عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

یہ ظاہر ہے کہ کوئی کسی کا مقرب جبھی ہو سکتا ہے جبکہ اس کی موافق مرضی ہو۔ جو لوگ مخالف مزاج ہوتے ہیں قربت و منزلت ان کو میسر نہیں آسکتی، چنانچہ طاہر ہے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یوسفِ ثانی اور حسن میں لاثانی ہو، پر اس کی ایک آنکھ مثلاً‌ کانی ہو تو اس ایک آنکھ کا نقصان تمام چہرہ کو بدنما اور نازیبا کر دیتا ہے۔ ایسے ہی اگر ایک بات بھی کسی میں دوسروں کے مخالف مزاج ہو تو ان کی اور خوبیاں بھی ہوئی نہ ہوئی برابر ہو جائیں گی۔ غرض ایک عیب بھی کسی میں ہوتا ہے تو پھر محبوبیت اور موافقت طبیعت و رضا متصور نہیں جو امید تقرب ہو، اس لیے یہ بھی ضرور ہے کہ انبیاء اور مرسل سراپا اطاعت ہوں اور ایک بات بھی ان میں خلافِ مرضی خداوندی نہ ہو۔

اسی وجہ سے ہم انبیاء ؑ کو معصوم کہتے ہیں اور اس کہنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان میں گناہِ خداوندی کا مادہ اور سامان ہی نہیں کیونکہ ان میں جب ان میں کوئی صفت بری نہیں تو پھر ان سے برے افعال کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ افعال اختیاری تابع صفات ہوتے ہیں۔ اگر سخاوت ہوتی ہے تو داد دوہش کی نوبت آتی ہے، اور اگر بخل ہوتا ہے تو کوڑی کوڑی جمع کی جاتی ہے۔ شجاعت میں معرکہ آرائی اور بزدلی میں پسپائی ظہور میں آتی ہے۔ ہاں یہ بات ممکن ہے کہ بوجہ سہو یا غلط فہمی، جو گاہ بگاہ بڑے بڑے عاقلوں کو بھی پیش آجاتی ہے اور سوائے خداوند علیم و خبیر اور کوئی اس سے منزہ نہیں، کسی مخالف مرضی کام کو موافق مرضی اور موافق مرضی کو مخالف مرضی سمجھ جائیں، اور اس وجہ سے بظاہر خلاف مرضی کام ہو جائے تو ہو جائے (مثلًا اپنا مخدوم اپنے برابر بٹھلائے اور یہ بوجہ ادب برابر نہ بیٹھے) یا بوجہ عظمت و محبت مطاع ہی مخالفت کی نوبت آجائے گی، اس کو گناہ نہیں کہتے۔ گناہ کے لیے یہ ضرور ہے کہ عمدً‌ا مخالفت کی جائے۔ بھول چوک کو لغزش کہتے ہیں گناہ نہیں کہتے۔ یہی وجہ ہے کہ موقعہ عذر میں یہ کہا کرتے ہیں کہ میں بھول گیا تھا یا میں سمجھا نہ تھا۔ اگر بھول چوک بھی گناہ ہی ہوا کرتا تو یہ عذر اور الٹا اقرار خطا ہوا کرتا عذر نہ ہوا کرتا۔

جب یہ بات واضح ہو گئی کہ افعال تابع صفات ہیں تو اب دو باتیں قابلِ لحاظ باقی رہیں۔ ایک اخلاق یعنی صفات اصلیہ، دوسرے عقل و فہم۔ اخلاق کی ضرورت تو یہیں سے ظاہر ہے کہ افعال جن کا کرنا نہ کرنا عبادت اور اطاعت اور فرمانبرداری میں مطلوب ہوتا ہے، ان کا بھلا برا ہونا اخلاق کی بھلائی برائی پر موقوف ہے، اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل میں بھلی اور بری اخلاق و صفات ہی ہوتی ہیں۔ اور عقل و فہم کی ضرورت تو اس لیے ہے کہ اخلاق کے مرتبے میں موقع بے موقع دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ افعال میں بوجہ بے موقع ہو جانے کے کوئی خرابی اوپر سے نہ آجائے۔ دیکھیے سخاوت اچھی چیز ہے لیکن موقع میں صرف ہونا پھر بھی شرط ہے، اگر مساکین اور مستحقین کو دیا جائے تو فبہا ورنہ، رنڈیوں اور بھڑووں کو دینا یا شراب خواروں اور بھنگ نوشوں کو عطا کرنا کون نہیں جانتا کہ اور برائیوں کا سامان ہے، وجہ اس کی بجز اس کے اور کیا ہے کہ بے موقع صرف ہوا۔

بالجملہ افعال ہر چند تابع صفات ہیں لیکن موقع بے موقع کا پہچاننا بجز عقلِ سلیم و فہمِ مستقیم ہرگز متصور نہیں۔ اس لیے ضرور ہے کہ انبیاء ؑ میں عقل کامل اور اخلاقِ حمیدہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ جب اخلاقِ حمیدہ ہوں گے تو محبت بھی ضرور ہو گی کیونکہ خلقِ حسن کی بنا محبت ہی ہے، اور جب موقع اور محل کا لحاظ ہے اور عقلِ کامل موجود ہے تو پھر خدا سے بڑھ کر اور کونسا موقع سزاوار محبت ہو گا۔ مگر خدا کے ساتھ محبت ہو گی تو پھر عزمِ اطاعت و فرمانبرداری بھی ضرور ہو گا جس کا انجام یہی نکلے گا کہ ارادۂ نافرمانی کی گنجائش ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ اسی کو معصومیت کہتے ہیں۔

(انتخاب: حافظ محمد عمار خان ناصر)


سیرت و تاریخ

(فروری ۱۹۹۰ء)

فروری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۲

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر
مولانا سراج نعمانی

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ
محمد اسلم رانا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟
مولانا سعید احمد پالنپوری

استحکامِ پاکستان کی ضمانت
مولانا سعید احمد سیالکوٹی

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد
پروفیسر غلام رسول عدیم

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
عدیل احمد جہادیار

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter