صحابہ کرام کے اسلوب دعوت میں انسانی نفسیات کالحاظ (۳)

پروفیسر محمد اکرم ورک

قصص

مخاطب کو دعوت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے قصوں اور کہانیوں کی زبان میں بات کرنا انسانی نفسیات کا ایک عمدہ اسلوب ہے کیونکہ قصوں اور کہانیوں کے پیرائے میں اگر بات کی جائے تو مخاطب واقعات کا تسلسل جاننے کے لیے ہمہ وقت داعی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس لیے تعلیم و تربیت اور دعوت و تبلیغ میں قصوں اور کہانیوں کا استعمال دور قدیم سے ہی تمام معاشروں میں ایک معروف چیز رہی ہے ،کیونکہ انسان قصہ اور کہانی کی زبان سے جو کچھ سنتا ہے اس سے اثر لیتا ہے ۔ قرآن حکیم نے بھی لوگوں کی اس فطرت کو جانتے ہوئے کہ وہ طبعاً قصص کی جانب مائل ہوتی ہے اور ان سے متاثر ہوتی ہے قصص کو بطور ذریعہ تربیت اختیار کیا ہے۔ قرآن حکیم نے انتہائی اختصار کے ساتھ قصوں کی دعوتی و تربیتی تاثیر کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: 

لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃ’‘لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ ( یوسف، ۱۲:۱۱۱)
’’بے شک ان قصوں میں اہل فہم کے لیے بڑی عبرت ہے‘‘

رسول اللہ ﷺکی پیروی کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ نے بھی دعوت و تبلیغ میں سابقہ اقوام کے واقعات کو حوالے کے طور پر استعمال کر کے بہت سی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کروائیں ۔ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے وعظ فرمایا: 

’’ ایک شخص جس کے نامۂ اعمال میں توحید کے سوا اور کوئی نیکی نہ تھی مرنے کے وقت وصیت کی کہ میری لاش کو جلا کر اور چکی میں پیس کر سمندر میں ڈال دینا ۔ لوگوں نے اس کی وصیت پوری کر دی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی روح سے سوال کیا : تو نے اپنی لاش کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔ کہنے لگا : اے اللہ ! تیرے خوف اور ڈر سے ۔ اس جواب پر دریائے رحمت جوش میں آیا اور وہ شخص بخش دیا گیا‘‘۔ (۱)

اس تمثیلی قصے کو بیان کرنے سے عبد اللہ بن مسعود کا مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ تمام اعمالِ حسنہ کی روح دراصل خشیتِ الٰہی ہی ہے۔

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ان کی زوجہ محترمہ فوت ہو گیءں تو محمدؓ بن کعب قرظی تعزیت کے لیے تشریف لائے اور کہا : بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو فقیہ ،عالم ، عابد اور مجتہد تھا ۔ اسکی ایک بیوی تھی جس کے ساتھ اسے غایت درجہ محبت تھی وہ فوت ہو گئی تو اس آدمی کو بڑا دھچکا لگا اور شدت ملال کے باعث وہ گھر میں بیٹھ گیا ، دروازہ بند کر لیا اور لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا ۔اب اس کے پاس کوئی نہیںآسکتا تھا۔

ایک عورت نے جب یہ بات سنی تو اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے ان سے ایک حاجت ہے جس کے سلسلے میں ان سے میں نے فتویٰ لینا ہے، بالمشافہ پوچھے بغیر بات نہیں بن پڑے گی۔ لوگ تو چلے گئے لیکن وہ عورت دروازے پر جام ہو گئی اور کہا کہ مجھے اس کے سوا چارہ نہیں، کسی نے اس عالم سے کہا کہ یہاں ایک عورت ہے جو آپ سے کوئی فتویٰ لینا چاہتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ میں بالمشافہ پوچھوں گی اور لوگ جاچکے ہیں، لیکن وہ دروازہ سے نہیں ٹلتی ۔ کہا کہ اسے اندر آنے دو۔وہ اندر آگئی اور اس نے کہا کہ میں آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ دریافت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئی ہوں۔ کہا ؛ وہ کیا ہے؟ عورت نے کہا : میں نے اپنی ہمسائی سے کچھ زیور ادھار لیے تھے میں انھیں پہنتی رہی اور مدتوں ادھار دیتی رہی ۔ اب اس گھر والوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ زیور انھیں لوٹا دوں تو کیا میں ان کی طرف لوٹا دوں ؟ کہا : اللہ کی قسم ضرور ۔ عورت نے کہا : میرے پاس تو اس زیور کو مدت گذر گئی پھر واپسی کیسی؟ کہا کہ اس صورت میں تو واپس لوٹانے کا اور زیادہ حق ہو گیا کہ اتنی مدت ادھار دیئے رکھا ۔ عورت گویا ہوئی کہ حضور والا ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ،کیا آپ اس چیز پر افسوس کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ادھار دی ، پھر واپس لے لی ، کیا وہ اس کا آپ سے زیادہ حقدار نہیں؟ اس بات نے عالم کی آنکھیں کھول دیں اور اس کی بات سے اللہ تعالیٰ نے اسے فائدہ پہنچایا۔ (۲)

تشبیہہ و تمثیل سے وضاحت

استعارہ ، تشبیہہ اور تمثیل فصیح و بلیغ کلام کا لازمی عنصر ہیں،جو کلام کازیب و زینت اور زیور شمار کئے جاتے ہیں، ان کی وجہ سے مفہوم و معنیٰ قریب الفہم ہو جاتا ہے، نازک تشبیہہ و تمثیل اور لطیف استعارے سے کلام میں جو زور ،قوت اور وسعت پیدا ہوتی ہے وہ کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ۔ تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ میں ہر مکتبہ فکر اور مختلف رجحانات و خیالات کے افراد سے واسطہ پڑتا ہے، جس میں خواندہ و نا خواندہ ، حضروی و بدوی ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، چنانچہ داعی کو ہر ایک کی تفہیم کے لیے اس کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کرنا پڑتی ہے، جس سے وہ بات سمجھ جائے اور پیغام کی طرف متوجہ ہو ۔صحابہ کرامؓ دعوت و تبلیغ اورلوگوں کی تربیت میں اس اسلوب کو اختیار کرتے تھے ۔ امثال اور تشبیہات ان مجرد معانی کے ادراک میں بہت معاون ہوتی ہیں جن کا موجودہ صورت میں سمجھنا دشوار ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ مخفی اور معنوی امور کو محسوسات سے تشبیہہ دے کر سمجھاتے تھے۔ 

یہ ایسا اسلوبِ دعوت ہے جس میں مشکل ترین بات کو بھی عام فہم چیز کی مثال دے کر آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ قرآن حکیم نے بھی اسی اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے مشکل اور پیچیدہ خیالات کو معمولی چیزوں کے ساتھ تشبیہہ دے کر نہایت عمدگی کے ساتھ سمجھایا ہے ۔ مثلاً قرآن مجید نے کلمۂ طیبہ کی مثال ایک عمدہ اور اعلیٰ نسل کے درخت سے دی ہے ،جس کی جڑیں زمین میں گہری جمی ہوئی ہیں۔ (۳) اسی طرح کلمۂ خبیثہ کی مثال بد ذات درخت سے د ی گئی ہے جو بیکار سمجھ کر زمین سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ (۴)

یہ دعوت کا ایسا اسلوب ہے جس سے معمولی فہم و فراست رکھنے والا انسان بھی مشکل مسائل کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔زید بن اسلم نے عبد اللہ بن ارقمؓ سے کہا : مجھے صدقہ کے اونٹوں میں سے سواری کا ایک اونٹ بتائیے تاکہ میں امیر المؤمنین سے سواری کے لیے مانگ لوں عبد اللہ بن ارقمؓ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا: 

’’کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا آدمی گرمی کے دنوں میں اپنے تہبند کے نیچے کی جگہ اور چڈّے دھو کر تمھیں دے تو کیا تم وہ پانی پی لو گے؟ ‘‘ زید بن اسلم ناراض ہو کر کہنے لگے : اللہ آپ کو معاف فرمائے ، آپ مجھ سے کتنی نامناسب بات کہہ رہے ہیں ، عبد اللہ بن ارقمؓ نے کہا : صدقہ لوگوں کا میل ہے جس سے وہ اپنے آپ کو دھوتے ہیں‘‘۔ (۵) 

اس مثال سے حضرت عبد اللہ بن ارقمؓ کا مقصد مخاطب کے دل میں مالِ زکوٰۃ اور صدقات کے بارے میں نفرت پیدا کرنا تھا ،کیونکہ جو شخص مالِ زکوٰۃ اور صدقات کا حقدار نہ ہو یا اشد ضرورت کے بغیر ہی اس کو حاصل کرنے کا متمنی ہو تو ایسے شخص کے لیے یہ مال گویا گندگی اور قابل نفرت چیز ہے ۔

معد ان بن ابی طلحہ الیعمری کا بیان ہے : ایک دفعہ حضرت ابو الدرداءؓ نے مجھ سے پوچھا : تمھارا مکان کہاں ہے؟ میں نے کہا : حمص کے قریب ایک گاؤں میں ہے ۔ فرمانے لگے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جس جگہ اذان اور باجماعت نماز نہ ہوتی ہو وہاں شیطان داخل ہو جاتا ہے اور پھر ان کو تنبیہہ کے انداز میں ارشاد فرمایا: 

علیک بالجماعۃ فانما یأکل الذئب القاصیۃ (۶) 
’’ تم جماعت کے ساتھ (شہر میں ) نماز پڑھا کرو بے شک بھیڑیا اس بکری کو کھا جاتا ہے جو گلہ سے دور رہتی ہے‘‘

ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

’’ یا ایھا الناس! اتقوا ھذا الشرک فانہ اخفی من دبیب النمل‘‘ (۷)
’’ اے لوگو ! شرک سے بچو ، بے شک یہ چیونٹی کی چال سے زیادہ غیر محسوس ہے‘‘۔

ایک دفعہ حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابو درداءؓ کو خط لکھا تو اس میں علم اور عالم کی عظمت کو تمثیلی اسلوب کے ذریعہ بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا، آپ کے تحریر کردہ خط کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

’’ علم ایک چشمہ ہے جس پر لوگ آتے ہیں اور اس سے نالیاں نکالتے ہیں اور اللہٰ اس سے بہتوں کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن اگر حکمت خاموش ہو تو وہ جسم بے روح ہے ، اگر علم لٹایا نہ جائے تو وہ مدفون خزانہ ہے ۔ عالم کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تاریک راستے میں چراغ دکھاتا ہے تاکہ لوگ اس سے روشنی حاصل کریں اور اس کو دعا دیں‘‘ (۸) 

سوال و جواب/ باہمی گفتگو

مخاطب کو اپنی دعوت کی طرف متوجہ کرنے اور اس کو ذہن نشین کرانے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ اور اسلوب باہمی گفتگو اور بات چیت کا بھی ہے، مکالمانہ انداز اور سوال و جواب کا اسلوب مخاطب کے ذہن و فکر کو متوجہ کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ واعظانہ اسلوبِ دعوت کے مقابلہ میں یہ اسلوب اثر انگیزی میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے ،کیونکہ اس صورت میں متکلم اور سامع کے درمیان براہ راست گفتگو ہوتی ہے اور حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں مخاطب کے ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے ۔ فروغِ دعوت کے لیے سوال و جواب اور باہمی گفتگو کا اسلوب بہت مؤثر ہے بالخصوص اگر وہ سوال اور بحث کسی پوشیدہ حقیقت کی نقاب کشائی کے لیے ہو تو اس سے نہ صرف سائل بلکہ دوسرے لوگ بھی گمراہی سے محفوظ ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے مثبت اور تعمیری سوالات کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو پورے علمی اور تحقیقی انداز میں جوابات مرحمت فرمائے۔

عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا : کیا آپؓ نے غور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ بے شک صفا اور مروہ، اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے‘‘۔ لہٰذا آدمی پر کچھ نہیں ہے جبکہ وہ دونو ں کا طواف نہ کرے ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا :ہرگز نہیں ،اگر بات یہی ہوتی جو تم کہہ رہے ہو تو حکم یوں ہوتا۔ ’’ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لّاَ یطَّوَّفَ بِھِمَا‘‘ یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مناۃ کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ نامی بت قدید کے بالمقابل تھا اور وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کو برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺؐسے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے‘‘۔(۸)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰنؓ ! میں نے ایک آدمی کو قرض دیا ہے اور اس سے شرط کی ہے کہ اس سے بہتر چیز لوں گا۔ عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا: یہ تو سو دہے ، کہا : اے ابو عبدالرحمٰنؓ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا : قرض تین طرح کا ہے ، ایک وہ قرض جو رضائے الٰہی کے لیے ہے، دوسرا وہ کہ دوست کی مدد کی جائے تو یہ دوست کی مدد ہے ، تیسرا وہ ہے کہ پاک مال کے بدلے ناپاک مال لے اور یہ سود ہے ۔ کہا اے ابو عبدالرحمٰنؓ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا : میرے خیال میں دستاویز کو پھاڑ دو ۔ اگر وہ تمھارے جیسی چیز دے تو قبول کر لینا ۔ اگر گھٹا دے تب بھی لے لینا کہ تمھیں اجر ملے گا ۔ اگر تمھاری چیز سے بہتر اپنی خوشی سے دے تو یہ اس نے تمھارا شکریہ ادا کیا اور تمھیں مہلت دینے کا اجر ملے گا۔ (۹)

ابن عباسؓ کی خدمت میں ایک شخص خراسان سے آیا اور عرض کی کہ ہمارا تعلق سرد علاقہ سے ہے۔ اور پھر اس نے شراب کی چند اقسام کا ذکر کیا تو ابن عباسؓ نے فرمایا: 

اجتنب ما أسکر من زبیب أو تمر أو ما سوی ذالک ، قال : ما تقول فی نبیذ الجر ؟ قال : نھی رسول اللہ ﷺ عن نبیذ الجر (۱۰)
’’ ہر نشہ آور چیز مثلاً منقہ اور کھجور وغیرہ سے بچو۔ آپؓ مشکیزے کی نبیذ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا : رسول اللہ  ﷺنے (روغنی) مشکیزے میں نبیذ بنانے سے منع کیا ہے‘‘۔

علقمہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے وعظ کرتے ہوئے فرمایا:

’’لعن اللہ الواشمات ، والمتوشمات ، والمتنمصات المتفلحات للحسنِ المغیّرات خلق اللہ‘‘

ام یعقوب نامی ایک عورت کو پتہ چلا تو آپؓ کے پاس آئی اور کہا: مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے یہ بات کہی ہے ۔آپؓ نے فرمایا : میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺنے کتاب اللہ میں لعنت فرمائی ہے۔ اس نے کہا: میں نے پورا قرآن پڑھا ہے میں نے یہ چیز اس میں نہیں پائی۔ آپؓ نے فرمایا: کیا تم نے قرآن میں یہ پڑھا ہے:

وَمَآ اٰتَا کُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَا نْتَھُوْا (الحشر،۵۹:۷)
اللہ کے رسول ﷺجو تمھیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔

اس نے کہا : ہا ں ، آپؓ نے فرمایا : بے شک رسول اللہ ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے اس نے کہا : میرا گمان ہے کہ آپ کے اہل خانہ ایسا کرتے ہیں ۔آپؓ نے فرمایا : جاؤ اور دیکھو ، وہ عورت گئی اور واپس آکر کہا : وہاں میں نے کچھ نہیں دیکھا ، آپ نے فرمایا : اگر میری بیوی ایسا کرتی تو میں اسے اپنے پاس نہ رہنے دیتا۔ (۱۱)

ابو الطفیل کا بیان ہے کہ میں نے ابن عباسؓ سے کہا : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے ۔بولے : انھوں نے سچ کہا اور جھوٹ کہا ، ابو الطفیل نے عرض کیا : انھوں نے سچ کہا اور جھوٹ بھی ، یہ کیسے ؟ ابن عباسؓ نے فرمایا:

قدر مل رسول اللہ ﷺبالبیت ولیس بسنۃ ، قدر مل رسول اللہ ﷺ واصحابہ والمشرکون علی جبل قعیقعان ، فبلغہ انھم یتحدّثون أن بھم ھذلاً ، فأمر بھم أن یرملو ا لیر یھم أن بھم قوۃ (۱۲)
رسول اللہ ﷺنے بیت اللہ کا رمل فرمایا جبکہ یہ سنت نہیں ہے آپﷺ اور آپ ﷺکے اصحاب نے بھی رمل کیا جبکہ مشرک قعیقعان پر تھے ،پس رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ وہ باتیں کر رہے ہیں کہ مسلمان کمزور ہو چکے ہیں، پس رسول اللہ ﷺنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ رمل کریں تاکہ ان کو دکھا یا جا سکے کہ مسلمان طاقتور ہیں۔

سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمرؓ سے لعان کرنے والے میاں بیوی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں پھر لعان کی آیات کے شانِ نزول کو بیان فرمایا اور مسئلے کی تمام جزئیات کا تفصیلی جواب دیا۔(۱۳)

غلطی کرنے والے سے تبادلۂ خیال کی کوشش کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح اس کی عقل پر سے وہ پردہ ہٹ جاتا ہے جو حق کی قبولیت میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے ۔ چنانچہ آدمی سیدھی راہ قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

مصر سے ایک آدمی حج کی نیت سے مکہ آیا ۔اس نے بیت اللہ میں ایک جگہ لوگوں کا مجمع دیکھا تو پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟لوگوں نے بتایا یہ قریش کے لوگ ہیں۔ اس نے کہا : ان میں سب سے بزرگ کون ہے؟ لوگوں نے کہا : عبد اللہ بن عمرؓ۔اس نے کہا ؛ اے ابن عمرؓ میں تمھیں بیت اللہ کی عزت کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیاتمھیں معلوم ہے کہ عثمانؓ بن عفان یوم احد میں بھاگ گئے تھے؟ ابن عمر نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا : کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ وہ غزوہ بدر کے دن بھی غائب تھے؟ آپؓ نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا : آپ کو پتہ ہے کہ وہ بیعت رضوان میں بھی غائب تھے؟ آپؓ نے فرمایا : ہاں ، تو مصری نے کہا : اللہ اکبر۔

ابن عمرؓ نے فرمایا :ذرا ادھر آؤ تاکہ میں ان چیزوں کی حقیقت بیان کر دوں جن کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے ، جہاں تک غزوہ احد میں حضرت عثمانؓ کے فرار ہونے کا تعلق ہے ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وہ لغزش معاف کر چکا ہے، اور جہاں تک غزوہ بدر سے غائب ہونے والی بات ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی زوجیت میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت بیمار تھیں ۔اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تھا کہ ان کے لیے بھی بدر میں حاضر ہونے والے آدمی جتنا حصہ اور اجر ہے ۔ بیعت رضوان میں آپؓ اس وجہ سے شامل نہ تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے ان کو اہل مکہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا تھا اور بیعت رضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی تاہم رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھ کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی تھی اور فرمایا تھا : یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر ابن عمرؓ نے اس کو مطمئن کرنے کے بعد رخصت فرمایا۔(۱۴)

اس اسلوبِ دعوت کے اہم فوائد یہ ہیں: 

  • مکالمانہ انداز کی اثر انگیزی مسلم ہے اور اس پیرائے میں جو بات بھی کی جائے گی وہ ضرور اثر کرے گی اور تادیر سامع کے دل و دماغ پر اس کے اثرات قائم رہیں گے۔
  • سوال و جواب کے اسلوب میں گفتگو کا سلسلہ عام طور پر اس وقت ختم ہوتا ہے جب حقائق مخاطب پر پوری طرح واضح ہو جاتے ہیں اور اس بات کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ گفتگو طرفین کے اطمینان کے بغیر ختم ہو جائے، اس لیے عام طور پر مکالمے کے اختتام پر مخاطب پر حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہوتی ہے۔
  • اس اسلوب میں داعی اور مخاطب دونوں کی توجہ اور انہماک پورے عروج پر ہوتا ہے، اس لیے اس کی اثر انگیزی تقریر و تحریر کے مقابلہ میں کہیں بڑھ کر ہے ۔
  • مکالمانہ انداز میں داعی کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ غیر محسوس انداز میں اپنی دعوت کے دائرہ کو پھیلا کر مخاطب کو متاثر کرے۔


حوالہ جات

(۱) المسند، مسند عبداللہؓ بن مسعود، ح: ۳۷۷۶، ۱/۶۵۸

(۲) الموطأ، کتاب الجنائز، باب جامع الحسبۃ فی المصیبۃ، ح:۲۷۳، ص: ۱۶۷ (2) ابراہیم، ۱۴:۲۴

(۳) ابراہیم ۱۴:۲۶

(۴) الموطا، کتاب الصدقۃ، باب ما یکرہ من الصدقۃ، ح: ۹۵۳، ص: ۶۱۳

(۵) المسند، حدیث ابی الدرداءءؓ، ح: ۲۶۹۶۸، ۷/۵۹۹

(۶) المسند، حدیث ابی موسیٰ الاشعریؓ، ح: ۱۹۱۰۹، ۵/۵۴۹

(۷) سنن الدارمی، المقدمۃ، باب البلاغ رسول اللہﷺ وتعلیم السنن، ح: ۵۶۳، ۱/۱۴۵۔۱۴۶

(۸) الموطأ، کتاب الحج، باب جامع السعی، ح: ۴۰۲، ص: ۵۱۔صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ تعالی: ان الصفا والمروۃ من شعائراللّٰہ، ح: ۴۴۹۵، ص: ۷۶۴

(۹) الموطأ، کتاب البیوع، باب مالایجوز من السلف، ح: ۷۷۴، ص: ۴۲۰

(۱۰) المسند، مسند عبداللہ بن عباسؓ، ح: ۲۰۱۰، ۱/ ۳۷۷

(۱۱) المسند، مسند عبداللہؓ بن مسعود، ح: ۴۱۱۸،۳۹۳۵،۱/۷۱۵

(۱۲) المسند، مسند عبداللہ بن عباسؓ، ح: ۲۰۳۰، ۱/۳۸۰

(۱۳) المسند، مسند عبداللہ بن عمرؓ، ح: ۴۹۸۹، ۲/۱۳۲

(۱۴) المسند، مسند عبداللہ بن عمرؓ، ح: ۵۷۳۷، ۲/۲۳۷


سیرت و تاریخ