’’سب سے بڑا اور اہم، واجب اور ضروری فرض یہ ہے کہ ہم نہایت شدومد سے پورے استقلال و عزم کو کام میں لاتے ہوئے اس ناپاک پالیسی کا مقابلہ کریں، خصوصاً جب کہ تمام قانونی کارروائیاں بے سود ثابت ہو چکی ہیں۔ اور نہایت زیادہ لازم ہے کہ گورنمنٹ کو مجبور کرتے ہوئے اس کے پرانے انسانیت سوز نجس رویہ کو چھڑائیں۔ اسی کے ساتھ، مقابلہ کرنا اپنا حقیقی نصب العین سمجھیں۔ اور جب تک مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہو، نہ خود چین سے بیٹھیں اور [نہ] گورنمنٹ کو چین سے بیٹھنے دیں۔
جس طرح طبیبِ حاذق پر لازم ہے کہ اگر ایک مریض میں مختلف امراض کا اجتماع ہو جائے، اور ان میں بعض امراض ایسے ہوں کہ جو زندگی اور سارے جسم کو خطرہ میں ڈال رہے ہوں، اور بقیہ دوسرے امراض ایسے نہ ہوں بلکہ ان کی وجہ سے کسی خاص عضو پر خطرہ ہے یا راحت و آرام میں کمی ہے، تو طبیب کا فرض ہوگا کہ سب سے اول اور زیادہ اس مرض کی طرف التفات کرے جس سے تمام جسم اور زندگی معرضِ خطرہ میں ہے، باقی ماندہ امراض کو یا تو بعد کے لیے چھوڑ دے یا اس پر معمولی التفات رکھے۔
علیٰ ہذا القیاس، اگر کسی مریض میں چند امراض ایسے مجتمع ہوں کہ ایک مرض تمام دیگر امراض کا منشا اور سبب ہے اور اس کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہے، تو طبیبِ حاذق کا فرض ہوگا کہ اس منشائے امراض پر پوری توجہ صَرف کر دے۔ اس کے زائل ہو جانے کے بعد یہ دوسرے امراض یا تو خود ہی زائل ہو جائیں گے یا نہایت آسانی کے ساتھ ان کا ازالہ ہو سکے گا۔ مگر اس کے خلاف کرنا، اور فروع کی مداوات کو اصل اور مادہ پر مقدم کرنا نہایت بے عقلی ہوگی۔
اسی طرح ہر عقل مند پر لازم ہے کہ برٹش گورنمنٹ کی آج تک کی پالیسی — جو تمام اسلام اور جملہ مشرق کے لیے نہایت مہلک اور خطرناک ہے — اس کا مقابلہ نہایت ہی شدت اور استقلال کے ساتھ جاری رکھیں اور اس میں سرمو تکاسل کو راہ نہ دیں۔‘‘


















