استحکامِ پاکستان کی ضمانت

مولانا سعید احمد سیالکوٹی

’’استحکامِ پاکستان‘‘ یہ ایک جاذبِ نظر و فکر ترکیب ہے جس کے وسیع تر مفہوم میں مملکتِ خداداد پاکستان کی داخلی اور خارجی حفاظت و امن کی کفالت ہے۔ اس پُرمغز عبارت کے ناجائز استعمال سے یہ ایک پُرفریب ترکیب بن گئی کیونکہ وطنِ عزیز میں اربابِ حکم کی طرف سے قوتِ اقتدار ہمیشہ پاکستانی عوام کی خدمت و خوشحالی اور وطن کے داخلی اور خارجی استحکام کے بجائے حکمران فرد یا حکمران پارٹی کے طولِ اقتدار اور ذاتی اغراض و مصالح کی تکمیل و حصول کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

استحکامِ پاکستان درحقیقت ایک عظیم مقصد ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کی نہیں بلکہ امتِ اسلامیہ کے ہر فرد کی، پاکستانی ہو یا غیر پاکستانی، تمنا و آرزو ہے۔ استحکامِ پاکستان کی درست تشریح اور اس کے حصول کا ذریعہ کیا ہے؟ استحکام سے مراد تو داخلی امن، اخوت و محبت، وحدتِ قومیت کا ایسا تصور جو علاقائی اور لسانی تعصبات سے پاک ہو اور خارجی طور پر وطن کی سرحدوں کا محفوظ و مامون ہونا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کا راستہ بالکل واضح اور مختصر ہے اور وہ اس نظریہ کا عملی نفاذ ہے جس کے لیے پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

تحریکِ پاکستان کے شریک زعماء کے وردِ زبان یہی کلمہ تھا ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الّا اللہ‘‘۔ یہ عظیم کلمہ بندوں اور ان کے رب کے درمیان ایک عہد ہے جس کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں شریعتِ اسلامیہ کا مکمل نفاذ ہو۔ یہ اہلِ پاکستان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا اقرار ہے اور ان کا قومی فریضہ ہے جس کی رو سے ان کے ملک میں کسی اجنبی نظامِ حیات کی ہرگز ہرگز درآمد کرنے کی اجازت نہیں نہ اس کی گنجائش ہے، کہ ان کے پاس ان کے رب کا بنایا ہوا کامل و مکمل نظامِ حیات، جو بشری نقائص سے پاک و صاف ہے، موجود ہے۔ بلکہ قومی طور پر ان کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نظام کے باغی کو پاکستان کا باغی قرار دیں اور اجنبی نظام کو درآمد کرنے والے کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیں جو ان کے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا اور بنیادوں کو ہلانا چاہتا ہے، ان کی قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مکمل نفاذ ہی بانیانِ پاکستان اور مجاہدینِ آزادی کا اصل ہدف اور ان کے جہاد اور تحریک کی روح تھا۔ اسی اعلیٰ اور متحد مقصد کی خاطر بنگالی، سندھی، بلوچی، سرحدی اور پنجابی یکجان ہوئے اور ہمارے عقیدہ و ایمان کے لاکھوں بھائیوں نے ہجرت کا عظیم عمل سرانجام دیتے ہوئے مال و جان کی قربانی دی۔ سب کے دلوں کی دھڑکن ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تھی اور یہ مہاجرین و انصار ایک ایسے وطن میں ایک قوم بن کر بس گئے جسے وہ اسلام کا قلعہ اور عالمگیر عدلِ اسلامی کا مظہر دیکھنا چاہتے تھے۔

تقسیم ہندوستان سے کچھ اور پیچھے چل کر دیکھیں تو انگریزی حکومت کے خلاف جہادِ آزادی کرنے والے مسلم مجاہدین کا مقصود بھی اسی برصغیر کے خطہ میں ایک ایسی سرزمین کا حصول تھا جو ہر غیر اسلامی تسلّط سے پاک ہو، اس ارضِ پاک میں خدا رسول کی پاک شریعت کا نفاذ ہو۔ الحمد للہ کہ قیامِ پاکستان کی تحریک اور انگریزی اور ہندو تسلط سے آزادی حاصل کرنے والے مجاہدین کی کوششیں بارآور ہوئیں اور برصغیر میں ارضِ پاک مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آگئی۔ خدائے ذوالجلال نے مختلف افراد اور جماعتوں کو اس خطۂ پاک میں زمامِ اقتدار دے کر اس امانت کو ان کے سپرد کیا، اور یہ ان سب کے لیے خدائی آزمائش تھی کہ وہ اس میں کیسے تصرف کرتے ہیں؟

ہر صاحبِ اقتدار خدا کے نام پر حلف اٹھا کر اس ملک کے استحکام کے وعدہ پر قسم اٹھاتا اور اقتدار سنبھالتا رہا۔ ان اربابِ حکم کے ہاتھوں شریعت خداوندی کا نفاذ ہو جاتا تو نہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بدعہدی ہوتی، نہ مجاہدینِ آزادی سے بے وفائی، نہ قومی وحدت کو دھچکا لگتا، اور نہ ہی مشرقی پاکستان کے انفصال کا عظیم المیہ پیش آتا، نہ صوبائی تعصبات اور لسانی فسادات جنم لیتے۔ متحدہ ہندوستان کے وقت آخر اسی نظریہ نے ہی سب کو اخوت کے رشتہ میں جوڑا تھا۔ ہماری قومی وحدت اور ہمارے وطن کے استحکام کا ضامن اور عظیم پاکستان کی روح و جاں یہی نظریہ تھا اور ہے۔ اس سے انحراف اور اربابِ حکم کی خدا رسول کے ساتھ عہد شکنی کے نتیجہ میں ہم نہ صرف برکاتِ سماویہ و ارضیہ سے محروم ہوئے بلکہ اپنی قومیت اور شناخت اور خود اپنے آپ کو بھول گئے۔ ارشاد ربانی ہے:

’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو خدا کو فراموش کر بیٹھے اور جس کی سزا ان کو خود فراموشی کی صورت میں ملی۔‘‘

جس کا لازمی نتیجہ داخلی خلفشار اور دیگر وہ حالات ہیں آج جن کا سامنا ہم کر رہے ہیں۔۔۔ ہمارے اربابِ حکم محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ’’استحکامِ پاکستان‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس سے مراد صرف ان کی ذات یا ان کی حکمران جماعت کو تحفظ ہوتا ہے۔ اس کے لیے مختلف قوانین بھی وضع کرتے ہیں اور ملکی تحفظ کی آڑ میں اپنی کرسی اور مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوششیں صرف اپنی خدمت اور چند افراد کے ساتھ تعاون تک منحصر ہو جاتی رہی ہیں۔

اربابِ حکم کے سامنے خدا تعالیٰ کی شریعت سے انحراف ہوا، اجنبی نظریات کا پرچار ہوا بلکہ بعض تو خود اس کی دعوت کے علمبردار بن گئے، ملک میں اندرونی خلفشار ہوا، بیرونی طور پر اس کی حدود کو غیر محفوظ و مامون کہہ دیا گیا، اور خود حکمران بھی اس عملِ شر میں شریک پائے گئے۔ اگر شریعت مطہرہ کا نفاذ ہوتا، اسلامی عالمگیر عدالت کے تحت ملک کی سیاست و معاملات کو طے کیا جاتا، اندرون ملک قانونِ خداوندی اور حدود اللہ کی حفاظت کی جاتی، تو پاکستان ایک مثالی رفاہی مملکت بنتا، نہ معاشی پریشانی نہ داخلی خلفشار دیکھا جاتا۔ کیونکہ اسی کلمہ مبارک ’’لا الٰہ الّا اللہ‘‘ نے انہیں متحد کیا تھا اور مشرق و مغرب ایک جھنڈے تلے جمع ہوئے تھے۔ یہی کلمہ ان کے داخلی و خارجی، اقتصادی اور سیاسی تحفظ کا یقیناً‌ ضامن تھا اور آج بھی ہے۔

اہلِ وطن عزیز اور اربابِ حکم آج بھی خدا تعالیٰ سے سابقہ گناہوں پر معافی مانگ کر تجدیدِ عہد کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے اس خطۂ زمین پر صرف اور صرف اسی کی قائم کردہ شریعت کا مکمل نفاذ اس کو صحیح معنوں میں پاکستان (پاک سرزمین) بنا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ اقامتِ شریعت کے سبب ہی ہم آسمانی اور زمینی برکات سے مستفیذ ہو سکتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:

’’اگر یہ لوگ خدا کی نازل شدہ شریعت کو قائم کرتے تو آسمان و زمین کی نعمتوں سے مالامال ہوتے۔‘‘

اگر کوئی خدائی وعدہ پر یقین نہ کرے تو اس تناظر میں ہم سعودی عرب کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں جہاں کا امن مشرق و مغرب میں مثالی ہے اور جس کی رفاہیت کی نظیر کسی ملک میں نہیں ہے۔ ذرا ماضی کو پلٹ کر دیکھیں تو موجودہ حکومت سے پہلے جزیرہ عرب میں بداَمنی کا دور دورہ تھا، غربت و افلاس کا یہ عالم کہ چند ٹکوں کی خاطر حجاج و زائرین کی جان تک ضائع کر دی جاتی تھی بلکہ بقول شخصے اگر کسی کو گولی کا نشانہ بنانے کے بعد اس سے مال نہ ملتا تو افسوس اس بات پر ہوتا کہ ایک گولی کا خسارہ ہو گیا۔ مگر اللہ کی حدود کے قیام اور شریعتِ مطہرہ کے نفاذ کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیے اور اقتصادی خوشحالی اور داخلی امن و امان کا یہ عالم کہ دنیا کی تمام متمدن اور ترقی یافتہ قومیں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ قانونِ خداوندی ہی اللہ کی سرزمین میں امن و امان کا واحد ضامن ہے۔ کیونکہ سعودی عرب میں مغرب و مشرق کی دیگر قوموں کے مقابلہ میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جس کا مشاہدہ ہر حاجی، زائر اور یہاں پر مقیم ہر شخص کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور اپنے اربابِ حکم سے یہ پوچھتا ہے کہ کیوں ہمارے پاک وطن کو استعماری نظامِ حیات کی نحوستوں سے نجات نہیں دی جاتی؟ کیوں اسلام کے عادلانہ نظام کو اپنا کر ہمیں برکاتِ ارض و سماء سے مستفیض نہیں ہونے دیا جا رہا؟

پاکستان کے محبِ اسلام عوام اور ان کے پیارے دین کے نفاذ کے درمیان جو لوگ آڑ ہیں وہ صرف خدا رسول کے ہی نہیں بلکہ پاک سرزمین اور اس کے مخلص عوام کے بھی دشمن ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ قوم ایک بنے، یہ قوم خوشحال ہو، یہ قوم خدا رسول کی محبوب بن کر اس کے خزانوں کی وارث بنے، اور ان کے ملک میں داخلی استحکام ہو اور اقتصادی رفاہیت ان کو میسر آئے۔

استحکامِ پاکستان کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ داخلی امن اور اقتصادی خوشحالی کی ضمانت اور کفالت صرف اور صرف نظریۂ پاکستان کے عملی نفاذ میں پنہاں ہے۔ اب خارجی طور پر ملک کے سرحدوں کی حفاظت اور اطراف کے اعداء سے ملک کو مامون و محفوظ کرنے کا مسئلہ ہے جو استحکامِ وطن کا لازمی جزء ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کی عظمت جہاد کو قرار دیا۔ اس جذبہ کو مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے اعداءِ اسلام نے بہت کوششیں کیں، جھوٹے نبی تک کو جنم دیا کہ امت کو شیطانی وحی کے ذریعے یہ درس دیا کہ جہاد کو بھلا دیں۔ اس دجل کا توڑ الحمدللہ اہلِ اسلام نے پورے طور پر کیا اور ادھر حق تعالیٰ شانہٗ نے اس دور میں جہادِ افغانستان کی شکل میں امتِ اسلامیہ کو عموماً‌ اور پاکستانی قوم کو خصوصاً‌ اس درس کی علمی مشق کا موقع فراہم کیا تاکہ اعداءِ اسلام پر اپنی عظمت کی دھاک بٹھانے کے ساتھ ساتھ پاک سرزمین کے استحکامِ خارجی کا عمل بھی مکمل کیا جا سکے۔ لہٰذا ایک سرحد پر اپنے افغان بھائیوں کے جہاد میں اشتراک اور ان کی مکمل کامیابی تک ہمارا تعاون اس جہت سے وطنِ عزیز کے خارجی استحکام کے مترادف ہے۔ جو فرد یا جماعت اس فریضہ میں کوتاہی کرتا ہے وہ اگر ایک طرف ایک اہم دینی فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے ایک اہم دینی فریضہ کا تارک یا منکر ہے تو دوسری طرف پاکستان کے استحکام کا بہی خواہ نہیں۔

ملک کے خارجی استحکام کا تعلق ایک سمت سے جہادِ افغانستان ہے تو دوسری طرف مسئلہ کشمیر ہے۔ ہمارے عقیدہ و ایمان کے کشمیری بھائی جو عرصۂ دراز سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں جنہوں نے اپنی حریت کی تحریک کا آغاز اس جذبہ کے تحت کیا ہے کہ بقائے زندگی قربانی کا دوسرا نام ہے۔ اپنے ان بھائیوں کے ساتھ عملی تعاون حتٰی کہ وہ اپنے فطری انسانی حقِ حریت کو پا لیں، اہلِ پاکستان کا ان حریت پسندوں سے تعاون اور ان کے جہاد میں اشتراک استحکامِ پاکستان کی ہی ایک کڑی ثابت ہو گا، ان شاء اللہ العزیز۔

الغرض اندرون ملک شریعتِ مطہرہ کا نفاذ اور بیرون ملک اپنے مظلوم اور مجاہد بھائیوں سے تعاون امتِ اسلامیہ کی وہ خدمت ہے جس کے ثمرات سے پوری امتِ اسلامیہ کا سر اگر فخر سے بلند ہو گا تو سب سے پہلے ’’استحکامِ پاکستان‘‘ جیسے مقدس الفاظ، پُرمغز عبارت، اور وسیع تر مفہوم کی حامل ترکیب کی درست شرح کی تکمیل بھی ہو گی۔ خوش قسمت ہے وہ حکمران شخصیت، یا حکمران جماعت، یا اربابِ سیاست جن کے ذریعے نظریۂ پاکستان کی حفاظتِ عملی ہو۔ اور بہت ہی مبارک ہاتھ ہیں وہ ہاتھ جن کے ذریعے شریعتِ مطہرہ کا مکمل نفاذ ہو۔ تاکہ خدائے ذوالجلال سے کیا ہوا عہد پورا ہو اور وہ ذاتِ عالی اس کے بدلہ میں اپنے وعدہ کو پورا فرماتے ہوئے ہمارے لیے رحمتوں کے دروازے کھول دیں، اور ہمارے مجاہدینِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں شریک زعماء کی ارواح مطمئن ہوں، اور قربانی دینے والوں اور وطن کے بہی خواہوں کی آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہو اور وہ امن و امان، رفاہیت اور وحدتِ ملّی کا مشاہدہ کر لیں۔

’’ان تنصر اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم‘‘ اگر تم اللہ کے دین کا ساتھ دو گے تو وہ ذاتِ عالی تمہاری نصرت کرے گی اور تمہارے قدم جما دے گی۔ اور اگر تم انحراف کرو گے تو تمہارے عوض ایسی قوم لے آئے گی جو تمہاری طرح نہ ہو گی۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(فروری ۱۹۹۰ء)

فروری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۲

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر
مولانا سراج نعمانی

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ
محمد اسلم رانا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟
مولانا سعید احمد پالنپوری

استحکامِ پاکستان کی ضمانت
مولانا سعید احمد سیالکوٹی

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد
پروفیسر غلام رسول عدیم

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
عدیل احمد جہادیار

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter