فروری ۱۹۹۰ء

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جہاد افغانستان کے منطقی اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ نہ صرف مشرقی یورپ نے روس کی بالادستی کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اپنی آزادی اور تشخص کی بحالی کے لیے قربانی اور جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن ہو چکی ہیں اور فلسطین، کشمیر اور آذربائیجان کے حریت پسند مسلمان جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں۔ جہاد کے اسی جذبہ سے کفر کی قوتیں خائف تھیں اور اسے مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے استعماری طاقتیں گزشتہ دو سو برس سے فکری، سیاسی اور تہذیبی سازشوں کے جال بن رہی تھیں لیکن اسلام کی زندہ...

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت

― شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

دنیا میں جتنے بھی رسول اور نبی تشریف لائے ہیں ہم ان سب کو سچا مانتے ہیں اور ان پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور ایسا کرنا ہمارے فریضہ اور عقیدہ میں داخل ہے ’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘۔ مگر اس ایمانی اشتراک کے باوجود بھی ان میں سے ہر ایک میں کچھ ایسی نمایاں خصوصیات اور کچھ جداگانہ کمالات و فضائل ہیں جن کو تسلیم کیے بغیر ہرگز کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ مثلاً‌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء و رسل علیہم السلام تشریف لائے ہیں تو ان سب کی دعوت کسی خاص خاندان اور کسی خاص قوم سے مخصوص...

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ

― حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

یہ ظاہر ہے کہ کوئی کسی کا مقرب جبھی ہو سکتا ہے جبکہ اس کی موافق مرضی ہو۔ جو لوگ مخالف مزاج ہوتے ہیں قربت و منزلت ان کو میسر نہیں آسکتی، چنانچہ طاہر ہے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یوسفِ ثانی اور حسن میں لاثانی ہو، پر اس کی ایک آنکھ مثلاً‌ کانی ہو تو اس ایک آنکھ کا نقصان تمام چہرہ کو بدنما اور نازیبا کر دیتا ہے۔ ایسے ہی اگر ایک بات بھی کسی میں دوسروں کے مخالف مزاج ہو تو ان کی اور خوبیاں بھی ہوئی نہ ہوئی برابر ہو جائیں گی۔ غرض ایک عیب بھی کسی میں ہوتا ہے تو پھر محبوبیت اور موافقت طبیعت و رضا متصور نہیں جو امید تقرب ہو، اس لیے یہ بھی ضرور ہے...

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر

― مولانا سراج نعمانی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بکثرت فضائل و خصوصیات قرآن مجید بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک جامع آیت کریمہ یہ بھی ہے، فرماتے ہیں: یا ایھا الناس قد جآءتکم موعظۃ من ربکم وشفآء لما فی الصدور وھدی ورحمۃ للمؤمنین۔ ’’اے لوگو تحقیق آ چکی تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے اور شفا ہے جو کچھ دلوں میں ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے واسطے ایمان والوں کے۔‘‘ گویا قرآن مجید کا پیغام تمام انسانوں کے لیے ہے، یہ پروردگار کی طرف سے نصیحت ہے، قلبی بیماریوں کے لیے شفا ہے، ہدایت ہے اور مومنین کے لیے رحمت...

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ

― محمد اسلم رانا

مغرب زدہ افراد کا ایک طبقہ ہے جو اسلامی حدود کے نفاذ کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ اسلامی سزائیں سخت ہیں، غیر انسانی ہیں اور وحشیانہ ہیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ یہ خیال و تاثر محض مغرب سے مرعوبیت اور مسحوریت کا نتیجہ ہے ورنہ اسلامی سزائیں جہاں نافذ ہوتی ہیں وہ معاشرہ جرم و گناہ سے تقریباً‌ پاک ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں سخت سزائیں اسلام ہی نے مقرر نہیں کی ہیں بلکہ اسلام سے قبل آسمانی مذاہب میں بھی اسی نوعیت کی سزائیں تھیں اور یہ سزائیں آج تک ان کی مقدس کتابوں میں موجود ہیں جنہیں اہل مغرب (عیسائی اور یہودی) بھی مذہبی اور مقدس مانتے ہیں۔ اس...

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہفت روزہ زندگی کے ایک گزشتہ شمارہ (۱۵ تا ۲۱ دسمبر ۱۹۸۹ء) میں ’’ایران اور انقلاب ایران‘‘ پر بحث و تمحیص کے حوالہ سے کالاگوجراں سے جناب جعفر علی میر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے انقلاب ایران اور اس کے اثرات کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ راقم الحروف کو ۱۹۸۷ء میں پاکستانی علماء کرام، وکلاء، دانشوروں کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے اور وہاں گیارہ روزہ قیام کے دوران انقلابی راہنماؤں سے ملنے اور انقلاب کے اثرات و نتائج کا مشاہدہ کرنے کا موقع مل چکا ہے اور اس مشاہدے کے بارے میں میرے تاثرات قومی پریس کے ذریعے منظر عام پر آچکے...

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟

― مولانا سعید احمد پالنپوری

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ بار بار اٹھتا رہتا ہے۔ اخبارات و مجلّات کی سطح سے لے کر عام محفلوں تک اس کا چرچا ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ رائج الوقت نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ مگر ضرورت کیوں ہے؟ یہ بات ابھی تک منقح نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس نقطہ پر گفتگو کر لی جائے۔ یہ بات سب ہی حضرات جانتے ہیں کہ دینی تعلیم کے تین مرحلے ہیں اور دینی تعلیم دینے والے اداروں کے مقاصد مختلف ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے تعلیم کے مراحل اور اداروں کے مقاصد سے بحث کر لی جائے، اس کے بعد ہی کوئی لائحہ عمل تجویز کیا جا سکتا...

استحکامِ پاکستان کی ضمانت

― مولانا سعید احمد سیالکوٹی

’’استحکامِ پاکستان‘‘ یہ ایک جاذبِ نظر و فکر ترکیب ہے جس کے وسیع تر مفہوم میں مملکتِ خداداد پاکستان کی داخلی اور خارجی حفاظت و امن کی کفالت ہے۔ اس پُرمغز عبارت کے ناجائز استعمال سے یہ ایک پُرفریب ترکیب بن گئی کیونکہ وطنِ عزیز میں اربابِ حکم کی طرف سے قوتِ اقتدار ہمیشہ پاکستانی عوام کی خدمت و خوشحالی اور وطن کے داخلی اور خارجی استحکام کے بجائے حکمران فرد یا حکمران پارٹی کے طولِ اقتدار اور ذاتی اغراض و مصالح کی تکمیل و حصول کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ استحکامِ پاکستان درحقیقت ایک عظیم مقصد ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کی نہیں بلکہ امتِ اسلامیہ...

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟

― ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

جب روح اللہ، کلمۃ اللہ حضرت عیسٰی المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کسی جماعت، حلقے یا مجلس میں ہوتا ہے تو ان کی حیات و وفات کی متنازعہ حیثیت اور اس سے متعلقہ بحث طلب امور کا زیربحث اجانا ایک لازمی امر ہے خصوصًا یہ کہ کیا حضرت مسیحؑ نے رفع الی السماء سے قبل وفات پائی یا کہ نہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ عیسائی اور مسلم حضرات کے درمیان ہمیشہ سے متنازعہ ہے اور تب تک رہے گا جب تک کہ (اہلِ اسلام کے عقیدہ کے مطابق) حضرت عیسٰیؑ نزول کے بعد صلیب کو نہیں توڑ دیتے (بخاری جلد اول ص ۴۹۰ باب نزول عیسٰی ابن مریمؑ)۔ ازروئے قرآن حضرت عیسٰیؑ کی وفات قبل از رفع ثابت نہیں...

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد

― پروفیسر غلام رسول عدیم

مہینوں اور سالوں میں نہیں صدیوں اور قرنوں میں کسی قوم میں کوئی ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جس کے لیے نسلِ انسانی عمروں منتظر رہتی ہے اور جب وہ شخصیت منقہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے تو صدیوں اس کی یاد ذہنوں کو معنبر رکھتی، سوچوں کو اجالتی، فکر کی آبیاری کرتی اور دلوں کو گرماتی اور برماتی رہتی ہے ؎ ’’عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات۔ تاز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں‘‘۔ یہاں پیغمبرانِ الٰہی خارج از بحث ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ ہوتے اور منصبِ اصطفاء و اجتباء پر فائز ہوتے ہیں، وہ از خود دعوتِ فکر و عمل لے کر نہیں اٹھتے مگر ان کے پاس اپنے بھیجنے...

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال

― عدیل احمد جہادیار

افغانستان کے شہر خوست کے جنوب کی طرف واقع پہاڑی سلسلہ میں طورہ غاڑہ کے قریب ایک غار میں بڑی بڑی پگڑیوں والے کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ غار کے باہر ہر دس پندرہ منٹ کے بعد ایک ڈاٹسن یا جیپ آ کر رکتی اور اس میں سے کچھ افراد نکل کر غار کی طرف بڑھتے۔ ان لوگوں کو دیکھ کر غار کے باہر کھڑے کلاشنکوفوں سے مسلح پہرہ دار ان کو راستہ دے دیتے۔ ڈاٹسنوں اور جیپوں میں آنے والے حضرات خوست جنوبی کے افغان مجاہدین کے کمانڈر تھے اور یہ سب یہاں پر دشمن پر حملہ کرنے کی پلاننگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اسی اثنا میں ایک نیلے رنگ کی ڈبل سیٹر ڈاٹسن اور ایک سرخ پک اپ ڈاٹسن غار...

فروری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۲

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر
مولانا سراج نعمانی

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ
محمد اسلم رانا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟
مولانا سعید احمد پالنپوری

استحکامِ پاکستان کی ضمانت
مولانا سعید احمد سیالکوٹی

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد
پروفیسر غلام رسول عدیم

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
عدیل احمد جہادیار

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter