عدالتی مشاہدات اور تاثرات

مولانا قاضی بشیر احمد

راقم حکومت آزاد کشمیر کے شعبہ قضا میں قاضی کے منصب پر فرائض انجام دیتا رہا ہے اور تیس سال کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر مورخہ ۱۶/۸/۲۰۰۲ء کو ضلع قاضی کی حیثیت سے ریٹا ئر ہوا ہے۔ راقم کے فرائض کا دائرہ کار فوجداری قوانین پر عمل درآمد تک محد ود رہا ۔ بندہ نے دوران ملازمت بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ان مشاہدات و تاثرات کو اگر پورے طور پر قلم بند کیا جائے تو ایک مستقل کتا ب بن جائے گی لیکن وقت کی قلت کے باعث سردست مندرجہ ذیل سطور پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔

عدل وانصاف کو قائم رکھنا جتنا اہم ہے، اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ عدل درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اگر انصاف کاپلڑا کسی ایک جانب جھک جائے تو کائنات کاسارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ یہ نظام تبھی درست ہوسکتا ہے کہ عدل وانصاف کاپلڑا برابر رہے۔ عدل وانصاف کو قائم رکھنے کی ذمہ داری ہر شخص پر اپنے اپنے اختیا ر اور حدود کے مطابق عائد ہوتی ہے تاہم ان افراد پر یہ ذمہ داری زیادہ عاید ہوتی ہے جو جج ْ ْْْْْْْْْْْیا قاضی کی حیثیت سے کام کرنے پر مامور ہیں۔ ان کے اختیارات در حقیقت لو گو ں کے حقوق ہوتے ہیں اور یہ افراد ان حقو ق کے امین ہوتے ہیں لہٰذا حق کو حقدار تک پہنچانا جج یا قاضی کابنیا دی فریضہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یأمرکم ان تؤدوا الأمانات الی أھلہا (النساء ۵۸) ’’بے شک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ اما نتو ں کو ان کے حق داروں کے سپرد کر دو‘‘ اس ارشاد سے یہ معلو م ہوا کہ اگر حق کو حقدار تک نہ پہنچایا گیا تو یہ خیا نت ہوگی ۔

موجودہ نظام عدالت کچھ ایسا ہے کہ انصاف ملنے تک ایک صبر آزما اور طویل زمانہ لگ جاتا ہے اور اتنا مہنگا ہے کہ لوگ اپنی جائیداد کو فروخت کرکے مقدمہ لڑنے پر مجبو ر ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض لوگ عدا لتو ں سے مایوس ہوکر ان کی طرف رخ کرنے کے بجا ئے ظلم سہہ لینے کو تر جیح دیتے ہیں یا پھر بوجھل دل سے راضی نامہ پر گزارا کرتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے؟اس کی یوں توبہت سی وجوہ ہیں لیکن چنداہم نوعیت کی وجوہ ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں۔

۱۔پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے جس کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے دن سے ہی ملک کے وسائل وذرائع استعمال کرکے ایسے افراد تیار کیے جاتے جو حکومتی، انتظامی اور عدالتی امور میں درج ذیل اصولوں کی پاس داری کی روایت قائم کرتے:

(الف) پاکستان میں حاکمیت خدا کی ہے۔ (ب)ریاست کا قانون قرآن وسنت ہے۔ (ج) جوپچھلے قوانین شریعت سے متصادم ہیں، وہ کالعد م قرار دیے جائیں۔ (د) ریاست اپنے اختیارات کے استعمال میں اسلامی حدود سے تجاوز کرنے کی مجاز نہ ہوگی ۔

مگر نصف صدی گزر نے کے باوجود عملاًایسے افراد تیار نہیں کیے گئے۔ہمارے ملک کی قانون کی درسگاہوں اور کالجوں سے جو طلبہ فارغ ہوکر نکلتے ہیں، وہ اسلامی قوانین سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنیت بھی غیر اسلامی افکار کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کے اندر اخلاقی صفات بھی ویسی ہی پید اہوجاتی ہیں جو مغربی قوانین کے اجرا کے لیے تو موزوں ترین مگر اسلامی قانون کو نافذ کرنے کے لیے غیر موزوں ہوتی ہیں۔ الا ماشاء اللہ

اس خامی کو دور کر نے کے لیے ضروری ہے کہ کالجوں میں داخلے کے لیے عربی زبان سے واقفیت کو لازم قرار دیا جائے۔ اگرچہ اسلامی قوانین سے متعلق کافی ذخیرہ اردو میں منتقل ہوچکا ہے مگر یہ ثانوی نوعیت کا علم ہے۔ عربی زبان کی ضرورت اپنی جگہ پھربھی باقی ہے۔ قانون کے طالب علم کو اصول قانون (Jurisprudence) کے ساتھ ساتھ اصول فقہ، اسلامی فقہ کی تاریخ، بڑے فقہی مذاہب کا مطالعہ اور قرآن و حدیث کا علم متعلقہ ماہر ین علم وفن کی نگرانی میں ضروری ہے تاکہ علمی اعتبار سے موزوں ترین افراد تیار ہوسکیں۔ اس وقت جن افراد کے ہاتھوں میں انصاف کا قلم دان ہے، وہ انہی لا کالجوں کے تعلیم یافتہ ہیں جن میں اکثر وبیشتر کو قرآن حکیم دیکھ کر بھی صحیح پڑھنا نہیں آتا اور نہ ان کو آخرت کے محاسبے کی فکر ہے۔ سائل عدالت کے باہر انصاف ملنے کے انتظار میں ہوتا ہے اور منصف اس کی حالت زار سے بے خبر چائے کی میز پر محو گفتگو ہوتا ہے۔

اسلامی نقطہ نظرسے لا کالج چالاک وکیل، نفس پرست مجسٹر یٹ اور بدکردار جج تیار کرنے کی فیکٹر ی نہیں ہے بلکہ ان کالجوں اور یونیورسٹیوں کا اصل کا م یہ ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کریں جو سیرت وکردار کے لحاظ سے بلند ترین لوگ ہوں اور جن کی راست بازی اور عدل وانصاف پر مکمل اعتما د کیا جاسکے مگر اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جج کے منصب پر فائز کرنے کے لیے اس کی پر ہیزگاری اور خداترسی کو نہیں دیکھا جاتا جبکہ شرعاً انصاف فراہم کر نے والے کی سیرت وکردار کو بنیادی معیار کی حیثیت حاصل ہے۔ خلاصہ یہ کہ انصاف کی کرسی پر ایسے افراد کو بٹھایا جانا چاہیے جن کے اندر علمی کمال کے علاوہ عملی کمال بھی نمایاں طور پر موجود ہو۔ جبکہ اس وقت یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر اس منصب پر جو لوگ آتے ہیں، ان کی حالت دینی لحاظ سے قابل رحم ہوتی ہے ۔

۲۔ منصب عد ا لت کے لیے خصو صاً چھا ن پھٹک کر آد می کا ا نتخا ب کیا جا ئے۔ ا س مقصد کے لیے اگر چہ اس وقت ’’پبلک سر و س کمیشن ‘‘ قا ئم ہے مگر وہ کا فی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جیسا کہ ا و پر بیا ن کیا گیا ہے کہ دو کما لا ت کا ہو نا ضر و ر ی ہے یعنی ا یک علمی کما ل اور دوسرا عملی کما ل، لیکن پبلک سر و س کمیشن کے جو ممبر ہیں وہ خو د ا پنی جگہ محل نظر ہیں ۔ اس لیے خصو صاً اس منصب کے ا نتخا ب کے لیے ا یک الگ جو ڈ یشل کمیشن ہو نا چا ہیے جس کے ممبر و ہی لو گ ہو ں جو خو د اچھی شہرت کے حا مل منصف ہو ں یا منصف ر ہ چکے ہو ں۔ و ہ اس منصب کے ا مید و ا ر سے وہی سو ا لا ت پو چھیں جو عدل و ا نصا ف سے متعلق ہو ں جبکہ مو جو دہ پبلک سر وس کمیشن کے ممبر ا ن میں یہ صفا ت مکمل نہیں ہیں اور نہ ہی اس منصب کے متعلقہ سو الا ت پو چھنے کی حد تک محد و د ہیں۔ اس مر حلہ پر میں یہ بھی کہنا منا سب سمجھتا ہو ں کہ خصو صاً ’’منصف ‘‘ کے منصب پر محض میر ٹ اور سیر ت کو بنیا د بنا یا جا ئے جبکہ مو جو دہ دور میں ہر ضلع کا ا لگ کو ٹہ مقر ر ہے لیکن یہ طر ز عمل ا نصا ف کے حصو ل میں ر کا و ٹ ہے اس لیے کہ کو ٹہ کی پا بند ی کی و جہ سے ممکن ہے کہ مو ز و ں ترین آ د می اس منصب پر آ نے سے رہ جا ئے اور اس سے کم درجے کا آ د می اس منصب پر فائز ہو جا ئے ۔ البتہ اگر دونو ں آدمی بر ا بر ہو ں تو کو ٹہ کو تر جیح دی جا سکتی ہے۔ اس چھا ن پھٹک کے بعد اگر لو گ عد ا لت کی کرسی پر بیٹھیں گے تو اس سے حصو ل انصا ف کا سفر بہت سے ا مو ر میں مختصر ہو جا ئے گا ا ور حقدار کو حق ملنے کی قوی امید پید ا ہو گی۔

۳۔ کسی مقد مہ کے یکسو ہو نے تک نظا م تعمیلا ت کو بہت ا ہمیت حا صل ہے جبکہ مو جو دہ تعمیلا ت کا نظا م بہت ہی ناقص ہے جس کی ا صلا ح بہت ضر و ر ی ہے ۔ہر وقت تعمیلا ت نہ ہو نے کی و جہ سے مقد ما ت کے فیصلہ جات میں غیر معمولی تا خیر ہو جا تی ہے خصو صاً اس وقت فو جد ا ر ی میں تعمیلا ت کا نظا م صحیح نہیں ہے۔ یہ کا م پو لیس کے سپرد ہے جو ہر ضلع میں ایس پی کے ماتحت ہو تی ہے۔مطلو بہ آدمی کو کئی با ر سمن بلکہ وا رنٹ کے ذریعہ طلب کیا جا تا ہے اس کے باوجود بروقت تعمیلا ت نہیں ہو پا تیں۔ ایس پی کا اس با ر ے میں عا م طو ر پر یہ عذر ہو تا ہے کہ پو لیس کی نفر ی کم ہے اور کا م اس نسبت سے بہت زیا دہ ہے ۔پو لیس کے ذمہ دیگر بہت سے ا نتظا می نو عیت کے کا م ہو تے ہیں اس لیے تعمیلا ت کے لیے بر و قت پو لیس کے ا فرا د مہیا نہیں ہوتے۔ ا س صورت حال کے پیش نظر تعمیلات کی اصلاح کے لیے یو ں تومتعدد تجاویززیر بحث رہی ہیں جن میں سے میرے نزدیک ایک تجویز موزوں ترین ہے جسکاذکر اس مرحلہ پر کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ تعمیلات کا شعبہ ہی الگ ہو جو انتظامی نوعیت کے فرائض انجام دینے سے الگ تھلگ ہو ۔یہ شعبہ براہ راست ہائی کورٹ کے ماتحت ہو اور ماتحت عدالتوں میں تعمیل کرنے والے کانسٹیبل متعلقہ عدالت کے ماتحت ہوں جن کی ترقی، تنزلی ،تبدیلی ،معطلی اور تنخواہ جیسے امور کا اختیار متعلقہ عدالت کو حاصل ہو اور متعلقہ عدالت کی پیروکار سرکاراس کی نگران ہو۔ اب تعمیلات کے علاوہ ان افراد کا کوئی اور کام نہ ہو گااس لیے تعمیلات کی وجہ سے مقدمہ کو یکسو نہ کرنے کی شکایت ختم ہوجائے گی ۔

اس تجویز پر اتفاق بھی ہوا تھا مگر حکومت نے مالی پریشانی کاذکر کرتے ہوئے یہ کام فردا پرٹال دیا۔

۴۔ نظا م و کا لت کی ا ہمیت: نظر ی حیثیت سے نظا م و کا لت کی خو بی سے انکا ر نہیں ہے اس لیے کہ و کیل کا کام یہ ہے کہ وہ عد ا لت کو قا نو ن سمجھنے اور زیر سما عت مقد مہ کے حا لا ت پر منطبق کر نے میں مد د دے۔ا صو لاً یہ ضر و رت ا پنی جگہ مسلّم ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ایک مقد مہ میں دو ما ہر ین قا نو ن کی رائیں مختلف ہو سکتی ہیں ۔یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کی را ئے میں ا یک فر یق کا مقد مہ مضبو ط ہو تو دوسرے کی را ئے میں دوسرے فر یق کا اور عد ا لت کے لیے صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں دونو ں طرف کے دلائل سے مطلع ہو نا یقیناًمفید ہو تا ہے لیکن سو ا ل یہ ہے کہ اس نظر یہ کو عملی جا مہ پہنا نے کی جو صو رت مو جو د ہ طر یقہ وکا لت میں ا ختیا ر کی گئی ہے، کیا فی ا لو ا قع اس سے دونو ں فو ا ئد حا صل ہو تے ہیں؟ اس وقت عملاً صو ر تحا ل یہ ہے کہ و کیل اپنی قا نو نی مہا ر ت کو لے کر قا نو ن کی دوکا ن کھو ل کر گا ہک کے انتظا ر میں بیٹھ جا تا ہے۔ مقدمہ کا جو فر یق اس کو د ما غ کا کر ایہ زیا دہ ادا کرے، اس کا د ما غ اس کے حق میں قا نو نی نکا ت سو چنا شر و ع کر د یتا ہے۔ اس کو اس سے کو ئی غر ض نہیں ہو تی کہ میرا مؤ کل حق پر ہے یا با طل پر۔ وہ صر ف یہ دیکھتا ہے کہ اس نے مجھے فیس دی ہے اور میرا کام اس کی حما یت کرنا ہے۔ اس لیے وہ مقدمہ کی نو ک پلک سنوارکر اس کو قا نو ن کے مطا بق ڈھا لتا ہے، کمزور پہلو ؤں کوچھپا تا ہے اور مو ا فق پہلوؤ ں کو ا بھارتا ہے ، روداد مقد مہ اور شہا د تو ں میں سے چن چن کر صرف وہ چیزیں نکا لتا ہے جو اس کے مؤ کل کی تا ئید میں ہوں۔ گو اہو ں کو توڑنے کی کوشش کر تا ہے تاکہ مقد مہ کے صحیح و ا قعا ت جو اسکے مؤ کل کے خلا ف ہو ں، سا منے نہ آ سکیں یا کم سے کم ہو جا ئیں۔ اس طر یقہ سے عملاً وکیل کا کردار یہ رہ گیا ہے کہ وہ جج کو گمر ا ہ کرنے کی کو شش کرتا ہے۔ اب خواہ حقیقی مجرم چھو ٹ جائے یا کو ئی بے گنا ہ پھنس جائے، وکیل کو اس سے کوئی سروکا ر نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پیشہِ وکالت نے ہما رے نظا مِ عدالت کو سخت نقصا ن پہنچایا ہے اور اس کا نقصا ن ہما ری پو ری اجتماعی زندگی میں پھیل گیا ہے اور ہما ری سیا ست بھی اس کی وجہ سے گند ی ہو کر رہ گئی ہے۔ ان حا لا ت میں مو جو دہ نظا م وکا لت کی اصلا ح کی سخت تر ین ضر و رت ہے۔ بالفر ض اگر اس کی اصلا ح ممکن نہ ہو تو اس کو بتد ریج ختم کر دینا ہی حصو ل انصا ف کے لیے ضر و ری ہے۔

۵۔ قا نو ن شہا دت ۱۸۷۲ء پر ایک نظر : کسی مقد مہ کو یکسو کر نے کے لیے جن عنا صر کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں ایک اہم عنصر شہا دت کا بھی ہے ۔ اس وقت عد ا لتو ں کے اند ر قا نو نِ شہادت وہی ہے جو ۱۸۷۲ء کا مرتب کردہ ہے۔ اسلا می نقطہ نگاہ سے اس کی بہت سی دفعات میں خا میا ں ہیں جن میں سے کچھ کی نشاندہی د رج ذیل سطو ر میں کی جاتی ہے ۔

دفعہ نمبر ۳ میں ’’Evidence‘‘ کی تعریف مانع نہیں۔ اس تعریف کی رو سے تمام دستاویزات کو بھی شہادت کہہ دیا جاتا ہے اور متعلقہ قرائن کو بھی۔ فقہی اعتبار سے یہ تعریف ’’ثبوت‘‘ کی تو ہو سکتی ہے لیکن ’’شہادت‘‘ کسی انسان کے بیان ہی کو کہا جا سکتا ہے، خواہ وہ زبانی ہو یا تحریری۔ 

"Proved" کی تعریف میں:

"After considering the matter before it"

کے بعد مندرجہ ذیل الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے:

"and observing the requirements of sharia"

دفعہ نمبر ۲۴ میں ہے کہ اگر اعتراف جر م کی تر غیب دی گئی ہو تو ایسا اعترا ف بھی غیرمؤ ثر قرار دیا گیا ہے حا لانکہ محض تر غیب سے اعتراف کا لعد م نہیں ہو نا چاہیے۔ چنانچہ حد یثِ لعا ن میں ’’ اِنَّ عَذَا بَ الدّنْیَا اَعْظَمْ مِنْ عَذَابِ الْاَخِرَہَ ‘‘ کہنا ایک طرح کی ترغیب بھی ہے لہذا اس دفعہ اور دفعہ نمبر ۲۸ سے "Inducement" اور "Promise" کا لفظ نکا ل دینا چا ہیے ۔

دفعہ نمبر۲۹ کی رو سے دھوکے سے حاصل کیا ہوا یا نشے کی حالت میں کیا ہوا اقرار غیر مؤثر نہیں ہوتا۔ شرعاً نشے کی حالت میں کیا گیا اقرار غیر مؤثرہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت ماعز ؓ کے بارے میں یہ اطمینان فرمایا کہ انھوں نے شراب تو نہیں پی رکھی ؟البتہ دھوکے سے کیے ہوئے اقرار کا معاملہ قابل غور ہے اور رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ ایسا اقرار بھی جرم کاکافی ثبوت نہ ہونا چاہیے ۔

باب نہم دفعہ نمبر ۱۳۸ کی ترتیب شرعاً یوں ہونی چاہیے :

(۱) بیان گواہ (Examination in chief) 

(۲) سوالات قاضی(Court question) 

(۳) جرح فریق مخالف (Cross examination) 

(۴) بیا ن مکر ر منجا نب مشہودلہ(Re-examination) 

اس تر تیب کی وجہ یہ ہے کہ مو جو دہ نظا م میں تما م تر سو ا لا ت فر یقین کی طر ف سے ہو تے ہیں۔یہ سو ا لا ت جانبدارانہ ہو تے ہیں اور ہر فر یق اپنے مطلب کی با ت ر یکا ر ڈ پر لا نے کی کو شش کر تا ہے۔ غیر جا نبد ا را نہ سو ا لا ت جس سے حقیقت حا ل و ا ضح ہو ، فر یقین میں سے کوئی نہیں کر تا اور عدالتی سو ا لا ت شا ذ و نا در ہو تے ہیں جس کی وجہ سے بسا ا وقات مقد مہ کے انتہا ئی اہم امو ر پردۂ خفا میں رہ جا تے ہیں ۔ جو ترتیب ا و پر بیا ن کی گئی ہے، اس کے مطا بق پہلے عدا لتی سو ا لا ت کے ذریعے حقیقت حال غیر جا نبد ا ر انہ طو ر پر و ا ضح ہو سکے گی جس کے بعدا گر فر یقین میں سے کو ئی کچھ سوالات کرنا چاہے تو کر سکے گا۔ لیکن گو ا ہ کو گمر اہ کر نے یا عد الت پر غلط ا ثر ڈا لنے کا انسد ا د ہو سکے گا ۔

۶۔ مر و جہ قا نو ن شہا دت مند ر جہ ذیل معا ملا ت میں خا مو ش ہے جبکہ ان ابو ا ب کا قا نو نِ شہا دت میں ہو نا بہت ضر و ری ہے:

(۱) مد عیٰ علیہ کا حلف ، اس کا طریقہ کا ر اور اس کے اثر ا ت 

(۲) نکول یعنی مد عیٰ علیہ اگر حلف سے انکا ر کر دے تو مقد مے پر اس کے اثر ا ت 

(۳) شہا دت سے ر جو ع اور اس کے اثر ا ت 

(۴) اقرار سے رجوع اور اس کے اثرات 

اسلا می قا نو نِ شہا دت مرو جہ قا نو نِ شہا دت سے کا فی مختلف ہے لہٰذا ضر ورت اس با ت کی ہے کہ مروجہ قا نو ن شہا دت کو سا منے رکھتے ہو ئے اسلا می قا نو ن شہا دت کو الگ سے مر تب کیا جائے۔

۷۔ مو جودہ نظا م عدالت میں اپیل کے مرحلہ پر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیرمعمولی تاخیر نہ ہو۔ عام طورپر یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اپیل متعلقہ عدالت میں دائر ہوجاتی ہے جو ایک طویل مدت کے بعداس لیے خارج کی جاتی ہے کہ یہ اپیل قابل رفتار نہیں ہے۔ اس خامی کا ازالہ اس طرح کیا جاسکتا ہے جیسا کہ سعودی عرب اور دیگر بعض اسلامی ریاستوں میں ہے کہ ایک ’’مجلس تمییز‘‘تشکیل دی جائے اور متعلقہ عدالت میں اپیل دائر ہونے سے قبل اپیل اس مجلس کے سامنے پیش کی جائے۔ اگر یہ مجلس اس نتیجے پر پہنچے کہ اپیل دائر کر نے کے قابل ہے تو اس کے بعد متعلقہ عدالت میں سماعت کے لیے دائر کی جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر اپیل دائر ہونے کے قابل نہ ہوگی تو وہیں سے واپس کردی جائے گی اور مزید وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا ۔

عدالتی نظام میں اگر ان خامیوں کا ازالہ ہوجائے تو ان شاء اللہ عد ل وانصاف کے تقاضے بطریق احسن پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں، آمین۔ 

مشاہدات و تاثرات