مسئلہ کشمیر: تازہ صورت حال اور کشمیری رائے عامہ

ہمایوں خان

۱۹۸۰ء کی دہائی کے وسط میں، جب میں بھارت میں پاکستان کا سفیر تھا، میرے لیے جموں اور کشمیر جانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ دہلی یا اسلام آباد میں سے کوئی بھی اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ تقریباً ۲۰ سال کے بعد مجھے واہگہ سے جموں تک زمینی اور وہاں سے سری نگر تک فضائی سفر کا موقع ملا، اور کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

میرا یہ سفر دہلی کے مرکز برائے مکالمہ ومصالحت (Centre for Dialogue and Reconciliation) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے سلسلے میں تھا جس میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سے مختلف کشمیری گروپوں کو جمع کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں باہم گفت وشنید کریں۔ یہ سیمینار کشمیریوں کے مابین باہمی مکالمہ کے فروغ اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل جاری کوششوں کا ایک حصہ تھا۔ ان کوششوں کا مقصد کشمیریوں کے مابین ایک واضح اتفاق رائے کو وجود میں لانا ہے تاکہ بھارت اور پاکستان کی طرف سے ’نیک دلی‘ کے ساتھ کشمیری عوام کی خواہشات کے احترام کے جو دعوے کیے جاتے ہیں، ان کی صداقت کو آزمایا جا سکے۔

کشمیر میں استصواب رائے کی تجویز کے خارج از بحث ہو جانے کے بعد قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی کشمیری عوام کی مرضی کیسے معلوم کی جائے؟ اب تک ساری توجہ وادی پر مرکوز رہی ہے جو کہ سابقہ ریاست کا سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ ہونے کے باوجود کل علاقے کی آبادی کے صرف پانچویں حصے پر مشتمل ہے۔ پھر جموں اور لداخ، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی کیا حیثیت ہے؟ ایک چھوٹے سے حصے پر توجہ مرکوز کرنا اور اسے خصوصی حیثیت دینا یقیناًایک امتیازی رویہ ہے۔ سیمینار کے شرکا اس پر متفق تھے کہ کشمیری عوام کی امنگوں کو پورا کرنا مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کا ایک ناگزیر عنصر ہے اور کشمیری عوام سے مراد سابقہ ریاست کے حدود میں بسنے والے تمام باشندے ہیں۔

اگلا سوال یہ تھا کہ بحیثیت مجموعی کشمیری عوام کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہے؟ اب تک مزاحمت کرنے والی کشمیری قیادت صرف وادی کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس جیسی تنظیمیں اس مفہوم میں پورے کشمیر کی نمائندہ نہیں ہیں۔ مطلوبہ کشمیری قیادت کا تعین کیسے کیا جائے؟ اس سوال کے جواب میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں لیکن کسی پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

اس بات کی ضرورت بھی محسوس کی گئی کہ دو طرفہ مکالمہ میں تنوع کے حامل کشمیری نقطہ ہائے نظر کو بھی مستقل بنیاد پر شامل کیا جائے۔ اس ضمن میں موجودہ کشمیری قیادت اور بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین روز افزوں روابط کا خیر مقدم کیا گیا۔ شرکا نے دونوں ملکوں کے مابین جامع گفت وشنید کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی بھی ایک عمومی تائید کی۔ 

سیمینار کے شرکا کشمیری رائے عامہ کے ایک وسیع اور متنوع دائرے کی ترجمانی کر رہے تھے۔ یہ بات خوش کن تھی کہ بہت سے مسائل کے حوالے سے ان کے مابین اتفاق رائے موجود تھا۔ سب سے اہم نکتہ، جس پر زور دیا گیا، یہ تھا کہ تشدد کو ختم ہونا چاہیے، خواہ اس کا ارتکاب دہشت پسند عناصر کر رہے ہوں یا بھارتی سکیورٹی فورسز۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ اس بات کو موثر طور ثابت کرنا ابھی پاکستان کے ذمے ہے کہ وہ سرحد پار سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فعال اقدامات کر رہا ہے۔ نیز بھارت کو نہ صرف سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کا سدباب کرنا ہے، بلکہ ان کے ہاتھوں معصوم عوام کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی کرنی ہے۔ شرکا کا عمومی مطالبہ یہ تھا کہ بھارت کو غیر فوجی علاقوں سے پولیس کے علاوہ تمام مسلح افواج کو نکال لینا چاہیے۔

اتفاق رائے کا دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ ریاست کو ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کے نقشے کے مطابق دوبارہ متحد کر دیا جائے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ بھارت او رپاکستان کی ضمانت کے تحت ایک خود مختار کشمیر قائم ہو جائے، تاہم عملیت پسندانہ رائے یہ تھی کہ یہ صورت دونوں ملکوں میں سے کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس کے بعد بہترین متبادل صورت یہ تھی کہ زمینی صورت حال کے لحاظ سے کشمیر کے تمام علاقوں کو اس طرح یکساں بنا دیا جائے کہ اس کے اثرات کشمیریوں کے طرز زندگی پر مرتب ہوں۔ اس مقصد کے لیے ہر قسم کی پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے لوگوں کو حق دیا جائے کہ کشمیر کے کسی بھی حصے میں سفر کر سکیں، آزادانہ تجارت اور اشیا کے نقل وحمل کی اجازت دی جائے، رسمی نوعیت کی انتظامی کارروائیوں کو سادہ بنا دیا جائے تاکہ ریاست کا شہری ہونے کی بنیاد پر شناختی کارڈ کے حامل ہر شخص کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سفر اور تجارت کرنے کی آزادی ہو، اور دونوں حصوں کے مابین تمام روایتی سڑکیں بحال کر دی جائیں۔ سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ منصوبے بنانے کے سلسلے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے باشندوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انھیں سہولیات فراہم کی جائیں، نیز جنگلات، پانی کے استعمال، بجلی کی پیداوار، ماحولیاتی مسائل اور اس نوعیت کے دیگر امور سے متعلق ریاست کی سطح پر ایک مشاورتی نظم قائم کر دیا جائے۔ 

اگر بھارت اور پاکستان کے مابین جامع گفت وشنید کے عمل کو پوری قوت سے آگے بڑھایا جائے اور دونوں اطراف میں باہمی تعاون کی فضا موجود ہو تو مذکورہ تمام تجاویز قابل عمل ثابت ہوں گی۔ معروضی طور پر دیکھا جائے تو سیمینار میں پیش کردہ تجاویز میں سے کوئی بھی ناقابل عمل نہیں ہے۔ بھارت اور پاکستان، دونوں لائن آف کنٹرول کی موجودہ حیثیت کو عملاً ختم کرنے کا علانیہ عزم رکھتے ہیں۔ اگر یہ عزم حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو دہشت پسندی اپنا جواز کھو دے گی۔ اس وقت کشمیر میں قریب قریب غصے کی سی کیفیت پائی جاتی ہے، کیونکہ کشمیری عوام کو بے حد دکھوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مشکل ہی سے کوئی ایسا خاندان ملے گا جو دہشت پسندوں یا سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے کسی عزیز یا گھر بار سے محروم نہ ہو چکا ہو۔ پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش یا اشتیاق کا کوئی اظہار نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح بھارت کے حوالے سے بھی اجنبیت اور دوری کا ایک گہرا احساس موجود ہے۔

کشمیریوں کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ امن وامان اور معمول کی صورت حال کا ایک طویل عرصہ ہے جو بیرونی مداخلت سے پاک ہو۔ اگر یہ میسر ہو جائے اور اس کے ساتھ بامعنی اقتصادی ترقی شامل ہو جائے تو دکھوں کے مداوا کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ اس سے کشمیریوں کو ٹھنڈے دل ودماغ اور سکون کے ساتھ آپس میں گفت وشنید کرنے اور اس کے نتیجے میں شاید واضح اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا کہ آخرکار وہ کیا چاہتے ہیں۔ انھیں یہ بھی احساس ہوگا کہ انھیں بعض عملی حقیقتوں کو ملحوظ رکھنا ہے اور اگر ان میں جبر کا کوئی پہلو نہیں پا یا جاتا تو ہو سکتا ہے کہ وہ انھیں گوارا بھی کر لیں۔ 

اس ساری گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کشمیر کے حل کو ایک واقعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ارتقائی عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جب تک اس مسئلے کو بھارت اور پاکستان کی باہمی مخاصمت میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ (Bargaining Issue) سمجھا جاتا رہے گا، یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ کوئی بھی پیش رفت تبھی ممکن ہوگی جب اسے ایک مشترک مسئلہ سمجھا جائے جس کا حل فریقین کو مطلوب ہو۔ اس ضمن میں پہلے قدم کے طور پر اس سے بہتر کوئی کام نہیں ہو سکتا کہ کشمیری عوام فوری طور پر جن خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا احترام کیا جائے۔ بات کو نئے رخ پر آگے بڑھانے کے لیے ڈاکٹر من موہن سنگھ کا متوقع دورۂ پاکستان ایک اچھا موقع ہوگا۔

(بشکریہ ’ڈان‘۔ ترجمہ: ابو طلال)


پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل