احمد خان کھرل جنگِ آزادی کا مشہور جانباز سپاہی اور قائد ہے، جس نے ضلع منٹگمری میں ۱۸۵۷ء میں آزادی کے جھنڈے کو بلند کیا اور اپنی جان دے کر بقائے دوام حاصل کی۔ راجپوت پنور کی ایک شاخ کھرل ہے، اسی قبیلے سے اس کا تعلق تھا۔
۱۲ مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ کی خبریں براہ لاہور گوگیرہ پہونچیں۔ احمد خان کھرل نے جوئیا خاندان کے ساتھ مل کر انگریزوں کے اقتدار کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور مختلف قبائل کو تیار کیا۔ ۸ جولائی ۱۸۵۷ء کو پاک پتن کے ایک گاؤں سکھوکا سے آغاز ہوا، اور وہاں کے جوئیا خاندان نے لگان دینے سے انکار کر دیا۔ ۲۶ جولائی کو احمد خان نے گوگیرہ جیل کو توڑ ڈالا اور انگریزی حکومت سے باقاعدہ ٹکر لی، احمد خان روپوش ہو گیا، پچاس سے زیادہ آدمی ہلاک و زخمی ہوئے۔
حکومت نے انقلابیوں کا زور توڑنے کے لیے ۱۷ ستمبر کو علاقے کے سرداروں اور زمینداروں کی میٹنگ بلائی، مگر آزادی کی ایسی آگ لگی ہوئی تھی کہ یہ میٹنگ کامیاب نہ ہو سکی۔ قبیلہ کھرل کے ایک غدار شخص سرفراز خان کھرل نے مخبری کے فرائض انجام دیے۔ انگریز افسر برکلے، احمد خان کی گرفتاری کے لیے متعین ہوا، لیکن جب اسے کامیابی نہ ہوئی تو الفنسٹن خود اس طرف متوجہ ہوا اور اس نے احمد خان کے گاؤں جھامرہ کو آگ لگا دی۔ احمد خان نے وٹو راجپوتوں سے مدد حاصل کی۔ ۱۹ ستمبر کو سکھوں کی بٹالین انگریز افسر کی کمان میں گوگیرہ پہونچ گئی۔ اس کے بعد مزید کمک آگئی اور انگریزی فوج نے احمد خان اور ان کے ساتھیوں کو جنگل میں محصور کر دیا۔ آخر کار احمد خان سے مقابلہ ہوا، جس میں انگریزوں کے کئی سپاہی مارے گئے، اور معرکے میں احمد خان نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد انگریزوں نے انتقامی کارروائی کی اور یہاں کی آبادی کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔
انگریزوں کے وفاداروں میں سرفراز خان کھرل کے علاوہ ڈھاڑا سنگھ، نہال سنگھ، کھیم سنگھ، اور سیم پورن سنگھ کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح صادق محمد خان تھانیدار ملتان، اور پیر مخدوم ولایت شاہ المعروف مخدوم شیخ عبد القادر خامس (ف ۱۸۷۸ء، سجادہ نشین درگاہ موسیٰ پاک شہید ملتانی) نے بھی جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے موقع پر انگریزوں کی نمایاں خدمات انجام دیں اور انعام و اکرام کے مستحق ٹھہرے۔ چنانچہ مخدوم شیخ عبد القادر خامس کا خاندانی تذکرہ نگار لکھتا ہے:
’’قبل از مسند نشینی، بایماء والد ماجد مخدوم پیر نور شاہ، ملقب بہ مخدوم شیخ حامد گنج بخش چہارم (۱۸۶۸ء) غدر ۱۸۵۷ء کے موقع پر شورش جلی ضلع منٹگمری میں بذاتہ جمعیت ۳۰۰ سواران وہاں جا دھمکے اور امداد گورنمنٹ کی دے کر جوہر شجاعت کا بین ثبوت دیا۔ نیز برسر موقعۂ جنگ یہ علمِ وہبی حاصل کر کے کہ تقدیر حکومت کا قرعہ بنام گورنمنٹ قائم ہو چکی ہے، سردارانِ سرحدی کو اس پر آگاہ کر کے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ مقاومت بیہودہ ہے، موافقت سے کام لے کر اپنا اقتدار بڑھاؤ۔‘‘


















