اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد

پروفیسر غلام رسول عدیم

مہینوں اور سالوں میں نہیں صدیوں اور قرنوں میں کسی قوم میں کوئی ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جس کے لیے نسلِ انسانی عمروں منتظر رہتی ہے اور جب وہ شخصیت منقہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے تو صدیوں اس کی یاد ذہنوں کو معنبر رکھتی، سوچوں کو اجالتی، فکر کی آبیاری کرتی اور دلوں کو گرماتی اور برماتی رہتی ہے ؎
عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تاز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں

یہاں پیغمبرانِ الٰہی خارج از بحث ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ ہوتے اور منصبِ اصطفاء و اجتباء پر فائز ہوتے ہیں، وہ از خود دعوتِ فکر و عمل لے کر نہیں اٹھتے مگر ان کے پاس اپنے بھیجنے والے کی طرف سے ایک بنا بنایا پروگرام ہوتا ہے اور وہ خود بھی بنے بنائے آتے ہیں، اپنی ریاضت و اکتساب سے نہیں بنتے، بھیجنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس خطہ میں کن لوگوں کی طرف اور کس زمانے میں بھیجے، وہ ایک طرف مامور من اللہ ہوتے ہیں تو دوسری طرف آمر بامر اللہ، خالق کے مطیع، مخلوق کے مطاع، خلیق کے قائد، خالقِ کائنات کے منقاد۔ بات ان شخصیات کی ہو رہی ہے جو الٰہی پروگرام ان معنوں میں رکھتے جن معنوں میں فرستادگانِ الٰہی رکھتے ہیں بلکہ وہ جنہیں خالقِ کائنات دل و دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازتا ہے اور پھر ان سے خلق کی اصلاح و فلاح کا کام لیتا ہے۔ ان کا علمی بلوغ، ان کی فکری جولانیاں، ان کی مثبت اور توانا سوچ ایک عالم کو گمراہی اور عملی بے راہروی سے نکال کر جادۂ مستقیم پر لگا دیتی ہے۔

علامہ اقبالؒ کی عظیم شخصیت ایسے ہی اساطینِ عالم میں سے ایک ہے جو درماندہ پا بہ گل ہجوموں کو منظم گروہوں کی شکل دے کر جادہ پیمائی کا شعور بخشتے ہیں۔ اقبال نے بھی اس بلند آہنگی سے اور سوزِ دروں سے حدی خوانی کی۔ صدیوں کے مسافر لمحوں میں منزل شناس ہوتے نظر آئے۔ یہ وہ کارواں تھا جو بطحا کی وادی سے نکلا اور اطرافِ عالم میں ہر چہار جانب پھیل گیا۔ حدودِ برصغیر میں پہنچا تو آٹھویں صدی عیسوی کا آغاز ہو چکا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک برصغیر کی سیادت و قیادت اس جاں سپارگروہ کے ہاتھ میں رہی۔ گردش ایام اور زندگی کے نشیب و فراز نے اسے کبھی فرمانروائی کی مسندِ بالا پر بٹھایا تو کبھی پستی و زوال کے عمیق غاروں میں دھکیل دیا۔

۷۱۳ء میں محمد بن قاسمؒ نے سندھ و ہند میں اسلام کا پھریرا لہرا کر عقائد باطلہ اور توہمات میں جکڑے ہوئے سماج کو فکر و نظر کی آزادی بخشی۔ بعد ازاں منصورہ اور ملتان میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔ اگرچہ اس کا اثر و نفوذ زیادہ دور تک نہ پھیل سکا اور وہ برصغیر کے شمال مغربی حدود و ثغور سے آگے نہ بڑھ سکی تاہم تین سو سال بعد روشنی کا ایسا سیلاب امڈا کہ شمالی دروں کی راہ آنے والے غزنیوں اور غوریوں نے اس کفرستانِ ہند میں غلغلۂ توحید سے دیومالائی اور اساطیری ضعیف الاعتقادی کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا۔

جب ۱۲۰۶ء میں برصغیر میں حکومتِ اسلامیہ کے اصل بانی سلطان قطب الدین ایبک نے دہلی کو مستقل مستقر بنا کر گجرات، کاٹھیاوار، کالنجر اور بنگال تک یلغار کی تو اس امر کا یقین ہو گیا کہ اب صدیوں تک برصغیر میں اسلام کا پرچم لہراتا رہے گا۔

۱۷۰۷ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اگرچہ ۱۸۵۷ء تک کوئی ڈیڑھ سو برس تک اسلامی حکومت قائم رہی مگر فی الجملہ یہ دور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے انحطاط اور تنزل کا دورِ نافرجام تھا۔ سیاسی افراتفری، معاشرتی ناہمواری اور اقتصادی بدحالی نے مسلمانوں کی عظمت کو گئے دن کا قصہ بنا کر رکھ دیا۔ سات سمندر پار سے آنے والے سفید فام مگر سیاہ دل فرنگی کی دسیسہ کاریوں نے مسلمان سے حمیت و غیرت چھین کر اسے تملق و مداہنت کا خوگر بنا دیا۔ اس دور میں بعض دھڑکتے دل والے مصلحین نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا، مسلمانوں کو ان کی اسلامی عصبیت سے آگاہ کیا، ان میں حضرت شاہ ولی اللہؒ، سید احمد بریلویؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، سر سید احمد خانؒ، حاجی شریعت اللہؒ، اور تیتومیرؒ جیسے جہد آمادہ پیکرانِ حریت نے فضا میں ایمان و ایقان کی سرمستیاں بکھیر دیں اور مسلمانانِ برصغیر کو خودشناسی کا درس دیا۔

لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ مسلمان اس حد تک پستیوں میں اتر چکے تھے کہ اب ان کا تنزل کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آتا تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی نے مسلمانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ یوں بیسویں صدی کے آتے آتے مسلمان اس درکِ اسفل تک پہنچ چکے تھے کہ انہیں انگریزی استیلاء سے نجات دلانے کے لیے اعجازِ مسیحائی رکھنے والی ایسی سحر اثر شخصیت کی ضرورت تھی جو اسے اپنی شناخت کرا سکے۔ نہ صرف عرفانِ ذات بخشے بلکہ یہ باور کرائے کہ تم انہیں اسلاف کے وارث ہو جنہوں نے قیصر و کسرٰی کی عظیم سلطنتوں کو پامال کر کے رکھ دیا تھا۔ جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے کوہ و صحرا لرزتے تھے، جو ان بلاخیر طوفانوں سے بڑھ کر تھے جن سے دریاؤں کے دل ہل جاتے تھے، اور جن کی یلغاروں سے کوہ پائرنیز کے اس پار ایسا ارتعاش پیدا ہوا کہ مدتوں یورپی اقوام اس کے اثرات محسوس کرتی رہیں۔

اب وقت آن پہنچا تھا کہ وہ عیسٰی نفس غلاموں کے لہو کو گرمائے اور کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا کر دے۔ چنانچہ بیسیوں صدی نے بڑھ کر اس مسیحا نفس کا استقبال کیا۔ سچ ہے کہ جب تاریکیاں گہری ہو جائیں تو ٹمٹماتا ہوا دیا بھی قندیل بن کر جگمگاتا ہے لیکن اگر واقعی فانوس روشن کر دیا جائے تو اس کی امواجِ نور سے یقینًا تاریکیاں کافور ہو جائیں گی اور پورا ماحول نور میں نہا جائے گا۔ وہ فانوس فروزاں ہوا، تیرگی چھٹی، وہ رجلِ عظیم آیا، اس نے ناقۂ بے زمام کو سوئے قطار کھینچا۔ انبوہ خفتہ کو اپنی بانگِ درا سے جگایا، عروق مروۂ مشرق میں زندگی کا خون دوڑا دیا۔ اس شان سے صورِ اسرافیل پھونکا کہ صدیوں کی مردہ روحیں زندگی کی توانائیوں سے سرشار ہو کر انگڑائیاں لینے لگیں، کارواں کو پھر سے منزل کی طرف گامزن ہونے کا حوصلہ ملا۔

اس رجل رشید کی بوقلموں شخصیت میں یوں تو ایک بیدار مغز سیاستدان کا تدبر، ایک حلیم و بردبار انسان کا جگر، ایک عظیم و جلیل شاعر کا تنوع، اور ایک عظیم تر فلسفی کا ماورائی ادراک تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی حقیقی وجہ مجدد شرف اور اصلی اثاثہ وہ اندازِ نظر ہے جس نے اسے ذاتی حیثیت سے اٹھا کر کائناتی فکر کا مالک بنا دیا۔ اس نے ایک خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے ہجوم کو جگایا اور منظم جماعت کی صورت دے دی۔ قوم کا وہ تصور دیا جس سے مغرب نابلد تھا ؏

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

اقبال سے پہلے سرسید احمد خان کے عظیم رفقاء میں حالی نے قومی سوچ کی نیو اٹھائی مگر حالی کی آواز میں اس قدر دھیماپن تھا کہ اکثر لوگوں نے سنی اَن سنی کر دی۔ بلاشبہ اس آواز میں سوز تھا مگر گھن گرج نہ تھی، خلوص تھا مگر محدودیت کے ساتھ دردمندی تھی۔ مگر نوحہ و بکا کی لے میں یوں حالی کی قومی فکر مایوسیوں کی نذر ہو گئی۔ وہ ایک گہرے کنویں کی طرح تھی جو کبھی تہہ کے چشموں کے ابلنے سے جوش تو مارتا ہے مگر اس میں سمندر کی طغیانی اور تلاطم انگیز موجوں کی روانی نہیں آسکتی۔ نتیجہ یہ نکلا حالی کی گریہ و زاری یاس خیزیوں تک آ کر رہ گئی۔ تاہم یہ شیونِ قومی اکارت نہیں گیا۔ اقبال نے حالی کی رکھی ہوئی نیو پر ایک فلک بوس ایوان کھڑا کر دیا۔ حالی علومِ جدیدہ سے ناواقفیت کی بنا پر گہرائی کے باوجود گیرائی سے محروم رہے۔ آفاقی وسعت کے فقدان کے باوجود اقبال نے حالی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ؎

طوافِ مرقد حالی سزد ارباب معنی را
نوائے او بجانہا افگند شورے کہ من دانم

حالی کے زمانے میں اس شور کو زیادہ نہیں سنا گیا مگر اقبال نے نوائے حالی سے تحریک پا کر فضا میں غلغلہ اندازی کا سامان پیدا کر دیا۔

اقبال کے مجدد شرف کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ اس نے مشرق و مغرب کو پڑھا، پڑھا ہی نہیں خوب کھنگالا، اس قدر جانچا اور آنکا کہ اپنی مشرقیت کو مغربیت کی زد میں نہ آنے دیا۔ پچھلی دو صدیوں سے عمومًا اور عصرِ حاضر میں خصوصًا مغرب نے اپنے مادی استیلاء اور ظاہری وسائلِ حیات سے پوری دنیا کو خیرہ کر دیا ہے۔ جدید سائنسی پیشرفت اور ٹیکنالوجی نے ہر سطح بیں کے دل میں مغربیت کے علمی بلوغ و نبوع کا نقش جما دیا۔ جو شخص ایک بار لندن کی ہوا کھا آیا فرنگی فکر کا پرستار پایا گیا۔ جس نے پیرس کی ہموار اور گداز سڑکوں پر گھوم پھر لیا اسے دلّی کے وہ کوچے اجنبی سے لگنے لگے جن کے بارے میں شاعر نے کہا ؎

دِلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصوّر تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

جس شخص نے نیویارک کی ایوے نیوز میں مٹر گشت کر لیا اس نے جانا گویا وہ فردوسِ بریں کی سیر کر آیا۔ اب لاہور کی ٹھنڈی سڑک پر چلتے ہوئے اسے الجھن محسوس ہونے لگی۔ زبانِ حال ہی سے نہیں زبانِ قال سے پکار اٹھا  ؏

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مگر زمانہ معترف ہے کہ اقبال ۱۹۰۵ء میں انگلستان گیا، کیمبرج کے محققینِ عصر اور نامورانِ دہر سے خوشہ چینی کی، ان عمائد علم و فضل سے استفادہ کیا جو علوم و فنون میں ماہرانہ دستگاہ ہی نہیں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ جرمنی پہنچا، تحقیق و تدقیق اور علم و حکمت کی پرخار وادیوں میں آبلہ پا دیوانوں کی طرح قدم فرسائی کی۔ بلادِ فرنگ میں سہ سالہ قیام کے دوران میں بلا کی سردی میں بھی سحرخیزی کا التزام رکھا ؎

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

ایک طرف علم و آگاہی کے جواہر ریزے سمیٹے تو دوسری طرف مغرب کے تمدن کو محققانہ و ناقدانہ نگاہ سے دیکھا۔ سطح بینوں کی طرح نہیں، اندر جھانک کر ان کے آدابِ زیست کا بغور جائزہ لیا۔ ان کے آدابِ معاشرت کے محاسن و معائب پر نگاہ ڈالی، ان کی سیاسی فکر پر پہروں غور کیا، فرنگی اقوام کی مذہبی سطحیت اور دین بیزاری کو آنکا اور پرکھا۔ ان کے اقتصادی نظام کا بغور مطالعہ کیا، غرض ان کے تمدنی نظام کے ایک ایک جزئیے کا استیعابًا مطالعہ کیا۔

اب وہ موقع پرست اور بیرونِ در تک رہنے والا نہ تھا، درونِ در کے ہنگاموں سے بھی باخبر تھا۔ لہٰذا اس کے سینے میں اس تمدن کے خسارت اندوز پہلوؤں کے خلاف لاوا پکتا رہا۔ فرنگی حضارت اور مغربی تہذیب جس پر  مغرب کو خود بہت ناز تھا اور اوپری نظروں سے دیکھنے والے اہلِ مشرق بھی اس پر تحسین کے ڈونگرے برساتے تھے، اقبال کی نظر میں یہ ملمع کاری تھی۔ اس نے کئی موقعوں پر اس تہذیب کے خلاف گہرے معاندانہ جذبات کا اظہار بھی کیا۔

سیاسی فکر میں اقبال نے یورپی تصورِ قومیت کو نہایت ناپسندیدہ اور مکروہ پایا، اس نے اس تصور کو بنی آدم کے حق میں زہرناک خیال کیا۔ چنانچہ پانچ چھ سال بعد دنیا نے کھلی آنکھوں اس نظریے کی تباہ کاریاں بھی دیکھ لیں جبکہ ۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم اول چھڑ گئی اور وہ ۱۹۱۸ء تک جاری رہی جس میں نسلِ انسانی کا اس بڑے پیمانے پر وحشیانہ قتل ہوا کہ دنیا کی تاریخ میں کبھی پہلے اتنی خوں ریزی نہ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں آئندہ جنگ کو روکنے کے لیے ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کا بے سود قیام عمل میں لایا گیا۔ اقبال نے My Country Right Or Wrong کے انسانیت انسانیت کش نظریے کا سختی سے نوٹس لیا۔ اس نے یورپ کے رنگ، نسل، وطن اور زبان کے عناصر چہارگانہ پر مبنی معیارِ قومیت کو ٹھکرا دیا۔

اقبال نے تہذیب مغرب کی قباحتوں کو بروقت محسوس کر کے ان کے خلاف اس وقت اظہارِ خیال کر دیا تھا جب سلطنتِ انگلشیہ کے حدود وثغور اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ آسٹریلیا، ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے وسیع علاقے ان کے زیرفرمان تھے اور کہنے والے سچ کہتے تھے کہ حکومتِ برطانیہ کی قلمرو میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اقبال نے ۱۹۰۷ء میں بڑی حوصلہ مندی سے سچی بات کر دی، فرمایا:

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

ملاحظہ کیجیئے کہ کس حزم و تیقن سے اقبال سطوتِ رفتار دریا کے انجامِ نافرجام کی خبر دے رہے ہیں؎

دیکھ لو گے سطوتِ رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی

یوں بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کے مجدد شرف کا راز اس کے اس عظیم کارنامے میں پوشیدہ ہے کہ اس نے مسلم قوم کی کو ملّی تعرف و توسم دیا، قومی شناخت دی، اسے وہ درد عطا کیا جس میں ان کی دو صدیوں کے مرضِ غلامی سے شفایاب ہونے اور پریشاں نظری سے نجات پانے کا مداوا تھا۔

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

ایک طرف اس قوم کو اس کا تابناک و شاندار ماضی یاد دلایا تو دوسری طرف مغرب کی چکاچوند کو جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری  کہہ کر تہذیبِ نو کے منہ پر پورے زور سے تھپڑ رسید کیا۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

علمی اور فکری سطح پر مغرب کے ڈھول کا پول کھولا، شخصی زندگی میں مغرب زدہ طبقے اور لندن پلٹ لوگوں کے برعکس درویشانہ انداز رکھا۔ تہذیبِ مغرب کا ذرا برابر اثر قبول نہیں کیا بلکہ ’’بانگِ درا‘‘ سے لے کر ’’ارمغانِ حجاز‘‘ تک ان کا سارا اردو اور فارسی کلام پڑھ جائیے، آپ کو معلوم ہو گا کہ ان کا دل دھڑکتا تھا تو اسلامی غیرت سے، ان کی آنکھ دیکھتی تھی تو دیارِ حجاز کا فردوس نظر نظارہ، اور ذہن سوچتا تھا تو قرآنی نقطۂ نگاہ سے۔ بلاشبہ علومِ شرق و غرب پڑھ لیے مگر بایں ہمہ اسے روح میں درد و کرب اترتا دکھائی دیتا ہے ؎

پڑھ لیے میں نے علومِ شرق و غرب
روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

آخر اس کا علاج وہ رومی کے جامِ آتشیں اور قرآن کے پیامِ انقلابِ آفریں کے سوا کہیں نہیں پاتا۔ یورپ سے واپسی پر بجائے مغرب زدگی کے اس نے اپنے افکار کے قرآنی ہونے کا دعوٰی کر دیا اور یہ دعوٰی اس بلند آہنگی سے کیا کہ معلوم ہونے لگا کہ عمر بھر اس نے قرآنی فکر کے پرچار کی ٹھان لی ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ ۱۹۱۴ء میں اس کا یہ دعوٰی ۱۹۳۷ء تک اس طرح سوزِ دروں میں ڈھل گیا کہ اس کے کلام کا حرف حرف سرزمین طیبہ کے لیے مچلتے ہوئے جذبات اور گداز عطوفتوں کی آماجگاہ بن گیا۔ آخری مجموعۂ کلام کا نام بھی اسی مناسبت سے ’’ارمغانِ حجاز‘‘ رکھا۔ اسرارِ خودی میں اس دعوٰی کا رنگ، ڈھنگ اور آہنگ ملاحظہ فرمائیے اور پھر سوچیئے کہ سوچ کا یہ دھارا آئندہ سالوں میں کن تلاطم خیزیوں اور گرداب انگریزیوں کا مظہر ہے۔

گر دلم آئنۂ بے جوہر است
گر بحرفم غیر قرآں مضمر است
پردۂ ناموس فکرم چاک کن
ایں خیاباں راز خارم پاک کن
تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہل ملّت را نگہ دار از شرم

اور آخری شعر میں تو قیامت ہی ڈھا دی ہے ؎

روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا

اواخر عمر میں تو اس کی دردمندی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا۔ ذرا سی ٹھیس پر ابگینے کی طرح پھوٹ بہتا ہے۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کلام میں حیات آفرینی کے وہ داعیے بھر دیے ہیں اور جذب و رقّت کے وہ طوفاں اٹھائے ہیں کہ ہر لمحہ وارفتگی و سرگشتگی کے بند ٹوٹ ٹوٹ پڑے ہیں۔ ذرا اس سیلاب بلاخیز کا انداز دیکھیئے:

شبے پیش خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

تصور ہی تصور میں سفرِ حج درپیش ہے، مکہ سے مدینۃ الرسولؐ کو روانگی کے وقت صحرائے عرب کی مسافتوں کو

سحر با ناقه گفتم نرم تر رو
که راکب خسته و بیمار و پیر است
قدم مستانه زد چنداں که گوئی
بپایش ریگ ایں صحرا حریر است

 ملخصًا کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کی کثیر الجہات شخصیت کو جس پہلو سے دیکھا جائے وہ ایک ترشا ہوا بوقلموں ہیرا ہے۔ وہ شاعر ہے، وہ سیاست دان ہے، وہ قانون دان ہے، وہ ماہر اقتصادایت ہے، وہ مفکر  ہے، وہ مصلح ہے، وہ ایک ایسا عالم ہے جس نے علم و ادب کے سرچشموں سے اپنی تشنہ لبی کا سامان کا ہے۔ اس کے کمالات علمی و اصلاحی کا ہر پہلو امتیازی شان کا حامل ہے مگر اس کا سب سے بڑا سرمایۂ حیات اور وجۂ فضیلت و عظمت یہ ہے کہ اس نے مغرب کی ظاہری چمک چمک کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ مسلمان قوم کو چودہ صدیوں کی دوری کے باوجود قرنِ اوّل کی دل کش اور دل گداز فضاؤں میں لے گیا۔ تہذیبِ جدید اور تمدنِ مغرب کے بودے کن کو ظاہر کیا۔ فلسفۂ خودی کا خوبصورت تصور دے کر اسلامی فکر کی توانائی اور اسلامی تمدن کے عملی مظاہر کا تفوق کھول کر بیان کیا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتایا کہ اسلامی فکر میں روح عمل اتر ہی نہیں سکتا جب تک سرکارِ دو جہاںؐ کی ذات والا کو محورِ حیات نہ مان لیا جائے اور اس پیغمبرِ اعظم و آخر سے رابطۂ محبت اس درجہ استوار نہ کر لیا جائے کہ دنیا جہاں کی نعمتیں ہیچ نظر آنے لگیں۔ کیوں نہ ہو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تو فرمایا:

لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِن وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔ (بخاری و مسلم)

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور سب لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘

دوسرے شعراء و مصلحین پر یہی وجۂ امتیاز اقبال کے مجدد شرف کی علت نمائی ہے ؎

بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

شخصیات

(فروری ۱۹۹۰ء)

فروری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۲

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر
مولانا سراج نعمانی

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ
محمد اسلم رانا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟
مولانا سعید احمد پالنپوری

استحکامِ پاکستان کی ضمانت
مولانا سعید احمد سیالکوٹی

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد
پروفیسر غلام رسول عدیم

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
عدیل احمد جہادیار

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter