علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر

مولانا سراج نعمانی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بکثرت فضائل و خصوصیات قرآن مجید بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک جامع آیت کریمہ یہ بھی ہے، فرماتے ہیں:

یٰآ اَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْکُمْ مَّوْعِظَۃُ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَآءُ لِّمَا فِی الصُّدُوْر وَھْدً‌ی وَّرَحْمَۃُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔

’’اے لوگو تحقیق آ چکی تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے اور شفا ہے جو کچھ دلوں میں ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے واسطے ایمان والوں کے۔‘‘

گویا قرآن مجید کا پیغام تمام انسانوں کے لیے ہے، یہ پروردگار کی طرف سے نصیحت ہے، قلبی بیماریوں کے لیے شفا ہے، ہدایت ہے اور مومنین کے لیے رحمت ہے۔ قرآن مجید نزول سے قبل لوح محفوظ پر تھا، وہاں سے لیلۃ القدر میں آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا اور وہاں سے پھر وقتاً‌ فوقتاً‌ تئیس سال کے عرصے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ علی الترتیب ان کیفیات کا مطالعہ کیجئے۔

نزولِ قرآن

بَلْ ھُوَ قُرْاٰنُ مَّجِیْد۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظ (البروج پ ۳۰)

’’بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں۔‘‘

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰن (البقرہ پ ۲)

’’مہینہ رمضان کا وہ ہے جس میں اتارا گیا ہے قرآن مجید۔‘‘

اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْر (القدر پ ۳۰)

’’بے شک ہم نے نازل کیا ہے قرآن لیلۃ القدر میں۔‘‘

اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق (العلق پ ۳۰)

’’پڑھ اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔‘‘

یہ قرآن مجید نزول کے اعتبار سے دو ادوار میں مکمل ہوا۔ پہلا دور مکی کہلاتا ہے جس میں اصول و کلیاتِ دین اور اقوامِ سابقہ کے واقعات وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرا دور مدنی کہلاتا ہے جس میں عموماً‌ مسلمانوں کو خطاب کر کے عبادات و معاملات سے متعلق احکام تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ نزولِ قرآن کو وحی کہا جاتا ہے جو دو قسم کی ہوتی ہے۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو۔ نزولِ وحی کے طریقے قرآن مجید میں مندرجہ ذیل بیان کیے گئے ہیں۔

وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَن یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِن وَّرَآءِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ اِنّہٗ عَلِیُّْ حَکِیْم (الشورٰی پ ۲۵)

’’اور نہیں طاقت کسی شخص کی کہ بات کرے اس سے اللہ مگر وحی سے یا پردے کی آڑ سے یا بھیجے فرشتہ پیغام لانے والا، پس جی میں ڈالتا ہے اس کے حکم سے جو چاہتا ہے، تحقیق وہ بلند مرتبہ حکمت والا ہے۔‘‘

تدوینِ قرآن

قرآن مجید کی حفاظت اور تدوین دو طریقوں سے کی گئی۔ صدری حفاظت میں حفظ کے ذریعے حفاظت کی گئی، اور تحریری حفاظت میں کتابت کی صورت میں حفاظت کی گئی۔ حفظ کے بارے میں قرآن مجید میں بیان ہے کہ

بَلْ ھُوَ اٰیٰتُْ بَیِّنٰتُْ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ، وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَا اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ (العنکبوت پ ۲۱)

’’بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں کہ دیے گئے ہیں علم، اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا سوائے ظالموں کے۔‘‘

اس لیے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حفظ فرمایا اور پھر صحابہ کرامؓ کو حفظ کرایا۔

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (القیامۃ پ ۲۹)

’’بے شک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا (تیرے دل میں) اور پڑھنا اس کا (تیری زبان سے)۔‘‘

سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی (الاعلٰی پ ۳۰)

’’عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔‘‘

اس کے بعد حضورؐ نے خدا کے حکم سے یہ قرآن مجید صحابہ کرامؓ تک پہنچایا۔

یَآ اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (المائدہ پ ۶)

’’اے پیغمبر پہنچا دے جو کچھ کہ اتارا گیا ہے آپ کی طرف۔‘‘

اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ (پ ۲۱)

