اعتذار

ادارہ

(الشریعہ کے مئی ۲۰۰۶ کے شمارے میں ’’غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ‘‘ کے زیر عنوان حافظ محمد زبیر صاحب کا مقالہ شائع ہوا تھا جس میں نقل کردہ اقتباسات کے حوالہ جات ہماری کوتاہی کی وجہ سے درج نہ کیے جا سکے۔ مصنف اور قارئین، دونوں سے بے حد معذرت کے ساتھ یہ حوالہ جات یہاں شائع کیے جا رہے ہیں۔ مدیر)


ص ۲۵

ْ’قرآن مجید دین کی آخری کتاب ہے ۔ ...... سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں ۔‘‘

ماہنامہ اشراق، مارچ ۲۰۰۴، ص ۱۱


ص ۲۶

’’بائبل تورات ،زبور، انجیل اور دیگر صحف سماوی ....... آلات موسیقی کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔‘‘ 

ایضاً، ص ۱۶


ص ۲۶

’’اے خداوند .....میں تیری مدح سرائی کروں گا۔‘‘

ایضاً، ص ۱۸


ص ۲۶

’’تو ایسا ہوا .....خداوند کی ستایش کی کہ وہ بھلا ہے ۔‘‘

ایضاً، ص ۱۷


ص ۲۶، ۲۷

’’جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے .....کلام کے اصل مدعا سے تجاوز ہو گا۔‘‘

ایضاً، ص ۱۲


ص ۲۷

’’اور ان حاشیوں پر .....(فرشتے) بنے ہوئے تھے ۔‘‘

اشراق، جون ۲۰۰۰، ص ۳۴


ص ۲۷

’’اور الہام گاہ میں ......دس دس ہاتھ اونچے بنائے ۔‘‘

ایضاً


ص ۲۷

’’اس میں کوئی شبہ نہیں ......نبی ﷺ نے انھیں دجال (عظیم فریب کار) قرار دیا ہے ۔‘‘

اشراق، جنوری ۹۶، ص ۶۱


ص ۲۷

’’اور خداوندکا کلام ....اور اس کے خلاف نبوت کر ۔‘‘

اشراق، اکتوبر ۱۹۹۰، ص ۵


ص ۲۷، ۲۸

’’اپنے اس علاقے سے ....انھی کے قبضے میں ہیں۔‘‘

ایضاً، ص ۱۰


ص ۲۹

’’جاندار چیزوں .......منسوب کر دیا گیا ہوگا۔‘‘

تدبر قرآن، ج ۶، ص ۳۰۴


ص ۲۹، ۳۰

’ ’پیغمبروں کے دین میں .....استعمال کا ذکر آیا ہے۔ ‘‘

اشراق، مارچ ۲۰۰۴، ص ۱۶


ص ۳۰، ۳۱

’’ سوال یہ ہے کہ قرآن میں.....حدیث کس طرح منسوخ کر سکتی ہے۔‘‘

اشراق، نومبر ۱۹۸۹، ص ۳۶۔۳۸


ص ۳۱، ۳۲

’’سوم یہ کہ .....قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔‘‘

میزان، ص ۵۲


ص ۳۲، ۳۳

’’حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ...... حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔‘‘

اشراق، جنوری ۱۹۹۶، ص ۶۰، ۶۱


ص ۳۴

’’اورجب وہ زیتون ..... گمراہ کریں گے۔‘‘

متی، ۲۴: ۳۔۵


ص ۳۴

’’انہوں نے اس سے ......نزدیک آ پہنچا ہے ۔‘‘

لوقا، ۲۱: ۷۔۹


ص ۳۴

’’میں تیرے پاس ......کیونکر برتاؤ کرنا چاہیے۔‘‘

تیمتھیس، ۳: ۱۴، ۱۵


ص ۳۵، ۳۶

’’پر اگر یہ بات سچ ہو ..... طلاق نہ دینے پائے۔‘‘

استثنا، ۲۲: ۲۰۔۲۴، ۲۸، ۲۹


ص ۳۶

’’عن البراء بن عازب قال ..... فی الکفارکلھا‘‘

صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب حد الزنا


ص ۳۸

’’ہمارا نقطہ نظر .....دجال(عظیم فریب کار ) قرار دیا۔‘‘

اشراق، جنوری ۹۶، ص ۶۱


ص ۳۸

’’کسی طرح کسی کے فریب .... .... ساتھ ہوگی۔‘‘

تھسلینکیوں، ۲: ۳۔۱۰


ص ۳۸

’’انی انذرکموہ .... ان اللہ لیس باعور‘‘

صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب کیف یعرض الاسلام علی الصبی


ص ۳۹

’’سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد‘‘

سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی قتل عیسی بن مریم الدجال


ص ۳۹

’’ارایتم ان قتلت ..... فلا یسلط علیہ‘‘

صحیح مسلم، کتاب الفتن، 

باب فی صفۃ الدجال

اخبار و آثار