یوں تو مئی سے ستمبر ۱۸۵۷ء تک ہندوستان نے فرنگی اقتدار کے خاتمے کے لیے جس قدر آزادی کی جنگ لڑی، علمائے دین اس میں بطور ہراول دستہ شریک رہے، تاہم شاملی کے محاذ کا ذکر کیے بغیر یہ داستان ادھوری رہے گی۔ گو اس میدان میں کام آنے والے چند درویش منش تھے، جن کا دعویٰ تھا کہ
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے
یا تخت جگہ آزادی کی، یا تختہ مقام آزادی کا
ان کے سامنے خاتم الانبیاء ﷺ کا ارشاد بھی تھا کہ ’’حب الوطن من الایمان‘‘ وطن کی محبت ایمان کی نشانی ہے۔ البتہ اس جذبہ کے اظہار کے لیے بہانے کی تلاش تھی
؏ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!
یہ بہانہ کیسے ہاتھ آیا؟ اس کا ذکر ’’تذکرۃ الرشید‘‘ کے مصنف مولانا عاشق الٰہی اس طرح کرتے ہیں:
قاضی عنایت علی تھانہ بھون کے رؤسا میں شمار تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی امانت علی (عرفِ عام میں انہیں قاضی عبد الرحیم کہا جاتا تھا) کسی ذاتی کام کی غرض سے سہارنپور گئے۔ ان کے گاؤں کا ایک بنیا وہاں موجود تھا۔ زمینداری کے سلسلے میں قاضی عبد الرحیم اور ان کے مابین دیرینہ چپقلش چلی آ رہی تھی۔ بنیا نے اس بنیاد پر ضلع کے کلکٹر کو اطلاع دی کہ تھانہ بھون کا رئیس حکومت کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے سہارنپور سے ہاتھی اور دیگر سامانِ حرب خریدنے آیا ہے۔ اس پر قاضی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ مخبر قاضی صاحب کا عزیز تھا اور خاندانی رقابت کی بنا پر اس نے کلکٹر سے مخبری کی تھی۔
جنگی اور ہنگامی حالات کے دنوں میں سہارنپور کو بڑی فوجی اہمیت حاصل تھی۔ کلکٹر کے پاس یہ اطلاع بھی پہنچ رہی تھی کہ تھانہ بھون کے لوگ، جن کی راہنمائی تھانہ بھون کے رئیس قاضی عبد الرحیم کر رہے ہیں، بغاوت کی غرض سے سہارنپور آ رہے ہیں۔ گو ہندوستانی جنگ ہار چکے تھے اور جنگ قریباً ختم ہو چکی تھی، مگر آگ کا جلا ہوا جگنو سے بھی خوف کھاتا ہے۔ انگریز ایسی ذرا سی افواہ سے بدحواس ہو جاتا تھا۔ چنانچہ انہی غلط اطلاعات اور مخبری پر کلکٹر نے قاضی صاحب اور ان کے رفقاء کو بغیر تحقیق کے گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔
قاضی صاحب کی شہادت کی خبر جیسے ہی تھانہ بھون پہنچی، تمام علاقہ میں انگریز کے خلاف اشتعال پھیل گیا اور بستی کے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے، سب نے بیک وقت حضرت حاجی امداد اللہ سے درخواست کی کہ ہمیں انگریزوں پر حملہ کی اجازت دیں۔ جب مجاہدین اور دوسرے عوام کا احتجاج بڑھا، تو حاجی امداد اللہ نے فورًا حلقۂ احباب کی مشاورت طلب کی۔ اس پر مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد منیر کو بلا بھیجا۔ جبکہ حافظ محمد ضامن، مولانا شیخ محمد احمد اور قاضی عنایت علی تھانہ بھون میں موجود تھے۔ تاریخ کا ایک یہ بھی حصہ ہے کہ ان دنوں تھانہ بھون سے انگریز کی عملداری ختم ہو چکی تھی اور حاجی امداد اللہ یہاں کے ناظم اعلیٰ تھے۔
باہم مشاورت اور عوام کے جوش کی اطلاع جب سہارنپور میں کلکٹر تک پہنچی، تو اس نے اِن حضرات کو کہلا بھیجا کہ غیر ارادی طور پر ہم سے غلطی ہو چکی ہے، آپ صبر سے کام لیں اور کوئی کارروائی نہ کریں، ہم آپ کو مزید جائیداد عطا کریں گے اور آپ (قاضی عنایت علی) کو تھانہ بھون کا مستقل نواب تسلیم کر لیں گے۔ انگریز کی اس پیشکش کو شہید کے بھائی قاضی عنایت علی نے ٹھکرا دیا اور جہاد کے مشوروں میں باقاعدہ شریک رہے۔
جہاد کی تیاریاں
جہاد پر مشاورت کے دوران مولانا شیخ محمد تھانوی نے اعتراض اٹھایا کہ اگر آپ کی جہاد پر تمام شرطیں مان لی جائیں، تو سب سے بڑی شرط جہاد میں امام کا ہونا ہے، امام کہاں ہے؟ (سوانح قاسمی، جلد دوم، ص ۱۲۳) مولانا شیخ محمد احمد تھانوی کے اعتراض پر مولانا محمد قاسم نانوتوی نے بڑے ادب سے پوچھا: حضرت! کیا وجہ ہے کہ آپ دشمنانِ دین وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے؟ جواب میں مولانا شیخ محمد نے کہا: ہمارے پاس نہ تو اسلحہ ہے اور نہ ہی آلاتِ جہاد ہیں، ہم بالکل بے سروسامانی میں کیا کر سکتے ہیں؟ اس پر مولانا نانوتوی نے برجستہ کہا: اتنا بھی نہیں جتنا کہ غزوۂ بدر میں تھا؟ اس پر مولانا شیخ محمد احمد تو خاموش ہو گئے (یہی وہ موڑ ہے جہاں سے تھانہ بھون کے علماء اور دیوبند کے علماء میں سیاسی اختلاف کی خلیج حائل ہوئی اور تا آن موجود ہے) مگر حافظ محمد ضامن نے کہا: بس مولانا! بات سمجھ میں آگئی۔
یہ کہہ کر آپ نے حاجی امداد اللہ کو امام مقرر کیا اور مولانا محمد قاسم کو سپہ سالار، مولانا رشید احمد کو قاضی اور مولانا محمد منیر نانوتوی اور حافظ محمد ضامن تھانوی محاصرے کے آفیسر قرار دیے گئے۔ (نقشِ حیات حضرت مدنیؒ، جلد دوم، ص ۴۲، ۴۳)
ان فوجی عہدوں کی تقسیم کے بعد جہاد کی تیاریاں شروع ہو گئیں … جب اللہ کے راستے میں جہاد کا عزم ہو تو سامانِ جہاد کی فراہمی بھی اللہ کے سپرد کر دینی چاہیے۔ مولانا محمد قاسم نے مولانا شیخ محمد کے جواب میں جب میدانِ بدر کا حوالہ دیا، تو انہیں یقین تھا کہ ناخدا جن کا نہ ہو، ان کا خدا ہوتا ہے۔ مجاہدین کے پاس لاٹھیوں، پرچھوں، چند تلواروں اور توڑے دار بندوقوں کے سوا اور تھا ہی کیا؟ جبکہ انگریزی افواج آتشیں ہتھیاروں سے مسلح تھیں۔ مجاہدین اس سوچ میں تھے کہ یکایکی اطلاع ملی کہ رات انگریز فوج کا دستہ بمعہ توپ خانے اور دیگر سامانِ حرب کے ولہنگیوں کے ساتھ شیر علی کے باغ والی سڑک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ یہ سڑک تھانہ بھون کے قریب سے گزرتی تھی۔ اس اطلاع پر مولانا گنگوہی، حافظ محمد ضامن، مولانا محمد قاسم اور قاضی عنایت علی اپنی رعایا کے ساتھ باغ کے ایک کنارے چھپ کر بیٹھ گئے اور یہ فیصلہ ٹھہرا کہ جیسے ہی مولانا محمد قاسم کا اشارہ ہو، آپ انگریزی قافلے پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس اچانک حملے سے افواج انگریزی میں ایسی بھگدڑ مچی کہ سپاہی فوجی سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اس افراتفری میں کچھ فوجی ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے۔ اس طرح مجاہدین کے ہاتھ توپ خانہ اور بہت سا دوسرا سامان آیا، جو انہوں نے حاجی امداد اللہ کے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دیا۔
انگریز کو اطلاع مل چکی تھی کہ تھانہ بھون کے لوگ بغاوت کی تیاریاں کر رہے ہیں، اس خیال سے یہ فوجی سامان شاملی میں جمع کیا جا رہا تھا۔ شاملی، مظفر نگر اور سہارنپور کے درمیان ایک اہم تجارتی منڈی تھی۔ ہندوؤں کی آبادی زیادہ تھی اور کاروباری مرکز۔ جنگِ آزادی کے دنوں فوجی اعتبار سے شاملی بڑی اہمیت حاصل کر چکا تھا۔ جیسے ہی تھانہ بھون میں انگریز فوجی آفیسروں کے مارے جانے اور فوجی سامان کے چھن جانے کی خبر ضلع کے حاکم کے پاس پہنچی، اس نے تھانہ بھون پر حملہ کا حکم دے دیا۔ ادھر تھانہ بھون میں جب انگریز کے حملہ کی اطلاع ملی تو نقارہ بجا دیا گیا اور مجاہدین کے قافلے شاملی پہنچنا شروع ہو گئے۔
۱۲ ستمبر ۱۸۵۷ء کا دن محاذِ شاملی کا اہم دن ہے۔ جب مجاہدین شاملی پر یلغار کر کے تحصیل پر قابض ہو گئے، جو قلعہ کی مانند ایک اہم جگہ تھی، پیشتر سے انگریز فوج یہاں قلعہ بند ہو چکی تھی، لیکن مجاہدین نے جرأت اور دلیری سے مقابلہ کر کے تحصیل کا پھاٹک توڑ دیا اور پہلے سے قابض انگریزوں کا قتلِ عام کیا۔ اس مورچہ پر انگریزوں کو شکست اٹھانی پڑی، جیسے کہ ایک انگریز واقعہ نگار ہنری جارج کین اس شکست کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’لڑائی تمام دن جاری رہی، چونکہ حملہ آور تعداد میں کہیں زیادہ تھے اور عوام بھی ان سے آن ملے تھے، اس لیے ان کا پلہ بھاری رہا۔ بہت سی عمارات کو آگ لگا دی گئی۔ تحصیل کے اندر گھرے ہوئے ایک سو تیرہ فوجی، جن میں علاقہ کا کلکٹر ابراہیم خان بھی تھا، ہلاک ہو گئے۔‘‘
حافظ محمد ضامن کی شہادت
شاملی کی لڑائی تحصیل تک محدود رہی۔ انگریز نے مظفر نگر اور سہارنپور سے اپنی فوجی طاقت اس محاذ پر جھونک دی تھی۔ جنگ اب تیسرے دن یعنی ۱۴ ستمبر میں داخل ہو چکی تھی، جس کی تفصیل ۸ ستمبر ۱۹۶۴ء کے روزنامہ کوہستان لاہور میں عشرت رحمانی یوں لکھتے ہیں:
’’تیسرے روز یعنی ۱۴ ستمبر (۱۸۵۷ء) کو مجاہدین کو پتہ چلا کہ قاضی عبد الرحیم کا قاتل رابرٹ چنکی معائنہ کی غرض سے شاملی آیا ہوا ہے۔ یہ قاضی عبد الرحیم کا قاتل اور تحریکِ آزادئ وطن کا بدترین دشمن بھی تھا۔ مجاہدین اس تاک میں تھے کہ کسی طرح اس سے انتقام لیں۔ چنانچہ شاملی میں اس کے قیام کا پتہ چلتے ہی مجاہدین اس کی کھوج میں نکل کھڑے ہوئے۔ قاضی عنایت علی اس دستے کی قیادت کر رہے تھے۔ لیکن راستے میں انگریز فوج سے مقابلہ ہو گیا۔ طرفین میں گھمسان کا رن پڑا۔ بھاری تعداد میں انگریزی فوج کو راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔ وہ تحصیل کی عمارت میں محصور ہو گئے۔ دروازہ بند کر کے فوج اور پولیس دیواروں پر سے مجاہدین پر گولیاں برساتے رہے، جو کھلے میدان میں صف آرا تھے۔ گولیوں سے حفاظت کا کوئی سامان نہ تھا۔ نتیجہ میں مجاہدین کا شدید جانی نقصان ہوا۔ مگر عزم و جرأت سے میدان میں ڈٹے رہے۔ مجاہدین کے پاس اسلحہ بھی کم تھا اور بھوکے پیاسے گولیوں کی بارش سروں پر برداشت کر رہے تھے۔ مگر استقامت کا یہ عالم کہ دو روز برابر اسی طرح جنگ جاری رکھی۔ تیسرے روز قائد لشکر حافظ محمد ضامن علی نے بڑھ کر تن تنہا تحصیل کے مستحکم پھاٹک پر ایسا حملہ کیا کہ دروازہ ٹوٹ گیا۔ مجاہدین و غنیم کی فوجوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ طرفین کے سینکڑوں آدمی زخمی و ہلاک ہوئے۔ انگریزی فوج کی گولیوں کی پرواہ نہ کر کے حضرت حافظ ضامن نے سینہ سپر ہو کر فاتحانہ پیش قدمی میں جامِ شہادت نوش فرمایا (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اس سے اور بھی جوش بڑھا۔ مجاہدین تحصیل کے اندر داخل ہو گئے اور فتح پائی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کلکٹر کی شاملی میں آمد کی خبر درست نہ تھی۔‘‘
شاملی محاذ کے مذکورہ بالا واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:
’’حافظ ضامن شہید نے حملہ کر کے تحصیل کا دروازہ توڑ دیا۔ دروازے کے قریب چھپر کی ایک کٹیا تھی، جو غالباً محافظ سپاہیوں کے سایہ کے لیے بنائی گئی تھی۔ مولانا نانوتوی نے جلدی سے بڑھ کر اس چھپر کو اپنی جگہ سے اٹھا کر تحصیل کے دروازے سے لا ملایا اور اس کو آگ دے دی۔ آگ کا لگنا تھا کہ تحصیل کے پھاٹک کے کواڑ جل اٹھے۔ بند دروازہ مجاہدین کے لیے وا ہو گیا۔ یلغار کرتے ہوئے مجاہدین تحصیل کے اندر داخل ہو گئے اور دست بدست جنگ ہونے لگی اور پانسہ مجاہدین کے حق میں پلٹ آیا۔‘‘
ایک دوسری تحقیق ہے کہ جیسے ہی انگریز شکست کھا کر پیچھے ہٹے اور شاملی تحصیل پر مجاہدین کا قبضہ ہو چکا، تو ضامن محاذ پر مجاہدین کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اس اثناء میں جب وہ تحصیل کی طرف اپنا رخ موڑے کھڑے محاذ کا جائزہ لے رہے تھے، کہ دشمن کی ایک گولی ان کی ناف پر لگی اور حافظ صاحب تڑپ کر زمین پر آ گرے اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شہادت کے بعد مولانا محمد قاسم، شہید کی لاش کندھے پر اٹھائے قریب کی مسجد میں آئے، قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی۔ آخر شہید کی لاش تھانہ بھون لا کر اسے آسودۂ خاک کر دیا۔
سودا قمارِ عشق میں خسرو سے کوہ کن
بازی اگرچہ لے نہ سکا، سر تو کھو سکا
سرسید کی رائے
’’ستمبر ۱۸۵۷ء میں دفعتاً مسلمانانِ تھانہ بھون نے، جن کا آفیسر قاضی عنایت علی تھا، فساد برپا کر دیا اور ایک بڑے گروہ نے تحصیل شاملی پر حملہ کر دیا۔ اس وقت تحصیل شاملی میں تخمیناً دس سوار پنجابی رسالے کے، اور اٹھائیس سپاہی جیل خانے کے، اور پچاس سے زائد سپاہی متعینہ تھانہ، اور تحصیل کے باقی آدمی۔ اس آفیسر کے خاندان کے بمعہ اکبر خان، اس کے بھائی کے، جو رام پور سے گئے تھے اور وہاں موجود تھے۔ یہ آفیسر باکمال اور دلیری اور بہادری سے لڑا اور تحصیل شاملی کو مستحکم کرا کر اس میں محصور ہو کر بخوبی لڑا اور ہر دفعہ مفسدوں کے حملہ کناں کو ہٹا دیا اور بہت سے آدمی ان کے مارے گئے۔ آخر کو گولی و بارود تحصیل میں ختم ہو چکی اور نہایت مجبوری کا وقت آیا اور مفسدوں کا گروہ بے قابو ہو گیا اور وہ لوگ تحصیل کے قریب آ گئے۔ وہاں بھی مقابلہ ہوا اور یہ آفیسر نہایت بہادری سے بمعہ اکثر آدمیوں اپنے خاندان کے کام آیا اور شرطِ نمک حلالی کو پورا کیا۔
یہ قتل و خونریزی شاملی میں ۱۴ ستمبر ۱۸۵۷ء کو واقعہ ہوئی۔ یہ دن دہلی کی فتح کا دن تھا، مگر نہایت افسوس ہے کہ اس آفیسر کے کان تک مژدۂ فتح دہلی، جس کا وہ ہر دم مشتاق تھا، پہنچنے نہ پایا تھا۔ اس ہنگامے میں ایک سو تیرہ آدمی، جن میں سو سے زیادہ مسلمان تھے، کام آئے اور ہر ایک تمغۂ خیرخواہی انگریز اپنے نام کے ساتھ لے گیا۔ یہ ہنگامہ جو تحصیل شاملی میں تھانہ بھون کے مفسدوں کے ساتھ ہوا، وہ ہنگامہ ہے جس کا مفسدانِ تھانہ بھون نے جہاد نام رکھا تھا۔ مگر ان تمام حالات کو دیکھنے سے واضح ہوگا کہ جو لوگ ان مفسدوں کے مقابلہ میں آئے اور دوبدو ہو کر لڑے اور بہتوں کو جان سے مارا اور مرتے دم تک مقابلہ اور مقاتلہ سے باز نہ رہے، وہ بھی مسلمان تھے اور نیک بخت اور اپنے مذہب کے پکے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مفسدوں نے صرف فساد مچانے اور ہنگامہ کرنے کو اپنے فسادوں کو جھوٹا جہاد کے نام سے مشہور کیا تھا۔‘‘ (واحد الوجود، ص ۵۳ تا ۵۶)
سرسید کی اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’انوار قاسمی‘‘ کے مصنف پروفیسر محمد انوار الحسن شیرکوٹی ص ۲۸۶ پر لکھتے ہیں:
’’ہمیں سرسید کی روح سے معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجاہدینِ آزادی کے بڑے بڑے بزرگوں کے لیے سرسید نے جو سوقیانہ الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ انہیں زیب نہیں دیتے۔ نواب محمود خان کو نامحمود، عبد الکریم عرف ماڑے خان شیرکوٹی کو …، مجاہدینِ تھانہ بھون کو، جن میں حاجی امداد اللہ، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم، حافظ محمد ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہم اجمعین تھے، انہیں مفسدین لکھنا غیرمہذب اور ناشائستہ حرکت ہے۔ بھلا انگریزوں کے طرفدار مسلمانوں کو پکا مسلمان کہنا کس کی حدیث میں لکھا ہے؟ کیا سرسید بتائیں گے کہ قاضی عنایت علی کے چھوٹے بھائی اور ان کے ساتھیوں کو بلا تحقیق پھانسی دے دینا، گولیوں سے اڑا دینا، ان کے نزدیک کس طرح جائز ہے؟ رہا ابراہیم تحصیلدار کا بھرم، تو سرسید کے اس جملے سے کھل جاتا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس افسر کے کان تک مژدۂ فتح دہلی، جس کا وہ ہر دم مشتاق تھا، پہنچنے نہیں پایا تھا۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!
