”سورۃ البینۃ“ ۔ اصحابِ تشکیک کے لیے نسخہ شفاء

مولانا محمد عبد اللہ شارق

“سورۃ البینہ” کی تفسیری مشکلات

متاخرین اہلِ تفسیر میں سے بعض حضرات کو “سورۃ البینہ” کی ابتدائی چند آیات کے ایک “منظم ومربوط معنی” کا تعین کرنے میں کچھ ابہامات اور اشکالات پیدا ہوئے ہیں اور علامہ آلوسی نے امام واحدی سے نقل کیا ہے کہ یہ مقام قرآن کے “اصعب” (نسبتا مشکل) مقامات میں سے ایک ہے (1)، نیز خود راقم کو بھی اس مقام پر کسی منظم، بے تکلف اوربے ساختہ مفہوم ومراد کا تعین کرنے اور اس کی سبق آموزی کو سمجھنے میں دقت پیش آتی رہی۔امام رازی سے لے کر اردو کے معاصر مفسرین تک بعض حضرات نے گو خود ابہامات کا اظہار کرنے والوں پر حیرت کا اظہار کیا اور  لکھا کہ یہاں کوئی ابہام نہیں ہے)2(، لیکن راقم کو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تشفی جس کتاب سے حاصل ہوئی، وہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تفسیر “فتح العزیز” ہےجس میں کوئی نیا قول اختیار کرنے کی بجائے ماضی کے اہلِ علم کا ہی ایک قول اختیار کیا گیا اور مثال کے ذریعہ اس کی توضیح کا حق ادا کیا گیا جسے پڑھ کر بے اختیار علامہ انور شاہ کشمیری کا قول یاد آیا کہ اگر تفسیرِ عزیزی مکمل ہوجاتی تو سب تفاسیر سے بے نیاز کردیتی۔

قرآنی مشکلات کی نوعیت وحقیقت بہت دفعہ“آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل” کی طرح ہوتی ہے یعنی اپنے علم وتجربہ کی کمی کی وجہ سے آدمی ایک پہاڑ جیسے نکتہ کو فراموش کر رہا ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے ذہنی اختلال پیدا ہوتا ہے، پھر جیسے ہی وہ نکتہ سامنے آتا ہے، ساری الجھن دور ہوجاتی ہے۔ “سورۃ البینہ” کی ابتدائی آیات کا معاملہ بھی یہی ہے، ان میں سے سب سے پہلی آیت کا مفہوم سمجھنے میں عموما ابہام پیدا ہوتا ہے اور پھر وہی ابہام باقی آیات کے ربطِ معانی کو سمجھنے میں بھی مخل ہوتا ہے۔ ہم یہاں دیگر مفسرین کی توضیحات کے “مالہ وماعلیہ” کی طرف جانے کی بجائے ابہامات سے معری صرف اس مفہوم کی توضیح پر اکتفاء کریں گے جو تفسیرِ عزیز کی مدد سے سمجھ میں آیا ہے۔ واضح رہے کہ تفسیرِ عزیزی میں “سورۃ البینہ” کی توضیح کے ضمن میں جو قول اختیار کیا گیا ہے، وہ کوئی نیا قول نہیں، بلکہ صرف تعبیر میں تازہ اور سہل محسوس ہوتا ہے۔ نیز یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہاں جو کچھ عرض کیا گیا ہے، وہ سب کا سب تفسیرِ عزیزی سے ماخوذ نہیں، بلکہ تفسیرِ عزیزی کا کردار صرف یہ ہے کہ اس سے اس بنیادی ابہام کو دور کرنے میں مدد ملی ہے جو یہاں خلجان کا باعث بنتا ہے، باقی جو کچھ یہاں عرض کیا گیا ہے، وہ راقم کی طرف سے ہے۔

ایک حدیث

حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ “مجھے اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے “سورۃ البینہ” پڑھوں، انہوں نے عرض کیا کہ کیا میرا نام لیا ہے؟ فرمایا: جی ہاں، یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اپنی اس عزت افزائی پر وفورِ جذبات کی وجہ سے رونے لگے۔” (3) آئیے اس عظیم الشان سورہ کے معانی ومفاہیم اور متعلقات پر کچھ غور کرتے ہیں۔

ابتدائی تین آیات

ارشاد ہے:

”لمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَھلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّی تَأْتِيَھمُ الْبَيِّنَۃ ° رَسُولٌ مِّنَ اللَّہِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَھرَةً ° فِيھا كُتُبٌ قَيِّمَۃ °“

یعنی “مشرکین اور اہلِ کتاب میں سے جو مرتکبینِ کفر ہیں، یہ اپنی روش سے باز آنے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس کوئی بینہ (یعنی دلیلِ روشن اور حجتِ واضحہ) نہ آجائے، سو (یہ دلیل آچکی ہے) یہ اللہ کا رسول موجود ہے جو ان پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے جن میں نہایت مستقیم باتیں تحریر ہیں۔”

مفسرین کی ایک جماعت کے مطابق اولین آیت کا مفہوم اور پسِ منظر یہ ہے کہ نزولِ قرآن سے قبل ماضی قریب کے زمانہ میں اہلِ کتاب (یہود ونصاری) اور مشرکین کی کٹ حجتی اپنی اتنہاء کو پہنچ چکی تھی، نصیحت وموعظت کی باتیں ان کے لیے بے اثر ہوچکی تھیں اور کسی بھی مصلحانہ آواز کے جواب میں ان کی ایک ہی رٹ ہوتی تھی کہ جب تک حجتِ واضحہ اور کوئی رسول نہ آجائے ہم اپنی ڈگر سے باز آنے والے نہیں، نیز اپنے ضمیر کو بھی وہ یہی سمجھا کر مطمئن کر لیا کرتے تھے کہ چونکہ ہمارے پاس کوئی نبی موجود نہیں جو ہماری صحیح راہ نمائی کرے، اس لیے ہم کسی حکم کے مکلف اور پابند نہیں۔ سو اولین آیت میں اہلِ کفر کو اپنی اسی سابقہ کیفیت کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ کس طرح نبی کی غیر موجودگی کا بہانہ بناکر اپنی گم راہی کو جواز دیا کرتےتھے۔

بعثتِ محمدی سے قبل طالبین کے لیے سامانِ ہدایت موجود

واضح رہے کہ بعثتِ محمدی سے قبل اہلِ کتاب سب کے سب گم راہ نہیں ہوگئے تھے، بلکہ ان میں دینِ حنیف کی اتباع  کرنے والے اکادکا صالح نمونے موجود رہےجس کی تصریح قرآن میں بھی موجود ہے، جبکہ خود مشرکین میں بھی ایسی مثالیں اخیر دور تک موجود رہی تھیں، مثلا زید بن عمرو بن نفیل جن کے بارہ میں حضرت ابو بکر صدیق کی دختر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نقل کرتی ہیں کہ میں نے زید کو خود دیکھا کہ وہ کعبہ کی دیوار سے پشت لگا کر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ “اے جماعتِ قریش! میرے سوا تم میں سے کوئی شخص دینِ ابراہیم پر نہیں”، یہ موحد تھے، خدا ترس تھے اور ان بچیوں کی کفالت اپنے ذمہ لے لیا کرتے تھے جنہیں ان کے باپ قتل کرنے کے درپے ہوتے، لیکن بلوغت کے بعد ان کے باپوں کو اجازت ہوتی کہ چاہیں تو اپنے پاس لے جائیں ورنہ یہیں رہنے دیں(4)، نیز بتوں کے نام پر جان ور ذبح کرنے پہ نکیر کرتے تھے اور خود ان کا گوشت کھانے سے پرہیز کرتے تھے،(5)، نیز بنو اسماعیل سے ظاہر ہونے والے نبی کے انتظار میں رہتے تھے۔(6)  تاہم یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل وفات پاگئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از بعثت ان کے جنتی ہونے کی بشارت دی(7)۔ ان کے بیٹے سعید بن زید نے اسلام قبول کیا اور وہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔

ہم یہاں عرض یہ کرنا چاہ رہے ہیں کہ ان جیسے صالحین اخیر دور تک اہل کتاب میں بھی رہے اور مشرکین میں بھی، لیکن ان جیسوں کی مصلحانہ آوازیں اپنی قوم کے اندر کوئی خاص اثر نہیں رکھتی تھیں اور قوم کی طرف سے ان کے جواب میں مختلف حیلے بہانے بنائے جاتے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب تک ان کے پاس حجتِ واضحہ اور دلیلِ روشن نہیں آجاتی یا وہ رسول نہیں آجاتا جس کا ذکر اہلِ کتاب کے ہاں  موجود ہے، ہم کسی صورت اپنی روش سے باز آنے والے نہیں۔ وہ یہ بھول رہے تھے کہ ہر دور میں ہر علاقہ کے اندر کسی رسول کا موجود ہونا اور اس کا ہر ہر آدمی کے دروازہ پر بار بار خود چل کے جانا ضروری نہیں، بلکہ انسان کے پاس کسی بھی طریقہ سے نبی کی دعوت کا پہنچ جانا، حق کا منکشف ہوجانا  اور اس حوالہ سے سوچنے کا داعیہ دل میں پیدا ہوجانا خود اس کو بھی ذمہ دار بناتا ہے کہ وہ حق کے لیے پیش قدمی کرے۔ سو یہ دعوت اہلِ کتاب کے پاس بھی موجود تھی اور مشرکین کے اندر بھی آخر تک ایسے افراد موجود رہے جو یا تو بنی اسرائیل ہی کے انبیاء پر ایمان لے آکر اپنی اصلاح کرتے رہے جس کی ایک واضح مثال مکہ ہی میں موجود ورقہ بن نوفل ہیں جو صحیح العقیدہ مسیحی تھے یا پھر  اصل دینِ ابراہیمی کی پیروری کرکے اپنی اصلاح کرتے رہے جس کی واضح مثال زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔  واضح رہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوتے تھے، اگر اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی  فرد نے انبیاءِ بنی اسرائیل کے زیرِ سایہ اپنی اصلاح کی تو یقینا یہ بھی جنتی ہے لیکن وہ اس کا مکلف نہیں، بلکہ زید بن عمرو بن نفیل جیسے لوگ بھی از روئے حدیث جنت ہی میں جائیں گے جنہوں نے دینِ ابراہیمی کے معلوم اجزاء کی پیروی کی۔

اہلِ کفر کی حیلہ سازی

یہ حیلہ سازی کہ ہم کسی حجتِ واضحہ اور رسول کو دیکھے بغیر ایمان نہ لائیں گے، اپنی نوعیت کی کوئی منفرد حیلہ سازی نہیں جو اس دور کے اہلِ کفر نے اختیار کی تھی، بلکہ موجودہ دور کے منحرفین میں بھی اس کی مثالیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“وہمہ ایں فرقہ ہا در بدعاتِ قبیحہ ورسومِ فاسدہ وعقائدِ باطلہ  قسمی منہمک  وفرو رفتہ بودند کہ بہ پند ونصیحت ووعظ وارشاد واقامتِ دلائلِ عقلی وفہمانیدنِ قرائن وامارات اصلا صلاح پذیر نمی شدند وہمہ گفتند  کہ بااوضاعِ قدیمہ خود را نمی گذرانیم تا حجتِ ظاہرہ ومعجزہ قاہرہ نہ بینیم وپیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کہ نعتِ او را از کتب آسمانی بتواتر دریافتہ بودیم واز انبیائے پیشین شنیدہ مبعوث نشود، مارا بر حقیقتِ کار ما آگہی ندہد ما از وضع وآئینِ خود در نمی گذریم”(8)‬‬‬‬‬‬‬‬

یعنی “مشرکین اور اہلِ کتاب کے یہ مختلف گروہ  قبیح بدعات، رسومِ فاسدہ  اور عقائدِ باطلہ میں اس حد تک منہمک اور غرق تھے کہ وعظ ونصیحت ، عقلی دلائل اور قرائن شواہد سے بالکل نفع نہیں اٹھاتے تھے اور یہی کہتے تھے کہ ہم اپنی قدیم روش کو ہرگز نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ کوئی واضح اور مسکت دلیل ہم نہ دیکھ لیں اور وہ پیغمبرِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم آکر ہمیں ہدایت کی راہ نہ بتائیں جن کی بشارت کتبِ آسمانی کے ذریعہ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے اور انبیاء سابقین کے حوالہ سے ہم نے ان کے بارہ میں سنا۔”

نیز فرماتے ہیں:

“وایں حالتِ ایشاں مثل حالتِ فرقہ ہائے  مختلف از امتِ پیغمبرِ ما است دریں زمانہ کہ طائفہ خود را صوفی قرار دادہ در بدعات منہمک گشتہ اند ۔۔۔ وبرخی خود را  از علماء دانستہ  بتزویر ومکر وحیلہ ہائے شرعی برمی آرند وروایاتِ نادرہ غریبہ مخالفِ اصول برائے طمعِ دنیا بمردم نشان میدہند ، ہمہ ایں طوائف را چند بادلہء عقلیہ ونقلیہ فہمانیدہ شود کہ بر جادہء مستقیمہ محمدی استوار شوند وبدعاتِ موروثہ خود را ترک نمایند اصلا ممکن نیست جواب ایں ہمہ طوائف ضالہ در مقابلہ وعظ ونصیحت ہمگی یک حرف است کہ ایں وضع وآئینِ قدیم خود را بدون دیدنِ حجتِ ظاہر وخروجِ حضرت امام مہدی علیہ السلام وبیانِ شافیء ایشاں ترک نمی کنیم پس مثل ایں حالت کہ قبل از بعثتِ پیغمبرِ ما صلی اللہ علیہ وسلم در عالم بود حکمتِ الہی تقاضا نمود کہ پیغمبرے بیاید کہ خودش حجتِ ظاہر باشد واز مرضِ جہالت ہمگناں را نجات بخشد” (9)

یعنی  “ان گم راہ فرقوں کی حالت خود اس امت کے مختلف فرقوں کی طرح تھی جو اس زمانہ میں موجود ہیں کہ ایک جماعت خود کو صوفی قرار دے کر بدعات میں منہمک ہے یا کچھ لوگ جو خود کو علماء سمجھتےہیں، مکر وتلبیس  اور مختلف حیلوں کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور دنیا کے لالچ میں دین کی بنیادی تعلیمات کے برخلاف شاذ وعجیب وغریب قسم کی روایات لوگوں کو سناتے ہیں، یہ سب فرقے خواہ ان کو کتنا ہی دلائلِ عقلیہ ونقلیہ کے ساتھ سمجھایا جائےکہ راہِ محمدی پر مستقیم ہوجائیں اور اپنی موروثی بدعات کو ترک کردیں،  نہیں مانتے اور تمام تر وعظ ونصیحت کے جواب میں ان گم راہ فرقوں  کا جواب یہی ہوتا ہے کہ  اپنی پرانی طرز کو ہم نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ  کوئی بلیغ حجت دیکھ لیں اور امام مہدی علیہ السلام کا بیانِ شافی نہ سن لیں، پس اسی طرح کی حالت ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی عالم میں تھی اور حکمتِ الہی نے تقاضا کیا کہ ایک ایسا پیغمبر آجائے  جو اپنے وجود میں آپ حجت ہو اور سب کو جہالت کے مرض سے نجات دے۔”

سو پہلی آیت میں جو کچھ مذکورہ ہے، وہ اہلِ کفر کے ایک بہانے کی حیثیت سے مذکور ہے اور ہماری ناقص سی نظر کے مطابق اس کی طرف اشارہ قرآنی لفظ ”مُنفَكِّينَ“ سے بھی ملتا ہےجو ”انفکاک“ سے ماخوذ ہے، ”انفکاک“ کے معنی کسی چپکی اور چمٹی ہوئی چیز کے جدا ہونے کے ہیں(10)، اس لفظ میں ایک لطیف سا اشارہ محسوس ہوتا ہے کہ اہلِ کفر کسی علمی جواز کی بناء پر کفر کو صحیح نہیں سمجھتے تھے، بلکہ محض اپنی عصبیت کی وجہ سے اس کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے اور اس سے جدا ہونے کے لیے تیار نہ تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پارسائی اور حق کے لیے اپنی فکر مندی کا اظہار بھی کرتے تھے کہ اگر کوئی نبی آکر ہمیں سمجھائے تو ہم اپنی اس روش کو فورا چھوڑا دیں۔ پہلی آیت کے اس مفہوم وپسِ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اب آئیے دوسری آیت کی طرف۔

رسول کی آمد،  بہانوں کا جواب!

دوسری آیت میں کفار کو جواب دیا گیا ہے کہ تم اب تک تو اپنے کفر کا بہانہ یہ پیش کیا کرتے تھے کہ ہمارے سامنے کوئی رسول موجود نہیں کہ اس کی بات سن کر دین کے نام پر بولی جانے والی مختلف بولیوں میں سے ہم صحیح بات کا انتخاب کرلیتے، مگر اب یہ بہانہ چلنے والا نہیں، تمہارا یہ عذر ختم ہوچکا ہے۔ یہ دیکھو، یہ خدا کا رسول تمہارے سامنے موجود ہے جو پاک آسمانی صحیفوں کی تلاوت کررہا  ہے، سو جو حجت تم مانگا کرتے تھے، وہ آچکی ہے۔

اس آیت میں جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں، قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کو بذاتِ خود ایک “بینہ“ یعنی دلیل وحجت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بنیادی دعوت چند ایسے عام فہم اور نیم بدیہی امور پر مشتمل ہےجن میں خود ہی دعوی اور خود ہی دلیل کی شان پائی جاتی ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ قرآن کے بعض جزوی مقامات پر گو انسان کو تفسیر میں قدرے مشکل پیش آئے، مگر قرآنی دعوت کے بنیادی اجزاء بالکل عام فہم ہیں اور ان کو ماننے کے لیے انسان کو عقلی بوکاٹے لڑانے سے زیادہ محض حقیقت پسند بننے اور اور تصدیقِ حق کا جذبہ خود میں ابھارنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ کی تیسری آیت میں  یہی نہایت اہم بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ نبی جن صحیفوں کو پڑھ کر سنا رہا ہے،ان صحیفوں کا پیغام چند نہایت سیدھی سیدھی اور مستقیم باتوں پر مشتمل ہے۔ یہ بات بطورِ خاص ان لوگوں کے سمجھنے کی ہے جن کی “مسئلہ تکفیر واتمامِ حجت” کے نام سے کی گئی گفتگو سے بعض اوقات دین کے ایک “پہیلی” ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ایک حجت ہے اور یہ حجت اس وقت تک کے لیے دنیا میں موجود ہے جب تک قرآن دنیا میں موجود ہے اور صاحبِ قرآن  صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثین دنیا میں موجود ہیں۔

نیز رسول کی آمد میں کس طرح حجیت کی ایک شان پائی جاتی ہے، اس کے لیے ایک اور پہلو پر غور کیجئے۔ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل انبیاءِ سابقین کی دعوت دنیا سے مٹ نہیں چکی تھی، بلکہ وہ موجود تھی اور اس کی پیروی کرنے والے عملی نمونے بھی موجود تھے، چنانچہ نمونہ کے طور صرف مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تھوڑا سا قبل زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل جیسے لوگ دیکھے جاسکتے ہیں۔ پس اس وقت انسانوں میں سے جو شخص ہدایت کی طلب کرتا، اسے بھی بفضلِ الہی مایوسی نہیں ہوتی تھی۔مگر ایک نئے رسول کا آنا اور ایک بے عیب ،بے ریب، مدلل ومکمل کتاب کے ساتھ آنا ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے ایک رحمت ہے، کیونکہ رسول آکر جس طرح آسمانی پیغام کے زمینی وجود میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے، وہ جس طرح طالبین کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی دوسروں کو سمجھانے کی ایک محدود سی کوشش کرکے بیٹھ جاتا ہے، بلکہ ایک منظم انداز میں بھر پور قوت کے ساتھ اپنی دعوت کو اٹھاتا ہے، بے طلبوں میں طلب جگاتا ہے، خود چل پھر کر  لوگوں تک پیغامِ ہدایت پہنچاتا ہے اور پدرانہ شفقت کے ساتھ ترغیب وتحریص اور تدبیر وتنظیم کے ذریعہ ہدایت کا ایک عمومی ماحول قائم کرنے کی زبردست محنت کرتا ہے، اس راہ کی ہر مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے اور یہی کام اس کا مشن ومقصدِ زندگی ہوتا ہے، نیز جس طرح خصوصا صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں کو اس حوالہ سے خدا نے  بار آور کیا اور توحید وخداپرستی کے سورج کو سوانیزے پر لاکھڑا کیا، یہ سب کچھ اپنے وجود میں ایک مستقل حجت اور رحمت کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ بھی ایک وجہ ہے قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو “بینہ” قرار دینے کی۔

ایک نحوی بحث

مفسرین عام طور پر یہاں نحوی اعتبار سے لفظِ “رسول” کو “البینہ“ کا “بدل” بناتے ہیں،  جبکہ ایک قول اسے بدل کی بجائے مبتداء محذوف کی خبر بنانے کا بھی ہے(11)،  لیکن دونوں کے حاصلِ معنی میں کوئی فرق نہیں۔ اگر اسے “ہذا محذوف”کی خبر بنائیں تو بات واضح ہے کہ اولین آیت میں ان کے اس بہانہ کا ذکر ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اپنی گم راہی کو جواز دینے کے لیے اختیار کیا کرتے تھے اور باقی دونوں آیات میں بتایا گیا ہے کہ وہ بہانہ اب ایکساپئر ہوچکا ہے کیونکہ رسول کی آمد ہوچکی ہے۔ جبکہ اگر اس کو “بدل” بنائیں تو دوسری اور تیسری آیت تفسیر ہوگی کفار کے مطالبہ کی کہ وہ کس قسم کی “بینہ“ کا مطالبہ کیا کرتے تھے  اور  مفہوم ہوگا کہ “بینہ” سے ان کی مراد ایک ایسا رسول تھا جو آسمانی صحیفہ لے کر آئے اور دین کی باتوں کو سیدھے سیدھے انداز میں واضح کرے۔ اس صورت میں ابتدائی تینوں آیات کے اندر کفار کے “بہانہ“ کا ذکر ہے، جبکہ اس کا کوئی جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے کیونکہ یہ سب کو نظر آرہا ہے کہ جس رسول کا مطالبہ وہ کر رہے تھے، وہ آچکا ہے اور یہ بھی کہ رسول اللہ کی غیر موجودگی کا بہانہ بنانے والوں نے رسول اللہ کی آمد کے بعد عمومی طور پر اس کے ساتھ کیا سلوک اختیار کیا۔ سو “بدل” کی رو سے ان تینوں آیات میں بہانہ کا ذکر ہے اور بہانہ کو ذکر کرنے کا انداز ایسا ہے کہ وہ اہلِ کتاب اور مشرکین کو اپنے سابقہ قول کی یاد دلا کر دعوتِ فکر بھی دیتاہے اور ایک عام قاری کے سامنے ان کے انکار کی حقیقت کو بھی واضح کرتاہے، گویا  بہانہ کے ذکر میں بہانہ کا جواب ایک حسین طریقہ سے مضمر کر دیا گیا ہے۔

سبق آموزی کا پہلو

ہمارے لیے ان آیاتِ مبارکہ میں سبق آموزی کا پہلو یہ ہے کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو لوگ آج دین بے زار ہوئے بیٹھے ہیں یا اپنے اپنے آبائی مسالک سے چمٹ کر انہی پہ اکتفاء کیے بیٹھے ہیں اور حق کو تلاش کرنے  کے لیے ذرا بھی ہاتھ پیر ہلانے کو آمادہ نہیں، بلکہ یہ کہہ کر خود کو معذور ٹھہرا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی نبی چونکہ نہیں اس لیے ہم اپنی اصلاح کیسے کریں، یا یہ کہتے ہیں کہ کاش محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے ہوتے تو ہم ان سے پوچھ سکتے کہ صحیح فرقہ کون سا ہے یا یہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ امام مہدی علیہ السلام کون سے فرقہ سے ظاہر ہوتے ہیں تاکہ صحیح فرقہ کی پہچان حاصل ہو تو یہ سب بہانے ہیں اور صحیح نہیں،  اگر ہم  واقعتا حق کی پیروی کے لیے فکر مند ہیں تو ہمیں چاہئے کہ قدم بڑھائیں،  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم گو ہمارے سامنے نہیں،  مگر آپ کی دعوت، آپ کا قرآن اور آپ کے ورثاء دنیا میں موجود ہیں۔

خدا کے رسول جو خدا کی رحمت کا مظہر بن کر آتے ہیں، وہ جتنے وقت اور علاقے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں، اس کے لیے ہدایت کا پورا سامان لے کر آتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب سارا کام بس رسول نے ہی کرنا ہے اور اسی نے ہر آدمی کے دروازے پر پہنچ کر اس کی ہدایت کے لیے جان توڑ کوشش کرنی ہے، جبکہ جس کے دروازہ پر وہ نہ پہنچ سکے تو وہ معذور ہو، ایسا نہیں۔ جب ایک آدمی کے سامنے رسول کی دعوت بالواسطہ یا بلا واسطہ پہنچے اور اس حوالہ سے سوچنے ودریافت کرنے کا داعیہ بھی دل میں پیدا ہوجائے تو اس کے بعد آگے بڑھ کر کوشش کرنا خود اس آدمی کی ذمہ داری بھی ہے، ا س حوالہ سے صحابہ کی اور خود آج کے دور میں نومسلموں کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

رسولِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ قیامت تک کے لیے نبی ہیں، اس لیے قیامت تک کے لیے حق کے زبردست نشان چھوڑ کر گئے ہیں، دنیا میں ان کے ورثاء موجود ہیں،قرآن وحدیث کی صورت میں ان کی دعوت کا خزینہ ہمارے پاس محفوظ ہے اور طالبینِ حق کی دستگیری کے لیے خدا بھی اپنی پوری پوری شانِ رحمت کے ساتھ موجود ہے، بس کمی ہے تو ہماری طرف سے۔ اگر ہم ہدایت کے طلب گار بنیں، خدا کی مدد کو پکاریں اور ہدایت کے لیے مشقت اٹھانے  وکوشش کرنے کو تیار ہوں تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ہدایت ضرور دے گا اور جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرلے تو کوئی رکاوٹ اس کے لیے رکاوٹ نہیں۔  خدا کو پکارنے والے اگر گندگی کے ڈھیر میں دبے پڑے ہوں تو تب بھی انہیں ہدایت ضرور ملتی ہے اور بعض اوقات ایسے عجیب راستوں سے ملتی ہے کہ سننے والا متحیر ہوجاتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: جب کوئی آدمی میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں ایک گز خود اس کی طرف بڑھ آتا ہوں، جب کوئی شخص ایک گز میری طرف بڑھتا ہے تو اڑھائی گز میں خود اس کی طرف بڑھ آتا ہوں اور جب کوئی میری طرف چل کر آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آجاتا ہوں۔(12)

