا تھا، اس لیے اس نے تمام خیالات اور اوہام پر لاحول پڑھا اور مردانہ وار گامزن ہوا۔ اس کو مشکلوں کا سامنا ہوا، اس کو سخت اور تند آندھیوں کا مقابلہ کرنا پڑا، اس پر بادِ سموم کے جھلسانے والے تھپیڑوں نے طمانچے مارے، اس کے لیے احباب و اقارب مار آستین بن گئے، ہر شخص ناصح بن کر سدِ راہ ہوا، مگر اس کے پائے استقلال کے مضبوط قدموں نے ذرا بھی جنبش نہ کی۔ سب کو چھوڑ دیا، مگر اپنے خدا پر بھروسا کر کے دن رات کام میں لگا رہا۔ چونکہ کوشش کا نتیجہ کامیابی ضروری ہے۔ اس کو کچھ عرصے کے بعد معلوم ہو گیا کہ ابھی تک دنیا میں کام کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں، مگر کام لینے والے بہت کم ہیں۔ مسلمانوں میں قابلیت ہے، مگر ان کو جمع کرنے والا نہیں۔‘‘ (سفرنامہ شیخ الہند، ص ۵-۶)
حضرت شیخ الہند کا سیاسی منصوبہ
۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم اول چھڑ گئی اور برٹش حکومت پر ضرب لگانے اور آزادی کی منزل قریب لانے کے لیے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ حضرت شیخ الہند نے مجاہدین کے مرکز یاغستان کو — جہاں مولانا سیف الرحمان، حاجی ترنگ زئی وغیرہ حضرات موجود تھے اور عرصے سے جماعت کی ضروریات پوری کر رہے تھے — پیغام بھیجا کہ اب سکون کے ساتھ کام کرنے کا وقت نہیں ہے، سر بکف ہو کر میدان میں آ جانا چاہیے۔ وہاں سے جواب آیا کہ جب تک کسی آزاد حکومت کی پشت پناہی اور امداد حاصل نہ ہوگی، ہماری شجاعت اور جان بازی بے کار ہے۔ اس لیے آپ کسی حکومت کی امداد اور پشت پناہی حاصل کرنے کا انتظام کیجیے اور آپ خود یہاں تشریف لائیے۔
مجاہدین میں جاں بازی اور جگر کاری کا جذبہ بے انتہا تھا، لیکن انہیں کسی حکومت کی امداد حاصل نہ تھی، کوئی ملک ان کا پشت پناہ نہ تھا۔ ہندوستان سے حضرت شیخ الہند ان کی مالی امداد کے فرائض بھی انجام دیتے تھے، یا ملک کے دوسرے حصوں سے علماء اور اہلِ دل انفرادی اور خفیہ طور پر مدد پہنچاتے تھے، لیکن یہ سب امداد اور چندے بھی ضرورت کو پورا نہ کر سکتے تھے۔ مجاہد جان توڑ کر لڑتے تھے، لیکن کھانے کا سامان ختم ہو جاتا تو انہیں مورچہ چھوڑ کر رسد کے لیے دور دراز گاؤں میں جانا پڑتا، کارتوس ختم ہو جاتے تو ان کے حصول کے لیے انہیں مورچہ چھوڑنا پڑتا۔ ان حالات میں برطانوی حکومت پر کوئی کاری ضرب نہ لگائی جا سکتی تھی۔
حضرت شیخ الہند نے ان تمام باتوں کا اندازہ کر کے مولانا عبید اللہ سندھی کو افغانستان بھیجا تاکہ وہ افغانستان کی طرف سے حملہ کرانے کی سعی کریں۔ اور خود حجاز جانے، ترکی زعماء سے ملاقات کرنے، اور مجاہدین کے مرکز کا کوئی مستقل بندوبست کر کے مجاہدین کے مرکز یاغستان پہنچ جانے کا منصوبہ تیار کیا۔
اسی زمانے میں برٹش حکومت نے ایسے تمام افراد کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا، جن سے انہیں غیر مشروط تعاون و امداد، اور ان کی پالیسی کی مکمل حمایت کے بجائے مخالفت، اور برٹش حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے، کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور ملک میں انتشار پھیلانے کا خطرہ تھا۔ یہ صورتحال حضرت شیخ الہند کے لیے بڑی تشویشناک تھی، اور اگر وہ گرفتار ہو جاتے تو سارے منصوبے پر پانی پھر جاتا۔
حضرت شیخ الہند کی حجاز روانگی
مولانا غلام رسول مہر صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا ابو الکلام آزاد نے انہیں ایک مرتبہ بتایا کہ
’’ہندوستان میں گرفتاریاں شروع ہو گئیں تو مولانا محمود حسن کو تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں بیٹھے بٹھائے گرفتار نہ ہو جائیں۔ ان کے نزدیک کام کا سازگار زمانہ آ گیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ہر اقدام کے لیے آزاد رہیں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے (ابو الکلام آزاد کو) بلا بھیجا۔ دہلی میں ملاقات ہوئی، دیر تک معاملے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی۔ میری (مولانا آزاد کی) قطعی رائے یہ تھی کہ باہر نہ جانا چاہیے اور یہیں رہ کر اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ اگر اس اثنا میں گرفتاری کی منزل آ جائے تو اسے قبول کیے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ باہر جا کر کچھ نہ ہو سکے گا اور دوسرے ملک کے بجائے اپنے ملک میں معطل بیٹھا رہنا بہتر تھا۔ لیکن مولانا محمود حسن نے یہی مناسب سمجھا کہ پہلے حجاز جائیں، پھر ترکوں سے ربط ضبط پیدا کر کے ایران و افغانستان کے راستے یاغستان پہنچ جائیں، جسے وہ آزادی کے لیے تمام سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔‘‘
حضرت شیخ الہند اپنے منصوبے کے مطابق حجاز کے لیے روانہ ہوئے۔ ادھر ان کی گرفتاری کا وارنٹ نکلا۔ بمبئی پولیس کو تار کے ذریعے گرفتاری کا حکم پہنچا۔ مگر عقیدت مندوں کے ہجوم اور خلقت کے اژدہام کی وجہ سے پولیس انہیں گرفتار کرنے سے قاصر رہی۔ پھر جہاز کے کپتان کو تار دیا گیا، مگر جہاز پر یہ تار اس وقت موصول ہوا جب حضرت شیخ الہند جزیرہ سعد میں قرنطینہ کے لیے اتر چکے تھے۔ اور اس طرح اس دفعہ بھی آپ گرفتاری سے بال بال بچ گئے اور بخیریت مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
غالب پاشا سے ملاقات
مکہ مکرمہ کے گورنر غالب پاشا تھے، جو حضرت شیخ الہند سے پہلے سے واقف تھے۔ آپ نے ان سے ملاقات کی اور اپنے منصوبے سے انہیں آگاہ کیا۔ غالب پاشا نے ہر طرح آپ کی امداد اور آپ سے تعاون کا یقین دلایا اور اس سلسلے میں آپ کو کئی تحریریں دیں:
- ایک تحریر مسلمانانِ ہند کے نام تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام ہندوستانیوں کو آزادیٔ کامل پر آمادہ ہو جانا چاہیے اور اپنی جدوجہد کو تیز کر دینا چاہیے۔ صلح کے لیے کانفرنس منعقد ہوگی تو اس میں آزادیٔ ہند کی حمایت کریں گے۔ یہی وہ مشہور تحریر ہے جو تاریخ میں ’’غالب نامہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
- ایک دوسری تحریر گورنرِ مدینہ بصری پاشا کے نام تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مولانا محمود حسن کو استنبول تک بحفاظت پہنچانے اور انور پاشا اور جمال پاشا سے ان کی ملاقات کا بندوبست کرا دیا جائے۔