’’پڑھ جو کچھ وحی کی جاتی ہے تیری طرف کتاب میں سے۔‘‘

ان احکام پر حضورؐ کے عمل کو نقل کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد ہے:

یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا (پ ۲)

’’پڑھتا ہے تم پر آیتیں ہماری۔‘‘

قرآن مجید پڑھنے والوں کے لیے آداب بھی خود خداوند نے مقرر فرمائے۔

وَاِذَا قَرَأتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم (النحل پ ۱۴)

’’پھر جب تو پڑھے قرآن تو پناہ مانگ اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا۔ (الاعراف پ ۹)

’’اور جب پڑھا جائے قرآن تو سنو اسے اور چپ رہو۔‘‘

یہ ادب بھی بتایا کہ پڑھتے ہوئے حلاوت، خوش الحانی اور رقت سے پڑھا جائے تاکہ کوئی دوسرا کلام اس کے مقابلے میں ایسی لذت پیدا نہ کرے اور آہستہ آہستہ پڑھے تاکہ آسانی سے یاد ہو جائے۔

وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا (المزمل پ ۲۹)

شاید اسی لیے سورتوں میں بھی تقسیم کیا گیا کہ حفظ میں آسانی ہو، اور تدریجًا تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا تاکہ صحابہ کرامؓ آسانی سے یاد کر سکیں۔

وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَءَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلًا (بنی اسرائیل پ ۱۵)

’’اور قرآن، جدا جدا کیا ہم نے اس کو، تاکہ پڑھے تو اسے لوگوں پر آہستگی سے، اور اتارا ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارنا۔‘‘

عربوں کا حافظہ ضرب المثل تھا، انہوں نے اسے بخوبی یاد کیا۔ اسی حفظ کے لیے ترغیب دیتے ہوئے نماز میں بھی قراءت فرض کی گئی تاکہ حفظ کا جذبہ پیدا ہو۔

اَقِمِ الصّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (بنی اسرائیل پ ۱۵)

’’قائم کر نماز سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور پڑھ قرآن فجر میں۔‘‘

وَلَا تَجْھَرْ بِصَلٰوتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذَالِکَ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل پ ۱۵)

’’اور نہ بلند کر اپنی نماز میں (تلاوت کی آواز) اور نہ بہت آہستہ کر اسے، اور ڈھونڈ اس کے درمیان کا راستہ۔‘‘

انہی ترغیبات کی وجہ سے اکثر رات کو قرآن مجید کی تلاوت تہجد و نوافل میں کی جاتی ہے۔ خود حضورؐ تلاوت کی کثرت نوافل و تہجد میں فرمایا کرتے تھے۔

اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَ نِصْفَہٗ وَثُلَثَہٗ وَطَائِفَۃُْ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ (المزمل پ ۲۹)

’’بے شک رب تیرا جانتا ہے کہ تو کھڑا ہوتا ہے تقریباً‌ دو تہائی رات اور آدھی اور تہائی تک، اور ایک جماعت ان لوگوں کی جو تیرے ساتھ ہیں۔‘‘

مدارسِ قرآن

قرآن مجید سیکھنے کے لیے مساجد کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ خصوصًا مسجد نبویؐ میں اصحابِؓ صُفَّہ، جب کہ مستقل طور پر دینی مدرسہ مخرمہ بن نوفلؓ کے مکان پر دارالقراء کے نام سے مشہور تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ عقبہ اولٰی کے موقع پر حضرت مصعب بن عمیرؓ کو تعلیم قرآن مجید کے لیے بھیجا تھا۔ ایک اور موقع پر ستر قاریوں کو اہل ِ نجد کی تعلیم کے لیے بھیجا جنہیں برمعونہ کے مقام پر شہید کیا گیا۔ یمن کے لشکر کے قاضی کی حیثیت سے حضورؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کی تقرری کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث مبارکہ ہے

خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ۔

’’تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اس کی تعلیم دے۔‘‘

انہی ترغیبات کی وجہ سے حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ میں یہ حالت ہو گئی تھی کہ قرآن مجید کی تلاوت ہر گھر میں ہوا کرتی تھی۔

وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ وَالْحِکْمَۃِ (الاحزاب پ ۲۲)

