جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور

سیّد احمد شہیدؒ کی تحریک تجدید و احیائے دین اور جہاد کی تحریک تھی۔ توحیدِ خالص کی تبلیغ، شرک و بدعت اور قبر پرستی کا استیصال، مراسمِ محرم کی بیخ کنی، شادی و غمی اور دیگر تقریبات کے غیر اسلامی مراسم کے بجائے اسلامی سادہ زندگی کا احیاء، اور نکاحِ بیوگان کی ترویج و اشاعت اس تحریک کے خاص عناصر تھے۔ اس مقصد کے لیے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے ’’تقویت الایمان‘‘ جیسی انقلاب آفریں کتاب لکھی۔ پھر تو اس سلسلہ کو اس قدر وسعت ہوئی کہ اس خانوادے کے دوسرے تربیت یافتہ علماء نے احیاء سنت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے، اور اچھا خاصا ادب مہیا کر دیا۔

سیّد احمد شہید کی تحریک کا اہم ترین عنصر جہاد، اور اصل مقصد حکومتِ الٰہیہ کا قیام تھا۔ سید صاحب کا کوئی مکتوب یا وعظ ترغیبِ جہاد سے خالی نہ تھا۔ جس زمانہ میں پنجاب میں سکھا شاہی کا زور تھا، مساجد اور اسلامی شعائر کی علانیہ بے حرمتی ہوتی تھی، اس علاقے کے مسلمان سخت مصائب و آلام میں مبتلا تھے، ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی تھیں، سید احمد شہید نے اس طاغوتی اور برائے نام سکھا شاہی حکومت کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا۔ گھر بار چھوڑا، بہت سے شہر اور قصبات کا دورہ کیا، ہجرت و جہاد کے وعظ کہے، اللہ کے دین کی سربلندی اور اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر سرحد کے پہاڑوں کو کمین گاہ بنایا، اور اسلام کے ان خادموں نے ایمان و اخلاص کے بھروسے پر دین کے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور ان کے چھکے چھڑا دیے۔ مگر ملت کا نصیبہ سویا ہوا تھا، گردش کے دن ابھی باقی تھے، غلامی کا دور ابھی ختم نہ ہونا تھا کہ حالات نے ناسازگاری دکھائی، اپنوں نے غیروں کا ساتھ دیا۔ نتیجہ ظاہر تھا کہ ۲۴ ذی قعدہ ۱۲۴۶ھ (۶ مئی ۱۸۳۱ء) کو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے بالاکوٹ میں جامِ شہادت نوش کیا

؏ خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را

حادثہ بالاکوٹ ۱۸۳۱ء کے بعد جماعتی تنظیم کی غرض سے اہل الرائے حضرات کے مشورے اور اصرار پر شیخ ولی محمد پھلتی امیرِ جماعت قرار پائے۔ مجاہدین کی سالاری عامہ کے فرائض مولوی نصیر الدین منگلوری نے انجام دیے۔ اور جب شیخ ولی محمد پھلتی سید احمد شہید کی زوجہ بی بی صاحبہ کو لے کر سندھ چلے گئے تو مجاہدین کی امارت و سالاری کا سارا بار گراں مولوی نصیر الدین منگلوری کے دوشِ ہمت پر رہا۔

مولوی نصیر الدین منگلوری کی شہادت (۱۸۳۸ء) کے بعد جب مولوی سید نصیر الدین دہلوی مجاہدین کے مرکز ستھانہ پہونچے تو وہ امیر بنا دیے گئے۔ لیکن ابھی وہ وہاں کوئی کارنامہ انجام نہ دینے پائے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا غلام رسول مہر صاحب کا خیال ہے کہ ۱۸۴۰ء میں ان کا انتقال ہوا، اور ان کے انتقال پر تحریکِ مجاہدین کا دوسرا دور ختم ہوا۔

مولانا ولایت علی

مولوی سید نصیر الدین دہلوی کی وفات کے بعد مجاہدین نے میر اولاد علی کو اپنا امیر بنا لیا، جو ایک مرتبہ مولوی نصیر الدین منگلوری کی شہادت کے بعد بھی کچھ مدت کے لیے منصبِ امارت پر مقرر ہوئے تھے۔ لیکن جب مولانا ولایت علی عظیم آبادی اس علاقہ میں پہونچے (۱۷ شوال ۱۲۶۲ھ، ۹ اکتوبر ۱۸۴۶ء) تو قیادت ان کے سپرد ہوئی اور اب تحریکِ مجاہدین کا تیسرا دور شروع ہوا۔ مولانا ولایت علی نے مجاہدین کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس وقت کشمیر کے راجا گلاب سنگھ اور مجاہدین کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی، راجا کو شکست ہوئی۔ اس نے انگریزوں کے سایہ میں جا کر پناہ لی، جو اس وقت تک پنجاب کے ایک حصہ پر قابض اور ملکی معاملات میں پوری طرح دخیل ہو چکے تھے۔ مارچ ۱۸۴۹ء میں تمام پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔

۱۸۴۹ء سے تحریکِ جہاد کا ایک نیا موڑ شروع ہوتا ہے۔ چونکہ اب تک مقابلہ سکھوں سے تھا، اس لیے سرکار کمپنی خاموش تھی۔ جب پنجاب پورے طور پر انگریزوں کے قبضے میں آگیا تو مجاہدین کی سرگرمیاں انگریزی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھائیں۔ حکومت کے پیدا کردہ حالات سے مجبور ہو کر مولانا ولایت علی اور ان کے بھائی مولانا عنایت علی اپنے وطن پٹنہ پہونچے اور وہاں مجسٹریٹ کے سامنے جا کر دو سال کے لیے مچلکے دیے۔ مولانا ولایت (عنایت) علی نے تبلیغ و تذکیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا عنایت (ولایت) علی کو بنگال بھیجا، اور دو سال کی مدت گزارنے کے بعد سرحد روانہ ہو گئے، اور وہاں پہونچنے کے سال ڈیڑھ سال بعد ۲۲ محرم ۱۲۲۹ھ (۵ نومبر ۱۸۵۲ء) کو انتقال ہو گیا۔

مولانا عنایت علی

مولانا ولایت علی کے انتقال کے بعد ان کے منجھلے بھائی مولانا عنایت علی امیر مقرر ہوئے، جو نہایت پرجوش مجاہد تھے۔ بہت سے معرکوں میں حصہ لے چکے تھے۔ مولانا عنایت علی نے ۱۸۵۲ء سے ۱۸۵۸ء تک برابر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور براہ راست انگریزی حکومت سے جھڑپیں رہیں۔ انگریزوں کے حلیف جہاں داد خاں والئ امب پر حملہ ہوا۔ اسی زمانے میں مولانا عنایت علی نے انگریزی حکومت کی فوجوں سے بھی براہ راست تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ ۱۸۵۸ء میں پشاور سے جنرل کاٹن کی سرکردگی میں مجاہدین پر حملہ ہوا، مجاہدین نے خوب دادِ شجاعت دی مگر بڑی تعداد میں شہید ہوئے اور کچھ پہاڑوں میں چھپ گئے۔ مولانا عنایت علی نے ستھانہ کا رخ کیا، مگر راستے ہی میں بمقام چمپئی داعئ اجل کو لبیک کہا (۱۲۷۴ھ، ۱۸۵۸ء)۔

مولانا عنایت علی کے بعد ۱۸۶۲ء میں ان کے بھتیجے مولانا عبد اللہ ابن مولانا ولایت علی امیر مقرر ہوئے۔ مولانا عبد اللہ (ف ۱۹۰۲ء) زمامِ کار ہاتھ میں لیتے ہی تندہی اور مستعدی کے ساتھ جماعت کی فوجی تربیت میں لگ گئے۔ مولانا عبد اللہ کے دورِ امارت کا سب سے اہم واقعہ معرکۂ امبیلا (۱۸۶۳ء) ہے۔ معرکۂ امبیلا میں مجاہدین نے دین کی عظمت اور سربلندی کے لیے جس عزم و استقلال اور بہادری و جانبازی کا مظاہرہ کیا، اس سے انگریزی حکومت کے حوصلے پست ہو گئے۔ گو میدان انگریزی حکومت ہی کے ہاتھ رہا، مگر اس کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ سرحد کے مجاہدین کو انگریزی مقبوضات کے اندر سے رسد، اسلحہ، رقوم، اور تازہ دم مجاہدین پہونچتے ہیں، اور ہندوستان میں اس تحریک کا سب سے بڑا مرکز صادق پور پٹنہ ہے، اور اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے معلوم نہیں کتنے مراکز ہیں۔