- تیسری تحریر غازی انور پاشا (وزیرِ حربیہ ترکیہ) کے نام تھی۔ اس میں حضرت شیخ الہند کو ان کے منصوبے میں امداد دینے کی سفارش کی گئی تھی۔
غازی انور پاشا سے ملاقات
حضرت شیخ الہند یہ تحریریں لے کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ حسنِ اتفاق سے غازی انور پاشا بھی وہاں پہنچ گئے اور اس طرح ان دنوں ترکی زعماء سے آپ کی ملاقات مدینہ منورہ ہی میں ہو گئی۔ انور پاشا کی شہرت آپ سن چکے تھے۔ جب آپ نے انہیں اپنا منصوبہ بتایا تو وہ نہایت درجہ خوش ہوئے، امداد کا وعدہ فرمایا، اور چند تحریریں لکھ کر دیں جن میں آزاد قبائل کو مجاہدین کا ساتھ دینے اور انگریزوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز تر کر دینے کی ہدایت تھی۔ نیز آزاد قبائل کو امداد کا اطمینان دلایا گیا تھا۔
یاغستان پہنچنے کا مسئلہ
اب سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ حضرت شیخ الہند یاغستان کس طرح پہنچیں۔ ایران کا راستہ وہاں انگریز فوجوں کے پہنچ جانے کی وجہ سے بالکل بند ہو گیا تھا۔ بحری راستے سے ہندوستان ہو کر آزاد قبائل تک جانا آپ مناسب خیال نہ فرماتے تھے۔ آخر انور پاشا اور جمال پاشا کے مشورے سے یہ طے پایا کہ اطرافِ ہند سے مکران ہوتے ہوئے آزاد قبائل تک پہنچا جائے، لیکن ترکی زعماء اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد کرنے سے معذور تھے۔
شریف حسین کی بغاوت
ان امورِ خاصہ کی انجام دہی کے بعد آپ دوبارہ مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ خیال تھا کہ غالب پاشا سے ملاقات کے بعد منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوں گے۔ غالب پاشا اس وقت طائف میں تھے۔ آپ طائف تشریف لے گئے۔ لیکن قدرت کو منظور نہ تھا کہ سفرِ جہاد شروع ہو، وہ آپ کے سامنے ایک اور میدانِ سعادت کھولنا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے اسباب بھی پیدا ہوتے چلے گئے۔ آپ کا شتربان ایک ہفتے کی چھٹی لے کر چلا گیا اور دوسری سواری کا انتظام نہ ہو سکا۔
ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ شریف حسین نے انگریزوں کی مدد سے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی اور حالات کا نقشہ یکسر پلٹ گیا۔ شیخ الہند اس وقت طائف میں تھے۔ اس طرح ۲۰ رجب ۱۳۳۴ھ (۲۳ مئی ۱۹۱۶ء) سے لے کر ۶ شوال ۱۳۳۴ھ (۶ اگست) تک طائف سے نکلنا ناممکن ہو گیا۔ ۱۰ شوال (۱۰ اگست) کو شیخ الہند مکہ مکرمہ تشریف لائے، یہاں سے جدہ تشریف لے گئے، وہاں سے پھر مکہ معظمہ تشریف لائے۔
ترکوں کی تکفیر کا فتویٰ
یہاں خان بہادر مبارک علی اورنگ آبادی نے انگریزوں کے ایما پر ترکوں کی تکفیر اور شریف حسین کی بغاوت کے جواز میں ایک فتویٰ تیار کروا رکھا تھا، جس پر علمائے وقت نے دستخط بھی ثبت فرما دیے تھے۔ حضرت شیخ الہند کے سامنے یہ فتویٰ پیش ہوا تو آپ نے اس کی تصویب و تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ اس چیز نے شریف اور اس کے حمایتیوں کو سخت مشتعل کر دیا۔
ریشمی رومال
ادھر مولانا عبید اللہ سندھی افغانستان پہنچنے کے بعد اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو گئے تھے۔ انہوں نے وہاں ہندوستان کی آزاد عارضی حکومت قائم کی، جسے افغانستان کی حکومت نے تسلیم کر کے اس سے معاہدہ کر لیا۔ دوسرے ملکوں میں بھی اس کی سفارتیں بھیجنے کا انتظام کیا گیا تاکہ وہ بھی اسے تسلیم کر کے اس کی اخلاقی و مادی مدد کریں۔
مولانا سندھی نے ان تمام حالات کو ایک رومال پر ریشم سے کاڑھ کر ایک معتمد شخص مسمیٰ عبد الحق کے ہاتھ حضرت شیخ الہند کی تحریک کے ایک خاص رکن شیخ عبد الرحیم کو سندھ بھجوایا۔ تاکہ وہ اسے خود یا کسی قابلِ اعتماد شخص کے ذریعے حجاز میں حضرت شیخ الہند کو پہنچا دیں۔ لیکن وہ خط (رومال) شیخ عبد الرحیم تک پہنچنے کے بجائے عبد الحق کے مربی خان بہادر رب نواز خان (ملتان) کے ہاتھ پہنچ گیا، جس نے اسے انگریز گورنر کی خدمت میں پیش کر دیا، اور ملک و ملت کی آزادی اور بہی خواہی پر انگریز کی خوشنودی کو ترجیح دی۔
شیخ الہند کی گرفتاری
اس رومال کا حکومت کے ہاتھ لگنا تھا کہ ہندوستان بھر میں گرفتاریوں اور قید و بند اور تحقیق و تفتیش کا ایک اور لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاریخ میں یہ کوشش ’’ریشمی خطوط‘‘ یا ’’ریشمی رومال کی تحریک‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اب حکومت کو اپنی کوتاہی کا احساس ہوا کہ اس نے مولانا محمود حسن کو گرفتار نہ کر کے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ لیکن حجاز میں شریفِ مکہ کی بغاوت کی کامیابی کے بعد انگریزوں کو بجا طور پر توقع تھی کہ آپ اب بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ہیں۔
غالب نامہ کی اشاعت سے برٹش حکومت بوکھلائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد انور پاشا کی تحریر برٹش حکومت کے علم میں آئی اور اسے پکڑ لینے کی انتہائی کوشش کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو حکومت حواس باختہ ہو گئی، اور اس نے طے کر لیا کہ حضرت شیخ الہند کو بہرصورت گرفتار کر لینا چاہیے، اس کے بغیر حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ چنانچہ شریف حسین کو حکم بھیجا کہ وہ آپ کو گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دے۔ شریف نے نہایت فرمانبرداری کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی اور دسمبر ۱۹۱۶ء میں آپ کو اور آپ کے رفقاء مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عزیز گل، مولانا حکیم نصرت حسین اور مولانا وحید احمد کو گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا۔
اسارتِ مالٹا
فروری ۱۹۱۷ء میں آپ کو جزیرۂ مالٹا پہنچا دیا گیا۔ اس زمانے میں آپ نے بڑے مصائب برداشت کیے، تکلیفیں اٹھائیں، مستقل عوارض میں مبتلا رہے، جو بالآخر مرضِ الموت کا سبب بنے، لیکن آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہ پیدا ہوئی۔ مارچ ۱۹۲۰ء میں آپ کی رہائی کا حکم ہوا۔ بالآخر تین برس سات مہینے کی قید و بند کے بعد ۸ جون ۱۹۲۰ء کو بمبئی پہنچا کر رہا کر دیا گیا۔
ہندوستان واپسی اور مرض الموت
جون ۱۹۲۰ء میں حضرت شیخ الہند ہندوستان تشریف لائے۔ اگرچہ آپ کی صحت گر چکی تھی، لیکن مشاغلِ ملّی کا انہماک آپ کو چین نہ لینے دیتا تھا۔ مولانا سید محمد میاں نے آپ کے دورِ آخری کا نقشہ نہایت مؤثر الفاظ میں کھینچا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’حضرت شیخ الہند ہندوستان تشریف لائے تو مرض الموت کا آغاز تھا۔ آپ کو وجع المفاصل کا قدیم سے عارضہ تھا۔ کثرتِ بول کی شکایت بھی پرانی تھی۔ اس پر مالٹا کا سرد موسم اور مزید برآں حضرت والا کی شب بیداری اور ریاضت اور قلتِ غذا، بایں ہمہ پیرانہ سالی، اور پھر ترکوں کی شکست اور اپنی جدوجہد کی ناکامی کا صدمہ — ان تمام اسباب کی بنا پر گویا مرض الموت کا سلسلہ مالٹا ہی میں شروع ہو گیا تھا۔
پھر تقریباً تین ماہ تک راستے کی مشقت اور ہندوستان پہنچنے کے بعد خلقت کا ہجوم، تحریک کی ترقی، مشاغل کی کثرت وغیرہ — یہ سب چیزیں اضافۂ مرض کا سبب بنتی رہیں۔ انتہا یہ کہ آپ کو دق ہو گئی۔ مگر درحقیقت اس شیخِ طریقت اور شیخِ سیاست کی ہمت و استقلال ہر ایک مسلمان بلکہ ہر ایک انسان کے لیے سبق آموز ہے کہ تپ دق کا آخری اسٹیج ہے، چلنا پھرنا تو درکنار، بیٹھنا بھی ممکن نہیں، مگر اس حالت میں تحریک کی قیادت جاری ہے، اجلاسوں کی شرکت کے لیے سفر ہو رہا ہے، صدارت فرمائی جا رہی ہے۔ العظمۃ للہ۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ بسترِ مرگ پر ایک شیخِ فانی کا یہ بے پناہ جذبۂ عمل۔‘‘ (علمائے حق، حصہ اول، مولانا سید محمد میاں، ص ۱۱۲-۱۱۳)
جامعہ ملیہ کا افتتاح
اکتوبر ۱۹۲۰ء کو جامعہ مِلّیہ اسلامیہ کے لیے علی گڑھ اس حالت میں تشریف لے گئے کہ ڈولی میں پڑ کر جلسہ گاہ تک پہنچے۔ چند منٹ بیٹھ کر بھی خطاب کرنا مشکل تھا، مختصر سا خطبۂ صدارت تھا، لیکن علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھ کر سنایا۔
ایک تاریخی خطاب
اس خطبے کا ایک ایک لفظ آپ کی سیاسی بصیرت، ژرف نگاہی اور ملّی بہی خواہی پر دال، اور سوز دلی اور عزیمتِ دعوت کا آئینہ دار ہے۔ آپ کے یہ تاریخی الفاظ اسی خطبے کے ہیں:
’’میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں آپ کی اس دعوت پر اس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گمشدہ متاع کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔ بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے، لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا! جلد اٹھو اور اس امتِ موعود کو کفار کے نرغے سے بچاؤ، تو ان کے دلوں پر خوف و ہراس طاری ہو جاتا ہے۔ خدا کا نہیں، بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامانِ حرب و ضرب کا۔‘‘ (علمائے حق، حصہ اول، ص ۲۱۳-۲۱۴)
دل سوزیٔ ملت
ملتِ اسلامیۂ ہندیہ کی تاریخ میں حضرت شیخ الہند کے یہ الفاظ سونے کے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ نے فرمایا:
’’اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار، جس میں میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں، مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں، تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا، اور اس طرح دو تاریخی مقاموں دیوبند اور علی گڑھ کا رشتہ جوڑا۔‘‘ (ایضاً، ص ۲۱۴)
حضرت شیخ الہند کی فراست
وفات سے صرف ایک ہفتہ قبل دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا سالانہ اجتماع حضرت شیخ الہند کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجتماع کا سب سے اہم مسئلہ انتخابِ امیر الہند کا تھا۔ آپ اس کے لیے حد درجہ بے چین تھے کہ یہ انتخاب اسی موقع پر کر لیا جائے۔ مولانا عبد الصمد رحمانی صاحب لکھتے ہیں:
’’وہ لوگ جو اس میں شریک تھے، جانتے ہیں کہ اس وقت حضرت شیخ الہند ایسے ناساز تھے کہ حیات کے بالکل آخری دور سے گزر رہے تھے، نقل و حرکت کی بالکل طاقت نہ تھی۔ لیکن باوجود اِس کے، اُن کو اصرار تھا کہ اس نمائندہ اجتماع میں، جب کہ تمام اسلامی ہند کے ذمہ دار اور اربابِ حل و عقد جمع ہیں، امیر الہند کا انتخاب کر لیا جائے۔ اور میری چارپائی کو اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے جایا جائے، پہلا شخص میں ہوں گا جو اس امیر کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔ مگر نزاکتِ حال کو دیکھ کر طبیب و ڈاکٹر اور خدام مخلصین کی اس وقت رائے ہوئی کہ حضرت شیخ الہند کو اس وقت تکلیف نہ دی جائے، اور اس مسئلہ کو حضرت شیخ الہند کی صحت پر اٹھا کر رکھا جائے تاکہ پورے اطمینان اور انشراحِ صدر کے ساتھ اس کو عمل میں لایا جائے۔‘‘ (تاریخِ امارت، ص ۵۳)
اس وقت حضرت شیخ الہند کے اضطراب کے حقیقی سبب کو کوئی شخص نہیں سمجھ سکا۔ لیکن اس وقت انتخابِ امیر کے التواء و تعویق سے جو الجھنیں اور رکاوٹیں اس مسئلے میں پیدا ہوئیں، اس سے حضرت شیخ الہند کے اضطراب و بے چینی کے حقیقی سبب کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ کی فراست اور بصیرتِ ایمانی اس حقیقت کو دیکھ رہی تھی کہ جس آسانی کے ساتھ اِس وقت یہ مسئلہ بلا کسی اختلاف کے طے پا سکتا ہے، بعد میں ممکن نہ ہوگا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ مسئلہ قواعد و ضوابط کا پابند نہیں، عمل و اقدام کا متقاضی ہے۔
بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ حضرت شیخ الہند کی بے چینی درست تھی۔ آپ کے انتقال کے بعد خود اربابِ دیوبند دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک مخصوص طبقہ مصالحِ وقت اور اپنی ذات کو ملّی مفادات میں نظر انداز نہ کر سکا۔
- علمائے فرنگی محل، جو ملّی معاملات میں دیوبند اور جمعیت علمائے ہند سے نہ صرف قریب بلکہ ان کے شریک رہے تھے، وہ اپنی مخصوص جماعت کے نقطۂ نظر سے سوچنے لگے۔
- اور علمائے بدایوں، جو دیوبند کے مقابلے میں فرنگی محل سے ذہنی قرب رکھتے تھے، وہ نظمِ جماعت اور امارتِ شرعیہ کے ایک ایسے نظامِ شیخ الاسلام کے بارے میں سوچنے لگے جس میں مرکزیت اور مرجعیت انہیں حاصل ہو۔
غرضیکہ حضرت شیخ الہند کے انتقال سے ہندوستان کی اسلامی قوتیں فرادیٰ اور متشتت ہو گئیں، اور نظمِ جماعت کے اسلامی تصور کی حقیقت افتراق و اختلاف میں گم ہو گئی۔
وفاتِ حسرت آیات
دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا مذکورہ سالانہ جلسہ جو آپ کی صدارت میں ہوا تھا، اس میں بقول مولانا سید محمد میاں صاحب اس حالت میں شرکت فرمائی تھی:
’’بیماری اور نقاہت کی وجہ سے اسٹیج پر تھوڑی دیر بیٹھنا بھی دشوار تھا۔ خطبۂ صدارت لکھا ہوا تھا اور کسی اور نے پڑھ کر سنایا تھا۔ اسی زمانے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کا سنگِ بنیاد آپ کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا۔‘‘
ابھی دہلی ہی میں اپنے مریدِ با صفا ڈاکٹر مختار احمد انصاری کے مکان پر مقیم اور انہی کے زیرِ علاج تھے کہ پیامِ اجل آ پہنچا۔ ۳۰ نومبر ۱۹۲۰ء کو آپ اس جہانِ فانی سے رحیل عالمِ جاودانی ہوئے۔ اور مسلمان اس روحِ عظیم و مقدس کے وجودِ گرامی اور اس کی رہنمائی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے۔
اعترافِ عظمت
حضرت شیخ الہند کے سیاسی مرتبے اور آپ کی سیاسی بصیرت اور خدمت کا اعتراف ملک اور بیرونِ ملک کے اکابر نے کیا ہے۔ ان تمام اعترافات کا احاطہ تو ممکن نہیں، صرف چند پر اکتفا کیا جاتا ہے:
امیر امان اللہ خان نے افغانستان کی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
’’محمود حسن ایک نور ہے جس کی روشنی میں ہم بہت کچھ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
جمال پاشا نے حجاز میں آپ سے ملاقات اور گفتگو کے بعد کہا تھا:
’’ان مختصر سی ہڈیوں میں کس قدر دین اور سیاست بھری ہوئی ہے، اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔‘‘
برطانوی حکومت کے ایک نہایت ذمہ دار رکن مسٹر سر جیمس مسٹن (گورنر یوپی) نے کہا:
’’اگر محمود حسن جلا کر راکھ بھی کر دیا جائے تو اس کی راکھ بھی انگریزوں سے کترا کر گزرے گی۔‘‘
مولانا ابو الکلام آزاد سورۂ توبہ کی آیت ۴۹ کی وضاحت میں ایک ضمنی نوٹ میں ایک مقام پر فرماتے ہیں:
’’۱۹۱۴ء کی بات ہے کہ مجھے خیال ہوا ہندوستان کے علماء و مشائخ کو عزائم و مقاصدِ وقت پر توجہ دلاؤں۔ ممکن ہے چند اصحابِ رشد و عمل نکل آئیں۔ چنانچہ میں نے اس کی کوشش کی، لیکن ایک تنہا شخصیت کو مستثنیٰ کر دینے کے بعد سب کا متفقہ جواب یہی تھا کہ یہ دعوت ایک فتنہ ہے۔ ’’ائذن لی ولا تفتنی‘‘۔ یہ مستثنیٰ شخصیت مولانا محمود حسن دیوبندی کی تھی۔
تم نے بعض علماء کے فتوے پڑھے ہوں گے کہ مسلمانوں کو وقت کی سیاسی مجالس میں شریک نہ ہونا چاہیے، کیونکہ اس میں غیر مسلم عورتیں کھلے منہ موجود ہوتی ہیں، اور اس لیے ان کی شرکت فتنے سے خالی نہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ان کی شرکت سے نمازِ باجماعت فوت ہو جاتی ہے اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔
یاد رکھو! یہ تقویٰ اور دین داری نہیں ہے جو اِن کاموں کی مخالفت پر انہیں ابھارتی ہے، یہ مرضِ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم ہے، اور قرآن کی شہادت اس کے لیے بس کرتی ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن، جلد سوم، ساہتیہ اکادیمی نئی دہلی ایڈیشن، ص ۲۸۸-۲۸۹)
(ماخوذ از ’’شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، ایک سیاسی مطالعہ‘‘)


















