دار العلوم دیوبند

خوفناک فرنگی سازش

۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔ انگریز دوبارہ اقتدارِ دہلی پر قبضہ مستحکم کر چکے تھے۔ ہزاروں علماء اور عوام کا لہو بہانے کے بعد وحشت و بربریت اور خونی انتقام کا طوفان کافی حد تک تھم چکا تھا۔ اربابِ اقتدار بظاہر مطمئن و پرسکون تھے کہ آزادی و حریت کے شعلے بجھ چکے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ راکھ کے ڈھیر میں دبی چنگاریوں سے بھی دہشت زدہ تھے کہ کسی وقت بھی یہ بھڑک سکتی ہیں۔ کیونکہ گزشتہ جنگِ آزادی اور دیگر معرکہ ہائے حریت میں وہ مسلمانوں کی جنونی فطرت کا بخوبی جائزہ لے چکے تھے کہ جب تک ان کے اندر ملّی غیرت اور دینی حمیت موجود ہے، ان پر حکمرانی آسان نہیں۔

چنانچہ عیّار فطرت فرنگی سامراج نے مسلمانانِ برصغیر کی ذہنی و فکری برین واشنگ کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی روح ختم کر دی جائے۔ وہ اپنی اسلامی تہذیب، دینی ثقافت، ملی اقدار، روشن روایات اور تابناک ماضی سے دستبردار ہو کر علیحدہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود کھو بیٹھیں۔ اس کے بعد انہیں اپنے رنگ میں رنگنا آسان ہو گا۔ چنانچہ تعلیمی میدان میں اس کے لیے کوششیں شروع ہو گئیں۔ لارڈ میکالے نے ایک ایسا نظامِ تعلیم ترتیب دیا، جس کے ذریعہ ہندوستانی رنگ و نسل کے خول میں یورپین تہذیب و ثقافت کا نصرانی پرورش پانے لگا۔ اور اسلامی کلچر کے نقوش مٹ جانے کے خطرات پیدا ہو گئے۔

قیامِ دارالعلوم دیوبند

اُدھر قصرِ دہلی میں چند سفید فام غیر ملکی مسلمانانِ برِّصغیر کے مستقبل کو ان کے شاندار ماضی سے کاٹنے کے پروگرام تیار کر رہے تھے۔ اور اِدھر دیوبند کی گمنام بستی میں خدا کے چند برگزیدہ بندے اپنی قوم کے ماضی، حال اور مستقبل کا ربط و تسلسل برقرار رکھنے کی فکر میں سر جوڑے بیٹھے تھے۔ ایک خاموش اور غیر محسوس نظریاتی جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ یہ توپ و تفنگ کی جنگ نہ تھی، بلکہ فہم و فراست کا معرکہ تھا۔ ایک طرف مکر و فریب تھا اور دوسری طرف عزم و استقامت۔ چند بے سروسامان بوریا نشین اقتدارِ افرنگ کی خوفناک سازشوں سے الجھنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

چنانچہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حاجی عابد حسینؒ جیسے اہل اللہ نے ایک دینی مدرسہ کے قیام کا پروگرام بنایا اور ۱۵ محرم الحرام ۱۲۸۳ھ مطابق ۳۰ مئی ۱۸۶۷ء بروز جمعرات کو مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی۔ مولانا احمد علی محدث سہارنپوریؒ نے بنیاد کی پہلی اینٹ رکھی، حضرت میاں جی منے شاہؒ نے دوسری، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تیسری، اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے چوتھی اینٹ رکھی۔ اور ساتھ ہی انار کے درخت کے نیچے ایک استاد ملا محمود دیوبندیؒ اور ایک شاگرد محمود الحسنؒ پر مشتمل پہلی کلاس تعلیم کے لیے بٹھا دی گئی۔ قلیل مدت میں وہ چھوٹا سا مدرسہ دارالعلوم کا روپ دھار گیا، اور پھر ایشیا کی عظیم ترین اسلامی یونیورسٹی کی صورت میں دنیا کے اندر متعارف ہوا، اور شرق و غرب و عجم و عرب میں اس کا فیض پھیلتا چلا گیا۔

دیوبند میں اس مختصر سے مدرسہ کی بنیاد رکھنے کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتویؒ دوسرے علاقوں کی طرف متوجہ ہوئے اور مراد آباد، امروہہ اور تھانہ بھون وغیرہ علاقوں میں بھی ایسے مدارس قائم کر دیے تاکہ دینی مدارس کا جال پھیلا کر فرنگی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔

قیامِ دارالعلوم کا مقصدِ اول

دارالعلوم دیوبند کی تاریخ اور خدمات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قیام کے بنیادی مقاصد دو ہیں۔ پہلے مقصدِ قیام کی وضاحت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے بایں الفاظ فرمائی کہ

’’دیوبند آزادی کی چھاؤنی ہے، جس پر تعلیم کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ ہمارے جسم غلام سہی، مگر ہماری روح کو آزاد رہنا چاہیے۔ اس طرح ہم آئندہ ستاون سے پہلے غیر ملکی غلامی کا خاتمہ کر دیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز‘‘

گویا دارالعلوم کے قیام کا بنیادی مقصد ایک ایسی انقلابی ٹیم تیار کرنا تھا جس کے ذریعہ جنگِ آزادی میں ہونے والی شکست کی تلافی بھی کی جا سکے، اور غیر ملکی غلامی کی لعنت سے چھٹکارا بھی حاصل ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے قوم کے اندر دین و حریت کی تڑپ پیدا کرنا ضروری تھا۔ چونکہ دارالعلوم کے قیام کے سلسلہ میں سب سے زیادہ کاوشیں اور محنتیں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ہیں، اس لیے انہیں ہی بانی دارالعلوم دیوبند کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ بانی کی حیثیت سے ان کی مذکورہ وضاحت اپنے اندر کافی وزن رکھتی ہے۔ اور خود مولانا نانوتویؒ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے مقصدِ حیات صرف چار ہی نظر آتے ہیں:

۱۔ مسلمانوں کی اعتقادی، فکری اور عملی اصلاح۔

۲۔ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت و تبلیغ۔

ان دونوں مقاصد کے لیے انہوں نے عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ اسلام کی حقانیت و صداقت کا اثبات بھی کیا اور ادیانِ باطلہ کا رد بھی۔

۳۔ مسلمانانِ برصغیر کے اندر آزادی و حریت کی روح کو بیدار رکھنا۔

۴۔ ترکی کی اسلامی خلافت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا۔

چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے اس مقصدِ قیام کے تحت دارالعلوم کے سب سے پہلے شاگرد شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی علمی و فکری تربیت اس انداز سے کی گئی کہ ان کی قائدانہ صلاحیتیں اجاگر ہوں اور وہ غلام قوم کی قیادت کا بوجھ اٹھا سکیں۔ چونکہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اپنے ہزاروں عقیدت مندوں سمیت اپنے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں باقاعدہ حصہ لے چکے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے ہونہار شاگرد حضرت شیخ الہندؒ کی تعلیم و تربیت خالص انقلابی بنیادوں پر کی۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد آزادئ ہند کی ہر تحریک کی تان حضرت شیخ الہندؒ پر ہی آ کر ٹوٹتی ہے۔ 

اور پھر بانئ دارالعلوم دیوبند کی پیشین گوئی اس وقت حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آئی جب آئندہ ’’ستاون‘‘ سے دس سال قبل ۱۹۴۷ء میں ہی غیر ملکی غلامی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اور اس غیر ملکی غلامی کے خاتمہ کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ ہر تحریک دیوبند سے اٹھی اور دارالعلوم دیوبند کی تربیت یافتہ ٹیم نے ہر تحریک میں ہراول دستہ کا کام دیا۔

قیامِ دارالعلوم کا مقصدِ ثانی

قیامِ دارالعلوم دیوبند کا دوسرا مقصد وہ ہے جس کی وضاحت شاعرِ مشرق علامہ اقبال مرحوم نے بایں الفاظ فرمائی کہ

’’دیوبند ایک ضرورت تھی، اس سے مقصود تھا ایک روایت کا تسلسل، وہ روایت جس سے ہماری تعلیم کا رشتہ ماضی سے قائم رہے۔‘‘

اسلامی تاریخ میں دو دور ایسے بھی آئے جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں:

پہلا چھٹی صدی ہجری میں تاتاریوں کی خونی یلغار کا دور۔ جب چنگیز خان وسطی ایشیائی ریاستوں کو روندتا ہوا روس اور چین تک پہنچا اور اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہرات، بلخ، بخارا، سمرقند اور نیشاپور وغیرہ علاقوں میں اس نے صرف قتل و غارت کا بازار ہی گرم نہیں رکھا، بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مساجد اور دینی مدارس مسمار اور ویران کر دیے۔ 

دوسرا ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد فرنگی استبداد و بربریت کا دور۔ جب سترہ ہزار علماء کو پھانسی کے تختوں کی زینت بنایا گیا، ہزاروں علماء پابندِ سلاسل کر دیے گئے، انہیں عبورِ دریائے شور کی سزائیں دی گئیں، قرآن پاک کے ہزاروں نسخے جلا دیے گئے، دینی کتب ڈھونڈ ڈھونڈ کر گنگا و جمنا کی نذر کر دی گئیں، مساجد نیلام کی گئیں، مدارس مسمار کیے گئے۔ سلطان محمد تغلق کے دور میں دہلی اور اس کے اطراف میں ایک ہزار سے زائد دینی مدارس قائم تھے، لیکن سب کے سب فرنگی وحشت و بربریت کا شکار ہو گئے، ان میں سے ایک مدرسہ بھی باقی نہ بچا۔ فرنگی سامراج کی سرتوڑ کوشش تھی کہ دینی مدارس کے ذریعہ اسلامی علوم و افکار کی اشاعت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے، لیکن اس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور دارالعلوم دیوبند نے اس کی تمام سازشوں اور کاوشوں پر پانی پھیر دیا۔

سرکاری سرپرستی میں پورے تحفظ اور پروٹوکول کے ساتھ یورپ سے مسیحی مشنریاں لائی گئیں اور ان کے ذریعہ اسلام کے خلاف گمراہ کن تصورات کو فروغ دیا گیا۔ لیکن دارالعلوم دیوبند کی انقلابی ٹیم اس میدان سے بھی غافل نہ تھی۔ اکثر و بیشتر مسیحی مشنریاں مایوس و نامراد ہو کر واپس چلی گئیں۔ عیسائیت کی ترویج و اشاعت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، لیکن دارالعلوم دیوبند آہنی دیوار کی صورت میں آڑے آگیا اور برطانوی اقتدار کے مذموم عزائم و مقاصد پورے نہ ہو سکے۔

بالفاظِ دیگر دارالعلوم دیوبند صرف اسلامی فکر کا محافظ و نگہبان ہی نہیں بنا، بلکہ اسلامی روایات کے امین و ترجمان کی حیثیت سے بھی سامنے آیا۔ مسلمانوں کا وہ تعلیمی ورثہ، جسے دنیا کے کونہ کونہ تک پہنچانے کے لیے اصحابِؓ نبوتؐ دور دراز کے علاقوں میں پہنچے؛ اور جسے کتب و اوراق کی صورت میں آتش، گنگا اور جمنا کی نذر کر کے فرنگی سامراج نے سمجھا کہ مسلمان قوم کو اس کے ماضی سے کاٹ دیا گیا ہے؛ دارالعلوم نے اس تعلیمی ورثہ کو اصلی حالت میں مسلمانوں تک پہنچایا۔ دارالعلوم کے تربیت یافتہ افراد مختلف علاقوں میں پھیلتے چلے گئے اور جگہ جگہ مدارس کا قیام عمل میں آنے لگا۔ اور آج الحمد للہ دارالعلوم کا تعلیمی فیض دنیا کے ہر خطہ میں موجود ہے۔

دارالعلوم دیوبند کی انہی خدماتِ جلیلہ کی بناء پر بعض اصحابِ ذوق دارالعلوم کو چودھویں صدی کا مجدد قرار دیتے ہیں، کیونکہ دین کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں دارالعلوم نے منفرد اور قابلِ تقلید خدمات سرانجام نہ دی ہوں۔ سیاست و حریت، تصوف و طریقت، حدیث و تفسیر، فقہ و ادب، دعوت و تبلیغ، غرضیکہ ہر شعبہ میں دارالعلوم کی منفرد خدمات ہیں؛ اور آج اس کی ہزاروں شاخیں دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہیں۔ مولانا ظفر علی خان مرحوم نے دارالعلوم دیوبند کی خدمات کو بایں الفاظ خراجِ تحسین پیش کیا:

شاد باش و شاد زی اے سر زمینِ دیوبند
ہند میں تو نے کیا اسلام کا پرچم بلند

مدارس و جامعات / تعلیم و تعلم
دریچۂ ماضی

(جولائی ۱۹۹۷ء)

جولائی ۱۹۹۷ء

تحریکِ آزادی میں علماء کا کردار

جلد ۸ ۔ شمارہ ۳

آزادی، علماء اور نئی پود
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تحریکِ آزادی میں شاملی کا محاذِ جنگ
الحاج مرزا غلام نبی جانبازؒ

فرائضی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ اور دودو میاںؒ
دائرہ معارف اسلامیہ

جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

احمد خان کھرل — پنجاب کا ایک عظیم مجاہدِ آزادی
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ

تحریکِ آزادی کا پہلا میدانِ کارزار – اکوڑہ خٹک
پروفیسر محمد افضل رضا

دار العلوم دیوبند
مولانا عبد الحق خان بشیر

قادیانیت اور برطانوی استعمار
آغا شورش کشمیریؒ

شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا
پروفیسر اولف شمل

تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تحریکِ خلافت
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

برٹش گورنمنٹ کی پالیسی
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

قادیانی جماعت اور انگریز حکومت کی باہمی تائید
چودھری افضل حق

تلاش

شماریات