وادی گندھارا کا قدیم ترین صوبہ اکوڑہ خٹک، اگرچہ اکوڑ خان (۹۸۹ھ، پ) (دورِ اکبری) کے نام سے موسوم ہے، جو صاحبِ سیف و قلم خوشحال خان خٹک کا جدِ امجد تھا، لیکن غزنوی اور غوری ادوار میں اسے سرائے کی حیثیت حاصل تھی۔ وسطِ ایشیا سے تجارتی مال و اسباب لے کر درۂ خیبر کے راستے پشاور میں داخل ہوتے اور قیام کرنے کے بعد برصغیر میں وارد ہونے کے لیے اٹک کے مقام سے کچھ فاصلے پر قائم دریائے کابل اور پہاڑوں کے درمیان اس تاریخی سرائے میں قیام کرتے تھے۔ اکوڑہ خٹک اب تک سرائے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بلکہ حال ہی میں اکوڑہ خٹک میں واقع عمرا خان غونڈئی سے گوتم بدھ کے بتوں کی برآمد سے یہ بات بھی قرینِ قیاس ہے کہ یہ سرائے قبل مسیح زمانے کی ہے جو اپنی قدامت اور تاریخی اہمیت کے لحاظ سے مزید تحقیق کا تقاضا کرتی ہے۔
دورِ اکبری
تحریکِ آزادی میں فرزندانِ اکوڑہ خٹک کے تاریخی کردار کا جائزہ لیتے وقت سب سے پہلے موجودہ اکوڑہ خٹک کے بانی اکوڑ خان کی شجاعت پر نظر پڑتی ہے، جنہوں نے علاقہ چراٹ میں آباد ہندو جوگیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا، کیونکہ وہ اسلام کے خلاف منافرت پھیلانے میں مصروف تھے، اور اکبر کی نرم مذہبی پالیسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کفر و شرک کی اشاعت کو اپنا فریضۂ اول سمجھتے تھے۔ ایک بار اکبر نے اکوڑ خان خٹک سے ایسے ہندوؤں کی تعداد کے بارے میں پوچھا جنہیں مذہبی حمیت کی وجہ سے آپ نے قتل کیا ہے، تو آپ نے جواب دیا: شمار معلوم نہیں، البتہ ایک طرح سے حساب لگایا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ اُن کے کان میں جو بالی ہوتی تھی، قتل کرنے کے بعد وہ بالی اتار کر مٹکے میں رکھ دیتا تھا، اور اس طرح ان سے دو بڑے مٹکے بھر گئے۔ اکوڑ خان پہلے ان جوگیوں کو دعوتِ اسلام دیا کرتا تھا، اگر دعوت رد کر دی جاتی تو انہیں قتل کر دیا جاتا۔ (پشتون کون؟ پروفیسر پریشان خٹک، ص ۳۲۷-۳۲۸)
دورِ شاہجہانی
شاہجہانی دورِ حکومت میں یہاں حضرت شیخ المشائخ قطب الاقطاب شیخ اخ الدین سلجوتیؒ کا سلسلۂ رشد و ہدایت جاری تھا۔ دینی علوم میں حضرت شیخ قطب الاقطاب حضرت شیخ رحم کار کاکا صاحبؒ کے استاد تھے لیکن طریقت میں آپ ان کے مرید تھے۔ ۱۰۷۴ء میں اکوڑہ خٹک میں وفات پائی۔ آپ کا مزار مرجع خاص و عام ہے۔
شاہجہانی دور میں صاحبِ سیف و قلم خوشحال خان خٹک نے مذہبی اور اسلامی جذبۂ جہاد کے تحت ۱۶۴۲ء میں مہم کاتگرہ میں مغل حکومت کے باغی راجہ جگت سنگھ کے خلاف تلوار اٹھائی اور اسے شکست دے کر قلعہ تارا گڑھ فتح کیا۔
اسی مغلیہ دورِ حکومت میں شیخ یاسین افغانؒ کی اولاد میں حضرت شیخ سلیمان صاحبؒ اور حضرت مولا حسین صاحبؒ کفر و شرک کے خلاف اسلامی تعلیمات کی تبلیغ و تدریس میں مصروف رہے۔ مانکی شریف کا مشہور علمی اور روحانی پیر خاندان اور اکوڑہ کے مشہور عالمِ دین قاضی امین الحق صاحبؒ اور دیگر قاضی خیل اور ملایان خاندان وغیرہ آپ کی اولاد میں شامل ہیں۔
مغلیہ دور میں خوشحال خان خٹک کے برادرِ خورد قطب الاقطاب فقیر جمیل بیگ صاحبؒ بھی تبلیغِ اسلام اور رشد و ہدایت میں مصروف رہے۔ آپ شیخ رحم کار کاکا صاحبؒ کے مرید خاص اور خلیفۂ مجاز تھے۔
دورِ احمد شاہ ابدالی
احمد شاہ ابدالی کے زمانے میں جب مرہٹوں نے پنجاب پر حملہ کیا تو احمد شاہ ابدالی نے جنگِ حسن ابدال میں مرہٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سردارانِ اکوڑہ خٹک کو بھی روانہ کیا۔ سردار اکوڑہ خوشحال خان ولد سعد اللہ خان خٹک حسن ابدال کے مقام پر مرہٹوں کے خلاف بہادری کے جوہر دکھاتا ہوا شہید ہوا۔ بعد میں سعادت مند خان اکوڑہ بھی جنگ میں شامل ہوا۔ آپ نے بہادری اور شجاعت کے وہ کارنامے سر انجام دیے کہ احمد شاہ ابدالی نے خوش ہو کر جہلم تک کی حکمرانی سعادت مند خان خٹک کو بخشی۔ پانی پت کی تیسری لڑائی (۱۷۶۱ء) میں احمد شاہ ابدالی نے آپ کی شجاعت اور دلیرانہ کارکردگی کے پیش نظر آپ کو سرفراز خان کا خطاب بخشا۔
سکھوں کا دورِ حکومت
امام الہند شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی تعلیمات سے فیض یاب جانشین حضرت عبد العزیز صاحبؒ نے برصغیر کے مسلمانوں میں نئی روح پھونکنے کے لیے جس مبارک تحریک کی بنیاد ڈالی تھی، اس کا موثر ترین اظہار سید احمد شہید بریلویؒ (۱۷۸۶ء-۱۸۳۱ء) اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی زیر قیادت ہوا۔ حضرت سید احمد شہید بریلویؒ نے ۱۷ جنوری ۱۸۲۶ء کو سفرِ جہاد اختیار کیا۔ اس وقت آپ کے ہمراہ پانچ چھ ہزار ہندوستانی مجاہد تھے جنہوں نے سکھوں کے خلاف جہاد کرنے اور مسلمانانِ پنجاب و سرحد کو مذہبی آزادی دلانے اور اسلامی شریعت نافذ کرنے کا پختہ عزم کیا۔ بریلی سے گوالیار، ٹونک، اجمیر، مارواڑ، حیدرآباد، شکار پور، بولان، قندھار ہوتے ہوئے کابل افغانستان پہنچ گئے۔ اور وہاں سے آپ خیبر کے راستے پشاور میں وارد ہو کر نوشہرہ پہنچے۔
بیعت و دعوتِ جہاد
جب ۱۸۲۶ء میں سفرِ جہاد کے سلسلے میں حضرت سید احمد شہید بریلویؒ اپنے مجاہدین کے ہمراہ کابل سے پشاور پہنچے۔ وہاں دو تین روز قیام کرنے کے بعد ہشت نگر چارسدہ تشریف لے گئے اور لشکر گاہ قائم کی، تو اس دوران اکوڑہ خٹک کا رئیس امیر خان خٹک ملاقات کے لیے پہنچا اور شرفِ بیعت سے مشرف ہوا، اور ساتھ ہی عرض کی کہ بدھ سنگھ بڑے لشکر کے ساتھ اکوڑہ خٹک پہنچ گیا ہے، مناسب یہ ہے کہ آپ یہاں سے کوچ فرماویں اور اس کو وہیں روک لیں۔
پہلا معرکۂ حق و باطل
جنگ شروع کرنے سے پہلے آپ نے دربارِ لاہور کو ایک تحریری اعلام نامہ حسبِ قاعدۂ شریعت بھیجا، لیکن دربارِ لاہور نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، بلکہ جرنیل بدھ سنگھ کو ایک بڑا لشکر دے کر مجاہدین کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ سب سے پہلا معرکہ ۲۱ دسمبر ۱۸۲۶ء کو نوشہرہ سے سات آٹھ میل کے فاصلے پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر ہوا۔ اس میں مجاہدین کامیاب رہے اور بدھ سنگھ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ (موج کوثر، شیخ محمد اکرم، ص ۳۵)
انگریز مورخ بھی اس سرزمین پر مجاہدین کی شجاعت کے گواہ ہیں۔ ’’دی پٹھان‘‘ کے مصنف اولف کرر لکھتے ہیں:
’’سید احمد نے سب سے پہلے سکھوں کی اس طاقتور فوج کا سامنا کیا، جو بدھ سنگھ سندھانوالیہ کی سرکردگی میں اکوڑہ بھیجی گئی تھی۔ سکھ کمانڈر نے دانش مندی سے کام لے کر اکوڑہ اور جہانگیرہ کے درمیان شیدو کے مقام پر مورچے بنا لیے تھے، جہاں سے سکھ فوج قبائل کے پرجوش حملے روکتی رہی، لیکن اسے سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا، یہاں تک کہ لڑائی زوروں پر تھی تو خود بدھ سنگھ بھی مارا گیا۔‘‘ (پٹھان، اردو ترجمہ، ص ۴۲۳)
تاریخی کتب کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں حریف فوج سات ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ جبکہ مقابلے میں مجاہدین کی تعداد سات سو تھی، جس میں پانچ سو ہندوستانی اور دو سو قندھاری اور مقامی مجاہدین شامل تھے۔ راہِ حق میں اس سرزمین پر دشمنانِ اسلام کے ہاتھوں شہید ہونے والے مجاہد شیخ باقر علی صاحبؒ تھے۔ ۱۰ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۲ھ مطابق ۲۰ دسمبر ۱۸۲۶ء، چہار شنبہ اور پنج شنبہ کی درمیانی شب کو اس معرکے میں ہندوستانی مجاہدین میں سے چھتیس اور قندھاریوں اور مقامی مجاہدین میں سے تقریباً پینتالیس شہید اور دونوں میں سے تیس چالیس مجاہدین زخمی ہوئے۔ سات سو سکھ مارے گئے…
سرزمین اکوڑہ خٹک پر حق و باطل کے اس معرکے کے اثرات کے بارے میں مولانا سید ابو الحسن ندویؒ ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں:
’’اس جنگ کا اثر مسلمانوں اور مخالفین پر خاطر خواہ ہوا۔ مسلمانوں کے دل بڑھ گئے اور حوصلے بلند ہوئے۔ دربارِ لاہور کی بھی آنکھیں کھلیں۔ ملکی سردار جوق در جوق آ کر مبارک باد دینے لگے…‘‘ (حصہ شسشم، جلد ۱، ص ۵۲۴-۵۲۵)
یاسین خیل خاندان کا جہاد
اکوڑہ خٹک کے مشہور یاسین خیل خاندان میں شیخ ضیاء الدینؒ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، جن کا شجرۂ نسب شیخ ضیاء الدین ابن بدر الدین ابن محمد ابراہیم ابن اکرم بیگ ابن فتح محمد ابن محمد یوسف ابن یاسین مختلف تاریخوں میں درج ہے۔ بقول مؤلف ’’اولیائے پاکستان‘‘ قاضی اثر، شیخ محمد یوسفؒ میرنی بابا کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا مزار موضع پڑانگ میں مرجع خلائق ہے۔ (اولیاء پاکستان، ص ۹۹۸)
اکوڑہ کے اسی خاندان میں، جہاں علماء مشائخ گزرے ہیں، اور یاسین خیل قاضیان اور ملایان کی حیثیت سے زیادہ تر افراد درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے ہیں بلکہ اب تک وابستہ ہیں۔ آج سے تقریباً تیس سال قبل اسی خاندان کے ایک بزرگ اکوڑہ خٹک کے مشہور مدرس جناب صاحبزادہ صاحبؒ نے راقم الحروف کو ملاقات میں بتایا تھا کہ اس قبیلے کے بعض گھرانوں کے افراد سے حضرت استاد شیخ ضیاء الدینؒ اور ان کے فرزند حضرت مولانا شیخ عبد الوہاب صاحبؒ المعروف بہ پیر صاحب مانکی شریف، جو انگریزوں اور سکھوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے، مجاہدین کے لیے بارود اور کمان تیار کروایا کرتے تھے۔ اس لیے بعض گھرانے داروگر اور کمان گر بھی مشہور ہوئے۔
الغرض سکھوں کے مظالم سے تنگ آ کر ان دونوں حضرات نے اکوڑہ سے ہجرت کی۔ ۱۸۵۰ء میں شیخ ضیاء الدین صاحبؒ بدرشی منتقل ہوئے، وہاں تلقینِ جہاد کے ساتھ جامع مسجد میں دینی علوم کی تدریس میں مصروف رہے۔ آپ کا مزار اکوڑہ خٹک میں شیخ سلیمان باباؒ قبرستان میں مرجع خلائق ہے۔ آپ کے فرزند حضرت شیخ عبد الوہاب صاحبؒ المعروف پیر صاحب مانکی شریفؒ (۱۲۲۲ھ-۱۳۲۲ھ) سیدو شریف کے حضرت غوث الزمانؒ کے مرید تھے، اور اپنے پیرِ طریقت کے ساتھ ۱۸۶۳ء میں امبیلہ (سرکاوی) کی جنگ میں انگریزوں کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ۱۸۹۵ء میں مالاکنڈ کے مقام پر انگریزوں کے خلاف مصروفِ جہاد رہے۔ قیامِ پاکستان کے لیے آپ کے نواسے جناب امین الحسنات پیر صاحب مانکی شریفؒ کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔
حاجی صاحب ترنگ زئی اکوڑہ خٹک میں
تحریکِ آزادی کی صفِ اول کے مجاہد جناب سید فضل واحدؒ المقلب بہ حاجی صاحب ترنگ زئیؒ انگریزوں کے خلاف معرکوں میں پشتون قوم کی رہنمائی اور قیادت کرتے رہے۔ اور ساتھ ہی معاشرتی اصلاح کا بیڑا بھی اٹھایا، آزاد مدارس کا جال بچھایا، غیر اسلامی طور طریقوں اور رسم و رواج کی بیخ کنی میں مصروف رہے۔ آپ اسی مشغلے میں ۱۹۰۴ء اور ۱۹۱۳ء میں اکوڑہ خٹک تشریف لائے۔ معاشرتی اصلاح کے ساتھ ساتھ یہاں کے باشندوں کو فرنگی استعمار کے خلاف نبرد آزما ہونے کی دعوت بھی دیتے رہے۔
تحریکِ ہجرت اور اکوڑہ خٹک کے مہاجرین
انگریز سامراج کے مظالم جب تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترکِ موالات کے نتیجے میں اپنی انتہا کو پہنچ گئے، تو ہندوستان کے مولانا عبد الباریؒ نے ۱۷۶۵ء میں جاری کردہ شاہ عبد العزیز صاحبؒ کے فتویٰ کی روشنی میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا۔ علمائے کرام اور پیرانِ عظام نے لوگوں کو ترکِ وطن پر آمادہ کرنے کی تحریک شروع کی۔ مئی ۱۹۲۰ء میں مولانا محمد علیؒ اور اس کے رفقاء نے وائسرائے ہند کو چیلنج دیا کہ اگر مسلمانانِ ہند کے مطالبات ایک ماہ تک منظور نہ کیے گئے تو ہندوستان کے مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور افغانستان چلے جائیں گے۔
اُن دنوں اعلیٰ حضرت امان اللہؒ نے بھی جذباتی تقریر کی، جو روزنامہ ’’امان افغان‘‘ میں نطقِ ہمایوں کے عنوان کے تحت شائع ہوئی۔ اس میں مولانا محمد علیؒ اور مولانا شوکت علیؒ (میر احمد خیل یوسفزئی) کے مطالبات اور ہجرت کے چیلنج کا ذکر تھا۔ غازی امان اللہؒ نے اس میں یقین دلایا تھا کہ افغانستان اپنی پوری استطاعت کے ساتھ اس قسم کے مہاجرین کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ اس تقریر نے مسلمانانِ ہند میں نیا جوش پیدا کیا اور اعلانِ ہجرت کیا۔ جون ۱۹۲۰ء میں جابجا ہجرت کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ صوبۂ سرحد کے گوشے گوشے سے مہاجرین کے قافلے بیل گاڑیوں، پا پیادہ اور بار بردار جانوروں کے ذریعے سوئے افغانستان روانہ ہوئے۔
اکوڑہ خٹک سے جن افراد نے اپنی بیل گاڑیوں میں پشاور تک سفر کیا اور بعد ازاں پیدل کابل پہنچے، ان میں زینور شاہ بابا (محلہ عادل ذات)، باچا گل (محلہ حاجی رحمان الدین)، سید احمد (محلہ شکور خان)، غلام جیلانی (محلہ قصاباں) اور بہت سے دوسرے حضرات شامل ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق صاحبؒ کے والد محترم جناب الحاج معروف گل صاحبؒ نے مہاجرین کے لیے بیل گاڑی خریدی تھی۔
خدائی خدمتگار تحریک اور اکوڑہ خٹک
۱۹۲۴ء میں باچا خان نے قید سے رہائی کے بعد پشتون قوم کی تعلیمی اور معاشرتی اصلاحی مہم کی ابتداء کی اور ’’انجمن اصلاح افاغنہ‘‘ قائم کی۔ بیرسٹر میاں احمد شاہ اور پشتو کے آتش نوا شاعر محمد اکبر خادم نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خادم صاحب اکوڑہ کے مشہور قبیلے ’’قریشیاں‘‘ سے تعلق رکھتے تھے…
انجمن اصلاح افاغنہ اور افغان یوتھ لیگ نے ۱۱ اپریل ۱۹۳۰ء کو خان عبد الغفار خان اور دیگر رہنماؤں کے مشورے سے ’’خدائی خدمتگار تحریک‘‘ کی شکل اختیار کی۔ ۲۲ اگست ۱۹۳۰ء کو اس تحریک کا حلف نامہ مرتب ہوا۔ برصغیر کی آزادی کے سلسلے میں اس تحریک نے جو قربانیاں پیش کی ہیں، وہ ہماری تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اکوڑہ کی جن سیاسی شخصیتوں نے خدائی خدمتگار تحریک اور بعد میں سرخ پوش تحریک و کانگریس میں نمایاں کردار ادا کیا، ان میں قاضی ظہیر الدین، سیف الحق صدیقی، قاضی عبد الودود، چاچا غلام ربانی، غلام خان کشمیری، عبد الحمید کشمیری، ماسٹر نور البصر، قاضی شمس الحق، قاضی شریف اللہ، سید نور بادشاہ، اور بعد میں باچا خان کے قریبی ساتھیوں میں جناب اجمل خٹک، حاجی محمد آثم، حیا گل جرنیل، شیریں خان، رحیم بخش اور دیگر حضرات شامل ہیں۔
اکوڑہ خٹک پر انگریزی فوج کا حملہ
برطانوی سامراج نے ۱۹۳۱ء میں بنگال، متحدہ صوبہ جات اور شمال مغربی صوبہ میں جس طرح ظلم و تشدد کا بازار گرم رکھا، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ حالانکہ لندن میں نومبر ۱۹۳۱ء میں گول میز کانفرنس ہو رہی تھی اور صوبۂ سرحد میں خدائی خدمتگاروں کے دفتروں پر چھاپے پڑ رہے تھے، ان کے مشہور رہنما پا بہ زنداں تھے، ان کے گھروں کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، تاکہ آزادی کے متوالے آزادی کا مطالبہ نہ کریں۔
۷ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو گورا فوج اور ملیشیا نے خدائی خدمتگاروں کے دفتر واقع مکان قاضی عبد الودود پر چھاپہ مار کر جھنڈا اتارا اور خدائی خدمتگاروں کو پیٹا۔ حاجی مظفر الدین (مالک مکتبہ صدیقیہ اکوڑہ) کے گلے میں قرآن پاک تھا۔ انگریز پولیس کپتان بیلی رام نے مظفر الدین کو مارا پیٹا اور قرآن پاک اس کے گلے سے اتار کر دور پھینکا۔ اس چھاپے میں عبد الحمید کشمیری، غلام محی الدین حجام، حاجی محمد آثم (محلہ دھوبیاں) اور سعد اللہ خان (محلہ شیخاں) بری طرح زخمی ہوئے۔
تحریکِ آزادی کے اس کٹھن مرحلے پر ۱۹۳۱ء میں اکوڑہ خٹک کے جن خدائی خدمتگاروں کو انگریز سامراج نے قید و بند کی سزا دی، ان میں قاضی ظہیر الدین صاحب، قاضی عبد الودود صاحب، جرنیل سیف الحق صدیقی صاحب، ماسٹر نور البصر صاحب، قاضی شمس الحق صاحب، میجر شیریں خان صاحب، سید نور بادشاہ صاحب، چاچا غلام ربانی صاحب، غلام جان کشمیری صاحب، قاضی شریف اللہ صاحب شامل تھے۔ صوفی میاں گل صاحب، محمد گل صاحب اور عبد الرفیق صاحب کو سو روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔
اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کا قیام
اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کے قیام اور تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں خان اعلیٰ محمد زمان خٹک مرحوم پیش پیش تھے۔ اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کا پہلا جلسہ ۴ اگست ۱۹۴۵ء کو منعقد ہوا، جس میں باشندگانِ اکوڑہ خٹک کو مسلم لیگ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ خان اعلیٰ محمد زمان خان خٹک نے اس جلسے کی صدارت کی تھی۔ جناب بابو نور الٰہی قریشی، جناب ملک فرید خان، جناب حاجی محمد ککے زئی، جناب دلبر اخون، جناب مولانا امیرزادہ صاحب مسلم لیگ کے سرگرم کارکنوں میں شامل تھے۔ بقول برادرم طاہر احمد سعید صدیقی اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کا قیام ۱۹۳۶ء میں عمل میں آیا۔
جنگِ آزادی اور اکوڑہ خٹک کے دینی مدارس
رئیس المجاہدین حضرت مولانا سید احمد شہید بریلویؒ نے جب اکوڑہ خٹک کی سرزمین پر قدم رکھا تو فرمایا: ’’یہاں کی مٹی سے مجھے علم کی خوشبو آ رہی ہے۔‘‘ آپ کا یہ ارشاد بجا تھا۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں جہاں اکوڑہ خٹک کے غیور فرزندوں نے وقتاً فوقتاً نعرۂ حریت بلند کیا، وہاں یہاں کے بیشتر علماء دینی علوم اور باعمل علماء کی ایک بہت بڑی تعداد تیار کر رہے تھے۔
اکوڑہ خٹک کی مشہور مساجد میں جو دینی مدارس قائم تھے، ان میں اکوڑہ خٹک کے مشہور روحانی پیشوا حضرت قطب الارشاد سید مہربان شاہ صاحبؒ (المتوفیٰ ۱۳۶۷ھ) کا قائم کردہ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد حاجی صاحب ترنگ زئیؒ کے رفیقِ خاص حاجی محمد امین صاحبؒ اسی مدرسے کے فارغ تھے۔
اکوڑہ خٹک کے شیخ صدیقی خاندان کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبد القادر صاحبؒ (۱۸۸۴ء-۱۹۲۴ء) نے دریائے لنڈا کے کنارے سفید مسجد میں مدرسہ اعظمیہ قائم کیا تھا، جس کے اساتذہ میں اکوڑہ خٹک کے ممتاز عالم دین مولانا سید عبد النور صاحبؒ المعروف بہ صحرئی ملا صاحبؒ شامل تھے۔ موصوف حضرت مولانا محمود الحسن صاحبؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ اور یوں دینی علوم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اس شمع حریت کو بھی روشن رکھا جو آپ تحریکِ آزادی کے سلسلے میں اکابرینِ دیوبند کی صحبت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔
اس دوران حضرت سید عبد الرحیم صاحبؒ المعروف بہ قصابا نو حاجی صاحبؒ (۱۸۴۸ء-۱۹۵۶ء) محلہ قصابان کی قدیم مسجد میں طویل عرصے تک درس و تدریس میں مصروف رہے اور جید علماء دین کی ایک بڑی کھیپ تیار کی۔
اکوڑہ خٹک کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبد القیوم استاد صاحبؒ نے محلہ کفش گر میں دینی علوم کی تدریس جاری رکھی۔ خدائی خدمتگار تحریک کے معروف کارکن اور مشہور شاعر جناب عبد الخالق خلیق اور جناب اجمل خٹک آپ ہی کے شاگردوں میں سے ہیں …
(بہ شکریہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک)


















