خارجی محاذ پر ایک نظر

ادارہ

پچھلے دنوں جنرل پرویز مشرف نے امریکہ وکینیڈا کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران میں انہوں نے مختلف فورموں پر مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے بیان کردہ بعض نکات پر تحفظات کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ان کی درج ذیل باتوں سے مکمل اتفاق کرنا پڑتا ہے:

۱۔ کشمیر اور فلسطین میں ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے۔

۲۔ عالمی طاقتیں بھارت کو اسلحے کی سپلائی پر ازسرنو غور کریں کیونکہ اس سپلائی سے روایتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

۳۔ اگر بعض مسلم تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائی گئی ہیں تو ان کے اس عمل کو بنیاد بنا کر تمام عالم اسلام کو دہشت گرد قرار دینا انتہائی منفی عمل ہے کہ اسلام اور دہشت گردی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

۴۔ ریاستی طاقت کے دو ستون ہوتے ہیں: ۱۔ عسکری، ۲۔ معاشی۔ پاکستان عسکری اعتبار سے ناقابل تسخیر پوزیشن میں ہے اور اللہ کے فضل سے معاشی اعتبار سے ’’ٹیک آف‘‘ کی پوزیشن میں ہے۔ (تاہم یہاں طاقت کے تیسرے ستون یعنی قومی وملی کردار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے)

۵۔ عراق میں پاکستان اس وقت تک فوج نہیں بھیجے گا جب تک اقوام متحدہ یا او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس مسئلہ کو ایڈریس نہ کیا جائے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ اور پاکستان کے عوام ہی آخری فیصلہ کریں گے۔

جنرل پرویز مشرف کے اس دورے کے بعد او آئی سی کا دسواں سربراہی اجلاس ملائشیا میں منعقد ہوا۔ اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے پانچ سابق وزراے خارجہ نے او آئی سی کے نام ایک خط لکھا۔ جناب آغا شاہی، سردار آصف احمد علی، گوہر ایوب خان، سرتاج عزیز اور عبد الستار نے اپنے خط کے ذریعے اس امر کی نشان دہی کی کہ ’’اقوام متحدہ کی اجازت اور قانونی مینڈیٹ کے بغیر خود مختار اقوام کے خلاف پیشگی حملہ کا نظریہ اور یک طرفہ فوجی کارروائی سرکشی کے مترادف ہے۔‘‘ اس خط کے مندرجات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، لیکن قومی نقطہ نگاہ سے یہ بات ہمارے لیے اس وجہ سے زیادہ اہم ہے کہ ایک تو سب ہمارے وزراے خارجہ ہیں۔ انہوں نے عالم اسلام کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اپنے تئیں آواز بلند کی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ وزراے خارجہ مختلف سیاسی جماعتوں سے منسلک رہے ہیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود ملی امور پر خیالات کی یکسانیت سے پاکستان کے خارجہ امور پر وحدت خیال پنپتی دکھائی دیتی ہے جو یقیناًقابل تحسین اور خوش آئند ہے۔

او آئی سی کے اجلاس میں جنرل پرویز مشرف، مہاتیر محمد اور شہزادہ عبد اللہ چھائے ہوئے نظر آئے۔ جنرل پرویز مشرف نے بجا طور پر تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو غلط قرار دیا اور او آئی سی کی تشکیل نو پر مثبت انداز میں زور دیا تاکہ یہ تنظیم زیادہ فعال اور سرگرم ہو سکے۔ جہاں تک جنرل پرویز مشرف کی ’’اعتدال پسند روشن خیالی‘‘ کا ذکر ہے، بظاہر یہ خوب صورت نعرہ ہے، بہتر ہوتا کہ اس کی تعبیر کرتے ہوئے ممکنہ جہتوں کا بھی احاطہ کیا جاتا۔

کانفرنس کے موقع پر ہم روسی صدر پیوٹن کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اسے کسی خاص مذہب کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے‘‘ اس کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر کے کلمہ حق کی بھی تعریف کرنی پڑتی ہے۔ رابطہ گروپ نے بھارتی فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے مطابق بھارت نے کنٹرول لائن پر عالمی مبصرین کی تعیناتی کی پاکستانی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ رابطہ گروپ کے کلمہ حق سے بھارت کو خاطر خواہ شرمندگی اٹھانی پڑی ہے۔

او آئی سی کے اجلاس کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ عبد اللہ بن عبد العزیز پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ ان کا استقبال پروٹوکول سے ہٹ کر کیا گیا۔ اگرچہ نظر آ رہا تھا کہ اس استقبالیے کے ذریعے میاں نواز شریف کے استقبالیے کو دھندلانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ سرکاری گرم جوشی کے باوجود عوامی سطح پر وہ جوش وخروش سامنے نہیں آ سکا جو میاں صاحب کے دور میں تھا۔ بہرحال پاکستان سعودیہ تعلقات کے تاریخی پس منظر میں ایسا استقبالیہ شہزادہ عبد اللہ کا حق تھا۔ اس وقت بھی دونوں ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر مالیت کے قریب ہے جسے بہت بڑھایا جا سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عسکری اور مالی شعبوں میں مزید پروان چڑھیں گے۔ ایسے دوروں کے نتائج اسی قسم کے برآمد ہونے چاہییں۔

شہزادہ عبد اللہ کے دورہ کے بعد وزیر اعظم پاکستان جناب ظفر اللہ جمالی نے ایران کا دورہ کیا۔ یہ دورہ عالمی حالات کے تناظر میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس نے اپنے ایٹمی پروگرام کا معائنہ کرانے پر رضامندی بھی ظاہر کر دی ہے۔ ایران سے تعلقات کے ضمن میں ہمیں بھارتی فیکٹر پیش نظر رکھنا ہوگا کہ پچھلے ایک عشرے میں دونوں ممالک میں تعلقات تیزی سے پروان چڑھے ہیں۔ ایک بات ’’زحمت میں رحمت‘‘ کے مصداق مثبت ہو گئی ہے کہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے بھارت ایران تعلقات میں ’’توازن‘‘ شامل ہو گیا ہے۔ اسرائیلی عزائم کے پیش نظر ایران کو بھارت سے تعلقات کی نوعیت پرازسرنو غور کرنا پڑے گا۔ عالمی سیاست کی نئی صف بندی میں بھارت، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ اکٹھے کھڑے ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کو چین، ایران، روس اور سعودیہ سے تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا کرنی ہوگی۔ پاکستان نے ایران کو یقین دہانی بھی کرا دی ہے کہ وہ بلا خوف وخطر گیس پائپ لائن پاکستانی علاقے میں بچھا سکتا ہے۔ امید ہے ایران پاکستان کی ضمانت کو کافی سمجھے گا۔

(پروفیسر میاں انعام الرحمن)


مسلمان یہودیوں کی حکمت عملی سے سبق سیکھیں

ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ چند لاکھ یہودیوں کا مقابلہ نہ کرنا سوا ارب مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہوگی۔ انہوں نے اسلامی دنیا پر زور دیا کہ وہ یہودیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قوت بازو کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی کام لے کیونکہ اس وقت یہودی پوری دنیا پر درپردہ حکمرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک اپنی عسکری طاقت کو مضبوط اور مجتمع کریں، محض مذمتی قراردادوں سے مظلوم مسلمانوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوگا اور نہ ہی ہماری مذمتوں سے دشمن اپنا وحشیانہ طرز عمل تبدیل کرے گا، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ اپنے دفاع کے لیے جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہودیوں سے متعلق جو کچھ کہا ہے، حق اور سچ کہا ہے۔ اس سلسلے میں اپنا بیان واپس لینے یا معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ملائشیا کے شہر پتراجایا میں دسویں اسلامی سربراہی کانفرنس سے اپنے افتتاحی تاریخی خطاب اور بعد ازاں اس پر امریکا، اسرائیل اور یورپی یونین کی شدید تنقید پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ نے ایک کروڑ بیس لاکھ یہودیوں میں سے ساٹھ لاکھ یہودیوں کا صفایا کیا لیکن آج بچے کھچے چند لاکھ یہودی پوری دنیا پر درپردہ حکومت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چند لاکھ یہودی مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتے بشرطیکہ ہم ان کے مقابلے کے لیے اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ ساتھ اپنی عقل سے بھی کام لیں اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں۔ مہاتیر محمد نے کہا کہ امت مسلمہ کو مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید دنیاوی علوم وفنون پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ آج اسی وجہ سے مسلمان ممالک اپنے دفاع کے لیے ہتھیار بھی دشمنوں سے لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو اپنے دفاع کے لیے جدید بم، توپیں، ٹینک اور طیاروں کی تیاری اور اس میں اعلیٰ مہارت ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اسلام کسی خاص دور سے وابستہ نہیں بلکہ ہر دور کے لیے یہ ایک فطری ضابطہ حیات ہے۔ ہمیں اسلامی حدود میں رہتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق اہم اور بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مہاتیر محمد نے یہودی قوم کی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نخوت اور تکبر نے یہودی قوم کو سوچنے اور سمجھنے سے محروم کر دیا ہے۔ اب انہوں نے فاش غلطیاں کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہ مزید غلطیاں کریں گے ، اس لیے ہمیں ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مصر کی ’’جماعت اسلامی‘‘ کی پالیسی میں تبدیلی

مصری حکومت نے کالعدم الجماعۃ الاسلامیۃ اور اس کی شوریٰ کونسل سے تعلق رکھنے والے مزید ایک ہزار قیدیوں کو حال ہی میں رہا کر دیا ہے۔ شوریٰ کونسل کے رہائی پانے والے ارکان میں کرم زہدی، ناجح ابراہیم، فواد الدوالیبی، علاء الشریف، عاصم عبد المجید، حمدی عبد الرحمن اور ممدوح علی یوسف شامل ہیں۔ 

جماعت اسلامیہ کے متعدد قائدین کو، جن میں شوریٰ کونسل کے سربراہ کرم زہدی بھی شامل ہیں، ۱۹۸۱ء میں انور سادات کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ۹۰ء کی دہائی میں اسی گروپ نے مصری حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامی حکومت کے قیام کے لیے چھ سال پر محیط مہم چلائی تھی ۔ تاہم شوریٰ کونسل کے سربراہ کرم زہدی نے چھ سال قبل ۱۹۹۷ء میں تشدد کا طریقہ ترک کر کے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس پر جماعت کے اندر پھوٹ پڑ گئی اور گروپ کے تشدد پسند عناصر نے ۱۹۹۷ء میں لکسر کے قصبے میں ۵۸ سیاحوں کو قتل کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصری حکومت کے اس اقدام سے اسلامی گروپ سیاسی میدان میں متوجہ ہوں گے اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے اس عرب ملک میں اعتدال پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ تجزیہ نگار ضیاء رشوان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یہ بتاتا ہے کہ مصری حکومت کو اب یقین ہو گیا ہے کہ جماعت کی طرف سے کسی قسم کے مسائل کھڑے نہیں کیے جائیں گے اور یہ کہ یہ گروپ تشدد کو چھوڑ کر ایک سیاسی گروہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

شوریٰ کونسل کے چیئرمین کرم زہدی اور دوسرے ارکان نے حال ہی میں اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ ان کی جماعت کی متشددانہ سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے اور وہ ریاست کے ساتھ مسلح تصادم کا طریقے کو ترک کر دینے کا عزم کر چکے ہیں۔ زہدی نے اپنی جماعت کی طرف سے کیے جانے والے مسلح آپریشنز پر معذرت کی اور کہا کہ وہ متاثرین کو تاوان دینے کے لیے تیار ہیں۔زہدی نے اپنے بیان میں مصر کے صدر انور السادات کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان کی جماعت کو یہ اقدام نہیں کرنا چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے والے ’’باغی‘‘ تھے جنہوں نے انور سادات اور ان کے ساتھ دوسرے افراد کو ’’شہید‘‘ کر دیا۔

۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۷ء تک اسلامی گروپوں اور حکومت کے مابین مسلح تصادم کے ضمن میں گرفتار کیے جانے والوں میں سے اب تک سولہ ہزار افراد کو رہا کیا جا چکا ہے، جن میں سے پانچ ہزار افراد کی رہائی ۱۹۹۹ء سے اب تک عمل میں آئی، جبکہ ایک اندازے کے مطابق ابھی مزید دس ہزار افراد سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

مصری وزیر داخلہ حبیب العدلی نے کہا کہ حالیہ رہائیاں مصری حکومت کے طے کردہ اس واضح معیار کے مطابق عمل میں آئی ہیں کہ گرفتار شدگان اپنے طریقہ فکر میں مخلصانہ تبدیلی لے آئیں اور تشدد کا طریقہ ترک کرنے کا عزم کر لیں۔ 

http://www.arabicnews.com

http://www.rantburg.com)

حالات و واقعات