تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ

مولوی عبد القادر ابن حکیم حافظ عبد الوارث، رائیں قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ تقریباً‌ ۱۲۰۶ھ میں موضع نوکھروال ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پھر ان کے والد نے موضع بلیہ وال ضلع لدھیانہ میں سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی، پھر تمام علومِ مروجہ کی تحصیل شاہ ولی اللہ کے خاندان کے علماء سے دہلی میں حاصل کی۔ اور حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (ف ۱۲۳۰ھ بمطابق ۱۸۱۴ء) کے خلیفہ شاہ عبد اللہ جے راج پوری کرنالوی سے بیعت ہوئے اور ان ہی سے اجازت و خلافت بھی پائی۔ اور اپنے علاقے میں تدریس و تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔

مولوی عبد القادر مرحوم کا تعلق سیّد احمد شہید کی جماعت سے بھی تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ سیّد احمد شہید کی اہلیہ نے مولوی عبد القادر مرحوم کو تین خط بھی بھیجے تھے جو مفتی محمد نعیم صاحب کے پاس اب تک محفوظ ہیں۔

۱۸۳۶ء میں شاہ زمان الملک امیر کابل اور شاہ شجاع الملک اپنے وزیر فتح علی خان سے شکست کھا کر انگریزوں کی پناہ میں آ کر لدھیانہ رہنے لگے۔ شاہ زمان الملک آنکھوں سے معذور تھے اور تصوف کا ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے مولوی عبد القادر لدھیانوی کے ہاتھ پر موضع بلبیہ وال جا کر بیعت کر لی اور پھر مولوی لدھیانوی مرحوم کو لدھیانہ بلا لیا۔ مولوی صاحب محلہ موجپورہ میں سکونت پذیر ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی تدریسی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز لدھیانہ بن گیا۔ اور اصلاح و تبلیغ کے سلسلے میں انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

۱۸۴۰ء میں شجاع الملک افغانستان واپس چلا گیا اور دوست محمد خان کو تخت سے دستبردار کر دیا گیا۔ دوست محمد خان بھی مولوی عبد القادر لدھیانوی کا بڑا معتقد تھا۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد ان کے فرزند اکبر مولوی سیف الرحمان نے کابل جا کر سکونت اختیار کر لی۔

انقلاب ۱۸۵۷ء میں مولوی عبد القادر لدھیانوی نے مردانہ وار حصہ لیا۔ اس میں ان کے بڑے بھائی اور چاروں فرزندان مولوی سیف الرحمان، مولوی محمد، مولوی عبد اللہ اور مولوی عبد العزیز شریک رہے۔ مولوی عبد القادر کی قیادت اور ان کے خاندان کی شرکت کی وجہ سے لدھیانہ تحریک کا خاص مرکز بن گیا۔ سندر لال لکھتے ہیں:

’’لدھیانہ کا شہر پنجاب میں جنگِ آزادی کا ایک خاص مرکز تھا۔ شہر بھر میں اس دن سب جگہ جوش تھا، جیل خانہ توڑ دیا گیا، انگریزی مکان جلا دیے گئے۔ سرکاری خزانے پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے بعد جالندھر، لدھیانہ اور پھلور کی فوج مل کر آزادی کی اِس جنگ میں حصہ لینے کے لیے دلی کی طرف روانہ ہو گئی۔‘‘

مولوی عبد القادر نے پنجاب کی فوجوں سے بھی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ مگر یہ ان ہی چھاؤنیوں میں ممکن ہو سکا جہاں ہندوستانی سپاہی متعین تھے۔ مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں:

’’تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پنجاب میں جہاں جہاں ہنگامے (بسلسلۂ ۱۸۵۷ء) بپا ہوئے وہ پنجابیوں نے نہیں بلکہ ہندوستانیوں نے بپا کیے تھے۔ پنجابیوں نے تو ایک سے زیادہ موقعوں پر درخواست کی تھی کہ انہیں ہندوستانی فوجیوں سے الگ رکھا جائے۔‘‘

ساورکر لکھتے ہیں: 

’’سکھ اور فرنگی فوجوں کے خلاف اپنی تازہ فتح کی خوشی اور مسرت سے سرشار ہو کر قوم پرست فوجی رسالہ دوپہر کے وقت شہر میں داخل ہوا۔ شہر میں ایک با اثر مولوی تھے جو ہمیشہ وہاں کے لوگوں کو فرنگی طوقِ غلامی کو اتار پھینکنے اور سوراج قائم کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ اس مولوی کی تقریروں کا یہ اثر تھا کہ یہ شہر پنجاب کی انقلابی پارٹیوں کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔ اور غلامی کی زنجیروں پر آخری ضرب لگانے کا وقت آ گیا تو سارا شہر مولوی صاحب کے اشارے پر بیدار ہو گیا … لدھیانہ میں بھی انقلاب کی آگ لگی۔ جالندھر، پھلور اور لدھیانہ کی انقلابی افواج اور شہریوں کی قومی فوج مولوی صاحب کی زیر کمان دہلی کی طرف روانہ ہو گئی۔‘‘

ایک ہم عصر وقائع نگار ۲ جولائی ۱۸۵۷ء کے ضمن میں لکھتا ہے:

’’عبد الرحمان و عبد القادر دو صد سوار باویزہ خدمت گرد آورند نہ بہ ہمیں بس، جستجو و تکاپو زیادہ ازیں دو صد کس بود بخت خان سپارش نمود کہ خسرو بہ ہر یک زوج دو شالہ بخشود‘‘

مولوی عبد القادر مسجد فتح پوری (دہلی) میں مقیم ہوئے، وہیں ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا۔ سقوطِ دہلی کے بعد مولوی عبد القادر، ان کے بیٹے اور ساتھی کرنال ہوتے ہوئے پٹیالہ کے جنگلات میں روپوش ہو گئے۔ اور لدھیانہ میں مولوی عبد القادر کی تمام جائیداد مع مسجد نیلام کر دی گئی اور گرفتاری کے لیے انعام مقرر ہو گیا۔ مولوی عبد القادر اور ان کے بیٹے پٹیالہ سے بیس میل کے فاصلے پر موضع ستلانہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ یہاں کے مسلمان راجپوتوں نے ان کی ہر طرح خدمت و حفاظت کی اور گرفتاری سے بچایا۔ مولوی عبد القادر اور ان کے بیٹوں کے قیام کی وجہ سے اس گاؤں میں اسلامی شعائر خوب رواج پذیر ہوئے۔ 

۱۲۷۶ھ بمطابق ۱۸۶۰ء میں مولوی عبد القادر کا ستلانہ میں انتقال ہوا۔ ان کے بڑے بیٹے مولوی سیف الرحمان کابل چلے گئے اور پھر وطن واپس نہ آئے۔ مولوی سیف الرحمان نے دہلی کے مشہور فتوائے جہاد پر دستخط کیے تھے۔

۱۸۶۰ء میں مولوی عبد القادر کے تینوں صاحبزادے مولوی محمد، مولوی عبد اللہ اور مولوی عبد العزیز لدھیانہ واپس آئے۔ مقامی حکام نے ان کو گرفتار کر لیا اور پھر جلد ہی رہا کر دیا۔ اس کے بعد ازسرِنو زندگی کا آغاز ہوا۔ مکانات تعمیر ہوئے، مسجد آباد ہوئی، درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مشہور احرار لیڈر مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی بن مولوی محمد زکریا، مولوی محمد کے پوتے ہیں۔ 

مولوی عبد اللہ نے سہارنپور کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور وہیں ۲۷ ذی قعدہ ۱۳۱۱ ہجری کو ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے قادیانیت کا خاص طور سے رد کیا۔

مولانا عبد العزیز کا ۲۲ شعبان ۱۳۱۹ھ (۴ دسمبر ۱۹۰۱ء) اور مولانا محمد کا ۶ رمضان ۱۳۱۹ھ (۸ دسمبر ۱۹۰۱ء) کو انتقال ہوا۔ ان دونوں بھائیوں نے ’’نصرۃ الابرار‘‘ کے نام سے ایک فتویٰ کتابی صورت میں کانگریس کی شرکت کے جواز میں شائع کیا، جس میں برصغیر کے بہت سے علماء کے دستخط تھے۔ یہ بات خاص طور سے قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت کانگریس حکومتِ برطانیہ کی مخالف نہ تھی بلکہ مؤید تھی، اور اس کی فتویٰ میں بھی صراحت ہے۔ اس فتویٰ کا دوسرا حصہ سر سیّد احمد خان کے خلاف ہے۔

دریچۂ ماضی
شخصیات

(جولائی ۱۹۹۷ء)

جولائی ۱۹۹۷ء

تحریکِ آزادی میں علماء کا کردار

جلد ۸ ۔ شمارہ ۳

آزادی، علماء اور نئی پود
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تحریکِ آزادی میں شاملی کا محاذِ جنگ
الحاج مرزا غلام نبی جانبازؒ

فرائضی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ اور دودو میاںؒ
دائرہ معارف اسلامیہ

جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

احمد خان کھرل — پنجاب کا ایک عظیم مجاہدِ آزادی
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی کا پہلا میدانِ کارزار – اکوڑہ خٹک
پروفیسر محمد افضل رضا

دار العلوم دیوبند
مولانا عبد الحق خان بشیر

قادیانیت اور برطانوی استعمار
آغا شورش کشمیریؒ

شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا
پروفیسر اولف شمل

تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تحریکِ خلافت
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

برٹش گورنمنٹ کی پالیسی
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

قادیانی جماعت اور انگریز حکومت کی باہمی تائید
چودھری افضل حق

تلاش

شماریات