سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ

محمد عمار خان ناصر

ہمارے معاشرے میں پیشہ ور اور غیر محتاط واعظین نے جن بے اصل کہانیوں کو مسلسل بیان کر کر کے زبان زدِ عام کر دیا ہے، ان میں سے ایک سیدنا عمرؓ کے ایک منافق کو قتل کرنے کا واقعہ بھی ہے۔ زیر نظر سطور میں محدثانہ نقطہ نظر سے اس واقعہ کی پوزیشن کو واضح کیا جا رہا ہے۔

اس واقعے کی تفصیل میں حافظ ابن کثیرؒ نے سورۃ النساء کی آیت ۶۵ کے تحت دو روایتیں نقل کی ہیں:

پہلی روایت ابن مردویہؒ اور ابن ابی حاتم ؒ کے حوالے سے ہے جس کی سند حسب ذیل ہے: یونس بن عبد الاعلی اخبرنا ابن وھب اخبرنا عبد اللہ بن لہیعۃ عن ابی الاسود

دوسری روایت حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن عبد الرحمن کی تفسیر کے حوالے سے نقل کی گئی ہے جس کی سند یہ ہے : حدثنا شعیب بن شعیب حدثنا ابو المغیرۃ حدثنا عتبۃ بن ضمرۃ حدثنی ابی

حکیم ترمذی نے ’نوادر الاصول‘ میں یہی واقعہ کسی سند کے بغیر مکحولؒ سے نقل کیا ہے اور ’نوادر‘ کے حوالے سے حافظ سیوطیؒ نے بھی اس واقعے کو ’الدر المنثور‘ میں درج کیا ہے۔ (۱)

حافظ ابو اسحاقؒ کی تفسیر میں منقول روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے‘ آپ نے حق دار کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ مقدمہ ہارنے والا کہنے لگا کہ میں اس فیصلے پر راضی نہیں ہوں۔ دوسرے فریق نے کہا کہ اب کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا‘ ابو بکرؓ صدیق کے پاس چلو۔ دونوں ان کے پاس گئے اور مقدمہ جیتنے والے نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کیا ہے۔ ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میرا فیصلہ بھی یہی ہے۔ لیکن دوسرا فریق اس پر بھی راضی نہ ہوا اور کہنے لگا کہ اب ہم حضرت عمرؓ کے پاس جاتے ہیں۔ (ان کی خدمت میں حاضر ہو کر) مقدمہ جیتنے والے نے ان سے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کیا ہے‘ لیکن یہ ماننے سے انکار کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس شخص سے اس بات کی تصدیق کی۔ پھر اندر گئے‘ تلوار ہاتھ میں لے کر باہر آئے اور اس شخص کی گردن اڑا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما‘‘ (آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم مان لیں اور پھر آپ جو فیصلہ فرمائیں، اس سے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح سے تسلیم کر لیں)(۲)

ابن مردویہؒ سے منقول روایت کے آخر میں اس پر حسبِ ذیل اضافہ ہے:

’’دوسرا شخص بھاگا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ‘ عمر نے تو میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے اور اگر میں بھاگ نہ آتا تو مجھے بھی قتل کر دیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر سے مجھے یہ توقع نہ تھی کہ وہ ایک مومن کو قتل کر ڈالے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اپنے جھگڑوں میں فیصل تسلیم نہ کر لیں اور پھر آپ کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں۔ چنانچہ آپ نے اس آدمی کے خون کو رائیگاں قرار دیا اور عمرؓ سے قصاص نہ لیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں دوسرے لوگ بھی اس طریقے پر عمل نہ کرنے لگیں‘ اگلی آیت میں فرمایاکہ اگر ہم ان پرلازم کر دیں کہ اپنی جانوں کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے چند ہی لوگ اس حکم کی تعمیل کریں گے۔ ‘‘ (۳)

نوادر الاصول میں مکحولؒ کی روایت کے مطابق اس واقعے کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا :

’’یا رسول اللہ! عمرؓ نے اس آدمی کو قتل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق اور باطل کے مابین فرق کو واضح کر دیا ہے۔ چنانچہ عمرؓ کو فاروق کا لقب دیا گیا۔‘‘ (۴)

یہ واقعہ روایت واسناد کے لحاظ سے نہایت کمزور اور ناقابل استدلال جبکہ درایت کے لحاظ سے بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔

پہلے سند کو لیجیے:

۱۔ نوادر الاصول کی روایت تو، جیسا کہ عرض کیا گیا، کسی سند کے بغیر صرف مکحولؒ سے منقول ہے جو تابعی ہیں اور کسی صحابی کے واسطے کے بغیر روایت نقل کر رہے ہیں۔ان کے بارے میں محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ اکثر تدلیس کرتے ہوئے صحابہؓ سے روایات نقل کر دیتے ہیں حالانکہ وہ روایات خود ان سے نہیں سنی ہوتیں۔ (۵)

۲۔ ابن مردویہؒ اور ابن ابی حاتمؒ کی نقل کردہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ اس کے آخری راوی ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن نوفل ہیں جو تابعی ہیں۔ محدث ابن البوقی فرماتے ہیں کہ اگرچہ زمانی لحاظ سے امکان موجود ہے لیکن عملاً کسی صحابی سے ان کی کوئی روایت ہمارے علم میں نہیں۔ (۶)

