نسل پرستانہ دہشت گردی اور مغربی معاشرے

محمد عمار خان ناصر

(نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے واقعے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر چند مختصر تبصرے لکھے گئے  تھے جنھیں ایک مناسب ترتیب سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے)


سفید فام قوموں میں نسل پرستی جڑ سے ختم نہیں ہوئی، اسے زنجیریں پہنائی گئی ہیں۔ مسیحیت کی انسان دوست تعلیمات پر مبنی طویل جدوجہد بھی نازی ازم جیسے فلسفوں کو ابھرنے سے نہیں روک سکیں۔ ہٹلر کوئی ملحد نہیں تھا، کٹڑ نسل پرست ہونے کے ساتھ مسیحی بھی تھا اور دونوں کے امتزاج سے اس نے یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا جواز تیار کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم دنیا میں بھی سامی دشمن رجحان مغرب ہی کی وساطت سے متعارف ہوا ہے، اس پر مطالعات موجود ہیں کہ بیسیویں صدی سے پہلے یہودیوں کو ایک نسل کے طور پر خطرہ سمجھنے کے کوئی قابل ذکر آثار اسلامی دنیا میں نہیں پائے جاتے تھے۔ جدید مغرب میں سے براعظم آسٹریلیا میں سفید نسل پرستی غالبا سب سے مضبوط ہے، لیکن یورپی ممالک اور امریکا میں بھی اس کی قابل لحاظ موجودگی ہے۔ اسلامو فوبیا کے مظہر کا منبع بنیادی طور یہی حلقے ہیں۔ امریکا میں اس کا حالیہ ظہور ٹرمپ کی کامیابی کی صورت میں ہوا ہے جو مقامی سفید فام آبادی کی طرف سے وسائل میں امیگرنٹس کی بڑھتی ہوئی شرکت پر ناراضی کا اظہار ہے۔ 

مذہب کے عنوان سے  کی جانے والی دہشت گردی اور نسل پرستانہ دہشت گردی، دونوں کو ایک ہی مظہر کا تنوع سمجھنا درست نہیں، اس سے تشخیص اور علاج میں بہت بنیادی غلطی پیدا ہو سکتی ہے۔ کمزور قوموں میں دہشت گردی کا مظہر، مغرب کی سیاسی طاقت اور جدیدیت کے خلاف رد عمل ہے، اور سفید فام قوموں میں، یہ نسلی احساس برتری کا اور اپنے وسائل میں غیروں کی شرکت پر غم وغصہ کا اظہار ہے۔ دونوں کی نوعیت، محرکات، قوت وتائید کے مصادر، بالکل الگ الگ ہیں۔ دونوں کا مقابلہ بھی ایک ہی عنوان سے نہیں ہو سکتا۔  یہ سوچ کسی ایک مذہب کی نہیں، بحیثیت مجموعی انسانیت کی دشمن ہے۔ اسے مذہبی تقسیم کا رنگ دینے سے، جو بلاشبہ اس میں ایک عنصر کے طور پر موجود ہے، اس کی مزاحمت کا اخلاقی مقدمہ اور سیاسی تائید، دونوں کمزور ہوں گے۔ اس پہلو کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔


نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے کردار سے شاہ حبشہ نجاشی یاد آ گئے۔ اس سے پہلے جرمنی کی خاتون وزیر اعظم نے شامی مہاجرین کے لیے جس طرح دروازے کھولے، اس سے بھی یہی یاد تازہ ہوئی تھی۔ اللہ تعالی ٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

’’نجاشی ” حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا، یعنی یہ ان کا نام نہیں تھا۔ تاریخی معلومات کے مطابق عہد نبوی میں حبشہ میں دو نجاشی حکمران ہوئے۔ ایک وہ جنھوں نے مکی دور میں مہاجرین کو پناہ دی اور ایمان کو مخفی رکھتے ہوئے مسلمان بھی ہو گئے۔ ان کا نام اصحمہ بن الابجر تھا۔ انھوں نے ہی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ، جو اس وقت حبشہ میں مہاجر تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کروایا اور آپ کی طرف سے اپنی جیب سے چار ہزار درہم کا مہر ادا کیا تھا۔ ان کا انتقال عہد نبوی میں ہی ہو گیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں، بذریعہ وحی اطلاع ملنے پر ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔ غالبا انھی کے دور میں کسی دوسرے مدعی اقتدار نے نجاشی پر حملہ کر کے حکومت چھیننے کی کوشش کی تو سیدنا زبیر اور دوسرے مسلمانوں نے نجاشی کی فوج میں شامل ہو کر اس کے خلاف جنگ کی اور ان کا دفاع کیا تھا۔

ان کے انتقال کے بعد ایک دوسرے نجاشی برسراقتدار آئے جن کا نام تاریخی مآخذ میں مذکور نہیں۔ ان کا برتاو بھی مسلمانوں کے ساتھ عادلانہ رہا، لیکن وہ مسلمان نہیں ہوئے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مختلف بادشاہوں کو قبول اسلام کی دعوت کا خط لکھا، ان میں یہ نجاشی بھی شامل تھے جو اسلام نہیں لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حبشہ کے اسی حسن سلوک کے تناظر میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ وہ آپ کے بعد جب فتوحات کے لیے نکلیں تو اہل حبشہ کے خلاف کوئی اقدام نہ کریں، الا یہ کہ خود اہل حبشہ مسلمانوں کے لیے جنگ کی ابتدا کریں۔


نیوزی لینڈ میں حکومت اور سوسائٹی کے ردعمل سے یہ بھی یاد آیا کہ اسلامی تاریخ میں بعینہ اس طرح کا ذمہ دارانہ کردار مسلمان علماء وفقہاء ادا کیا کرتے تھے جس کی کچھ جھلک الشریعہ کے مئی ۲٠۱۷ء کے شمارے میں ’’اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء وفقہاء کا عملی کردار”کے عنوان سے  پیش کی گئی تھی۔ اے کاش، ہم اپنے ظلم وجبر کی آماج گاہ معاشروں میں اس کردار کا احیاء کر سکیں۔ 

ہمارے ہاں اقلیتوں کے مسائل دیگر کئی مسائل کی طرح مذہبی اور لبرل پالیٹکس میں شٹل کاک بنے ہوئے ہیں۔ اصل مسئلہ وہیں رہتا ہے، اور مذہبی اور لبرل سیاست کے لیے ایندھن فراہم کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنائے جانے کی رپورٹس ایک عرصے سے گردش کر رہی ہیں۔ لبرلز ان رپورٹس کو فیس ویلیو پر لے کر اپنا کام چلاتے ہیں، اور اسلام پسند اپنی جگہ بیٹھے ہوئے انھیں پروپیگنڈا کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی کو توفیق نہیں کہ واقعات کی تصدیق کے لیے کوئی اقدام کرے اور واقعی صورت حال کو سامنے لائے۔ قومی سطح پر جتنی مجرمانہ غفلت ہمارے ہاں اقلیتوں کے حوالے سے ہوئی ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں۔ کم سے کم ایک تہائی آبادی مختصر ہو کر دو تین فیصد رہ گئی ہے اور وہ بھی دہشت کی فضا میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ پاور پالیٹکس کا ایشو نہیں ہے، ایک قومی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے سامنے جواب دہ نہ بھی ہوں، روز قیامت کو خود اللہ کے پیغمبر جب اقلیتوں کی طرف سے مدعی بن کر کھڑے ہوں گے تو یہ سیادت وقیادت کس کام آئے گی؟


سچی بات ہے کہ انسانی رویوں میں اتنے واضح فرق کی اہمیت اور انسانی نفسیات پر اس کے اثرات کو جھٹلانے کے لیے یہ ’’اعتقادی ”قضیہ قطعا ناکافی ہے کہ عمل جتنا بھی اچھا ہو، ایمان کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایک خاص سیاق میں اور کئی قیود کے ساتھ یہ بات علم الکلام میں درست ہو سکتی ہے، لیکن انسانی سطح پر اخلاقی رویوں کے تقابل کی بحث میں یہ مقدمہ پیش کر کے ہم خدا کے تصور کو بھی مجروح کر رہے ہیں اور ایمان کو بھی مزید مشکل بنا رہے ہیں، اور اس کا نفسیاتی محرک صرف یہ ہے کہ ہم اپنی اجتماعی بدعملی پر خود کو شرمندگی سے بچا سکیں۔ یقین جانیے، ہمیں ڈرنا چاہیے کہ جس نام کے ’’ایمان ” پر ہم خود کو ’’خیر امت”باور کیے بیٹھے ہیں، اس کی اس ناقدری پر خدا نے یہ نعمت بھی دنیا کی طاقت ور اور انسانی اخلاقیات کے لحاظ سے ہم سے بہتر قوموں کو دے دینے کا فیصلہ کر لیا تو ہماری جگہ دنیا اور آخرت میں کہاں ہوگی؟

وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم 


حالات و واقعات