جولائی ۱۹۹۷ء
تحریکِ آزادی میں علماء کا کردار

آزادی، علماء اور نئی پود

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جس طبقے نے آگے بڑھ کر ایثار و قربانی اور عزیمت و استقامت کی روایات کو زندہ کیا اور امتِ مسلمہ کی جرأت مندانہ قیادت کی، وہ بوریہ نشین علماء کرام کا گروہ...

شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

― شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم الصدیقی النانوتویؒ بن شیخ اسد علی بن شیخ غلام شاہ الخ۔ آپ سیدنا حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل اور اولاد میں تھے اور ۱۲۴۸ھ/۱۸۳۲ء کو قصبہ نانوتہ میں پیدا ہوئے۔ تاریخی...

تحریکِ آزادی میں شاملی کا محاذِ جنگ

― الحاج مرزا غلام نبی جانبازؒ

یوں تو مئی سے ستمبر ۱۸۵۷ء تک ہندوستان نے فرنگی اقتدار کے خاتمے کے لیے جس قدر آزادی کی جنگ لڑی، علمائے دین اس میں بطور ہراول دستہ شریک رہے، تاہم شاملی کے محاذ کا ذکر کیے بغیر یہ داستان ادھوری رہے گی۔ گو اس میدان میں کام...

فرائضی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ اور دودو میاںؒ

― دائرہ معارف اسلامیہ

فرائضی تحریک کے بانی حاجی شریعت اللہ ۱۸۸۲ء میں ضلع فرید پور (بنگال) کے ایک گاؤں بندر کھولہ میں پیدا ہوئے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں وہ حج کے لیے مکہ معظمہ چلے گئے، جہاں وہ شیخ طاہر السنبل الشافعی کے حلقۂ ارادت میں شریک ہو...

جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور

― پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

سیّد احمد شہیدؒ کی تحریک تجدید و احیائے دین اور جہاد کی تحریک تھی۔ توحیدِ خالص کی تبلیغ، شرک و بدعت اور قبر پرستی کا استیصال، مراسمِ محرم کی بیخ کنی، شادی و غمی اور دیگر تقریبات کے غیر اسلامی مراسم کے بجائے اسلامی سادہ...

احمد خان کھرل — پنجاب کا ایک عظیم مجاہدِ آزادی

― پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

احمد خان کھرل جنگِ آزادی کا مشہور جانباز سپاہی اور قائد ہے، جس نے ضلع منٹگمری میں ۱۸۵۷ء میں آزادی کے جھنڈے کو بلند کیا اور اپنی جان دے کر بقائے دوام حاصل کی۔ راجپوت پنور کی ایک شاخ کھرل ہے، اسی قبیلے سے اس کا تعلق...

تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ

― پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

مولوی عبد القادر ابن حکیم حافظ عبد الوارث، رائیں قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ تقریبا ۲۰۶ھ میں موضع نوکھر وال ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پھر ان کے والد نے موضع بلیہ وال ضلع لدھیانہ میں سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم والد...

تحریکِ آزادی کا پہلا میدانِ کارزار – اکوڑہ خٹک

― پروفیسر محمد افضل رضا

دادی گندھارا کا قدیم ترین صوبہ اکوڑہ خٹک، اگرچہ اکوڑا خان (۹۸۹ھ، دور اکبری) کے نام سے موسوم ہے جو صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک کا جد امجد تھا، لیکن غزنوی اور غوری ادوار میں اسے سرائے کی حیثیت حاصل...

دار العلوم دیوبند

― مولانا عبد الحق خان بشیر

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔ انگریز دوبارہ اقتدارِ دہلی پر قبضہ مستحکم کر چکے تھے۔ ہزاروں علماء اور عوام کا لہو بہانے کے بعد وحشت و بربریت اور خونی انتقام کا طوفان کافی حد تک تھم چکا...

قادیانیت اور برطانوی استعمار

― آغا شورش کشمیریؒ

مرزائیت کی اصل بنیاد دین نہیں، سیاست ہے۔ اس کا مطالعہ دینی اعتبار سے نہیں، بلکہ سیاسی اعتبار سے کرنا چاہیے۔ ان سے مذہبی بحث چھیڑنا ہی غلط ہے؛ ان کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہیے، جیسا کہ علامہ اقبال کا خیال...

شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ

― ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

حضرت شیخ الہند ۱۲۶۸ھ بمطابق ۱۸۵۱ء میں بریلی میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد مولانا ذوالفقار علی بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے۔ مولانا ذوالفقار علی ان نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جو دارالعلوم دیوبند کے قیام میں ساعی تھے اور اس...

ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا

― پروفیسر اولف شمل

ریشمی رومال تحریک کا اصل نام ’’برلن پلان‘‘ تھا، جو ۱۵ اگست ۱۹۱۵ء کو کابل میں جرمنی اور ترکی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ ہندوستان کی آزادی کے اس منصوبے کی تشکیل میں راجہ مہندر پرتاب، مولانا برکت اللہ اور مولانا عبید اللہ...

تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا عزیر گلؒ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سترہ نومبر کو روزنامہ جنگ لاہور کے آخری صفحہ پر ایک کونے میں یہ خبر نظر سے گزری کہ تحریکِ آزادی برصغیر کے نامور مجاہد اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے رفیق حضرت مولانا عزیر گلؒ انتقال فرما گئے، انا للہ وانا...

تحریکِ خلافت

― شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

پہلی عالمگیر جنگ میں ترکوں نے انگریزوں کے خلاف جرمنی اور آسٹریا کا ساتھ دیا تھا۔ نومبر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کو فتح ہوئی۔ ۵ جنوری ۱۹۱۸ء کو برطانوی وزیرِ اعظم لائیڈ جارج نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے زور دے کر واضح کیا...

برٹش گورنمنٹ کی پالیسی

― شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

’’سب سے بڑا اور اہم واجب اور ضروری فرض یہ ہے کہ ہم نہایت شدومد سے پورے استقلال و عزم کو کام میں لاتے ہوئے اس ناپاک پالیسی کا مقابلہ کریں، خصوصاً جب کہ تمام قانونی کارروائیاں بے سود ثابت ہو چکی ہیں اور نہایت زیادہ لازم...

قادیانی جماعت اور انگریز حکومت کی باہمی تائید

― چودھری افضل حق

ہندوستان کی سرزمین بڑی عجیب ہے۔ قادیان میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ۳۰–۴۰ برس کی توجہ تعمیری کاموں کی بجائے اس متنبی کی طرف لگی رہی۔ ایک حصہ کٹ کر الگ...

جولائی ۱۹۹۷ء

تحریکِ آزادی میں علماء کا کردار

جلد ۸ ۔ شمارہ ۳

آزادی، علماء اور نئی پود
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تحریکِ آزادی میں شاملی کا محاذِ جنگ
الحاج مرزا غلام نبی جانبازؒ

فرائضی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ اور دودو میاںؒ
دائرہ معارف اسلامیہ

جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

احمد خان کھرل — پنجاب کا ایک عظیم مجاہدِ آزادی
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی کا پہلا میدانِ کارزار – اکوڑہ خٹک
پروفیسر محمد افضل رضا

دار العلوم دیوبند
مولانا عبد الحق خان بشیر

قادیانیت اور برطانوی استعمار
آغا شورش کشمیریؒ

شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا
پروفیسر اولف شمل

تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تحریکِ خلافت
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

برٹش گورنمنٹ کی پالیسی
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

قادیانی جماعت اور انگریز حکومت کی باہمی تائید
چودھری افضل حق

مطبوعات

تلاش

شماریات