نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟

مولانا سعید احمد پالنپوری

(یہ مضمون ’’نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک علمی اجتماع میں پڑھا گیا اور دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ’’ماہنامہ دارالعلوم‘‘ میں شائع ہوا۔ ’’دارالعلوم‘‘ کے شکریہ کے ساتھ اسے قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)


نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ بار بار اٹھتا رہتا ہے۔ اخبارات و مجلّات کی سطح سے لے کر عام محفلوں تک اس کا چرچا ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ رائج الوقت نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ مگر ضرورت کیوں ہے؟ یہ بات ابھی تک منقح نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس نقطہ پر گفتگو کر لی جائے۔ یہ بات سب ہی حضرات جانتے ہیں کہ دینی تعلیم کے تین مرحلے ہیں اور دینی تعلیم دینے والے اداروں کے مقاصد مختلف ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے تعلیم کے مراحل اور اداروں کے مقاصد سے بحث کر لی جائے، اس کے بعد ہی کوئی لائحہ عمل تجویز کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم کے مراحل

دینی تعلیم کے تین مراحل ہیں:

پہلا مرحلہ

پہلا مرحلہ ابتدائی تعلیم کا ہے جو مکاتیب کی تعلیم سے متعارف ہے۔ مکاتیب دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ مکاتیب ہیں جن کے ساتھ اسکول کی تعلیم کا موقعہ فراہم ہے۔ دوسرے وہ مکاتیب ہیں جن کے ساتھ یہ سہولت نہیں ہے۔ پہلی قسم کے مکاتیب کا نصابِ تعلیم خالص دینی ہونا چاہیئے اور بہت مختصر ہونا چاہیئے۔ علومِ عصریہ کی اس میں آمیزش نہیں ہونی چاہیئے ورنہ بچوں پر ایک طرف تو تعلیم کا دوہرا بوجھ پڑے گا، دوسری طرف بے ضرورت مضامین کی تکرار ہو گی جس کا نتیجہ انتشار ذہنی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اور دوسری قسم کے مکاتیب کا نصابِ تعلیم ایسا ہونا چاہیئے کہ وہ دین کی تعلیم کے ساتھ اسکول کی تعلیم کی بھی مکافات کر سکے۔ اس میں ضروری زبانوں کی تعلیم کے علاوہ علومِ عصریہ کی بھی بھرپور رعایت ہونی چاہیئے تاکہ نونہالانِ قوم، اگر ان کو آگے تعلیم کا مزید موقع نہ بھی مل سکے تو بھی وہ دینداری کے ساتھ اپنے دنیوی کام نکال سکیں۔ اور اگر مکاتیب سے نکل کر وہ بچے عصری درسگاہوں میں جانا چاہیں تو بھی ان کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسرا مرحلہ

دوسرا مرحلہ ثانوی تعلیم کا ہے، اس مرحلہ میں زیادہ تر فارسی اور کچھ ابتدائی عربی پڑھائی جاتی ہے۔ اس مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے خود بچے کو یا اس کے اولیاء کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اب اس کو کونسی راہ اختیار کرنی ہے۔ عصری تعلیم کی یا دینی تعلیم کی؟ چنانچہ مکتب میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے اس دوسرے مرحلے میں دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بڑی تعداد عصری تعلیم کا رخ کرتی ہے اور بہت معمولی مقدار دینی تعلیم کا عزم کرتی ہے۔

مدارس ثانویہ کے علاوہ عصری درسگاہیں بھی فارسی بحیثیت زبان پڑھاتی ہیں۔ دونوں تعلیموں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ فارسی سے اردو میں مدد لی جائے کیونکہ اردو میں فارسی کے نہ صرف لغات مستعمل ہیں بلکہ تراکیب بھی رائج ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ کلاسیکل اردو فارسی کے سانچے میں ڈھلی ہے اس لیے ادبیاتِ اردو سے کماحقہٗ استفادہ فارسی زبان کی مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اور عصری درسگاہوں اور مدارسِ اسلامیہ کی فارسی کی تعلیم کا ایک دوسرے سے مختلف مقصد یہ ہے کہ عصری درسگاہیں فارسی کو بحیثیت ایک زبان کے پڑھاتی ہیں تاکہ طلباء اس سے اقتصادی فائدہ حاصل کر سکیں، اور مدارسِ اسلامیہ میں فارسی پڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ درجاتِ عربی کی جو ابتدائی کتابیں فارسی زبان میں ہیں ان سے استفادہ ممکن ہو سکے۔ نیز فارسی زبان میں بزرگوں کا چھوڑا ہوا جو عظیم ورثہ ہے اس سے فیض حاصل کیا جا سکے۔ مقصد کا یہ اختلاف قدرتی طور پر دونوں کی راہیں مختلف کر دیتا ہے۔ چنانچہ عصری درسگاہوں کے فارسی نصاب کا رخ جدیدیت کی طرف ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے وہی مثمر برکات ہے، اور مدارسِ اسلامیہ کے فارسی نصاب کا رخ قدامت کی طرف ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے وہی مفید ہے۔ جدید فارسی پڑھا ہوا طالب علم قدیم لٹریچر نہیں سمجھ سکتا۔ الغرض نیا نصاب مرتب کرتے وقت نقطہائے نظر کا یہ اختلاف ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ شاید نیا نصاب یکساں طور پر قابل قبول نہ ہو سکے۔

تیسرا مرحلہ

تیسرا مرحلہ اعلٰی تعلیم کا ہے جسے تہائی تعلیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تعلیم عربی میں دی جاتی ہے اور مدارسِ اسلامیہ کا اصل کام یہی تعلیم دینا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کے علاوہ یہ تعلیم دیگر مختلف ادارے بھی دیتے ہیں اور عصری درسگاہوں میں بھی اس کا انتظام ہوتا ہے۔ عربی تعلیم کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ لسانی اور دینی۔

بعض ادارے تو عربی کو صرف ایک زبان کی حیثیت سے پڑھاتے ہیں۔ عصری درسگاہوں میں جو عربی کے ڈیپارٹمنٹس ہیں وہ اسی غرض کو سامنے رکھ کر قائم کیے گئے ہیں۔ بعض بڑے مدارس میں تکمیلِ ادب عربی یا تخصص فی الادب العربی کے نام سے جو شعبے ہیں ان کا بھی بنیادی مقصد یہی ہے۔ محض عربی زبان پڑھنے کا مقصد ظاہر ہے کہ محض اقتصادی پہلو ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔ نیز اگر طالب علم چاہے تو اپنی عربی دانی سے دینی فائدہ بھی حاصل کر سکتا ہے مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔

دوسرے وہ ادارے ہیں جو دین کو مقصود بنا کر عربی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ عربی زبان و ادب کے ساتھ دیگر علومِ اسلامیہ کو بھی اپنے نصاب میں جگہ دیتے ہیں۔ یہ ادارے چار قسم کے ہیں:

(۱) وہ عصری درسگاہیں جن میں عربی دینیات کے شعبے قائم ہیں۔

(۲) وہ بورڈ جو عربی تعلیم کے امتحانات کا نظم کرتے ہیں۔

(۳) وہ دینی درسگاہیں جن کے پیشِ نظر دین کی تعلیم کے ساتھ کسی درجہ میں طلبہ کی اقتصادیات کا پہلو بھی رہتا ہے۔ یہ تینوں قسم کے ادارے مقصد میں متحد ہیں۔

(۴) وہ مدارسِ اسلامیہ جن کے پیشِ نظر صرف دین کے تقاضے ہیں، کوئی دوسرا مقصد ثانوی درجہ بھی اس کے پیشِ نظر نہیں ہے یا نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ ادارے مقصدِ تعلیم میں پہلے تینوں قسم کے اداروں سے مختلف ہیں۔

جب ان اداروں کے اغراض و مقاصد مختلف ہیں تو ایک نصابِ تعلیم سب کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ مقصد میں اشتراک یا اتحاد کے بغیر سب کو ایک روش پر ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ اجتماع نقطہائے نظر کا اختلاف سامنے رکھ کر ہی نصابِ تعلیم پر نظرثانی کرے ورنہ محنت شاید رائیگاں جائے۔

نصابِ تعلیم پر نظرِثانی کیوں ضروری ہے؟

اس کے بعد اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ آخر نصابِ تعلیم پر نظرثانی کیوں ضروری ہے؟ وہ کیا اسباب و عوامل ہیں جو تبدیلی چاہتے ہیں؟ جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے لوگوں کے ذہنوں میں اس کے پانچ وجوہ ہیں جو درج ذیل ہیں:

(۱) واقعہ یہ ہے کہ تعلیم، خواہ دینی ہو یا دنیوی، دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ آزادی سے پہلے تک صورتحال یہ تھی کہ ہائی اسکول پاس کرنے والے طالب علم کی استعداد آج کے گریجویٹ سے بہتر ہوتی تھی۔ اس وقت کا کافیہ، شرح جامی پڑھا ہوا طالب علم آج کے فاضل علومِ اسلامیہ سے بہتر صلاحیتوں کا مالک ہوتا تھا۔ یہ تعلیم کی زبوں حالی زعمائے قوم، دردمندانِ ملّت اور ماہرینِ تعلیم کی نیند حرام کیے ہوئے ہے۔ یہ سب حضرات سمجھتے ہیں کہ اس ابتری کا سبب نصابِ تعلیم کی فرسودگی ہے، اس لیے جب تک نصابِ تعلیم نہیں بدلا جائے گا موجودہ صورتحال نہیں بدلے گی۔ لیکن یہ خیال کچھ زیادہ مبنی برحقیقت نہیں ہے۔ مجھے اپنے استاذ حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی قدس سرہ (سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) کا ارشاد یاد ہے کہ

’’تعلیم میں مؤثر تین عوامل ہیں: (۱) طالب علم کی محنت (۲) استاذ کی مہارت (۳) نصاب کی خوبی۔‘‘

مگر اب طالب علم تو آزاد ہیں، ان کی کسی کوتاہی کی نشاندہی کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ رہے اساتذہ تو وہ زبردست ہیں، ان کی کمی ان کو کون سمجھا سکتا ہے۔ اب رہ جاتا ہے بے زبان نصاب، چنانچہ لوگ اسے کان پکڑ کر کبھی اِدھر کرتے ہیں کبھی اُدھر، مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

(۲) زمانہ بلاشبہ ترقی پذیر ہے۔ علوم و فنون بھی ترقی کرتے ہیں اور کتابیں بھی بہتر سے بہتر وجود میں آتی رہتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مفید سے مفید تر کو اختیار کیا جائے تاکہ تعلیم کا بہتر سے بہتر نتیجہ نکلے۔ نصاب پر نظرثانی کرنے کی یہ وجہ نہایت معقول ہے۔ ضروری ہے کہ یہ اجتماع نصاب کی تشکیلِ جدید میں اس بات کو ملحوظ رکھے تاکہ نئی مفید چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

(۳) زمانہ تغیر پذیر بھی ہے۔ چنانچہ زمانہ کے حالات کے ساتھ ساتھ ذہنیت بھی بدلتی ہے۔ ماضی بعید میں لوگ عقلیت پسند تھے اور معقولات سے بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ مگر اب محسوسات کا دور شروع ہو گیا ہے، ہر شخص ہر چیز مشاہدہ سے سمجھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بدلے ہوئے حالات کو پیشِ نظر رکھ کر نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی جائے۔ نظرثانی کی یہ وجہ بھی کسی درجہ میں معقول ہے مگر اس کا اثر براہِ راست علومِ عصریہ پر پڑتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ میں جو علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں ان کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ ایک علومِ آلیہ یعنی وہ علوم جو دین فہمی کے لیے ذرائع کا کام دیتے ہیں۔ مثلاً‌ نحو، صرف، لغت، منطق وغیرہ۔ دوسرے علومِ عالیہ یعنی وہ علوم جو مقصود بالذات ہیں جیسے قرآن کریم، احادیث شریفہ اور فقہِ اسلامی۔ پہلی قسم کے علوم میں مفید سے مفید تر کو اختیار کیا جانا چاہیے اور مدارسِ اسلامیہ میں یہ عمل برابر جاری ہے۔ مگر دوسری قسم کے علوم پر تغیر زمانہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا، وہ اپنی جگہ محکم ہیں اس لیے ان پر نظرثانی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

(۴) نصابِ تعلیم پر نظرثانی کا ایک سبب وہ بھی ہے جس کی طرف اس مجلسِ مذاکرہ کے دعوت نامے میں اشارہ دیا گیا ہے یعنی فارسی اور عربی کے رائج الوقت مختلف نصابوں پر نظرثانی اس لیے ضروری ہے تاکہ فارغ شدہ حضرات کو ملک میں مناسب ملازمت مل سکے، یا وہ دوسری غیر دینی درسگاہوں میں بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔ نظرثانی کی یہ بنیاد صرف ان اداروں کے نصابوں پر نظرثانی کا جواز فراہم کرتی ہے جن کا بنیادی مقصد طلبہ کی اقتصادیات ہیں، یا جن کے پیشِ نظر کسی درجہ میں اقتصادی پہلو بھی ہے۔

رہے وہ مدارسِ اسلامیہ جن کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو دین کا صحیح فہم رکھتے ہوں، بالفاظ دیگر وہ قرآن و حدیث پر ماہرانہ نظر رکھتے ہوں اور علومِ اسلامیہ کی گہرائی میں پہنچ کر رموز و اسرار نکال سکتے ہوں، وہ حقیقی معنی میں دین کے نبض شناس ہوں اور ان میں دین کو ہر دور کے حالات پر منطبق کرنے کی صلاحیت ہو، یا کم از کم ایسے افراد تیار کرنا مقصد ہے جو مسلمانوں کی دینی قیادت کریں یعنی ان کی روزمرہ کی دینی ضرورت پوری کریں جسے بے باک لوگ ’’ملا گیری‘‘ کہتے ہیں، مگر وہ یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ مسجد و مکتب کی یہ خدمت موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی بنیادی ضرورت ہے، اگر یہ خدامِ دین نہ ہوں تو مسلمانوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ رہے۔

اور جس طرح یہ مدارسِ اسلامیہ حکومتِ وقت کے تعاون سے بے نیاز ہو کر صرف مسلمانوں کے تعاون سے کام کرتے ہیں، ضروری ہے کہ یہ فضلاء بھی حکومت کی ملازمت سے صرفِ نظر کر کے مسلمانوں کے فراہم کردہ روزگار پر قناعت کریں تاکہ وہ صحیح معنٰی میں دین کی خدمت انجام دے سکیں۔ ورنہ تجربہ شاہد ہے کہ جو فضلاء نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کر لیتے ہیں وہ صرف عبد المال ہو کر رہ جاتے ہیں اور ان میں خدمتِ دین کا کوئی جذبہ باقی نہیں رہتا۔

الغرض اس قسم کے مدارسِ اسلامیہ کے نصابِ تعلیم پر نظرثانی کرنے کے لیے بنیاد جواز فراہم نہیں کرتی کیونکہ ان اداروں کا مقصد ملازمت یا دنیا نہیں ہے، نہ دوسرے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنا ہے۔ ہاں مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ ایک دو فیصد فضلاء ایسے ہو سکتے ہیں جو فراغت کے بعد عصری درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں جو پوری مدتِ تعلیم میں یا تو اپنا مقصدِ زندگی متعین نہیں کر پاتے یا دنیا ہی کے مقصد سے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، یا ان کی روشنیٔ طبع ان کے لیے آفت ثابت ہوتی ہے، یا شیطان ان کو راہ سے بھٹکا دیتا ہے۔ ایسے معدودے چند حضرات کی وجہ سے مدارسِ اسلامیہ اپنی غرض و غایت نہیں بدل سکتے۔

البتہ یہ مدارسِ اسلامیہ بھی اپنے مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، مستقبل قریب میں دارالعلوم دیوبند ان شاء اللہ اس سلسلہ میں کوئی اجتماع بلائے گا اور اپنے نصاب میں ضروری اصلاح کرے گا۔

(۵) نصاب پر نظرثانی کی ضرورت بعض لوگ اس لیے بھی محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ نصاب میں بہت دقیق کتابیں ہیں جو طلبہ کی گرفت میں نہیں آتیں، ایسی کتابیں بدل کر ان کی جگہ آسان کتابیں رکھنی چاہئیں تاکہ طلباء کو نصاب سے خاطرخواہ فائدہ حاصل ہو۔ یہ بات ایک حد تک معقول ہے۔ اگر ان کتابوں کا نعم البدل وجود میں آگیا ہو تو ضرور ان کو اختیار کر لینا چاہیئے۔ لیکن اگر ان کا بدل نہ ہو تو محض دشوار ہونے کی وجہ سے ان کتابوں کو نکال دینا عقل مندی نہیں ہے بلکہ اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ آخر یہ کتابیں اب مشکل کیوں معلوم ہوتی ہیں؟ دشواری کے دو ہی سبب ہو سکتے ہیں۔ یا تو طالبِ علم کی استعداد اس کتاب سے فروتر ہے، یا استاذ تفہیم میں ناکام ہے۔ اور دونوں ہی باتوں کا حل ممکن ہے۔

نصاب پر نظرثانی کیسے کی جائے؟

اس طویل سمع خراشی کا حاصل یہ ہے کہ فارسی اور عربی کا ملک میں کوئی ایک نصاب رائج نہیں ہے بلکہ مختلف النوع نصاب زیر تعلیم ہیں۔ نیز اداروں کے مقاصد میں بھی اشتراک یا اتحاد نہیں ہے اور نہ ممکن ہے۔ اس لیے نصاب پر نظرثانی کرنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ ہر نقطۂ نظر کے حاملین الگ الگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور سب سے پہلے وہ اسباب متعین کریں جو تبدیلی کا سبب ہیں۔ پھر اس کی روشنی میں نصاب پر نظرثانی کریں۔ اور اگر یہ بات ممکن نہ ہو، اس وجہ سے کہ تمام نقطہائے نظر کی اس مجلس میں بھرپور نمائندگی نہیں ہے، تو پھر اس اجتماع کو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ اس کا دائرہ کار کیا ہو؟ اور اسی کی روشنی میں کام آگے بڑھایا جائے۔ اللھم وفقنا لما تحب و ترضٰی۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(فروری ۱۹۹۰ء)

فروری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۲

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر
مولانا سراج نعمانی

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ
محمد اسلم رانا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟
مولانا سعید احمد پالنپوری

استحکامِ پاکستان کی ضمانت
مولانا سعید احمد سیالکوٹی

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد
پروفیسر غلام رسول عدیم

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
عدیل احمد جہادیار

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter