مارچ ۲۰۱۱ء

توہین رسالت پر سزا کا قانون

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

توہین رسالت کی سزا کے قانون کے خلاف ملک میں مختلف حلقے سرگرم عمل ہیں۔ ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر کسی سزا کو آزادئ رائے، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، بلکہ اس پر ظالمانہ قانون اور کالا قانون ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز فکر کے نمائندہ دانش ور سیکولر جمہوریت کو عدل وانصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست وحکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے...

’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ ۔ لبرل حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ!

― نادیہ ججا

اس وقت پاکستان میں انگریزی زبان کے تمام اشاعتی اور نشری ذرائع ابلاغ میں جنگ کے نقارے بجنے کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے ایک بار پھر سب کو حالات حاضرہ پر گفتگو میں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب گورنر کے قتل کی مذمت نہ کی جائے اور لوگوں کو باہر نکل آنے، ڈٹ کر کھڑے ہو نے اور اس ہوا کا رخ تبدیل کرنے پر نہ اکسایا جائے جو پاکستان کے ’’کمزور ذہن اور برین واش کیے ہوئے‘‘ لوگوں کے لیے چلتی ہے، وگرنہ ’’ہم‘‘ سب تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔ ’’ہم‘‘ یقیناًبزعم...

ایک تلافی نامے کا معذرت خواہانہ جائزہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

واقعہ کچھ یوں ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، پنجاب شاخ لاہور کے زیرِ اہتمام ۸ مئی ۲۰۱۰ بروز ہفتہ ’’صوفی ازم کی عوامی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے ممتاز دانش وروں نے’’ گراں قدر‘‘ مقالات پڑھ کر صوفیا کو ایصالِ ثواب کیا۔ غالباً ثواب کے ایصال میں کافی کمی رہ گئی تھی جس کی تلافی کی ذمہ داری یونی ورسٹی آف گجرات کے سپرد کی گئی۔ اس وقت ہمارے زیرِ نظر یہی’’تلافی نامہ‘‘ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ تلافی نامے کا سرورق کیا ہے؟ اچھا خاصا طلسم کدہ ہے۔ پھر ہماری کیا مجال کہ اس کے سحر میں ڈوبے بغیر صوفیانہ...

توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کا موقع ۔ حدیث اور فقہ کی روشنی میں

― مفتی محمد عیسی گورمانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ وکفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی۔ اما بعد! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی اقوام سے واسطہ پڑا۔ مشرکین عرب، یہودی کینہ پرور، دیہاتی، ایسے لوگ جن کی فطرت اور خمیر میں فساد تھا، ان کے رگ وریشہ میں شر کا غلبہ تھا اور خیر کا پہلوناپید۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر سے حسب وعدہ ان کو ہلاک کر دیا۔ وہ بیماری میں مبتلا ہوئے جیسے ابو لہب، یا میدان جنگ میں مارے گئے جیسے ابو جہل، عتبہ، عتیبہ، شیبہ، امیہ، عقبہ بن ابی معیط وغیرہم۔ چند اپنی زندگی میں ناکامی، رسوائی اور مایوسی کے عالم میں طبعی موت مر گئے، جیسے رئیس...

توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں

― محمد مشتاق احمد

زیر نظر مسئلے پر بحث کے دوران یہ بات مسلسل مد نظر رہے کہ کسی شخص کو باقاعدہ عدالتی کاروائی کے بغیر محض سنی سنائی بات پر یا محض الزام کی بنیاد پر ’’گستاخ رسول ‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ (۱) پس پہلا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو عدالت میں گستاخ رسول ثابت کرنے کے لیے ضابطہ اور معیار ثبوت کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ متعین کیا جائے کہ توہین رسالت کے جرم کی نوعیت کیا ہے کیونکہ جرم کی نوعیت کے مختلف ہونے سے اس کے اثبات کا طریقہ بھی مختلف ہوجاتا ہے ؟ (۲)۔ ’’توہین رسالت ‘‘کے جرم کی دو مختلف صورتیں۔ فقہاے احناف کا موقف یہ ہے...

قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاول پور، لاہور، راولپنڈی، خانیوال، کبیروالا، سرگودھا، نوشہرہ، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت اور احباب سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور اکثر اوقات میں دوستوں کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت کی مرکزی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے بارے میں آپ کا موقف اور رائے کیا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں بھی تحریک تحفظ ناموس رسالت کی مرکزی کونسل کا حصہ ہوں اور اس حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو ملک کے اکابر علماء کرام کا قیام پاکستان...

قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۲)

― محمد یونس قاسمی

مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نامور عالم دین اور اسلامی سکالر کی حیثیت سے معروف ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ، الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کے ڈ ائریکٹراور جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ روزنامہ اسلام کے مستقل کالم نگار اور متعد د کتب و رسائل کے مصنف بھی ہیں۔ عالم اسلام میں پائے جانے والے مختلف عنوانات پر اختلافات کے خاتمے کے لیے محققانہ گفتگو اور مکالمہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ مولانا موصوف نے روزنامہ اسلام میں ۱۱ فروری کو ’’اکابر کے فیصلوں پر اعتماد کیا جائے‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز کالم تحریر فرمایا ہے جس...

قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۳)

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

راقم الحروف نے مختلف دوستوں کے سوالات پر تحریک تحفظ ناموس رسالت کی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کی تھی جو روزنامہ اسلام میں ۱۱؍ فروری ۲۰۱۱ء کو ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے میرے مستقل کالم کی صورت میں شائع ہوئی۔ اس پر محترم جناب مولانا محمد یونس قاسمی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے جو مذکورہ کالم کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ مولانا قاسمی کی شکایت یہ ہے کہ اکابر کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں جبکہ میں نے اس کالم میں ہی اس کے بارے میں عرض کر دیا تھا کہ کسی کو کافر قرار دینے یا مسلمان تسلیم کرنے کا دائرہ الگ ہے اور معاشرتی روابط...

۲۹۵ سی : اقلیتوں کا نقطہ نظر

― ڈاکٹر کنول فیروز

یادش بخیر! ۲۹۵۔سی کے حوالے سے ہم پہلے بھی اپنی نپی تلی رائے دے چکے ہیں کہ پاکستان کی اقلیتیں خصوصاً مسیحی اس کی روح اور نفاذکے قطعی خلاف نہیں کیونکہ اس قانون کا نفاذ واطلاق اہل اسلام کے دینی اور قلبی جذبات واحساسات کا انتہائی حساس مسئلہ ہے اور شایدا سی لیے جب پہلے پہلے قومی اسمبلی نے اس کی منظوری دی اور پھر بعدا زاں شریعت کورٹ نے اس جرم کی کم از کم سزا موت قرار دی تو اقلیتی حلقوں نے اس سے کوئی تعرض نہ کیا بلکہ اس وقت کے اقلیتی ایم این اے عمانوئیل ظفر نے کریمنل لاء امینڈمینٹ بل ۱۹۸۶ء کی منظوری کے دوران جو وزیرمملکت برائے عدل وپارلیمانی امور میر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم جناب عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا۔ یوگندر سکند کے آپ کے والد ماجد سے سوالات اور مولانا محترم کے جوابات ارسال کرنے کا بہت بہت شکریہ! دیوبند میں ہوئی کشمیر کانفرنس کے حوالے سے جب آپ کے رسالہ کی کسی قریبی اشاعت میں ایک مضمون شائع ہوا تھا تو آپ کو اس کی بابت کچھ لکھنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اب اس انٹرویو میں بھی اس کا تذکرہ دیکھ کر خیال ہوا کہ سردست چند سطریں ہی آپ کی خدمت میں ارسال کر دی جائیں۔ (۱) یہ کانفرنس جمعیۃ علماء ہند نے منعقد کی تھی، دار العلوم دیوبند نے نہیں۔...

طب مشرق کا جادو

― حکیم محمد عمران مغل

طب کا ایک معنی جادو بھی ہے۔ یہ جادو جالینوس ثانی حکیم محمد حسن قرشیؒ نے اپنے وقت کے بڑے بڑے معالجین اور مفکرین کے سامنے نہ صرف جگایا بلکہ حاضرین مجلس کو انگشت بدنداں بھی کر دیا۔ جاویدمنزل گڑھی شاہو لاہورکے وسیع دالان میں برصغیر کے مایہ نازمعالجین کرام کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ درد گردہ کی شدت سے ماہی بے آب کی طرح بے تاب ہیں۔ علاج کی ہر امکانی کوشش کے باوجود درد ختم نہیں ہو رہا۔ چار وناچار علامہ مرحوم کی خدمت میں گزارش کی گئی کہ طب مغرب کا ساز تو سنا جا چکا ہے، بہتر ہے کہ طب مشرق کی آواز بھی سنی جائے۔ علامہ مرحوم...