علاوہ ازیں ا س سند میں عبد اللہ بن لہیعۃجیسا بدنام ضعیف راوی موجود ہے۔ اس کے بارے میں علماء حدیث کے اقوال درج ذیل ہیں:

’’امام نسائی فرماتے ہیں‘ ثقہ نہیں ہے۔ ابن معین کہتے ہیں‘ کمزور ہے اور اس کی حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں۔ خطیب کہتے ہیں‘ اس کے متساہل ہونے کی وجہ سے اس کے ہاں منکر روایات کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ امام مسلم فرماتے ہیں کہ ابن مہدی‘ یحییٰ بن سعید اور وکیع نے اس کی روایت لینے سے انکار کیا ہے۔ حاکم کہتے ہیں‘ بے کار احادیث بیان کرتا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں‘ میں نے اس کی روایات کو جانچ پرکھ کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تدلیس کرتے ہوئے درمیان کے کمزور راویوں کو حذف کر کے براہ راست ثقہ راویوں سے روایت نقل کر دیتا ہے۔‘‘ (۷)

۳۔ حافظ ابو اسحاق کی نقل کردہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ آخری راوی ضمر ۃ بن حبیب تابعی ہیں اور صحابی کا واسطہ موجود نہیں ۔ نیز سند کے ایک راوی ابو المغیرہ عبد القدوس بن الحجاج الخولانی کے بارے میں ابن حبانؒ کی رائے یہ ہے کہ وہ حدیثیں گھڑ کر ثقہ راویوں کے ذمے لگا دیتا ہے۔ (۸)

ازروئے درایت ان روایتوں پر حسب ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں:

ایک یہ کہ اگر مذکورہ واقعہ درست ہوتا تو سیدنا عمرؓ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا ایک سنہری موقع مدینہ منورہ کے منافقین کے ہاتھ آ جاتا اور وہ بھرپور طریقے سے اس کی اشاعت او ر تشہیر کرتے۔ چنانچہ ایسے واقعے کو‘ منطقی طور پر‘ کتب تاریخ وسیرت میں نمایاں طور پر مذکور ہونا چاہئے۔ جبکہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ تاریخ اور تفسیر کی معرو ف اور قدیم کتابوں میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں ۔ امام ابن جریر طبریؒ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر آیت کے شان نزول سے متعلق تمام اقوال وروایات کا احاطہ کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس واقعہ کی طرف ادنیٰ اشارہ تک نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ نے اس کو غریب جدا کہا ہے ۔ اصول حدیث کی رو سے ایسے معروف واقعات کی روایت میں خبر واحد معتبر نہیں ہوتی۔

دوسرے یہ کہ اس میں سیدنا عمرؒ جیسی محتاط‘ سمجھ دار اور حدود اللہ کی پابند شخصیت کو ایک مغلوب الغضب (Rash) انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ سیدنا عمرؓ دین کے معاملے میں نہایت باحمیت اور غیرت مند تھے‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے ایسے کسی موقعے پر حد سے تجاوز نہیں کیا بلکہ کسی بھی اقدام کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی۔ چنانچہ یہ روایت واضح طور پر ان دین دشمن عناصر کی وضع کردہ معلوم ہوتی ہے جن کا مقصد اکابر صحابہ کرامؓ کی شخصیات کو مسخ کرنا اور انہیں داغ دار شکل میں پیش کرنا ہے۔

تیسرے یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف عدل وانصاف کے تقاضوں کے برخلاف جانب داری کی نسبت لازم آتی ہے۔ اگر سیدنا عمرؓ نے اس شخص کو قتل کیا تو یہ واقعتا ایک خلاف شرع اقدام تھا کیونکہ اس شخص نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا جس پر وہ قتل کا مستحق ہوتا۔ اس کا لازمی نتیجہ قصاص تھا لیکن روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ جرم واقعتا سزائے موت کا مستحق تھا تو پھر اس کو ایک واضح ضابطے کی شکل میں بیان کر کے آئندہ کے لیے بھی اجازت (Sanction) دے دینی چاہیے تھی۔ اور اگر یہ قتل درست نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ کسی ایک شخص کی رعایت کرتے ہوئے، چاہے وہ کتنا ہی عظیم المرتبت ہو، عدل وانصاف کے تقاضوں کو معطل کر دے۔


حوالہ جات

(۱) نوادر الاصول، ۱/۲۳۲۔ الدر المنثور، ۲/۱۸۱

(۲) تفسیر القرآن العظیم‘ ۱/ ۵۲۱

(۳) نفس المصدر،

(۴) نوادر الاصول، ۱/۲۳۲

(۵) تہذیب التہذیب، ۱۰/۲۹۲

(۶) نفس المصدر، ۹/ ۳۰۸

(۷) نفس المصدر، ۵/ ۳۷۸‘ ۳۷۹

(۸) الکشف الحثیث، ۱/۱۷۱


سیرت و تاریخ

(دسمبر ۲۰۰۱ء)

Flag Counter