بسوخت منقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است
شکست کا انتقام
ہارا ہوا جواری اور شکست خوردہ بادشاہ جب انتقام پر اترتے ہیں، تو متاعِ عزیز کو بھی اپنے ارادوں پر قربان کر دیتے ہیں۔ دہلی کی فتح اور جنگِ آزادی پر قابو پانے کے بعد شاملی جیسے مختصر محاذ پر انگریز کی شکست اس کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔
مولانا حافظ محمد ضامن کی شہادت کے بعد مجاہدین کے دل ٹوٹ گئے اور دشمن اپنے ارادوں کی دیوار پر چڑھ کر مجاہدینِ حریت کو تاک تاک کر اپنے ظلم کا نشانہ بنانے لگا، یہاں تک کہ ۱۶ ستمبر (۱۸۵۷ء) کو تھانہ بھون کا تمام قصبہ جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس وحشیانہ کارروائی میں انگریز فوج کے علاوہ سکھ اور گورکھا فوجی بھی شریک تھے۔ ان کی کمان ایڈورس کے ہاتھ میں تھی۔ مجاہدین جو افواج کے ہاتھ لگے، پھانسیوں پر لٹکا دیے گئے۔ ہنوز مولانا حاجی امداد اللہ، مولانا محمد قاسم، مولانا رشید احمد گنگوہی دشمن کی دشمنی سے محفوظ تھے، گو ان کے وارنٹ جاری ہو چکے تھے۔ دشمن شکاری کتے کی طرح ان رہنماؤں کے قدموں کی بو سونگھتا رہا …
حضرت حاجی امداد اللہ کی مکہ مکرمہ روانگی اور وفات
جہادِ شاملی کے یہ بہادر جرنیل اور انگریز کے باغی حضرت مولانا حاجی امداد اللہ فقروفاقہ کی سختیاں جھیل کر کراچی کے راستے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔ یہیں سے آپ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلانے لگے۔ مکہ مکرمہ میں آپ نے چالیس برس تک کلام اللہ کا درس دیا۔ آخر ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۷ھ بمطابق ۱۸۹۹ء بروز بدھ صبح اذان کے وقت ۸۴ سال کی عمر پا کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور یہیں کے معروف قبرستان جنت المعلیٰ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے پہلو میں سپردِ خاک کیے گئے۔
مولانا رشید احمد گنگوہی
تسبیح ٹوٹ جائے تو دانے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، مگر میدانِ جنگ میں شکست کھانے والے سپاہی اور جرنیل مشکل سے اکٹھے ہوتے ہیں۔ جہادِ شاملی میں انگریز کی کامیابی کے بعد مجاہدین اور سپہ سالار اس طرح بکھرے کہ پھر کبھی نہ مل سکے۔ حضرت مولانا امداد اللہ مہاجر مکی کے بعد اس محاذ کے دوسرے جرنیل مولانا رشید احمد گنگوہی تھے۔
حاجی امداد اللہ کی گرفتاری سے نامراد ہو کر انگریزی جاسوس اور مخبر مولانا رشید احمد کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے، مگر مولانا رشید احمد انگریز کے ہاتھوں دامن بچا کر اپنے گاؤں رام پور میں حکیم ضیاء اللہ کے مکان میں پناہ گزین ہو گئے۔ اس دوران فرانسیسی کرنل اپنے ایک مخبر غلام علی بمع اپنے سترہ فوجی سواروں کے، جن میں سکھ اور مسلمان شامل تھے، گنگوہ پہنچے۔ مولانا کو یہاں نہ پا کر یہ فوجی جتھہ رام پور پہنچا اور مولانا گرفتار کر لیے گئے۔ آپ نے گرفتاری کے وقت کسی اضطراب کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی گرفتاری دینے میں تامل کیا۔ فوجی دستہ بغیر کسی تکلیف کے بڑے احترام کے ساتھ مولانا کو سہارنپور لے آیا اور جیل خانے میں بند کر دیا۔ کچھ دنوں یہاں تحقیق کے بعد حضرت کو ہتھکڑی اور بیڑیاں پہنا کر مظفر نگر جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں قریباً چھ ماہ تک آفیسر تحقیق کرتے رہے۔ آخر عدالت کے روبرو پیش کیے گئے۔
اس موقع پر عدالت نے سوال کیا: رشید احمد! تم نے مفسدوں کا ساتھ دیا اور فساد کیا؟