 ہمیں اپنی اصلاح کے لیے آئے دن ظاہر ہونے والے مختلف فرقوں کے ”مہدیوں” پر نظر رکھنے کی بجائے قرآن وحدیث پر نظر رکھنی چاہئے، نبی علیہ السلام کی اتباع کو آنکھوں کا سرمہ بنانا چاہئے اور آپ کے پیغامِ دعوت کو پورے شرحِ صدر سے قبول کرنا چاہئے، بس یہی حق ہے اور یہی صحیح فرقہ ہے، خواہ کوئی کچھ کہتا رہے۔ امام مہدی علیہ السلام اپنے وقت پر ظاہر ضرور ہوں گے، مگر ہدایت کے لیے قرآن وحدیث کافی شافی ہیں۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی کے بہانے میں فرض کیجئے کہ اگر  کوئی جان تھی بھی تو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں دعوتِ دین کی ذمہ داری نبھاہنے والوں نےاس کے غبارے سے ہوا بالکل نکال دی جو خود آگے بڑھ کر عجز وانکسار کے ساتھ لوگوں تک پیغامِ دعوت پہنچانے اور  لوگوں کی ناقدری کے باوجود ان میں تعلق مع اللہ پیدا کرنے کی فکر وکوشش کرنے کے لیے ہردور میں سرگرم رہے۔ دین کی دعوت غیر مسلموں تک پہنچانا اور ان کی ہدایت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر فکر وکوشش کرنا امتِ محمدیہ کی ذمہ داری ہے، مگر بات پھر وہی کہ ساری ذمہ داری صرف داعی کی نہیں، بلکہ کچھ ذمہ داری مدعو کی بھی ہے۔  

چوتھی اور پانچویں آیت

اس کے بعد اگلی آیات کو دیکھئے:

”وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ° وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ° “

یعنی “اہلِ کتاب میں سے پہلے جو لوگ تفرق وتشتت کا شکار ہوکر گم راہ ہوئے، وہ “بینہ” آجانے کے بعد یعنی “بینہ” کی موجودگی میں ہی گم راہ ہوئے تھے، جبکہ  انہیں ماسوائے اس کے کوئی حکم نہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اللہ کے لیے خالص کرلیں، اس کی طرف یکسو ویک رخ ہوجائیں، نماز صحیح صحیح پڑھیں، زکوۃ ادا کریں اور سیدھی سیدھی مستقیم باتوں والا دین (دین القیمہ) یہی ہے۔”

آیتِ تفرق کی معنویت

مذکورہ دو آیتوں میں سے پہلی آیت کو لیجئے، اس میں ارشاد ہے کہ اہلِ کتاب کے پاس “بینہ” یعنی روشن دلائل اور واضح شواہد  پہلے بھی آچکے تھے اور فرقوں میں بٹ کر ان کا گم راہ ہونا “بینہ” کی موجودگی میں ہی تھا، مثلا یہودیت ومسیحیت کے اختلاف کو لے لیجئے،  کیا مسیح علیہ السلام کے پاس صداقت کے دلائل کی کوئی کمی تھی جو اہلِ کتاب ان پر ایمان لانے کے معاملہ میں تقسیم ہوئے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اسی طرح  یہود ونصاری کے داخلی اختلافات کو لے لیجئے، اگر یہ افتراق وتشتت کا شکار ہوکر گم راہ ہوئے تو کیا اس کا سبب یہی تھا کہ انبیاء ہی کی تعلیمات میں کوئی سقم رہ گیا تھا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ یہ ارشاد یہاں پر دو لطیف اشارے اپنے اندر رکھتا ہے ، ایک اہلِ کتاب سے متعلق اور دوسرا غیر اہلِ کتاب کے متعلق، ان کو سمجھنے سے قبل ایک تمہید سمجھ لیجئے۔

اشکال کیا جاتا ہے کہ اولین آیت میں مشرکین واہلِ کتاب کا ذکر آیا تھا، جبکہ یہاں چوتھی آیت میں افتراق کے حوالہ سے صرف  اہلِ کتاب کا ذکر کیا گیا ہے، علماء اس کے مختلف جواب دیتے ہیں، راقم کی نظر میں اس کا نہایت سہل، بے تکلف اور واضح جواب یہ ہے کہ افتراق کا سوال وہیں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک طبقہ اہلِ حق کا بھی موجود ہو اور یہ کیفیت اہلِ کتاب میں تو موجود تھی، مشرکین میں نہیں۔ یعنی اہلِ کتاب میں تو اہلِ کتاب کی حیثیت سے کچھ ایسے صالح نمونے موجود تھے جو قابلِ رشک اور قابلِ تقلید تھے چنانچہ یہی لوگ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد آپ پر ایمان بھی لائے، مثلا یہود میں سے عبد اللہ بن سلام وزید بن سعنہ جیسے نمایاں لوگ اور مسیحیوں میں سے ورقہ بن نوفل، نجران کے چند نمایاں لوگ  اور نجاشی (شاہِ حبشہ) وغیرہ۔ جبکہ مشرکین میں مشرک کی حیثیت سے کوئی صالح طبقہ موجود نہ تھا جو قابلِ اتباع ہوتا اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ارتکابِ شرک کے بعد کسی کی پارسائی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ ہاں،  اگر کچھ لوگ ان میں دینِ ابراہیمی کے پیروکار تھے تو وہ خود کو مشرک کی بجائے حنیف وموحد کہتے تھے،مثلا زید بن عمرو بن نفیل وغیرہ، لہذا ان کی حیثیت مشرک کی نہیں تھی۔ سو مشرکین کا ذکر یہاں آیتِ افتراق میں نہ ہونا بالکل ظاہر سی بات ہے اور اس کا الگ سے کوئی جواب دینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ اہلِ کتاب کا افتراق کی صورت میں گم راہ ہونا اگر “بینہ“ آجانے کے بعد تھا تو مشرکین کا گم راہ ہونا کیا اس وجہ سے تھا کہ ان کے پاس “بینہ” نہیں آئے تھے؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں! مشرکینِ مکہ میں بے شک ایک عرصہ سے کوئی نبی نہیں آیا تھا، مگر وہ بھی بالکل اندھیرے میں نہ تھے، ان میں سے جو لوگ طالبِ حق اور طالبِ خیر تھے، ان کے لیے زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل جیسوں کی صورت میں بہتر نمونے آخر تک موجود رہے۔ زید بن عمرو بن نفیل جیسوں کی اتباع کرکے وہ اپنے آباء کے اصل دینِ حنیف کی اتباع کسی نہ کسی درجہ میں کرسکتے تھے اور خود کو شرک کی لعنت سے بچا سکتے تھے، جبکہ ورقہ بن نوفل  جیسوں کی صورت میں بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت مسیح علیہ السلام کے صالح پیروکار بھی ان کے درمیان موجود تھے۔ سو یہ سمجھنا کسی بھی طرح درست نہیں کہ مشرکین اگر گم راہ تھے تو اس وجہ سے تھے کہ اللہ نے ہی ان کو اندھیرے میں رکھا ہوا تھا، ایسا نہیں، ان میں جو طالبِ حق تھے، وہ اس وقت بھی دینِ حنیف پر مستقیم رہ کر دکھا رہے تھے۔

اب آئیے ان لطیف اشاروں کی طرف کہ  اہلِ کتاب کے تفرق کی یہ بات یہاں کیوں ذکر کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ اہلِ کتاب اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود بہرحال مشرکین سے بہتر تھے اور اپنے علمی وکتابی حوالہ کی وجہ سے دوسری قومیں بھی ان پر نگاہ رکھتی تھیں۔ اب اسلام کی آمد کے بعد خدشہ تھا کہ کہیں لوگ اسلام کے بارہ میں اہلِ کتاب ہی کے رویہ کو نہ دیکھنے لگیں کہ وہ اس نو وارد دین کے بارہ میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، سو آیتِ افتراق میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ یہ اہلِ کتاب معیارِ حق نہیں کہ اگر یہ کسی بات کو قبول کرلیں تو وہ حق ہو اور کسی بات کو مسترد کردیں تو وہ ضرور غلط ہو، ایسا ہر گز نہیں، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اہلِ کتاب کے اندر ماضی میں افتراق برپا ہوا تو وہ بھی “بینہ” کی موجودگی میں تھا اور خواہش پرستی کا نتیجہ تھا، سو اگر اب یہ اہلِ کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے گریز کریں تو اس سے “بیناتِ محمدی” ساقط الاعتبار نہیں ہوجائیں گے، جیساکہ “بیناتِ سابقہ” سے ان کے اعراض نے ان بینات کو ساقط الاعتبار نہیں کردیا تھا۔ سو اسلام قبول کرنے سے پہلے انسانیت کو اہلِ کتاب کی طرف دیکھنے کی قطعا ضرورت نہیں کہ یہ اسلام کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔

نیز خود اہلِ کتاب ومشرکین کو اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم پہلے اپنی روش بدلنے کے لیے “بینہ”  یعنی دلیلِ روشن کا مطالبہ کیا کرتے تھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب واقعی “بینہ” آجانے کے بعد تم حق کے حواری بن جاؤگے، بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ تم اب بھی بہانہ سازیوں میں مشغول رہو جیساکہ اہلِ کتاب نے“بینہ” کے موجود ہونے کے باوجود افتراق  کی شکل میں ضلالت وگم راہی کی نئی نئی صورتیں اختیار کر لی تھیں۔ سو جنہوں نے حق پر چلنا تھا، وہ رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل بھی حق پر چل رہےتھے اور جن کا ارادہ حق کی پیروی کا نہیں، وہ پہلے بھی بہانہ سازیوں میں مشغول تھے اور “بینہ” آجانے کے بعد  بھی انہی میں مشغول رہیں گے، مگر ان کی بہانہ سازیوں سے “بینہ” کی قدر وقیمت میں کوئی کمی نہیں آجائے گی۔

ہمیں چاہئے کہ فرقہ وارانہ بحثوں سے بلند ہوجائیں، قرآن کو قرآن کی حیثیت سے اور نبوی دعوت کو نبوی دعوت کی حیثیت سے سینے سے لگائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو آنکھوں کا سرمہ بنائیں،بس یہی صحیح فرقہ ہے۔ فرقے جو گم راہ ہوتے ہیں، وہ اپنی ہی من مانیوں کی وجہ سے گم راہ ہوتے ہیں جسے قرآن میں ایک جگہ“بغیا بینہم“ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ صحیفہء آسمانی اور بیانِ پیغمبر میں کوئی سقم ہوتا ہے، ایسا نہ تو کبھی ہوا اور نہ ہی اب ہے۔ پیغمبروں کی دعوت ہمیشہ سے چند سیدھی سیدھی مستقیم باتوں پر  مشتمل رہی ہے جنہیں ماننے کے لیے عقلی پیچ وتاب کی کم اور حقیقت پسند بننے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

دین کا اجمالی خاکہ

ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ  سیدھی سیدھی مستقیم باتیں کون سی ہیں جن کو اس سورہ میں کہیں “بَيِّنَۃ“ اور کہیں “قَيِّمَۃ “ کہا گیا ہے، جن کے اندر “آفتاب آمد دلیلِ آفتاب” کی شان پائی جاتی ہے، جن کے انکار کا  نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کوئی جواز تھا اور نہ ہی بعد میں، جن میں افتراق  وتشتت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور جو ان لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں چھوڑتیں جو اپنی بے دینی کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ہم اتنے سارے فرقوں میں سے کس فرقہ کی بات کو صحیح  مانیں۔  آیت نمبر پانچ  میں پھر انہی سوالات کا جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ سیدھی سیدھی مستقیم باتوں والا دین کون سا ہے۔ اس آیت میں “سورۃ البینہ” کا علمی بیان اپنے عروج پر پہنچا ہوا نظر آتا ہے۔  اس آیت میں روئے سخن گو اہلِ  کتاب کی طرف ہے، مگر موجودہ دور میں ہم سب اس کے پورے پورے مخاطب ہیں۔

ارشاد ہے کہ “بینہ” کی موجودگی میں فرقہ واریت کا شکار ہوکر جادہء حق سے منحرف ہوجانے والے اہلِ کتاب کو کوئی بہت مشکل تعلیمات نہیں دی گئی تھیں جن کا سمجھنا ان کے لیے مشکل ہو اور اسی وجہ سے وہ فرقوں میں بٹ گئے ہوں، بلکہ انہیں چند صاف صاف مستقیم باتوں کا حکم دیا گیا تھا اور وہ یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اس کے لیے خالص کرلیں، اس کی طرف یک سو ویک رخ ہوجائیں، نماز کو صحیح صحیح ادا کریں، مال کا صدقہ نکال کر اسے پاک کرتے رہیں اور یہی ہے مستقیم باتوں والا سیدھا سیدھا دین جسے آیت میں”دِينُ الْقَيِّمَۃ“  کہا گیا ہے۔

