پہلی عالمگیر جنگ میں ترکوں نے انگریزوں کے خلاف جرمنی اور آسٹریا کا ساتھ دیا تھا۔ نومبر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کو فتح ہوئی۔ ۵ جنوری ۱۹۱۸ء کو برطانوی وزیرِ اعظم لائیڈ جارج نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے زور دے کر واضح کیا تھا کہ ’’ہم ترکی کی سلطنت اور اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ کے لیے قطعاً کسی خطرے کا سبب نہیں بنیں گے اور ہماری طرف سے ترکی کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی‘‘۔ لیکن ۱۹۱۹ء کی صلح کانفرنس میں سلطنتِ ترکی کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، خلافت بھی عملاً ختم کر دی گئی۔
ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ تحریکِ خلافت کا آغاز احتجاجی جلسوں سے ہوا۔ مسلم کانفرنس کے اجلاس لکھنؤ میں آل انڈیا سنٹرل خلافت کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۹ء کو ملک بھر میں یومِ خلافت منایا گیا۔ تمام کاروبار بند رہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۱۹ء کو حکومت نے ہفتہ تقریباتِ امن منانے کا اعلان کیا، لیکن مسلمانوں نے ان تقریبات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔
خلافت کانفرنس کا پہلا اجلاس ۲۴ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں مسٹر فضل الحق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مسٹر گاندھی، موتی لال نہرو اور پنڈت مدن موہن مالوی بھی شریک ہوئے۔ مسٹر گاندھی نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ ۱۹۲۰ء میں بمبئی میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا اور فیصلہ ہوا کہ خلافت کے مسئلے پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک وفد یورپ روانہ کیا جائے۔
دوسری طرف، برطانیہ دنیا بھر میں یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف تھا کہ ترکی کی حرکتیں اسے سخت ترین سزا کا حقدار بناتی ہیں، ترکی اسی سلوک کا مستحق ہے کہ اسے کچل دیا جائے۔
وفد عدن اور پورٹ سعید کے شہروں سے ہوتا ہوا لندن پہنچا۔ اس وفد میں مولانا محمد علی، مولانا سید سلیمان ندوی اور سید حسن امام (بیرسٹر، پٹنہ) شامل تھے۔ وفد نے برطانوی وزیرِ اعظم سے ملاقات کی، لیکن اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ
’’مفتوحہ قوم، خواہ مسلمان ہو یا عیسائی، ایک جیسے سلوک کی مستحق ہے۔ ترکی نے برطانیہ سے شکست کھائی ہے، لہٰذا اب اسے شکست کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘
مولانا محمد علی نے اس گفتگو کا جواب دینا چاہا تو برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ
’’میں رات بھر بیٹھ کر آپ کی بحث نہیں سننا چاہتا۔‘‘
ملاقات کے خاتمے پر مولانا سید سلیمان ندوی نے خلافت کی اہمیت کے بارے میں ایک کتابچہ دینا چاہا تو برطانوی وزیر اعظم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور کتاب لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وفدِ خلافت نے فرانس اور اٹلی کے متعدد شہروں کا دورہ کیا اور اپنے مشن سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ نومبر ۱۹۲۰ء میں وفد واپس ہندوستان پہنچا۔
ستمبر ۱۹۲۰ء میں گاندھی اور علی برادران کے مشورے سے طے پایا کہ عدمِ تعاون کی ملک گیر تحریک چلائی جائے۔ عدمِ تعاون کے پروگرام کی کانگریس، جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے حمایت کر دی۔ عدمِ تعاون کی اپیل کا ہندوؤں اور مسلمانوں نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا۔ دسمبر ۱۹۲۱ء سے جنوری ۱۹۲۲ء کے درمیانی عرصے میں تین ہزار سے زائد ہندو اور مسلم تحریکِ عدمِ تعاون کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے۔ مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنی، ڈاکٹر سیف الدین اور پیر غلام مجدد نثار احمد کو دو دو سال کے لیے قید کر دیا گیا۔ عدمِ تعاون کی تحریک کو گرفتاریوں سے زبردست دھچکا لگا، لیکن اس کے مکمل خاتمے میں تشدد آمیز واقعات نے حصہ لیا۔
تحریکِ خلافت سے کانگریس کو دو فائدے ہوئے: ایک تو مسلمان دھڑا دھڑ کانگریس میں شامل ہونے لگے۔ دوسرے، کانگریس کو وہ طاقت حاصل ہو گئی جو پہلے کبھی حاصل نہ تھی۔ لیکن جس طریق سے گاندھی نے اس تحریک کو ختم کیا، اس نے مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے بارے میں اس قسم کے شکوک و شبہات پیدا کیے جن کو پھر کبھی دور نہ کیا جا سکا۔
تحریکِ خلافت بے نتیجہ ثابت ہوئی، کیونکہ ترکی میں مسلمانوں نے دوبارہ زور پکڑ کر جو آزاد حکومت قائم کی، اس کی اسمبلی کے سربراہ کمال اتاترک نے خلافت کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان کر دیا۔


