جواب: ہمارا کام فساد کا نہیں، نہ ہم مفسدوں کے ساتھی ہیں۔
سوال: تم نے سرکار کے مقابل میں ہتھیار اٹھائے؟
جواب: (آپ نے اپنی تسبیح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) ہمارا ہتھیار تو یہ ہے۔
سوال: تمہارا پیشہ کیا ہے؟
جواب: کچھ بھی نہیں، مگر زمینداری۔
غرض حاکم نے ہر چند تحقیق اور تجسیس و تفتیش میں پوری کوشش صَرف کر دی اور ہر بات کا معقول جواب پایا، اور حضرت کو باعزت بری کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد گنگوہ پہنچ کر آپ درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ تمام عمر ریاضتِ الٰہی میں مشغول رہ کر ۱۱ اگست ۱۹۰۸ء کو اس جہاں سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی
ہر قیمتی چیز کی حفاظت نظامِ فطرت کے اصولوں میں داخل ہے۔ پھول جس قدر خوبصورت ہوتا ہے، کانٹے اسی قدر اس کا گھیراؤ کیے ہوتے ہیں۔ قول اور فعل کے میدان میں مولانا محمد قاسم نانوتوی نے قلم اور سیف کا جس انداز سے مظاہرہ کیا، فطرتِ انسانی کے لیے یہی زیور پسندیدہ رہا۔ یہی جوہر تھا جسے حق تعالیٰ نے مستقبل کے لیے سنبھالنا چاہا، ورنہ تھانہ بھون اور شاملی کے جہاد میں مولانا محمد قاسم نے انگریز کو جس انداز سے للکارا، فرنگی نے اسی قدر انہیں سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ مگر جسے خدا رکھے۔ انگریز کے تمام ارادوں کی خاک اس کے مقدر کی سیاہی بن گئی۔
مولانا محمد قاسم انجام سے ماوراء تھے۔ احباب کی خواہش پر کچھ دن روپوش رہے، آخر یہ کہہ کر سامنے آ گئے کہ سنتِ رسولؐ یہی ہے کہ تین دن سے زیادہ روپوش نہ رہا جائے (ہجرت کے بعد سرکارِ دو عالم ﷺ تین دن ہی غارِ ثور میں روپوش رہے)۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ سسرال کے ہاں سے نکل کر دیوبند میں چھتے کی مسجد میں آ رہے اور مخبر نے اطلاع کر دی کہ آپ یہاں ہیں۔ چنانچہ پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ان کی آنکھوں میں ایسی مٹی پڑی کہ مولانا کو دیکھ کر بھی پہچان نہ سکے، حالانکہ وہ مسجد کے برآمدے میں ٹہل رہے تھے۔ اور پولیس کپتان نے حضرت سے پوچھا: مولانا محمد قاسم کہاں ہیں؟ حضرت نے دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا: ابھی یہیں کھڑے تھے۔ یہ سن کر کپتان پولیس اِدھر اُدھر ڈھونڈنے لگا اور مولانا پولیس کے درمیان سے گزر کر چپ چاپ مسجد سے باہر نکل گئے۔ حضرت کے باہر ہوتے ہی دیکھا تو پولیس کپتان نے کہا: مولانا تو یہی معلوم ہوتے ہیں، جو جا رہے ہیں۔
اس پر پولیس نے اس مسجد کا بھی محاصرہ کر لیا جہاں حضرت نے قیام کیا۔ اس موقع پر پھر حضرت چادر اوڑھے ہوئے پولیس کے درمیان سے گزر گئے اور دوسری مسجد میں پہنچ گئے …… غرض پولیس اور مولانا محمد قاسم کے درمیان یونہی آنکھ مچولی ہوتی رہی۔
ہجرت
اس دوڑ دھوپ میں مولانا کو چین تو نصیب نہ ہو سکا، مگر خاموش بھی نہ رہے۔ جہاں کہیں موقع ملتا، انگریز کے خلاف اپنے دامن سے بغاوت کی ہوا دیتے رہتے۔ تا آنکہ وہ ہجرت کر کے مکہ معظمہ چلے گئے، جہاں اپنے مرشد مولانا امداد اللہ مہاجر مکی سے ملے اور ایک سال ان کی خدمت میں رہے۔
اس دوران ۱۸۵۹ء میں جب ملکہ وکٹوریہ نے تمام مجاہدین اور انقلاب پسندوں کی معافی کا اعلان کیا، مگر اعلان کے باوجود بھی جو لوگ سامنے آئے، انہیں گرفتار کر کے سخت سزائیں دی گئیں۔ اس بنا پر مولانا محمد قاسم ۱۹۶۱ء کو وطن واپس لوٹے۔ اس طرح شاملی کے محاذ کے رہنماؤں کی کہانی اختتام کو پہنچی۔


