اس آیت میں جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں، دینِ انبیاء کے چند بنیادی ترین نکات کا ذکر کیا گیا ہے، یہ نکات سارے دین کی جان اور بنیاد ہیں، ان امور کی حفاظت کرکے کوئی آدمی نجاتِ اخروی  سے محروم نہیں رہ سکتا اور ان کو ضائع کرکے کسی آدمی کا دین سلامت رہ نہیں سکتا۔ ذرا سوچئے کہ جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، اس عبادت کا رنگ اپنے اوپر طاری کرے، شکر وصبر، توکل وتبتل، رجوع وانابت، عجز وانکسار، خدا طلبی وخدا مستی جیسی عابدانہ صفات اپنے اندر پیدا کرے، نیز دین کو اللہ کے لیے خالص کرلے، یعنی اللہ کے حلال کو حلال اور اس کےحرام کو حرام سمجھے، اپنی طرف کی  آمیزشوں سے دین کو محفوظ رکھے، اللہ  کی رضاء کے لیے اس کے احکام پر عمل کرے اور  حنیف بن جائے یعنی اپنی قلبی وعملی زندگی کا محور ومدار خدا کی ذات کو بنا لے، کائنات کے ہر رنگ میں اس کے دستِ تصرف کو محسوس کرے، اسی کو کارسازِ حقیقی سمجھے اور اس کے غیر کو مجبور ومخلوق سمجھنے کا یقین دل میں جمائے، اسی کے نام میں لذت پائے، اسی کے نام میں راحت، فرحت اور سکینت پائے اور خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ کے یقین، اللہ کے دھیان اور اللہ کو راضی کرنے کے جذبہ سے نماز ادا کرے، نماز میں اپنے جسم کو تھکائے، نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور اپنے مال کو اللہ کی رضا میں خرچ کرنے کے لیے تیار رہے تو اس کے ولی اللہ ہونے میں کیا کوئی شک ہے؟ کیا دین کے باقی احکام کی تعمیل میں یہ شخص کوئی کوتاہی کرسکتا ہے؟  یوں اس آیت میں اجمال کے ساتھ دین کے سارے خلاصہ کو سمودیا گیا ہے۔

سبق آموزی کا پہلو

ذرا سوچئے کہ اگر دین کی بعض فروعی جزئیات میں علماء کا اختلاف ہو، قرآن کے کسی بیان کی توضیح میں ان کے ہاں کوئی ضمنی سا اختلاف رائے پیدا ہوجائے، سائنس دان سیاروں اور ستاروں کا سفر ختم کرکے ابھی تک آسمان تک نہ پہنچے ہوں  یا کائنات کے طبیعی مشاہدات میں انسان کے ہاں تبدیلی آتی رہی ہو، یعنی بعض لوگ ماضی میں زمین کو ساکن کہتے ہوں اور اب متحرک کہنے لگے ہوں تو کیا ان اختلافات کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم خدا کو پوجنا چھوڑ دیں، اس سے محبت نہ کریں، اس کے عظمت وجلال کا نقش اپنے دل میں نہ بٹھائیں، اس کی ذات سے بے خوف ہوکر اس کے باغی بن جائیں، نماز وزکوۃ ادا کرنے کی بجائے اس کی ذات کو للکارنا شروع کردیں؟ ذرا بتائیے کہ اس رویہ میں کیا معقولیت پائی جاتی ہے؟ آیت نمبر پانچ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام لوگوں کو تعلق مع اللہ کے قرینے اور   غریب پروری کے سلیقے سکھانے آیا ہے اور یہی وہ سیدھی سیدھی باتیں ہیں جن کا لوگوں نے بتنگڑ بنا رکھا ہے، اسلام لوگوں سے یہ منوانے کے لیے ہرگز نہیں آیا کہ وہ زمین کو متحرک، ساکن، بیضوی یا چپٹی سمجھیں، اس پر لوگوں کے ساتھ مناظرے لڑیں اور اختلاف کرنے والوں کو دائرہء اسلام سے خارج قرار دیں، یہ محض خود ساختہ بات ہے، اسلام کے مطالبات وہی ہیں جو کہ ہیں، نہ کہ کچھ اور۔

نیز اگر کوئی شخص تعددِ ازواج، غلامی وقصاص اور حدود وتعزیرات جیسی اسلامی فروعات کو اپنی خود ساختہ کسوٹیوں پر تولتے رہنے کو علمی کمال سمجھتا ہے اور اسلامی دعوت کے بنیادی نکات پر بات نہیں کرتا، مبادا کہ انہیں ماننا پڑ جائے، تو ظاہر ہے کہ یہ اپنی ہدایت سے محرومی کا ذمہ دار خود ہے، نہ کہ کوئی اور۔ آئیے، اسلام کی دعوت کو سنئے، کسی الٹی سیدھی نیت کے ساتھ نہیں بلکہ طالبِ حق بن کر، پھر دیکھئے کہ ان میں سے کون سی بات ہے جسے ماننے میں تامل ہو۔ ضابطہ یہی ہے کہ اصولوں میں اختلاف کے ہوتے ہوئے فروعات میں جھگڑنے کا کوئی جواز نہیں، سو اسلامی دعوت کوسنئے اور اس کے حوالہ سے بات کیجئے، اگر آپ اس دعوت کو مان لیتے ہیں تو فروعات کے حوالہ سے آپ کا ذہن خود بخود صاف ہوجائے گا، لیکن اگر اس دعوت کو ماننے میں تامل ہے تو پھر  فروعات میں کس بات کا جھگڑا۔ ذرا سوچئے کہ اللہ  جس نے مجھے پیدا کیا اور سارا جہان پیدا کیا، اس کی عبادت کرنے میں، اس کی مان کر چلنے میں، اس کو سب سے بڑا سمجھنے، سمجھ کر اس کے مطابق اپنا رویہ درست کرنے اور اسی کو کائنات کے سارے امور واحوال کا متصرفِ حقیقی سمجھنے میں، نیز اس کی رضا میں کامیابی اور اس کی ناراضی میں ناکامی سمجھنے جیسے موٹے موٹے امور میں آخر کس بات کا اعتراض ہوسکتا ہے اور اس کے کسی رسول کی سچائی اگر روزِ روشن کی طرح مبرہن ہوجائے تو اس کی صداقت پر ایمان لے آکراس کی اتباع کرنے اور اس کی نقل میں اپنے اوپر خدا کا رنگ طاری کرنے کی کوشش ومحنت کرنےمیں آخر کس بات کا اعتراض ہے؟  ان بنیادی امور پر بات کرنے کی بجائے ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارنا  اور فروعات یا زوائد ہی میں الجھتے چلے جانا اپنے ہدایت کے سفر کو خود مشکل بنانے کے مترادف ہے۔

اسلام کے مذکورہ بنیادی دعوتی امور کا عقلی اثبات بھی قرآن میں مختلف جگہوں پر موجود ہے، مگر کبھی کبھی قرآن ان باتوں کو نیم بدیہی کی حیثیت سے بھی پیش کرتا ہے اور ایسی جگہ پر ان کے عقلی اثبات میں زیادہ مشغول نہیں ہوتا، یہاں اس مختصر سورۃ میں یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان باتوں کو سیدھی سیدھی مستقیم باتیں بتلا کر ان کی اسی شان کر طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ باتیں گویا ایسی باتیں ہیں جنہیں ماننے کے لیے انسان کو عقلیات کی بساط بچھانے سے زیادہ سلیم الفطرت اور حقیقت پسند ہونے کی ضرورت ہے، گو ان کی مزید وضاحت کے لیے قرآنی صحائف اور رسول اللہ کے نائبین کی طرف رجوع کرنے کا اشارہ بھی آیت نمبر دو میں کردیا گیا ہے۔آخر میں ایک سادہ سا پیغام دے کر اس سورہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سورہ کا اختتامی پیغام

“سورہ البینہ“ کی مذکورہ پانچ ابتدائی آیات میں جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں، معانی کا ایک دریا بند کر دیا گیا ہے اور”دِينُ الْقَيِّمَۃ“ کے بنیادی نکات کو بیان کرکے اس گفتگو کو مکمل بنا دیا گیا ہے۔  بعد کی تین آیات میں سادہ سا مضمون مذکور ہے کہ جو لوگ دینِ انبیاء کی اس سادہ سی دعوت کا انکار کریں اور خدا کے انکار یا اس سے بغاوت کی روش  پر مصر رہیں، وہ خواہ اہلِ کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ خدا کی رحمت سے محرومی کے ذمہ دار خود ہیں، سو یہ سب جہنم کی آگ میں جائیں گے، یعنی ایسی جگہ جائیں گے جہاں واقعی خدا کی کوئی رحمت نہیں ہوگی، پھر ہمیشہ وہاں رہیں گے اور یہ لوگ اپنی دنیاوی حیثیتوں میں خواہ کچھ بھی ہوں، لیکن چونکہ یہ خدا کی بے توقیری کے مرتکب ہوئے اور انکار وبغاوت کی ایسی جسارت کی جس کی مثال خدا کی مخلوق میں کہیں نظر نہیں آتی، لہذا خدا کی نظر میں  بدترینِ خلائق ہیں۔ جبکہ جو لوگ انبیاء کی دعوت پر ایمان لائیں گے، نیک اعمال کریں گے، انبیاء کی اتباع میں ان کی بتائی ہوئی راہ پر چل کر  خود پر خدا کا رنگ  اور عبدیت کی شان طاری کریں گے، خدا کا حق ماننے  اور امتحان کی گھاٹی میں بھی بندگی کا ڈھنگ اپنائے رکھنے کی وجہ سے یہ لوگ خدا کی نظر میں افضل ترین مخلوق ہیں، ان کی جزاء اپنے رب کے ہاں عدن کی وہ جنات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کے اندر وہ ابد الآباد تک رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور یہ اپنے رب سے راضی ہوئے، یہ جزاءِ عالی شان اس شخص کے لیے ہے جس کے دل میں خدا کی عظمت وہیبت اور اس کے  خوف وخشیت کا نقش موجود  ہو اور وہ دنیا کی زندگی بے خوف ہوکر نہ جی رہا ہو۔

چند باتیں

آخر میں چند ضروری باتیں عرض ہیں:

ہدایت کے اصول متعین اور عام فہم ہونے کے باوجود خدا کا اصول کسی کو فورا پکڑنے کا نہیں ہے، بلکہ اس نے انسان کو بہت لمبی زندگی دی ہے جس میں اسے سوچنے اور سمجھنے کے ہزارہا مواقع ملتے ہیں۔ یہ خدا کی رحمت ہے کہ وہ بغاوت اور انکار جیسے رویوں پر بھی فورا گرفت نہیں فرماتا۔

ہدایت کی بنیادی باتیں بالکل سادہ اور عام فہم ہونے کے باوجود ، انسان کے باطن میں بعض اوقات کچھ نفسیاتی الجھنیں ہوتی ہیں جنہیں دور ہونے کے لیے بعض اوقات کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ ہدایت کی بنیادی باتوں پر فوکس کرتے ہوئے اگر آدمی چلتا رہے تو وقت آنے پر ذیلی الجھنیں بھی دور ہوجاتی ہیں، لیکن ضرورت ہے کہ بنیادی توجہ مرکزی باتوں  پر رہے۔

ہدایت کی بنیادیں متعین اور عام فہم ہونے کے باوجود انسان کو ہدایت سے ہم کنار ہونے کے لیے جراءتِ ارادہ کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض اوقات اپنے گرد وپیش سے بھی نمٹنا پڑتا ہے، ان امتحانات میں اگر خدا نخواستہ کوئی آدمی کامیاب ہونے سے رہ جائے اور  ہدایت کو قبول نہ کرسکے تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ خود ہدایت کے اصولوں میں کوئی سقم ہے۔

ہدایت صرف اللہ پاک دیتے ہیں اور ان کے سوا کوئی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا، بلکہ کسی اور کو  کچھ دینا تو درکنار خود اپنے آپ کو بھی کوئی کچھ نہیں دے سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر خطبات میں یہ بات شروع سے ہی بیان کردی جاتی تھی۔  اس لیے گم راہی سے حفاظت اور ہدایت کے حصول کی خاطر مطالعہ ومشاہدہ کو تیز کرنے کے ساتھ اپنے خالق رب کو بھی دل ہی دل میں پکارنے کی عادت بنانا چاہئے، ایسا کرنے والوں کو ہدایت ضرور ملتی ہے، اللہ اس کے لیے خود راہیں کھولتے ہیں اور ابلیس اپنا تمام تر زور لگا کر بھی اس شخص کو گم راہ نہیں کر سکتا۔ 

دعا ہے کہ اگر توضیح وتفصیل میں کوئی علمی خطاء ہوئی ہے یا کوئی بڑا بول نکل گیا ہے تو اللہ تعالی معاف فرمائیں اور اپنی رحمت کے صدقے راہِ ہدایت پر مستقیم فرمائیں۔ آمین! واللہ سبحانہ وتعالی اعلم!


حواشی

(۱) روح المعانی، علامہ آلوسی، جلد 15، صفحہ 592۔ ط: دار احیاء التراث العربی۔

(۲) مثلا دیکھئے: تفسیرِ ماجدی۔

(۳) اللؤلؤ والمرجان فی ما اتفق علیہ الشیخان، محمد فؤاد عبد الباقی، حدیث نمبر 1602۔ ط: دار المؤید، الریاض۔

(۴) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3828۔

(۵) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3826۔

(۶) فتح الباری، حافظ ابنِ حجر عسقلانی، جلد 7، صفحہ 181۔ ط: قدیمی کتب خانہ کراچی۔

(۷) رجال ونساء حول الرسول، شعبان احمد بن دیاب، صفحہ 143، ط: المکتب الثقافی، القاہرۃ ۔۔۔ بحوالہ ابنِ عساکر۔

(۸) فتح العزیز المعروف بہ تفسیر عزیزی، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ، پارہ عم، صفحہ 262۔ ط: مطبع گلزارِ محمدی لاہور (1308ھ)

(۹) حوالہ مذکور، صفحہ 263۔

(۱۰) دیکھئے: تفسیر الکشاف لجار اللہ الزمخشری۔

(۱۱) مثلا دیکھئے: تفسیر الزحیلی۔

(۱۲) اللؤلؤ والمرجان فی ما اتفق علیہ الشیخان، محمد فؤاد عبد الباقی، حدیث نمبر 1713۔ ط: دار المؤید، الریاض۔

قرآن / علوم قرآن

(اپریل ۲۰۱۹ء)

Flag Counter