بغاوت کے مقدمے

جنگِ امبیلا کے بعد انبالے کا مشہور مقدمہ (۱۸۶۴ء) ظہور پذیر ہوا، جس میں گیارہ ملزم تھے: (۱) محمد شفیع انبالوی (۲) عبد الکریم (۳) الٰہی بخش (۴) میاں حسینی تھانیسری (۵) حسینی عظیم آبادی (۶) عبد الغفور (۷) قاضی میاں جان (۸) مولوی یحییٰ علی (۹) میاں عبد الغفار (۱۰) مولوی عبد الرحیم (۱۱) مولوی محمد جعفر تھانیسری۔ جن میں سے اول الذکر چھ حضرات ابتلاء و آزمائش میں ثابت قدم نہ رہ سکے اور سرکاری گواہ بن کر نہایت ذلت و خواری کے ساتھ رہا ہوئے۔ البتہ پانچ حضرات نے ایمان و استقامت کا پورا پورا ثبوت دیا۔ قاضی میاں جان انبالہ جیل میں وفات پا گئے۔ مولوی یحییٰ علی، جو تقویٰ اور ایمان و اخلاص میں سلف کا نمونہ تھے، نے جزیرۂ انڈمان کو آرام گاہ بنایا۔ باقی تین حضرات میاں عبد الغفار، مولوی عبد الرحیم، مولوی محمد جعفر تھانیسری نہایت سخت جان نکلے اور اٹھارہ سال کی مدت جزائر انڈمان میں گزار کر وطن پہونچے۔

مقدمۂ انبالہ کے بعد حکومت نے پٹنہ (۱۸۶۵ء)، مالدہ (۱۸۷۰ء)، راج محل (۱۸۷۰ء)، اور پٹنہ (۱۸۷۱ء، بار دوم) میں بہت سے علماء، تجار، اور مبلغین پر بغاوت اور سازش کے مقدمے چلائے۔ پٹنہ کے پہلے مقدمے ۱۸۶۵ء میں مولانا احمد اللہ صادق پوری بن الٰہی بخش کو ملزم بنا کر مقدمہ چلایا گیا۔ اول انہیں سزائے موت کا حکم ہوا، پھر اپیل کرنے پر یہ سزا حبسِ دوام بعبور دریائے شور میں تبدیل ہوئی، اور ان کا انتقال ۲۸ ذی الحجہ ۱۲۹۸ھ مطابق ۱۲ نومبر ۱۸۸۱ء کو جزائر انڈمان میں ہوا۔

مالدہ کے مقدمہ ۱۸۷۰ء کے ملزم مولوی امیر الدین بن رفیع منڈل تھے۔ مالدہ ان کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ ایک شخص نولوکرسٹو گھوش نے مخبری کی، جس کے نتیجہ میں مولوی امیر الدین گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا۔ حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزا ہوئی۔ جزائر انڈمان پہونچے، بحیثیت قیدی ان کا نمبر ۱۷۴۷۸ تھا۔ ۱۸۸۲ء میں مولوی عبد الرحیم کے ہمراہ رہا ہوئے۔ اگلومی (راج محل) پرگنہ سنتھال میں سکونت اختیار کر لی۔

راج محل کے مقدمے ۱۸۷۰ء میں مولوی محمد ابراہیم اور نذیر سردار ملزم تھے۔ مولوی محمد ابراہیم مالدہ اور راج شاہی کے علاقے میں تحریکِ جہاد کے سب سے بڑے رکن تھے۔ اس کام میں ان کے مددگار نذیر سردار بھی تھے۔ ایک شخص اتواری بسواس کی شکایت اور گھوش کی جاسوسی پر دونوں حضرات گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا۔ حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزا ہوئی۔ ۱۸۷۷ء میں مولوی محمد ابراہیم رہا ہوئے۔

پٹنہ کا دوسرا مقدمہ ۱۸۷۱ء میں چلا، جس میں سات ملزم تھے: پیر محمد، امیر خان، حشمت داد خان (یا حشم داد خان)، مولوی مبارک علی، مولوی تبارک علی (ابن مولوی مبارک علی)، حاجی دین محمد، اور امین الدین۔ ان حضرات میں جماعتی تنظیم کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہم مولوی مبارک علی تھے۔ اس مقدمہ میں ماخوذین کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، ان کو جیلوں میں ٹھونسا گیا، اور حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزائیں دی گئیں۔ 

یہی نہیں بلکہ بنگال اور بہار کے تمام مبلغوں کی فہرست مرتب کی گئی، اور اس فہرست کے بموجب تقریباً‌ دس سال تک یہ غریب تنگ کیے جاتے رہے، اور اس کی وجہ سے بنگال کے کتنے ہی خوشحال خاندان تباہ و برباد کر دیے گئے۔

سازش کا ذکر کرنے کے بعد مولوی مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:

’’اس کے معنی یہ نہیں کہ صرف یہی حضرات قید و محن میں مبتلا کیے گئے۔ ۱۸۴۹ء سے ۱۸۷۱ء تک گرفتاریوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ بڑی تعداد لے دے کر چھوڑ دی گئی، اور بے قانون اور بے سزا حوالات اور جیلوں میں سڑتے پھرے۔ ایک اچھی خاصی جماعت وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کی گئی۔‘‘

سر عبد الرحیم لکھتے ہیں:

’’بنگال میں وہابی تحریک کے بعد جو عمل اختیار کیا، اس سے مسلمان جاگیرداروں اور زمینداروں کی تمام املاک، جو وسعت میں تمام بنگال کی ایک چوتھائی تھی، گورنمنٹ انگلشیہ نے ضبط کر لی۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ملت کے سیکڑوں شریف اور خوشحال خاندان نان شبینہ کو محتاج ہو گئے، اور ہماری قوم کے ہزاروں افراد بے کسی اور مفلسی میں دربدر پھرنے لگے۔‘‘

حکومت کی معاندانہ پالیسی

حقیقت یہ ہے کہ انگریز نے تحریکِ جہاد کو بری طرح کچلا۔ مجاہدین اور مصلحین کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے موسوم کر کے بدنام کیا گیا۔ تمام ملک میں ’’وہابیوں‘‘ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ مرکزی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے ان کے حالات اور سرگرمیوں کی کیفیت طلب کی۔ ایک محکمۂ سراغ رسانی اسی مقصدِ خاص کے لیے وجود میں آیا۔ حکومتِ انگریزی نے باغی اور وہابی مترادف الفاظ قرار دیے۔ عامۃ المسلمین میں ان کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا کیا اور ایک عام معاشرتی انقطاع شروع ہو گیا۔

دریچۂ ماضی
شخصیات

(جولائی ۱۹۹۷ء)

جولائی ۱۹۹۷ء

تحریکِ آزادی میں علماء کا کردار

جلد ۸ ۔ شمارہ ۳

آزادی، علماء اور نئی پود
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تحریکِ آزادی میں شاملی کا محاذِ جنگ
الحاج مرزا غلام نبی جانبازؒ

فرائضی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ اور دودو میاںؒ
دائرہ معارف اسلامیہ

جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

احمد خان کھرل — پنجاب کا ایک عظیم مجاہدِ آزادی
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی کا پہلا میدانِ کارزار – اکوڑہ خٹک
پروفیسر محمد افضل رضا

دار العلوم دیوبند
مولانا عبد الحق خان بشیر

قادیانیت اور برطانوی استعمار
آغا شورش کشمیریؒ

شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا
پروفیسر اولف شمل

تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تحریکِ خلافت
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

برٹش گورنمنٹ کی پالیسی
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

قادیانی جماعت اور انگریز حکومت کی باہمی تائید
چودھری افضل حق

تلاش

شماریات