’’اور یاد کیا کرو جو کچھ پڑھا جاتا ہے تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور حکمت میں سے۔‘‘

کتابی حفاظت

چونکہ عرب عموماً‌ اَن پڑھ تھے، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ (الجمعہ پ ۲۸)

’’وہ جس نے بھیجا اَن پڑھوں میں رسول انہی میں سے۔‘‘

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُمّی تھے۔

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ النَّبِیِّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ (اعراف پ ۹)

’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اُمّی نبی کی جسے پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات و انجیل میں۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے وقت حالت یہ تھی کہ قریش مکہ میں صرف سترہ کاتبین تھے جو (۱) حضرت عمر بن الخطاب (۲) عثمان بن عفان (۳) علی بن ابی طالب (۴) ابوعبیدہ بن الجراح (۵) طلحہ (۶) ابو سفیان بن حرب بن امیہ (۷) معاویہ بن ابی سفیان (۸) یزید بن ابی سفیان (۹) ابان بن سعید بن العاص بن امیہ (۱۰) خالد بن سعید بن العاص (۱۱) حاطب بن عمرو العامری القریشی (۱۲) ابو سلمہ بن عبد الاسد مخعزومی (۱۳) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرم العامری (۱۴) حویطب بن عبد العزٰی عامری (۱۵) جھیم بن ابی الصلت بن مخرقہ بن مطلب بن عبد مناف (۱۶) علاء بن حضرمی (۱۷) اور ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنھم ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کتابی صورت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ (طور پ ۲۷)

’’قسم ہے طور کی۔ اور کتاب کی جو کھلی ہوئی ہے۔ کھلے ہوئے کاغذ پر۔‘‘

ن ۔ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ (ن پ ۲۹)

’’قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو لکھتے ہیں۔‘‘

حضرت ابو رافع  ؓحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ

حَقُّ الْوَلَدِ عَلَی الْوَالِدِ اَنْ یَّعْلَمَہُ الْکِتَابَۃَ وَالسَّاحَۃَ وَالرَّمی۔

’’بیٹے کا باپ پر حق ہے کہ وہ اسے کتابت، تیراکی اور تیر اندازی سکھائے۔‘‘

حضورؐ کو تعلیمِ کتابت کا اتنا اہتمام تھا کہ غزوۂ بدر کے موقع پر غریب کفار کے لیے یہ فدیہ رکھا کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ چنانچہ جب ہم کاتبینِ وحی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی تعداد تقریبًا بیالیس نظر آتی ہے جو کہ شانے کی چوڑی ہڈیوں، تختیوں، کھجور کی شاخوں کے ڈنٹھل، سفید پتھر کے ٹکڑوں، رقاع کھال یا باریک جھلی یا کاغذ کے ٹکڑے قطع الادیم، چمڑے کے ٹکڑوں اور اونٹوں کی کاٹھیوں پر لکھا کرتے تھے۔ اس طرح قرآن مجید کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی باوجودیکہ حضورؐ لکھنا نہیں جانتے تھے۔

وَلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذً‌الَّاْرتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (العنکبوت پ ۲۱)

’’اور نہ ہی لکھتا تھا تو اپنے دائیں ہاتھ سے کہ اس وقت البتہ دھوکا کھاتے یہ جھوٹے۔‘‘

لیکن اس کے باوجود مکی دور میں ہی قرآن مجید کی کتابت عام ہو چکی تھی۔

فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ ۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ (عبس پ ۳۰)

’’عظمت والے صحیفوں میں ۔ بلند کیے گئے پاک کیے گئے ۔ لکھنے والے ہاتھوں سے ۔ بزرگ نیکو کاروں کے۔‘‘

دوسری جگہ فرمایا:

وَقَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً‌ وَّاَصِیْلًا (الفرقان پ ۱۸)

’’اور کہا انہوں نے یہ کہانیاں ہیں پہلوں کی، لکھ لیا ہے ان کو پھر وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح و شام۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام والے واقعہ میں بھی ان کی ہمشیرہ نے ان کو قرآن مجید کے اوراق دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا:

لَسْتَ مِنْ اَھْلِھَا ھٰذَا کِتَابُْ لَّا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ (بیہقی دلائل النبوۃ)

’’تو اس کا اہل نہیں ہے، یہ وہ کتاب ہے جسے نہیں چھو سکتے سوائے پاکیزہ لوگوں کے۔‘‘

قرآن مجید جب زیر کتابت تھا اس دور میں حضورؐ نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر ہر قسم کی تحریرات کی ممانعت کر دی تھی تاکہ قرآن مجید کے ساتھ ان تفاسیر و حواشی یا احادیث کا اضافہ و اختلاط نہ ہو جائے۔ ایک دفعہ ارشاد فرمایا:

مَنْ کَتَبَ عَنِّیْ غَیْرَ الْقُرْاٰنَ فَلْیُمْحِہٗ۔

’’جس نے مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ لکھا ہو تو اسے مٹا دے۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَکْتُبُ الْاَحَادِیْثَ فَقَالَ مَا ھٰذَا تَکْتُبُوْنَ؟ قُلْنَا اَحَادِیْثَ سَمِعْنَاھَا مِنْکَ قَالَ اَکِتَابً‌ا غَیْرَ اللہِ تُرِیْدُوْنَ؟ مَا اَضَلُّ مِمَّنْ قَبْلِکُمْ اِلَّا مَا اکْتَتَبُوْا مِنَ الْکِتَابِ مَعَ کِتَابَ اللہِ تَعَالیٰ (الحدیث)

’’آئے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم احادیث لکھ رہے تھے تو فرمایا تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا احادیث جو ہم نے آپ سے سی ہیں۔ فرمایا کیا اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب تم چاہتے ہو؟ نہیں گمراہ ہوئے تھے تم سے پہلے مگر لکھتے تھے اور کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ۔‘‘

تدوینِ قرآن

قرآن مجید چونکہ نزولی ترتیب کے مطابق نہیں، اس لیے جب تک قرآن مجید نازل ہوتا رہا اس وقت تک قرآن مجید کو صحیفہ کی شکل میں اکٹھا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ بیک وقت مختلف سورتوں کی آیات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ حضورؐ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں مختلف نوشتوں سے ہر سورت کی تمام آیات اکٹھی کی گئیں اور قرآن مجید کو مرتب کیا گیا۔

وَقَدْ کَانَ الْقُرْاٰنَ کُتِبَ کُلُّہٗ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لٰکِنْ غَیْرَ مَجْمُوْعٍ فِیْ وَضْعٍ وَاحِدٍ وَلَا مُرَتّب السُّوَرَ (الاتقان)

’’اور البتہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پورا لکھا جا چکا تھا لیکن یکجا شکل میں نہ تھا اور نہ ہی سورتوں کو مرتب کیا گیا تھا۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی قیادت میں پچیس مہاجر صحابہؓ اور پچاس انصاری صحابہؓ سے قرآن مجید مرتب کرایا۔ اس کے بعد فتح آرمینیا کے موقع پر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے مدینہ منورہ واپس پہنچ کر حضرت عثمانؓ کو مشورہ دیا کہ قرآن مجید کی قراءتیں ایک قراءت پر مجتمع کی جائے جس پر حضرت عثمانؓ نے صحابہ کرامؓ کے ذریعے ۲۴ھ آخر یا ۲۵ھ کے اوائل میں قرآن مجید کی کتابت مکمل کروائی اور اس کی سات نقلیں کرا کر کوفہ، شام، بحرین، بصرہ، یمن، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رکھوائیں جن سے نقل شدہ قرآن آج تک دنیا میں صحیح کامل حالت میں موجود ہیں۔

علومِ قرآن

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآنی علوم کو پانچ شعبوں میں تقسیم کیا ہے۔

(۱) علم الاحکام

جس میں فرائض و واجبات، حلال و حرام وغیرہ کا بیان ہے۔ اس علم کی تفصیل بیان کرنا فقہاء اور مجتہدین کا کام ہے۔

(۲) علم المناظرہ

اس میں یہود و نصارٰی، مشرکین اور منافقین سے مناظرہ ہے۔ ان پر بحث کرنا متکلمین کا کام ہے۔

(۳) علم تذکیر بآلاء اللہ

اس میں زمین و آسمان، رزق و عزت، انعاماتِ الٰہی و صفات الٰہی کا بیان ہے۔ ان پر بحث کرنا صوفیاء اور مشائخ کا کام ہے۔

(۴) علم تذکیر بایام اللہ

اس میں ان تاریخی واقعات کا ذکر ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کو بطور انعام کامیاب فرمایا، یا سرکشوں اور نافرمانوں پر عذاب نازل کر کے انہیں عبرت کا سامان بنایا۔

(۵) علم تذکیر بما بعد الموت

اس میں موت اور موت کے بعد آنے والے واقعات، مسئلہ حشر نشر، حساب کتاب، میزان اور جنت و دوزخ کا بیان ہے۔ ان آخری دو علوم پر بحث کرنا واعظین کا طریقہ ہے۔

علومِ تفسیر قرآن

تفسیر لغوی طور پر فَسَّرَ بمعنی کشف سے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ان ہی معانی میں ذکر کیا گیا ہے:

وَالصُّبْحِ اِذَا اَسْفَرَ (المدثر پ ۲۹)

’’اور صبح کی جب روشن ہو۔‘‘

وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرً‌ا۔ (الفرقان پ ۱۹)

’’اور وہ نہیں لاتے آپ کے پاس کوئی مثال مگر ہم پہنچا دیتے ہیں آپ کے پاس ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر۔‘‘

جبکہ اصطلاح میں تفسیر سے مراد:

عِلْمُْ یُبْحَثُ فِیْہِ عَنْ مَعْنی نَظَمِ الْقُرْاٰن بِحَسْبِ الْقَوَانِیْنِ الْعَرَبِیَّۃِ وَالْقَوَاعِدِ الشَّرْعِیَّۃِ بِقَدَرِ طَاقَۃِ الْبَشَرِیَّۃِ۔

’’ایسا علم جس میں قرآن مجید کے الفاظ کے معنی پر عربی زبان کے قوانین اور شریعت کے قاعدوں کو پیش نظر رکھ کر انسانی طاقت کے مطابق بحث کی جاتی ہے۔‘‘

تاہم اپنی رائے اور سوچ سے تفسیر کرنے کی ممانعت ہے۔ کتاب اللہ کا جو مفہوم کتاب و سنت سے ثابت ہو گا اسے تفسیر کہیں گے اور اسی مفہوم کے موافق مسائل و معارف کے استنباط کو تاویل کہیں گے۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ تفسیر میں تین چیزوں کی رعایت ضروری ہے۔

(۱) ہر کلمہ کو معنی حقیقی یا مجاز معروف پر محمول کرنا۔

(۲) سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنا تاکہ کلام بے ربط نہ ہو۔

(۳) حضورؐ اور صحابہ کرامؓ کی تفسیر کے خلاف نہ ہو۔

اگر پہلی شرط فوت ہو گئی تو تاویل قریب ہے۔ اگر دوسری شرط فوت ہو گئی تو تاویل بعید ہے۔ لیکن اگر تیسری شرط فوت ہو گئی تو تحریف ہے اور کفر ہے۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ فَسَّرَ الْقُرْاٰنَ بِرَایِہٖ فَقَدْ کَفَرَ۔

’’جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی تو تحقیق کافر ہو گیا۔‘‘

تفسیر کی ضرورت

اَفَلَا یَتَدَبّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا (محمد پ ۲۶)

قرآن مجید کے نزول کا مقصد بیان کرتے ہوئے تفسیر کی ضرورت یوں بیان فرمائی:

وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ (النحل پ ۱۴)

’’اور اتارا ہم نے آپ کی طرف ذکر تاکہ سمجھائیں آپؐ لوگوں کو وہ جو اتاری گئی ہے ان کے لیے۔‘‘

اسی طرح حضورؐ کی بعثت کا مقصد بھی تعلیم کتاب اور حکمت و تفسیر ہی تھا۔

کَمَا اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکَمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (بقرہ پ ۲)

’’جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں سے، پڑھتا ہے تم پر آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تمہیں اور سکھاتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت اور سکھاتا ہے تمہیں وہ جو تم نہیں جانتے۔‘‘

حضورؐ نے جو بھی تفسیر بیان فرمائی وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی تھی۔

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم ۲۷)

تفسیر کے لیے ضروری علوم

امام سیوطیؒ کے مطابق یہ پندرہ علوم مفسر کے لیے ضروری ہیں۔ (۱) لغت عربیہ (۲) علم نحو (۳) علم صرف (۴) علم اشتقاق (۵) علم معانی (۶) علم بیان (۷) علم بدیع (۸) علم قراءت (۹) علم اصول الدین (۱۰) علم اصول فقہ (۱۱) علم اسباب النزول والقصص (۱۲) علم ناسخ و منسوخ (۱۳) علم فقہ (۱۴) علم حدیث مع علم اسماء الرجال والاسناد (۱۵) اور علم الوھبی۔ جبکہ دیگر علماء کے نزدیک یہ علوم بھی ضروری ہیں (۱۶) علم کلام (۱۷) علم تاریخ (۱۸) علم جغرافیہ (۱۹) علم الزہد والرقاق (۲۰) علم الاسرار (۲۱) علم الجدل والخلاف (۲۲) علم السیرۃ (۲۳) علم الحقائق (۲۴) علم الحساب (۲۵) اور علم المنطق۔

تفسیری ادوار

  1. صحابہ کرامؓ کے دور میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تفسیر پوچھی جاتی تھی۔ یہ پہلا دور کہلایا۔
  2. حضورؐ کی رحلت کے بعد حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ سے تفسیر پوچھی جاتی تھی۔ یہ دوسرا دور کہلایا۔
  3. تیسرے دورِ تابعین میں حضرت سعید بن جبیرؓ نے باقاعدہ کتابی شکل میں تفسیر لکھ کر عبد الملک بن مروان کے دربارِ خلافت میں بھیجی جو کہ آج تفسیر عطاء بن دینار کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے علاوہ اس دور میں مجاہدؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، ضحاکؒ، اور قتادہؒ وغیرہ مشہور ہیں۔
  4. چوتھے دور میں کتب کی تدوین کے وقت پہلے سے رائج طریقے سے ہٹ کر تفسیری کتابوں کو علیحدہ تحریر کیا جانے لگا اور تفسیری اقوال کے لیے اسناد کی شرط ختم کر دی۔
  5. پانچویں دور میں جو عباسی خلافت سے شروع ہو کر آج تک چلا آ رہا ہے اس دور میں ہر ماہر فن نے اپنے فن کے انداز میں تفسیر لکھی۔ چنانچہ زجاجؒ نے اپنی تفسیر میں، واحدی نے البسیط میں، اور ابوحیان نے البحر المحیط میں نحوی مہارت کا ثبوت دیا۔ جبکہ امام رازی نے تفسیر کبیر میں علوم عقلیہ اور حکماء و فلاسفہ کے اقوال پیش کیے۔

مختصرً‌ا یہ کہ تفاسیر قرآن بنیادی طور پر چھ اقسام میں منحصر ہو گئیں۔

  1. فقہی تفاسیر: جن میں صرف ان آیات کی تفسیر کی گئی ہے جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں، جیسے احکام القرآن۔
  2. ادبی تفاسیر: ان میں فصاحت و بلاغت کو پیشِ نظر رکھا گیا۔
  3. تاریخی تفاسیر: ان میں تاریخی واقعات کو پیشِ نظر رکھا گیا جیسے ابن عربیؒ اور ابو عبد الرحمٰن السلمیؒ کی تفاسیر۔
  4. نحوی تفاسیر: ان میں نحوی مباحث پیشِ نظر رکھے گئے جیسے اعراب القرآن للرازیؒ۔
  5. لغوی تفاسیر: جیسے مفردات القرآن للامام راغب الاصفہانیؒ۔
  6. کلامی تفاسیر: جن میں عقائد پر بحث کی گئی ہو جیسے امام رازیؒ کی تفسیر کبیر اور زمحشریؒ کی کشاف وغیرہ شامل ہیں۔

قرآن / علوم قرآن

(فروری ۱۹۹۰ء)

فروری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۲

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر
مولانا سراج نعمانی

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ
محمد اسلم رانا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟
مولانا سعید احمد پالنپوری

استحکامِ پاکستان کی ضمانت
مولانا سعید احمد سیالکوٹی

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد
پروفیسر غلام رسول عدیم

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
عدیل احمد جہادیار

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter