حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم الصدیقی النانوتویؒ بن شیخ اسد علی بن شیخ غلام شاہ الخ۔ آپ سیدنا حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل اور اولاد میں تھے اور ۱۲۴۸ھ/۱۸۳۲ء کو قصبہ نانوتہ میں پیدا ہوئے۔ تاریخی نام خورشید حسین تھا۔ یہ قصبہ دیوبند سے بارہ کوس مغرب میں، سہارنپور سے پندرہ کوس جنوب میں، گنگوہ سے نو کوس مشرق میں، اور دہلی سے ساٹھ کوس شمال میں واقع ہے۔ آپ کے والد بزرگوار تعلیم سے چنداں بہرہ ور نہ تھے۔ صرف ایک معمولی زمیندار تھے، البتہ بزرگوں کی نیک صحبت سے ضرور متاثر تھے اور دین سے کافی لگاؤ تھا۔
حضرت نانوتویؒ نے اکثر کتابیں حضرت مولانا مملوک علی صاحب نانوتویؒ (المتوفیٰ ۱۲۶۷ھ) سے پڑھی تھیں، جو اپنے وقت کے ٹھوس مدرس، متبحر عالم اور مختلف علوم و فنون کی کامل مہارت رکھنے والے شفیق استاد تھے۔ رب ذو المنن نے حضرت نانوتویؒ کو ابتدا ہی سے بڑی ذہانت اور عمدہ فطانت کی دولت عظیمہ سے وافر حصہ مرحمت فرمایا تھا۔ جب جملہ علوم وفنون کی تعلیم مکمل کر چکے تو آخر میں حضرت مولانا قطب الارشاد رشید احمد گنگوہیؒ (المتوفیٰ ۱۳۲۳ھ) کے ساتھ مل کر راس الاتقیاء شیخ وقت محدث کامل اور یکتائے روزگار حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب مجددی حنفیؒ (المتوفیٰ ۱۲۹۵ھ) سے حدیث شریف کا دورہ پڑھا اور اسی زمانے میں دونوں بزرگوں نے وقت کے رئیس الاولیاء مجاہد کبیر عالم باعمل مولانا حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ (المتوفیٰ ۱۳۱۷ھ) سے بیعت کر کے سلوک کی راہ اختیار کی اور ظاہری علوم کے علاوہ باطنی علوم اور تصوف و ورع میں بھی وہ مقام حاصل کیا جو ان کے زمانے میں انہی کے لیے واہب حقیقی نے مخصوص کر رکھا تھا، جن کے ذریعہ سینکڑوں حضرات کو روحانی فیض بھی حاصل ہوا اور تزکیہ نفس کے وہ اعلیٰ مراتب بھی قادر ِمطلق نے انہی کی بدولت مرحمت فرمائے جو اس دور میں بہت کم کسی اور کو حاصل اور نصیب ہوئے ہوں گے۔
ایامِ طالب علمی کے دو خواب
(۱) — حضرت نانوتویؒ نے طلبِ علم کے زمانے میں بہت سے خواب دیکھے تھے، جو آنے والے دور میں ان کی دینی خدمات اور رفع درجات کی طرف مشیر اور رب قدیر کی طرف سے بشریٰ اور خوشخبری تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ (المتوفیٰ فی حدود ۱۳۰۰ھ) جو حجت الاسلام مولانا محمد قاسم صاحبؒ کے قریبی رشتہ دار، ہم وطن، رفیق درس، استاد زادہ، بعض کتابوں میں شاگرد، ہم زلف اور پیر بھائی تھے، حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ:
’’ایامِ طالب علمی میں مولوی (محمد قاسم) صاحبؒ نے ایک اور خواب دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوں اور مجھ سے نکل کر ہزاروں نہریں جاری ہو رہی ہیں۔ جناب والد صاحبؒ (یعنی حضرت مولانا مملوک علی صاحبؒ) سے ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم سے علمِ دین کا فیض بکثرت جاری ہوگا۔‘‘ (سوانح مولانا محمد قاسم صاحب، ص ۹۔ ارواحِ ثلاثہ، ص ۲۰۴)
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ دارالعلوم دیوبند اور اس کی دیگر سینکڑوں شاخوں سے قرآن و حدیث، فقہ اور علم دین کی جو نشر و اشاعت ہوئی ہے، اس صدی کے اندر تمام جہان میں اس کی نظیر تلاش کرنا بے سود ہے۔ بلا شبہ قاہرہ یونیورسٹی صدیوں سے حکومت مصر کے زیر سایہ دین اور علم دین کی خدمت انجام دے رہی ہے، مگر صورت و سیرت، گفتار و کردار، ظاہر اور باطن کے اعتبار سے علم و عمل کا جو نمونہ مادر علوم دارالعلوم دیوبند اور اس کی شاخوں نے قائم کیا ہے، وہ اس دور انحطاط میں کہیں بھی نہیں مل سکتا۔
دارالعلوم دیوبند اور اس کی قائم کردہ (یا اس کے نمونہ کے مطابق اور اس کے نقشہ پر قائم کردہ) شاخوں میں ہزاروں جید اور ربانی علماء کرام اور صوفیاء عظام پیدا ہوئے، جن کی بدولت رب العزت نے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو توحید و سنت کا داعی اور شیدائی بننے کا شرف عطا فرمایا اور علم ظاہری کے علاوہ جس طرح لوگوں کے دلوں کو ان سے صفائی اور روشنی نصیب ہوئی اور شرک و بدعت، حسد و تکبر اور اتباع ہویٰ سے ان کو جس طرح کا چھٹکارا حاصل ہوا، وہ کسی منصف مزاج اور ہوش مند مسلمان سے اوجھل نہیں ہے۔
ایک طرف تو ان اکابر کے قائم کردہ اسلامی مدارس سے سینکڑوں ثقہ مدرس، بہترین مبلغ، عمدہ ترین مناظر، اعلیٰ مصنف، نڈر مجاہد، بیباک سیاستدان اور محقق پروفیسر تیار ہوئے، جو اپنے اپنے میدان اور فن میں گوئے سبقت لے گئے، اور دوسری طرف قرآن و سنت اور سلف صالحین کی واضح ہدایات کی روشنی میں ایسے اہل سلوک، صاحب باطن، زاہد اور صوفی پیدا ہوئے، جنہوں نے اپنی خداداد بصیرت اور للٰہیت اور روحانیت سے لوگوں کے قلوب و اذہان کو منور کیا، ان میں توحید و سنت کا جذبہ پیدا کیا، خدا خوفی اور فکرِ آخرت پیدا کی، دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی کا نقشہ ان کے دلوں میں نقش کیا، آنے والی قبر اور حشر و نشر کی حقیقی زندگی کے حاصل کرنے کا سبق دیا، جنت اور دوزخ کی ابدیت اور ان کی تحصیل و اجتناب کے منصوص احکام سنائے، خالق کے حقوق کے علاوہ مخلوق کے باہمی حقوق کو محفوظ و ملحوظ رکھنے کی شدت سے تلقین کی، نفس امارہ اور شیطان کی فریب کاریوں سے لوگوں کو ڈرایا، اور سلف صالحین کے صحیح دینی جذبات ان میں اجاگر کیے۔
الغرض دل کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اخلاق ذمیمہ سے بچنے اور اوصاف فاضلہ سے متصف ہونے کے وہ گر بتلائے جو اس دور میں صرف انہی حضرات کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دیوبند کی اس روحانی تعلیم کا یوپی کے مشہور گریجویٹ اور شگفتہ نگار شاعر اکبر الٰہ آبادیؒ نے کس خوبی سے ذکر کیا ہے (کلیاتِ اکبر مرحوم) ؎
ہے دل روشن مثالِ دیوبند
اور ندوہ ہے زبانِ ہوشمند
گر علی گڑھ کو بھی تم تشبیہ دو
اک معزز پیٹ بس اس کو کہو
بلا شک دیوبند کی وجہ سے سعید روحوں کو جلا اور تاریک دلوں کو بصیرت اور روشنی حاصل ہوئی۔
(۲) — ارواح ثلاثہ میں ہے کہ مولانا نانوتویؒ نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کسی اونچی چیز پر بیٹھا ہوں اور کوفہ کی طرف میرا منہ ہے اور ادھر سے ایک نہر آتی ہے جو میرے پاؤں سے ٹکرا کر جاتی ہے۔ اس خواب کو انہوں نے مولوی محمد یعقوب صاحبؒ (المتوفیٰ ۱۲۸۲ھ) یا شاہ محمد اسحاق صاحبؒ (المتوفیٰ ۱۲۶۲ھ) سے اس عنوان سے بیان فرمایا کہ حضرت ایک شخص نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے، تو انہوں نے یہ تعبیر دی کہ اس شخص سے مذہب حنفی کو بہت تقویت ہوگی اور وہ پکا حنفی ہوگا اور اس کی خوب شہرت ہوگی، لیکن شہرت کے بعد اس کا جلدی انتقال ہو جائے گا۔ (ارواحِ ثلاثہ، ص ۱۶۹)
بلا ریب ہندوستان میں قیامِ دارالعلوم دیوبند کے ذریعے جس طرح قرآن و حدیث کے بعد مذہب حنفی کی علمی اور ٹھوس خدمت ہوئی ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور بغیر کسی سخت معاند اور کوڑھ مغز کے اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
تصحیح کتب
عالم نبیل، محدث جلیل اور فقیہ وقت حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری حنفیؒ نے محض دینی کتب کے احیاء و ترویج اور علوم و فنونِ اسلامیہ کے بقاء اور تحفظ کے لیے مطبع احمدی قائم کیا تھا، جس کے ذریعہ درسی اور متداول کتب کی کافی حد تک تصحیح کی گئی اور بعض کتب کے حواشی بھی لکھے گئے اور وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت اس طرح پوری ہوئی۔ اسی مطبع احمدی میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تصحیح کتب کا فریضہ سر انجام دیتے رہے اور اس طرح علم دین کی خدمت کا حق ادا کرتے رہے۔ اور ضمنی طور پر اس تصحیح سے معمولی سا جو حقِ محنت ملتا، اس پر گزر اوقات کرتے اور اعزہ و اقارب کے علاوہ مہمانوں کا حق پورا کرتے۔
زندگی نہایت سادہ، بے تکلف اور زاہدانہ تھی، شکل و صورت سے دیکھنے والوں کو یہ وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ یہ بھی کوئی مولوی ہیں، مگر ان کو گودڑی کے اس لعل کی کیا خبر تھی جو وقت کے فراعنہ کے مقابلہ میں لسانِ ہارونیؑ اور یدِ موسویؑ لے کر نکلے اور زبان و قلم سے ان کے دلائلِ باطلہ کے سیل رواں کو بہا کر اور ان کے گمراہ کن براہین کی فوجوں کو حقائق کے بحر قلزم کی موجوں کی نذر کر دیا۔ سچ ہے کہ ؎
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
بخاری شریف کے آخری پاروں کا حاشیہ
کتاب اللہ کے بعد دواوینِ اسلام میں سب سے زیادہ صحیح ترین کتاب بخاری شریف ہے، جس کی قدر و منزلت اور ضرورت و اہمیت سے کون مسلمان انکار کر سکتا ہے؟ جس میں ہمارا دین بھی ہے اور دنیا بھی، ہمارا مذہب بھی ہے اور ہماری سیاست بھی، ہماری معیشت کے اصول بھی اس میں مذکور ہیں اور ہماری معاشرت کے احکام بھی، ہماری جسمانی خوراک کا اصولی انتظام بھی اس میں موجود ہے اور ہماری روحانی غذا کا حل بھی اس میں مشرح ہے۔ سینکڑوں جید علماء اور فقہاء نے مختلف اور متعدد زبانوں میں اس کے شروح و حواشی لکھے ہیں۔
موجودہ بخاری شریف پر جو حاشیہ ہے (جو بڑی کاوش اور محنت کے ساتھ بیسیوں شروح حدیث سے پوری ذمہ داری کے ساتھ اخذ کیا گیا ہے)، اس کے چوبیس پچیس پاروں کا حاشیہ تو حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارنپوریؒ نے لکھا ہے۔ اور باقی پانچ یا چھ پاروں کا حاشیہ (اور اہلِ علم ہی جانتے ہیں کہ بخاری شریف کے آخری پارے کتنے مشکل ہیں) مولانا سہارنپوری صاحبؒ نے حضرت حجت الاسلام مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کے سپرد کیا، جو انہوں نے کمال حزم و احتیاط کے ساتھ لکھا اور بڑی عمدگی کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہوئے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ سوانحِ قاسمی میں ارقام فرماتے ہیں کہ:
’’اس زمانہ میں جناب مولوی احمد علی صاحب سہارنپوریؒ نے یحشیہ اور تصحیح بخاری شریف کی۔ پانچ چھ سیپارے آخر کے باقی تھے، مولوی (محمد قاسم) صاحبؒ کے سپرد کیا۔ مولوی صاحبؒ نے اس کو ایسا لکھا ہے کہ اب دیکھنے والے دیکھیں کہ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس زمانہ میں بعض لوگوں نے — کہ جو مولوی صاحب کے کمال سے آگاہ نہ تھے — مولوی احمد علی صاحبؒ کو بطور اعتراض کہا تھا کہ آپ نے یہ کیا کام کیا ہے کہ آخر کتاب کو ایک نئے آدمی کے سپرد کیا۔ اس پر مولوی صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ میں ایسا نادان نہیں ہوں کہ بدوں سوچے سمجھے ایسا کروں۔ اور پھر مولوی صاحبؒ کا یحشیہ ان کو دکھلایا۔ جب لوگوں نے جانا، اور وہ جگہ بخاری میں سب جگہ سے مشکل ہے، علی الخصوص تائیدِ مذہبِ حنفیہ کا اول سے التزام ہے اور اس جگہ پر (حضرت) امام بخاریؒ نے اعتراض مذہبِ حنفیہ پر کیے ہیں اور ان کے جواب لکھنے سے معلوم ہے کہ کتنے مشکل ہیں، اب جس کا جی چاہے اس جگہ کو دیکھ لے اور سمجھ لے کہ کیسا حاشیہ لکھا ہے۔ اور اس حاشیہ میں بھی یہ التزام تھا کہ کوئی بات بے سند کتاب کے محض اپنی طرف سے نہ لکھی جائے۔‘‘ (سوانح عمری مولانا محمد قاسمؒ، ص ۶-۷)
راقم الحروف کی معلومات کی بنا پر ہندوستان میں حاشیہ کے ساتھ جتنی دفعہ اور جہاں بھی بخاری شریف طبع ہوتی ہے، وہ اسی حاشیہ کے ساتھ طبع ہوئی اور ہوتی ہے۔ اندازہ فرمائیے کہ یہ صدقۂ جاریہ کس قدر ان حضرات کے رفع درجات کا موجب اور حضرات علماء کے صحیح بخاری سے استفادہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تا قیامت اس صدقۂ جاریہ کو جاری رکھے۔
؏ رہے لاکھوں برس ساقی ترا آباد میخانہ
قیامِ دارالعلوم کے اسباب
دنیا کا کوئی کام بغیر کسی سبب، داعیہ اور محرک کے معرضِ وجود اور منصۂ شہود پر نہیں آتا۔ جب ہم ٹھنڈے دل کے ساتھ ہندوستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں سر ہنری ایلیٹ کی مسخ شدہ تاریخ سے پہلے ہندوستان کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کسی اور صورت میں نظر آتی ہے — سیاست کی باتیں تو سیاسی حضرات بہتر جانتے ہیں، کیونکہ ’’لکل فن رجال‘‘ — ہم صرف مذہبی نقطۂ نظر سے یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت اور دور اقتدار رہا ہے، جس میں نہایت فراخ دلی سے (بلکہ بعض بادشاہوں کی طرف سے نرے ملحدانہ انداز میں) ہر فرقہ اور ہر مذہب کو اپنے مذہب پر پابند رہنے اور مذہبی رسوم بجا لانے کی کھلی آزادی تھی۔
جب گردشِ زمانہ سے سلطنتِ مغلیہ کا ٹمٹماتا ہوا چراغ گل ہو گیا اور اپنوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے ظالم اور جابر برطانیہ قہرِ الٰہی کی صورت میں ہندوستان پر نمودار ہوا، تو اس کے مقابلہ کے لیے ہندوستان کی دیگر اقوام عموماً اور مسلمان خصوصاً میدان میں نکلے اور عملی طور پر اس کے ساتھ جہاد کیا۔ اس کو انگریز کے منحوس دور میں ’’نمک خوارانِ برطانیہ‘‘ غدر ۱۸۵۷ء کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ اس جہاد میں کون کون حضرات شریک تھے اور کس کس مقام پر لڑے؟ اور ہر مقام پر اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ یہ اور اسی قسم کے دیگر امور ہمارے حیطۂ امکاں سے باہر ہونے کے علاوہ ہمارے موضوع سے خارج ہیں۔
ہمیں تو اثباتِ مدعیٰ کے لیے بانی دارالعلوم دیوبند اور ان کے چیدہ چیدہ بعض احباب و اصحاب کا تذکرہ کرنا ہے کہ انہوں نے کس حد تک انگریز کے خلاف جہاد کیا؟ اور انگریز نے ان کے خلاف کیا رائے قائم کی؟ اور اس وقت انگریز کے اہلِ ہند اور خصوصاً مسلمانوں کے خلاف کیا عزائم تھے؟ اور وہ ہندوستان میں کیا دیکھنا اور کیا کرنا چاہتا تھا اور کس حد تک وہ کر چکا ہے؟ جب ہم تاریخ کے اس موڑ پر آتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں وہ دلگداز واقعات پڑھتے اور دیکھتے ہیں، تو ہماری آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں، ہاتھ میں قلم لرزتا ہے، دل سیماب کی طرح بے قرار ہو جاتا ہے، سانس رکنے لگتا ہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سب واقعات تو تاریخ ہی میں پڑھیے، ہم ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ چند حقائق کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں، جن میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
؏ گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را
جہادِ شاملی
اہل ہند جب انگریز کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور جب اس کے خلاف لڑتے ہوئے لاکھوں جانیں جاتی رہیں اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور تیرہ ہزار سے زیادہ جید علماء کرام کو تختہ دار پر چڑھایا اور پھانسی پر لٹکایا گیا اور اس وقت میدانِ کارزار کے آس پاس شاید ہی کوئی درخت ایسا ہوگا جس پر مظلوم ہندوستانیوں کی اور شہید مسلمانوں کی لاشیں نہ لٹکتی ہوں اور ظالم انگریز کے کارندے ان کو دیکھ دیکھ کر نہ خوش ہوتے ہوں، اسی دور میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ کی زیر قیادت تھانہ بھون سے مسلمانوں کا ایک چھوٹا لشکر شاملی کی گڑھی کی طرف روانہ ہوا، جو انگریز کے کارندوں اور اس کی فوج کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ اس لشکر میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ محمد ضامن صاحب شہیدؒ (جو ۱۸۵۷ء میں اسی شاملی کے مقام پر شہید ہوئے تھے) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
آپ سمجھتے ہیں کہ کہاں جابر اور ظالم برطانیہ جو ملک پر برسر اقتدار تھا اور کہاں نہتے اور بے سرو سامان مجاہد؟ مگر ان بہادروں اور دلیروں نے، اور ان میں خصوصیت کے ساتھ حضرت نانوتویؒ نے اپنی شجاعت کے خداداد جوہر اس جہادِ شاملی میں دکھائے۔ بالآخر ان حضرات کو شکست ہوئی، کچھ حضرات تو زخمی ہوئے، اور حافظ محمد ضامن صاحبؒ شہید ہو گئے۔ الغرض مقابلہ خوب ہوا۔ اور بعض دیوپیکر فوجیوں کو (جن میں ایک سکھ بھی تھا، جس کو حضرت نانوتویؒ نے اپنی تلوار سے کاٹ کر مولی کی طرح دو ٹکڑے کر دیا تھا) جنم رسید کیا گیا۔ اور غالباً ایسے ہی موقع کے لیے کہا گیا ہے کہ ؎
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
جب انگریز کو اس کا علم ہوا کہ حضرت حاجی صاحبؒ، مولانا نانوتویؒ اور مولانا گنگوہی صاحبؒ، جو اپنے زمانے کے نامور عالم اور صوفی تھے، ہمارے خلاف جہاد میں شریک ہوئے ہیں، تو ان تینوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ انگریز کے اس ظالم حکم سے بچنے کے لیے کچھ دن تو حضرت نانوتویؒ وغیرہ احباب کے شدید اصرار پر روپوش رہے، پھر نکل آئے، جیسا کہ بقدرِ ضرورت اس کا ذکر آئندہ آئے گا، ان شاء اللہ العزیز۔ جب لاکھوں انسانوں پر برطانیہ یہ مظالم کر چکا، تو بیرونی دنیا کی مزید بدنامی سے بچنے کے لیے اور اہل ہند پر اپنا فرعونی احسان جتلانے کی خاطر کچھ عرصہ بعد وارنٹ گرفتاری اور دیگر کئی سخت احکام واپس لے لیے گئے اور اس طرح ان مظلوموں کی ظالم کے ہاتھ سے گلو خلاصی ہوئی۔
اس جہاد اور ہنگامہ میں اہل ہند اس قدر حق بجانب تھے کہ خود ظالم انگریز اس کا اقرار کیے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ مسٹر لیکی اس ہنگامہ کے بارے میں اپنا یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی بغاوت حق بجانب کہی جا سکتی ہے تو وہ ہندوستان کے ہندو مسلمان کی بغاوت تھی۔ (بحوالہ حکومت خود اختیاری، ص ۴۲)
اور اس ہنگامہ میں انگریز نے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، اس کا بھی کچھ نمونہ دیکھتے جائیے۔ مسٹر رسل کا یہ مقولہ ہے کہ: مسلمانوں کو خنزیر کی کھالوں میں سی دیا گیا اور قتل کرنے سے قبل خنزیر کی چربی ان کے بدن پر ملی گئی اور پھر انہیں جلایا گیا۔ (تمغہ کا دوسرا رخ، مصنفہ ایڈورڈ ٹامس، ص ۴۸۰)
ملاحظہ کیجیے کہ ظالم برطانیہ نے کس قدر سفاکانہ اور حیا سوز حرکتیں مسلمانوں پر روا رکھیں اور کس طرح ان کے بے گناہ خون سے ہولی کھیلی گئی، مگر بایں ہمہ مسلمان مردانہ وار اس ظالم کے سامنے ایمان سے بھرپور سینے تان کر پیش ہوتے رہے اور زبانِ حال سے یوں خطاب کرتے تھے کہ ؎
گئے وہ دن کہ ہمیں زندگی کی حسرت تھی
فضول قتل کی دیتا ہے دھمکیاں صیاد
عزائمِ برطانیہ
انگریز کو جب ہندوستان پر سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تو شیخ چلی کی طرح اس کے دل میں خفتہ اور نہاں آرزوئیں اور ارادے زبان اور قلم کی نوک سے بھی ظاہر ہونے لگے۔ گورنر ہند لارڈ ایلن برا نے ۱۸۴۳ء میں ڈیوک آف ولنگڈن کو لکھا ہے کہ
’’میں اس عقیدہ سے چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کی قوم اصولاً ہماری دشمن ہے۔ اس لیے ہماری حقیقی پالیسی یہ ہے کہ ہم ہندوؤں کی رضا جوئی کرتے رہیں۔‘‘ (اَن ہیپی انڈیا، ص ۳۹۹)
انڈیا کی سپریم کونسل کے باوقار رکن سر چارلس ٹیلیوین، جو حکومت کی طرف سے گورنری کے بلند عہدے پر فائز تھا، پورے وثوق سے یہ کہتے ہوئے کہ یہ میرا یقین ہے، یہ امیدیں قائم کیے ہوئے تھا کہ
’’جس طرح ہمارے بزرگ کل کے کل ایک ساتھ عیسائی ہو گئے تھے، اسی طرح یہاں (ہندوستان) میں بھی ایک ساتھ عیسائی ہو جائیں گے۔‘‘ (بحوالہ مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص ۱۴۳)
اور برطانیہ کی پارلیمنٹ کے رکن مسٹر اینگلس نے آغاز ۱۸۵۷ء میں پارلیمنٹ کے دارالعلوم میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہا کہ
’’خداوند تعالیٰ نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ ہندوستان کی سلطنت انگلستان کے زیر نگیں ہے، تاکہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لہرائے، ہر شخص کو اپنی تمام تر قوت تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عظیم الشان کام کی تکمیل میں صَرف کرنی چاہیے اور اس میں کسی طرح تساہل نہ کرنا چاہیے۔‘‘ (حکومت خود اختیاری، ص ۱۳۶۔ علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے، حصہ اول، ص ۲۶)
اور لارڈ رابرٹس نے کہا کہ
’’ان بدمعاش مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ خدا کے حکم سے صرف انگریز ہی ہندوستان پر حکومت کریں گے۔‘‘ (علمائے ہند کی شاندار ماضی کا آخری حصہ: تصویر کا دوسرا رخ، ص ۳۴، طبع اول)
غور فرمائیے کہ سایۂ بوم (ظالم برطانیہ) کے منحوس دورِ اقتدار میں ہندوستان کی سرزمین پر کس طرح زبوں حالی کا گھپ اندھیرا چھا گیا تھا، جس میں رائے قائم کرنے والوں نے یہاں تک رائے قائم کی کہ
’’اب اسلام صرف چند سالوں کا مہمان ہے۔‘‘ (موجِ کوثر، ص ۱۰۸، مصنفہ شیخ محمد اکرم صاحب ایم اے)
اس نازک دور اور نامساعد حالات میں علمائے دیوبند کثر اللہ جماعتہم نے جس طرح ہمت و استقلال کا ثبوت دیا ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ آخر بتلائیے کہ
- اس وقت تمام گمراہ کن تحریکوں کا مقابلہ کس نے کیا؟
- ظالم برطانیہ کے فولادی پنجہ سے کس نے ٹکر لی؟
- جانِ عزیز کو ہتھیلی پر رکھ کر کس نے جہاد ۱۸۵۷ء میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا؟
- آریوں اور پادریوں کا تعاقب کس نے کیا؟
- اُن کی تردید میں کتابیں اور رسالے کس نے لکھے؟
- کس نے تقریروں کے ذریعہ اسلام کی حقانیت واضح کرتے ہوئے ان باطل فرقوں کے مکائد اور دسیہ کاریوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا؟
- اور اس ہنگامے میں کس طبقہ کے علماء کے ساتھ انتہائی بہیمانہ سلوک روا رکھا گیا، اور نہایت بے دردی کے ساتھ درختوں پر کس کو لٹکایا گیا؟
- اور ملکِ عزیز سے جلاوطنی کی وحشیانہ سزائیں کس طبقہ کی اکثریت کو دی گئیں؟
- اور تختہ دار پر لٹکنے کے لیے زبانِ حال سے یہ کہتے ہوئے کس نے خوشیاں منائیں کہ ؎
فنا فی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
برطانیہ کا ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جس میں ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ہماری حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اگر ایک جگہ غروب ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع ہوتا ہے۔ اور برطانیہ کے مغرور وزیر اعظم مسٹر گلیڈسٹون نے یہ کہا تھا کہ اگر آسمان بھی ہمارے سروں پر گرنا چاہے تو ہم سنگینوں کی نوک پر اسے تھام سکتے ہیں (معاذ اللہ)۔ اس دور میں بھی علمائے دیوبند نے اس ظالم برطانیہ کے خلاف صدائے حق بلند کی اور اس سے نبرد آزما رہے ہیں۔ چنانچہ یوپی کے گورنر سر جیمس امنسٹن نے اسیرِ مالٹا حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندیؒ (المتوفیٰ ۱۳۳۹ھ) کے بارے میں ایک موقع پر کہا تھا کہ
’’اگر اس شخص کو لے جا کر خاک بھی کر دیا جائے تو وہ بھی اس کوچہ سے نہیں اڑے گی جس میں کوئی انگریز ہوگا۔‘‘ نیز یہ بھی ان ہی کا مقولہ ہے کہ ’’اگر اس شخص کی بوٹی بوٹی کر دی جائے تو ہر بوٹی سے انگریزوں کے خلاف عداوت ٹپکے گی۔‘‘ (حاشیہ سوانح قاسمی، جلد ۲، ص ۸۴، مصنفہ حضرت مولانا مناظر احسن صاحب گیلانیؒ المتوفیٰ ۱۳۷۶ھ بمطابق ۱۹۵۶ء)
غالباً ایسے ہی موقعہ کے لیے کہا گیا ہے کہ ؎
وہی مومن ہے جس کو دیکھ کر باطل پکار اٹھے
کہ اس مردِ خدا پر چل نہیں سکتا فسوں میرا
عیسائی بنانے کے لیے طریقہ کار
آپ باحوالہ پہلے یہ پڑھ آئے ہیں کہ انگریز نے ہندوستان میں زمامِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی تمام ہندوستانیوں کو ایک ساتھ عیسائی بنانے کا خواب دیکھنا شروع کیا اور اس کے لیے ملازمتوں اور میموں، نوکریوں اور چھوکریوں کی پیشکش کے علاوہ اور بھی کئی حربے اختیار کیے گئے۔ ان میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو اتنا غریب اور مفلوک الحال کر دیا جائے کہ وہ عیسائیوں کی جھولی میں پڑنے کے لیے مجبور و لاچار ہو جائیں۔ چنانچہ عوام کی غربت اس حد تک عمداً پہنچا دی گئی تھی کہ بقول سرسید صاحب:
’’ڈیڑھ آنہ یومیہ یا ڈیڑھ سیر اناج پر ہندوستانی اپنی گردن کٹوانے پر بخوشی تیار ہو جاتا تھا۔‘‘ (بغاوتِ ہند، ص ۴۰)
اور سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک طریقہ جو انگریز نے تجویز کیا تھا، وہ یہ تھا کہ قرآن پاک اور اس کی تعلیم اور علومِ اسلامیہ کو یکسر مٹا دیا جائے تاکہ ایمان و ایقان کی وہ پختگی جو مسلمانوں کو حاصل ہے، بالکل ختم ہو جائے، اور عیسائیت کا راستہ ان کے لیے سہل اور ہموار ہو جائے۔ اور اس کے مقابلہ میں انگریزی تعلیم کو اس قدر عام اور رائج کر دیا جائے کہ کوئی شخص اپنے لیے اس کے سوا چارہ کار نہ پائے۔ چنانچہ قرآن کریم جیسی جامع و مکمل، بے نظیر اور انقلاب انگیز کتاب کی بے پناہ قوت اور طاقت سے خائف اور بدحواس ہو کر برطانیہ کے مشہور ذمہ دار وزیر اعظم گلیڈسٹون نے بھرے مجمع میں قرآن کریم کو اٹھاتے ہوئے بلند آواز سے یہ کہا تھا کہ
’’جب تک یہ کتاب دنیا میں باقی ہے، دنیا متمدن اور مہذب نہیں ہو سکتی۔‘‘ (بحوالہ خطبہ صدارت، ص ۱۵، اجلاس پنجاہ سالہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ از حضرت مدنیؒ)
اور ہنگری ہرلینگٹن طامس نے کہا کہ
’’مسلمان کسی ایسی گورنمنٹ کے، جس کا مذہب دوسرا ہو، اچھی رعایا نہیں ہو سکتے۔ اس لیے احکامِ قرآن کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘ (بحوالہ حکومت خود اختیاری، ص ۵۵)
الغرض قرآن کریم کو مٹانے اور مسلمانوں کے اسلامی جذبات کو ہندوستان سے نیست و نابود کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کیے گئے کہ شیطان بھی دم بخود ہو کر رہ گیا اور لارڈ میکالے نے تو صاف لفظوں میں کہا کہ
’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان پیدا کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں، تو دل اور دماغ کے اعتبار سے فرنگی۔‘‘ (بحوالہ مدینہ بجنور ۲۸ فروری ۱۹۳۶ء)
اور سچ پوچھیے تو اس میں ان کو کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی، جیسا کہ کسی بھی صاحبِ علم پر مخفی نہیں ہے۔ یہ طریقہ تو وہ تھا جو براہ راست حکومتِ برطانیہ اور اس کے ذمہ دار اصحاب نے اختیار کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ پادری صاحبان کی طرف سے (جن کی حفاظت و نگرانی اور مالی و سرپرستی خود انگریز کر رہا تھا) عیسائیت کی جارحانہ تبلیغ ہندوستان میں جو شروع کی گئی، وہ اپنے مقام پر ایک سانحۂ عظیم اور آفاتِ ارضی میں سے ایک بہت بڑی آفت تھی۔ مسلمانوں پر تو حکومت کی طرف سے صدہا آئینی پابندیاں عائد تھیں کہ وہ انگریز کے خلاف لب کشائی کرنے کے مجاز نہیں، مگر (العیاذ باللہ) اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پادریوں پر کسی قسم کی پابندی نہ تھی۔ بقول کسے ؎
ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
پادریوں کی تبلیغ
ہندوستان میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے سلطنت اور اقتدار جانے کی دیر تھی کہ مختلف قسم کے مذہبی فتنے عذابِ الٰہی کی صورت میں نمودار ہوئے اور ساون کے مینڈکوں کی طرح بازاروں اور کوچوں، گلیوں اور محلوں میں پادری صاحبان جوق در جوق اور جماعت در جماعت گردش کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکے ڈالتے ہوئے نظر آنے لگے۔ اور ہندوستان میں شاید ہی کوئی قابل ذکر شہر اور خوش نصیب قصبہ ایسا ہوگا جس کو پادری صاحبان نے اس دور میں اپنے منحوس پاؤں سے نہ روندا ہو، اور اسلام کے خلاف خوب زہر اگل کر مسلمانوں کی دل آزاری نہ کی ہو، اور جارحانہ رنگ میں عیسائیت کی تبلیغ میں کوئی کمی چھوڑی ہو اور مسلمانوں کو چیلنج نہ دیا ہو۔
ایسے تمام واقعات کا استیعاب اور احاطہ نہ تو ہمارے بس کا روگ ہے اور نہ ان پر ہمارا مدعا موقوف ہے، اس لیے ہم ان کو قلم انداز کرتے ہیں۔ صرف دو تین واقعات بطور نمونہ عرض کیے دیتے ہیں، عقل مند انسان ان سے بخوبی حقیقت کی تہہ کو پہنچ سکتا ہے، اور نادان کے لیے تو دفتر کے دفتر بھی بے سود ہیں۔
چاندا پور کا مذہبی اجتماع
ہندوستان میں عیسائیت کی وسیع پیمانہ پر تبلیغ کو دیکھ کر ہندوؤں میں بھی جرأت پیدا ہو گئی کہ وہ اپنے مذہب کا پرچار کریں اور عیسائیوں کی طرح وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ مذہبی امور میں الجھتے رہیں۔ چنانچہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ ہے کہ مشہور شہر شاہجہانپور سے پانچ چھ میل کی مسافت پر ایک قصبہ تھا جس کا نام چاندا پور تھا، وہاں کے ایک ہندو رئیس منشی پیارے لال کبیر پنتھی نے ۱۲۹۳ھ/۱۸۷۶ء میں ایک مذہبی جلسہ بنام ’’میلہ خدا شناسی‘‘ مقرر کیا، جس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کا باہمی مباحثہ طے پایا اور تینوں فریق اس میں شریک ہوئے۔ مگر لالہ جی نے کمال ہوشیاری اور انتہائی چالاکی سے ایک مختصر سی لیکن نہایت بے معنی اور مہمل لکھی ہوئی تقریر یوں شروع کی کہ
’’میاں کبیر نے کنول کے پھول میں جنم لیا اور ان کے پنتھ میں جاگتے سوتے سانسا چلتا رہتا تھا … الخ‘‘
جس کو چیستان اور پہیلی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اور اس طرح اپنی اور اپنے ہم مذہبوں کی جان چھڑا لی اور اصل گفتگو مسلمانوں اور عیسائیوں میں رہی۔ عیسائیوں کی طرف سے ان کے دیگر نامی گرامی پادریوں کے علاوہ پادری نولس صاحب انگلستانی بھی تھے، جو بڑے لسان، عمدہ مقرر اور چوٹی کے مناظر تھے۔ پادری نولس صاحب کا یہ بے بنیاد دعویٰ تھا کہ مسیحی دین کے مقابلہ میں محمدی دین کی کچھ حقیقت نہیں (معاذ اللہ)۔ اور اہلِ اسلام کی طرف سے جو حضرات اس موقعہ پر موجود تھے، ان میں مشاہیر میں سے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہیؒ اور حضرت مولانا سید ابو المنصور صاحب دہلویؒ امامِ فنِ مناظرۂ اہلِ کتاب خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر حضرات علماء اور اہلِ دل دیندار مسلمانوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔
پہلے دن تو اس مباحثہ میں متعدد حضرات نے حصہ لیا اور پادری نولس صاحب کے مزعوم دلائل کے جوابات دیتے رہے اور اپنے دعاوی کا اثبات کرتے رہے، مگر دوسرے دن مناظرہ میں صرف حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے حصہ لیا اور ایسے دلائل اسلام کی حقانیت پر پیش کیے کہ مجمع دادِ تحسین دیے بغیر نہ رہ سکا۔ اور دینِ مسیحی کے منسوخ اور ناقابلِ اتباع ہونے پر ایسے ٹھوس براہین پیش کیے کہ پادری باہم کہتے تھے کہ آج ہم مغلوب ہو گئے (گفتگوئے مذہبی بہ لقب تاریخی میلہ خدا شناسی، ص ۳۰) اس مناظرہ کی مکمل روداد اسی کتاب میں ملاحظہ فرمائیے کہ پادری کا مغرور سر کیسے سرنگوں ہوا اور اسلام کی حقانیت اور صداقت کس طرح آشکارا ہوئی۔ سچ ہے کہ ؎
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
شاہ جہان پور
اس مناظرہ کے تقریباً دو سال بعد ۱۲۹۵ھ بمطابق ۱۸۷۸ء میں شاہجہانپور میں اہلِ اسلام اور مختلف باطل فرقوں کا مناظرہ اور مباحثہ طے ہوا، جس میں پنڈت دیانند سرسوتی، منشی اندر من، پادری اسکاٹ مفسر انجیل، اور پادری نولس صاحب وغیرہ نے حصہ لیا؛ اور اہلِ اسلام کی طرف سے متعدد علماء اور مشاہیر اس وقت اور اس مقام پر حاضر اور موجود تھے؛ مگر مناظرہ پادریوں اور مسلمانوں کا ہوا اور لالے وقت کی نزاکت سے فائدہ اٹھا گئے۔ اس میں حضرت حجت الاسلام مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ مناظر تھے۔ انہوں نے عقلی و نقلی رنگ میں ایسی صحیح اور قطعی دلیلیں پیش فرمائیں کہ پادری صاحبان سے ان کا کوئی معقول جواب نہ بن سکا اور اس موقع پر بھی اسلام اور اہلِ اسلام کا بول بالا ہوا۔ مسلمانوں کی کھلی فتح کا مسلمانوں اور عیسائیوں کے علاوہ متعصب ہندوؤں نے بھی اقرار کیا۔ چنانچہ منشی پیارے لال نے یہ کہا کہ
’’مولوی قاسم صاحب کا حال کیا بیان کیجیے؟ ان کے دل پر علم کی سرستی (علم کی دیبی) بول رہی تھی۔‘‘ (مباحثہ شاہجہانپور، ص ۹۲)
اور پورے ۹۲ صفحات پر اس مناظرہ کی روداد بارہا طبع ہو چکی ہے، اہلِ علم اس سے استفادہ کریں۔ اس کے علاوہ حجت الاسلامؒ نے پادری تارا چند سے بھی مناظرہ کیا۔ چنانچہ سوانح قاسمی، ص ۱۵ از مولانا محمد یعقوب صاحبؒ میں ہے: ’’ایک پادری تارا چند نام تھا، اس سے گفتگو ہوئی اور وہ بند ہوا اور گفتگو سے بھاگا۔‘‘ سچ ہے: ’’شیروں کا مقابلہ لومڑیاں کیا کر سکیں!‘‘
پادری فنڈر کا فتنہ
پادری ڈاکٹر کارل فنڈر — (جو ایک جرمنی مشنری تھا، جسے روسی سلطنت نے جارجیا کے قلعے شوشا سے بدر کر دیا تھا، جس نے فارسی زبان میں ’’میزان الحق‘‘ نامی ایک کتاب شائع کی اور پھر اس کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ ملاحظہ ہو: اہلِ مسجد، ص ۳۱۴، مصنفہ ایل بیون جونز بی اے بی ڈی لندن، مترجمہ جے عبد السبحان بی اے بی ڈی پنجاب، ریلیجئس بک سوسائٹی، انار کلی، لاہور) — نے ہندوستان پہنچ کر اور انگریز کی سرپرستی حاصل کر کے جس دریدہ دہنی سے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی اور اہلِ اسلام کے خلاف زہر اگلا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں جو بہتان تراشی اور اتمام بازی اس نے اختیار کی، اس سے مسلمان تو آخر مسلمان ہیں، منصف مزاج غیر مسلم بھی صد نفرین کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پادری فنڈر، جو اپنی بے باکی میں مشہور تھا، ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تبلیغِ عیسائیت کے سلسلہ میں سرگرمِ عمل تھا۔
چنانچہ حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب عثمانی کیرانویؒ — (المتوفیٰ ۲۲ رمضان ۱۳۰۸ھ، جو حضرت مخدوم جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں تھے اور سلسلۂ ولی اللٰہی میں منسلک ہو کر دہلی میں تعلیمی اور تبلیغی خدمت انجام دے رہے تھے، اور آپ کی ولادت جمادی الاولیٰ ۱۲۳۳ھ میں کیرانہ ضلع مظفر نگر میں ہوئی تھی) — نے پادری فنڈر کے ساتھ خط و کتابت کی اور اس کو مناظرہ کا چیلنج دیا اور تمام ابتدائی مراحل طے کر لینے کے بعد اکبر آباد، آگرہ میں کئی دن کے لیے مناظرہ طے ہوا۔
یہ مناظرہ ۱۱ اپریل ۱۸۵۴ء مطابق ۱۲ رجب ۱۲۷۰ھ کو ہوا تھا، جو اسلام اور عیسائیت کی صداقت اور حقانیت واضح کرنے کے لیے فیصلہ کن، اور تاریخِ ہندوستان میں اس موضوع کا سب سے پہلا اور عظیم الشان مناظرہ تھا۔ جس میں طرفین سے معزز مسلمان، ہندو اور انگریز اس مناظرہ کے جج اور منصف قرار دیے گئے تھے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ اپنے آخری اور سچے دین کا حامی و ناصر ہے، اس نے اسلام کی صداقت کا ظاہری سبب اس موقع پر حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحبؒ کو بنایا، جنہوں نے اپنی خداداد قابلیت، عمدہ ذہانت اور تجربۂ علمی سے تین روز کے متواتر مناظرہ میں دلائلِ قاہرہ و براہینِ ساطعہ سے اس امر کو ثابت کر دیا کہ موجودہ انجیل — جس پر آج پادری صاحبان کو فخر و ناز ہے — بالکل محرف ہے، جس میں ذرہ بھر شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اور خود عیسائیوں کے مایۂ ناز اور چوٹی کے مناظر پادری فنڈر صاحب کو عام جلسہ میں انجیل مقدس کی تحریف تسلیم کیے بغیر اور کوئی چارہ کار نظر نہ آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رات کی تاریکی میں پادری فنڈر صاحب اپنے چیلوں سمیت بھاگ گئے۔ جب چوتھے دن حسبِ معمول مناظرہ کا وقت آیا تو پبلک اور منصف تو سبھی حاضر ہو گئے، مگر پادری فنڈر صاحب کا کہیں نام و نشان نہ ملا۔ ناچار تمام ججوں اور منصفوں کو، جو طرفین سے حکم قرار دیے گئے تھے، عیسائیت کے خلاف فیصلہ کرنا پڑا۔
اور پادری فنڈر صاحب نے ہندوستان چھوڑ کر دیگر ممالکِ اسلامیہ میں اپنے دجل کا جال پھیلانے کی سعی اور کوشش کی۔ چنانچہ وہ پھرتا پھراتا ترکی بھی جا پہنچا اور وہاں کے علماء کو چیلنج کرتا پھرا۔ چونکہ وہ بے چارے اس کے ہتھکنڈوں سے واقف نہ تھے، اس لیے اس دریدہ دہن کے منہ نہ آتے تھے۔ بالآخر سلطان عبدالعزیز خان ترکیؒ کی خواہش اور صدر اعظم خیرالدین پاشا ٹونسیؒ کی تحریک پر حضرت مولانا رحمت اللہ صاحبؒ نے عربی زبان میں ایک محقق و مدلل کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ’’اظہار الحق‘‘ رکھا۔ جس کا ترکی، فارسی اور یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ جب ۱۸۹۱ء میں انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ شائع ہوا تو مشہور اخبار ٹائمز آف لندن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ لکھا کہ:
’’اگر لوگ اس کتاب کو پڑھتے رہے تو دنیا میں عیسائی مذہب کی ترقی بند ہو جائے گی۔‘‘ (ملاحظہ ہو: علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے، حصہ اول، ص ۲۶)
راقم الحروف نے آج سے تقریباً سولہ سال پہلے ’’اظہار الحق‘‘ کے عربی نسخہ کا مطالعہ کیا ہے، بلاشبہ ردِ عیسائیت کے لیے بہترین اور لاجواب کتاب ہے، مگر صرف اہلِ علم حضرات کے لیے ؎
ان مسائل میں ہے کچھ ژرف نگاری درکار
یہ حقائق ہیں تماشائے لبِ بام نہیں
حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحبؒ کے علاوہ اس وقت حضرت مولانا رحم الٰہی صاحب منگلوریؒ، مولانا سید محمد علی صاحب مونگیریؒ، مولانا عنایت رسول صاحب چڑیا کوٹیؒ، ڈاکٹر وزیر خان صاحب آگرویؒ نے بھی عیسائیت کا خوب رد کیا اور اسلام کے ناقابلِ شکست قلعہ کو محفوظ رکھنے کی سعی بلیغ کی۔
آریہ کا فتنہ
آپ اوراقِ گذشتہ میں یہ پڑھ چکے ہیں کہ انگریز نے اقتدار اور حکومت کے بل بوتے پر اور پادری صاحبان نے حکومتِ برطانیہ ہی کے زیر سایہ رہ کر تبلیغ کے ذریعہ کس طرح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا اور کیا کیا کوششیں اور کاوشیں کیں۔ یہ مصائب مسلمانوں کے لیے کیا کم تھے؟ مگر جب مصائب و آفات کے گھنگھور بادل چھا جاتے ہیں تو ان میں مصیبت کا صرف ایک ہی قطرہ نہیں ٹپکتا، بلکہ ایسی موسلا دھار بارش ہوتی ہے کہ مشکلات و بلیات کے سیلاب امڈ آتے ہیں۔ ایک طرف انگریز اور عیسائیوں کا عظیم فتنہ تھا۔ اور دوسری طرف انگریزوں کے چہیتے ہندوؤں اور آریاؤں کا کرتا دھرتا سوامی دیانند سرسوتی — جو اپنے منطقیانہ اور فلسفیانہ استدلالات میں مشہور تھا — پورے ہندوستان میں لوگوں کو آریہ بنانے اور مسلمانوں کو مرتد کرنے کی (معاذ اللہ) مہم چلا رہا تھا۔ بیسیوں اس کے چیلے اور شاگرد تھے جو اسی کی ڈگر پر اسلام کے خلاف زہر اگلتے تھے۔ سرسوتی کی حماقت اور دریدہ دہنی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ کا چودھواں باب ملاحظہ کیجیے، جس میں اس نے بخیال خویش قرآن کریم کی ’’بسم اللہ‘‘ سے لے کر ’’والناس‘‘ تک کی تمام سورتوں پر اعتراضات کیے اور ان کی کمی اور خامی بتلائی ہے۔ (العیاذ باللہ)
سرسوتی ہر مقام پر اسلام اور اسلامی عقائد پر خوب برستا تھا اور اہلِ اسلام کو جواب کے لیے للکارتا تھا۔ چنانچہ اپنا تبلیغی دورہ کرتا ہوا ۱۲۹۵ھ/۱۸۷۸ء میں وہ رڑکی جا پہنچا اور کئی دن تک وہاں قیام کر کے اسلام کے خلاف خوب دل کھول کر زہر اگلتا رہا۔ چونکہ وہاں اس وقت کوئی ایسا مستعد اور مناظر عالم نہ تھا جو اس کے فلسفیانہ اعتراضات کا جواب دے سکتا، اس لیے میدان کو خالی دیکھ کر اس کی ہمت اور دو چند ہو گئی، حتٰی کہ سرِ بازار اس نے اسلام کے خلاف نازیبا اور واہی تباہی باتیں کہنا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اُن دنوں حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ (جو پہلے ہی سے ضیق النفس کے موذی مرض سے دوچار تھے) بخار اور کھانسی کے شدید مرض میں مبتلا تھے اور ان کی علالت کی خبریں باقاعدہ ان کے احباب و تلامذہ اور عقیدت مندوں کو پہنچتی رہتی تھیں۔ سرسوتی کے کانوں میں بھی حجت الاسلامؒ کی بیماری کی خبر پہنچ گئی تھی۔
جب رڑکی کے کچھ دردِ دل رکھنے والے اور غیرت مند مسلمانوں نے سرسوتی کا حسبِ استطاعت جواب دینا ضروری سمجھا، تو پنڈت صاحب یہ کہہ کر بات ٹال گئے کہ ’’ہم تو جاہلوں سے گفتگو کرنے کے لیے بالکل آمادہ ہی نہیں، اپنے کسی بڑے مذہبی عالم کو لاؤ، پھر ہم گفتگو کریں گے۔‘‘ اور حضرت نانوتویؒ کی علالت کی خبر سن کر اس سے پنڈت جی نے یہ ناجائز فائدہ اٹھایا کہ ’’ہاں اگر مولبی کاسم (مولوی قاسمؒ) آئیں تو پھر ہم گفتگو کریں گے۔‘‘ پنڈت جی نے حالات سے یہ بھانپ لیا تھا کہ مولانا قاسم صاحبؒ اس شدید علالت میں کیونکر اور کیسے آ سکتے ہیں؟ لہٰذا کوئی ایسی شرط لگاؤ کہ گفتگو کی نوبت ہی نہ آئے اور نہ پنڈت جی کے مبلغ علم کا بھرم کُھلے اور نہ شرمندگی حاصل ہو۔ بقول شخصے: ’’نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی۔‘‘ جب لوگوں نے شدید اصرار کیا کہ پنڈت جی آپ مولانا نانوتویؒ ہی سے گفتگو کرنے پر کیوں مصر ہیں؟ تو وجہ تخصیص یہ بیان کی:
’’میں تمام یورپ میں پھرا، اب تمام پنجاب میں پھر کر آیا ہوں، ہر ایک اہلِ کمال سے مولانا کی تعریف سنی، ہر کوئی مولانا کو یکتائے روزگار کہتا ہے۔ اور میں نے بھی مولانا کو شاہجہانپور کے جلسہ میں دیکھا ہے، ان کی تقریر دلاویز سنی ہے۔ اگر آدمی مباحثہ کرے تو ایسے کامل شخص سے کرے جس سے کچھ فائدہ ہو، کچھ نتیجہ نکلے۔‘‘ (بحوالہ مقدمہ انتصار الاسلام از مولانا فخر الحسن صاحب)
اہلِ رڑکی نے جب حضرت نانوتویؒ سے پرزور استدعا کی، تو حضرت کے لیے خود شدتِ علالت میں وہاں پہنچنا تو ناممکن تھا، آپ نے اپنی طرف سے چند نمائندے بھیجے، جن میں خصوصیت سے حضرت مولانا شیخ الہند محمود الحسن صاحبؒ، حضرت مولانا فخر الحسن صاحبؒ اور مولانا حافظ عبد العدل صاحبؒ قابلِ ذکر ہیں۔ یہ حضرات پا پیادہ جمعرات کے دن مغرب سے پہلے روانہ ہوئے اور شام کی نماز دیوبند کے باغوں میں پڑھی گئی، علی الصبح رڑکی پہنچے، حتٰی کہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد مقامی باشندوں کے ہمراہ پنڈت جی کی کوٹھی پر پہنچے اور بحث و مباحثہ کی دعوت دی۔ مگر پنڈت جی اسی پرانی ضد پر مصر تھے کہ مولانا محمد قاسم صاحبؒ آئیں تو مباحثہ کروں گا، اور کسی سے مباحثہ ہرگز نہ کروں گا۔ جب وہ کسی صورت مباحثہ کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو یہ حضرات واپس ہو گئے اور اہلِ رڑکی نے باوجود حضرت نانوتویؒ کی علالت کے محض اتمامِ حجت کے لیے وہاں پہنچنے کی استدعا کی، تو مولاناؒ باوجود علالت، ضعف اور کمزوری کے جس طرح بھی ہو سکا، رڑکی تشریف لے گئے۔
رڑکی میں اجتماع
حضرت مولاناؒ مع اپنے تلامذہ اور احباب کے شہر میں مقیم تھے، اور سرسوتی صاحب رڑکی چھاؤنی میں براجمان تھے۔ بحث و مباحثہ کے لیے ابتدائی مراحل طے کرنے کے لیے خط و کتابت ہوتی رہی، مگر سرسوتی صاحب اور ان کے معتقدین اس سے بھی گھبرا گئے اور یہ بہانہ کیا کہ ’’ہمارے سارے کام بند ہو گئے، آج سے ہمارے پاس کوئی اور تحریر نہ آئے، ہم ہرگز جواب نہ دیں گے۔‘‘ (مقدمہ انتصار الاسلام، ص ۵)
دوسرے روز حضرت مولاناؒ مع مولوی احسان اللہ صاحب میرٹھیؒ اور اپنے چند رفقاء کے چھاؤنی چلے گئے اور کرنل صاحب کی کوٹھی پر انتظام کیا گیا۔ کپتان صاحب اور کرنل صاحب نے مولاناؒ کی بڑی آؤ بھگت کی اور ان سے مختلف مضامین پر تبادلۂ خیال کیا اور دادِ تحسین دیتے رہے۔ اور پنڈت سرسوتی کو وہاں بلا کر کرنل صاحب نے کہا کہ تم مولوی صاحب سے کیوں گفتگو نہیں کر لیتے مجمع عام میں، تمہارا کیا نقصان ہے؟ پنڈت جی نے کہا کہ مجمع عام میں فساد کا اندیشہ ہے۔ کپتان صاحب نے کہا: اچھا ہماری کوٹھی پر گفتگو ہو جائے، ہم فساد کا بندوبست کر لیں گے۔ پنڈت جی نے کہا کہ ہم تو اپنی ہی کوٹھی پر گفتگو کریں گے اور پھر بھی اگر مجمع عام نہ ہو۔ جناب مولاناؒ نے پنڈت جی سے کہا کہ لیجیے اب تو مجمع عام نہیں، دس بارہ ہی آدمی ہیں، اب سہی۔ آپ اعتراض کیجیے، ہم جواب دیتے ہیں۔ پنڈت جی نے کہا کہ میں تو گفتگو کے ارادہ سے نہیں آیا تھا۔ مولاناؒ نے فرمایا کہ اب ارادہ کر لیجیے، ہم آپ کے مذہب پر اعتراض کرتے ہیں، آپ جواب دیجیے؛ یا آپ اعتراض ہم پر کیجیے اور ہم سے جواب لیجیے۔ پنڈت جی نے ایک نہ مانی اور شرائط کے باب میں گفتگو رہی، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ مجلس برخاست ہوئی۔
جناب مولاناؒ بھی اپنی فرودگاہ پر تشریف لائے اور کئی روز تک شرائط میں ردوبدل رہی، آخر الامر مولاناؒ نے یہ کہلا بھیجا کہ پنڈت جی کسی جگہ مباحثہ کر لیں، برسرِ بازار کر لیں، عوام میں کر لیں، خواص میں کر لیں، تنہائی میں کر لیں، مگر کر لیں۔ پنڈت جی اپنی (رہائشی) کوٹھی پر مباحثہ کرنے کو راضی ہوئے اور وہ بھی اس شرط پر کہ دو سو سے زیادہ آدمی نہ ہوں۔ مولانا مرحوم پنڈت جی کی کوٹھی پر جانے کو تیار تھے مگر سرکار کی طرف سے ممانعت ہو گئی کہ چھاؤنی کی حد میں کوئی شخص گفتگو کرنے نہ پائے؛ شہر میں، جنگل میں کہیں بھی چاہے گفتگو کر لے۔ مولاناؒ نے پنڈت جی کو لکھا کہ نہر کے کنارے یا عید گاہ کے میدان میں یا اور کہیں مباحثہ کر لیجیے۔ مگر پنڈت جی کو بہانہ ہاتھ آگیا، انہوں نے ایک نہ سنی، یہی کہا کہ میری کوٹھی پر چلے آؤ۔ چونکہ سرکار کی طرف سے ممانعت ہو گئی تھی اس لیے جناب مولاناؒ کوٹھی پر نہ جا سکے اور پنڈت جی کوٹھی سے باہر نہ نکلے۔ (مقدمہ انتصار الاسلام، ص ۷۰۶)
حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ اور مولانا حافظ عبد العدل صاحبؒ نے کئی روز برسرِ بازار پنڈت جی کے اعتراضات کے جوابات دیے اور پنڈت جی کے مذہب پر اعتراضات کیے اور پنڈت جی اور ان کے حواریوں کو غیرت دلائی کہ جواب دو۔ مگر پنڈت جی اور ان کے شاگردوں اور معتقدوں کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی اور ان کو کوئی ایسا سانپ سونگھ گیا کہ وہ ملنے ہی سے رہے۔ آخر مولانا نانوتویؒ نے فرمایا کہ اچھا پنڈت جی مع اپنے شاگردوں اور معتقدوں کے میرا وعظ ہی سن لیں۔ مگر پنڈت جی وعظ میں تو کیا آتے، رڑکی سے بھی چل دیے، اور ایسے گئے کہ پتہ بھی نہ چلا کہ کدھر گئے۔ آخر مولاناؒ نے بنفس نفیس برسرِ بازار تین روز تک وعظ فرمایا۔ مسلمان، ہندو، عیسائی اور سب چھوٹے بڑے انگریز، جو رڑکی میں تھے، ان وعظوں میں شامل تھے، ہر قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا۔ مولاناؒ نے وہ وہ دلائل مذہبِ اسلام کے حق میں بیان فرمائے کہ سب حیران تھے۔ اہلِ جلسہ پر عالم سکتہ کا سا تھا، ہر شخص متاثر معلوم ہوتا تھا۔ پنڈت جی کے اعتراضوں کے وہ وہ جواب دندان شکن دیے کہ مخالف بھی مان گئے۔ (مقدمہ انتصار الاسلام، ص ۷)
پنڈت سرسوتی نے بزعمِ خود اصولی طور پر اسلام پر گیارہ اعتراضات کیے ہیں، جن میں سے پہلے دس کے جوابات حجت الاسلام مولانا نانوتویؒ نے ’’انتصار الاسلام‘‘ میں، گیارہویں اعتراض کا مجمل اور مفصل جواب ’’قبلہ نما‘‘ میں دیا ہے۔ دونوں کتابیں اہلِ علم حضرات کے لیے غنیمت ہیں۔
رڑکی کے بعد میرٹھ
جب پنڈت سرسوتی صاحب رڑکی سے بھاگ گئے تو پھرتے پھراتے میرٹھ پہنچے اور وہاں بھی مذہبِ اسلام پر بے سروپا اعتراضات شروع کر دیے۔ حضرت حجت الاسلام مولانا نانوتویؒ اگرچہ مرض اور ضعف میں مبتلا تھے، پھر بھی رضائے الٰہی حاصل کرنے اور مذہبِ اسلام سے مدافعت کرنے کے لیے آپ بایں ضعف و بیماری کے میرٹھ پہنچے۔ چنانچہ پنڈت جی وہاں سے بھی کافور ہو گئے۔ البتہ ان کے حواری لالہ انند لال نے مذہبِ اسلام کے خلاف ایک مضمون لکھا، جس کا جواب حضرت نانوتویؒ نے اپنی کتاب ’’جواب ترکی بہ ترکی‘‘ میں دیا ہے۔ چنانچہ اسی کتاب ’’جواب ترکی بہ ترکی‘‘ میں لکھا ہے کہ:
’’پھر پنڈت دیانند کہیں پھر پھرا کر میرٹھ پہنچے اور وہاں بھی ان کے وہی دعوے تھے۔‘‘ اور نیز اس میں تصریح ہے کہ ’’ہر چند مرض کے بقیہ اور ضعف کے سبب قوت نہ تھی، مگر ہمت کر کے (میرٹھ) پہنچے۔‘‘ اور پھر لکھا ہے کہ: ’’مولوی محمد قاسم صاحبؒ نے پنڈت جی کو میرٹھ سے بھگا کر کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔‘‘ (ص ۳۹) اور وہ (پنڈت جی) بہانہ کر کے وہاں سے کافور ہو گیا۔‘‘
اس سب واقعہ کی تفصیل سوانح قاسمی (جلد دوم، ص ۵۱۲-۵۱۳، مصنفہ مولانا گیلانیؒ) میں مذکور ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت جی کچھ ایسے حواس باختہ ہو گئے کہ ان کو نہ تو فرار کے بغیر کوئی اور راہ نظر آتی تھی اور نہ سر چھپانے کے لیے کوئی اوٹ ؎
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
اور مورخِ اسلام حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ (المتوفیٰ ۱۳۷۳ھ بمطابق ۱۹۵۳ء) نے ’’حیاتِ شبلی‘‘ کے دیباچہ میں ان اکابر کی علمی اور اصلاحی خدمات کا عمدہ تذکرہ کیا ہے۔
وفات حسرت آیات
بالآخر ۴ جمادی الاولیٰ ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۵ اپریل ۱۸۸۰ء بروز جمعرات بعد از نمازِ ظہر حجت الاسلام حضرت نانوتویؒ موت کی آغوش میں جا پہنچے اور دیوبند میں حکیم مشتاق احمد صاحبؒ کے خطۂ اراضی میں سب سے پہلی قبر آپ کی بنی۔


















