’’ہندوستان کی سرزمین بڑی عجیب ہے۔ قادیان میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ۳۰، ۴۰ برس کی توجہ تعمیری کاموں کی بجائے اس متنبی کی طرف لگی رہی۔ ایک حصہ کٹ کر الگ ہو گیا۔ انگریزی حکومت کے زیرِ سایہ جہاں چھوٹے بڑے راجے نواب پرورش پا کر سرکار کے گن گاتے ہیں، اسی طرح حکومت کو اعتراض نہ تھا اگر متعدد نبی اور کئی ایک سرکاری ولی پیدا ہو کر ان کے دعاگو بنے رہیں۔
انہیں امورِ سلطنت میں سہولت درکار تھی۔ مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کی تدبیروں میں سے یہ بھی حکومتِ انگریزی کی کارگر تدبیر تھی کہ روحانی اداروں پر ان کے ہوا خواہ قابض ہوں، اور یوں سرکارِ انگریزی کی وفاداری مسلمانوں کا جزوِ مذہب بن جائے۔ پنجاب اور سندھ میں [ہر] پیرخانہ سرکاری تعلق داری اور وظیفہ خواری پر پرورش پا رہا ہے۔ یہ تو پیر تھے، مگر حکومت کو قادیان کا پیغمبر ہوا خواہی کے لیے مل گیا۔ مسلمان سیاسی اور مذہبی طور پر انگریزی غلامی پر مطمئن ہو گئے۔ مسلمانوں کی موجودہ مدہوشی کی بڑی وجہ انگریز کی یہ کامیاب تدبیر ہے۔ پھر تو ساری اسلامی آبادی حکومت کی منقولہ جائیداد بن کر رہ گئی تھی۔ جہاں سے اٹھائیں، جہاں ڈالیں۔ مخالفت کی ایک آواز نکالنا مشکل تھی۔
انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ تائید قادیان کی جماعت کو حاصل تھی۔ یہ تائید اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے۔ بعض جگہ تو سارے کا سارا ضلع ان کے اثر و رسوخ میں آ گیا۔ لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لیے قادیانی کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ محکمہ سی آئی ڈی تو الگ رہا، قادیانی مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے۔
حکومتِ وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لیے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے۔ اسی لیے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی آواز کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد خائف تھے۔ یہ لوگ معمولی آئینی ایجی ٹیشن کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کرتے تھے۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ جسے یہ تائید حاصل ہو گئی، اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی۔‘‘
(مفکرِ احرار چودھری افضل حقؒ)


















