’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ ۔ لبرل حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ!

نادیہ ججا

اس وقت پاکستان میں انگریزی زبان کے تمام اشاعتی اور نشری ذرائع ابلاغ میں جنگ کے نقارے بجنے کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے ایک بار پھر سب کو حالات حاضرہ پر گفتگو میں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب گورنر کے قتل کی مذمت نہ کی جائے اور لوگوں کو باہر نکل آنے، ڈٹ کر کھڑے ہو نے اور اس ہوا کا رخ تبدیل کرنے پر نہ اکسایا جائے جو پاکستان کے ’’کمزور ذہن اور برین واش کیے ہوئے‘‘ لوگوں کے لیے چلتی ہے، وگرنہ ’’ہم‘‘ سب تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔ ’’ہم‘‘ یقیناًبزعم خود لبرل اور ترقی پسند لوگ ہیں۔ ستم ظریفی اوربدقسمتی یہ ہے کہ یہ ’’ہم‘‘ وہ اقلیت ہے جو پاکستان کی چھ عشروں پر محیط تاریخ کے بیشتر حصے میں خاموش تماشائی بنی رہی ہے۔ 

لیکن ’’وہ‘‘ کون ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں اور ہوا کا رخ دیکھ کر بدلتا رہتا ہے۔ ’’وہ‘‘ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے پاکستان کے سابق صدر اور وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کی سزاے موت کے خلاف احتجاج کیا تھا، کسی جماعت کے کارکن ہو سکتے ہیں جو صدر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے اتارنے کے لیے ۲۰۰۷ء اور ۲۰۰۸ء میں سڑکوں پر نکل آئے تھے جنھیں ’’ہم‘‘ روشن خیال، اعتدال پسند اور لبرل ازم کے علم بردار کہتے ہیں۔ ’’وہ‘‘ وہ ۴۰۰۰۰ ہزار افراد بھی ہو سکتے ہیں جنھوں نے توہین رسالت کے قانون کی ممکنہ منسوخی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔ تاہم پاکستان کی غالب اکثریت ہونے کے باوجود ’’وہ‘‘ کبھی بھی پاکستان کا حقیقی چہرہ نہیں بن سکتے۔ اس ضمن میں ہمارے سامنے کراچی کے ان چالیس ہزار لوگوں کی مثال آتی ہے جو توہین رسالت کے قانون کو منسوخ کیے جانے کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور جنھیں ایک مبصر نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ محض مدرسوں کے طلبہ اور سیاسی کارکن ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے جو تبصرے سامنے آئے، ان کا پہلے ہی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ ہمیشہ کی طرح ’’ہم‘‘ پھر خواب غفلت سے جاگے اور اخلاقی طور پر بالاتر اور بزعم خود حق پر ہونے کا ڈھول پیٹنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم مبصرین کے لب ولہجے اور الفاظ کے چناؤ کو مد نظر رکھیں تو لگتا ہے کہ ’’ہماری‘‘ طرف سے ’’انھیں‘‘ ناروادار اور شیطانی مخلوق کہنے میں بس تھوڑی سی کسر ہی رہ گئی تھی۔

دریں اثنا مقامی اور غیر ملکی مبصرین نے ملک میں لبرل اور ترقی پسند طبقے کی حالت زار کا نقشہ کھینچنے کے لیے شاید ہی کوئی استعارہ اور تشبیہ چھوڑی ہو، چاہے اس کا حوالہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، اور انھیں ’’نابود ہونے کے خطرے سے دوچار نوع‘‘ اور ’’انتہا پسندی کا کینسر‘‘ سے لے کر موہی کن اور انقلاب فرانس کی باقیات جیسے القابات سے نوازا گیا۔ لیکن ہم اتنے احمق کیسے ہو سکتے ہیں کہ یہ سوچیں کہ سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز حسین قادری نے جس نارواداری کا مظاہرہ کیا، وہ اس سے پہلے موجود نہیں تھی یا یہ کہ اس کی جڑیں ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی بزعم خود ’’اسلامائزیشن‘‘ کی پالیسیوں میں نہیں ہیں؟ غازی علم الدین شہید یاد ہے جس سے ممتاز قادری اور اس کے حمایتی متاثر تھے اور جس نے ۱۹۲۹ء میں اپنے دوستوں کے ساتھ سکہ اچھال کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ توہین رسالت پر مبنی مواد شائع کرنے والے ہندو پبلشر کو قتل کرنے کے لیے کون جائے گا؟ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے احمدی فرقے کے خلاف ہونے والے فسادات بھی یاد ہیں، جس فرقے کے جائز ہونے پر اکثریت کو اعتراض ہے اور جب تک وہ اپنے احمدی اور غیر مسلم ہونے کا اعلان نہ کریں، انھیں پاسپورٹ بھی جاری نہیں ہو سکتا؟

مزیددو ہفتوں کے اندر سلمان تاثیر کی موت کی خبر پرانی ہو جائے گی۔ اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو ’’ہم‘‘ میں سے کوئی بھی اس مسیحی خاتون آسیہ نورین کی حمایت میں کھڑا نہ ہوتا جسے توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے اور جس کی سلمان تاثیر حمایت کر رہے تھے۔ مجھے تو یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی رزمیہ فضا میں کوئی شخص ایسا بھی تھا جو اپنی موت تک اس کی حمایت میں کھڑا رہا۔ جو ستم ظریفی ابھی تک چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان کو کھائی میں دھکا قدامت پرستوں نے نہیں دیا۔ ایسا کرنے والے ’’ہم‘‘ اور ہمارا باقی سارے ملک سے بے پروائی کا رویہ ہے۔ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بزدلی ہمیشہ ’’ہم‘‘ لبرل لوگوں نے دکھائی ہے اور جب بھی سیاسی مصلحت اور اصولوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ہمیشہ سیاست کو چنا۔ اپنے دل کی گہرائیوں میں ہم خود بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ امکانات انتہائی کم ہیں کہ ’’ہم‘‘ لبرل لوگ نافذ کی گئی، بلکہ نافذ نہ کی گئی پالیسیوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔

اس وقت ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں اور مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی دیواروں کو گرا کر ’’ایک‘‘ بننا ہوگا۔ ’’وہ‘‘ بھی اسی طرح اس قوم کے افراد ہیں جس طرح ’’ہم‘‘ ہیں اور انھیں بھی اپنی رائے کے اظہار کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہمیں حاصل ہے۔ ان کی ہستی کو تسلیم کرنے کے بعد ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہم اب مزید انکار کی کیفیت میں نہیں رہ سکتے۔ ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ ہم وہیں کے وہیں کھڑے رہیں گے۔ یہ کام اگرچہ آسان نہیں ہے، لیکن جیسا کہ قدیم چینی فلسفی لاؤتسو کا قول ہے، ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے اور زیر بحث مسئلے میں یہ قدم ’’قبولیت‘‘ ہے۔

(ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس، ۲۱؍ جنوری ۲۰۱۱ء)

آراء و افکار