مسیحیوں اور مسلمانوں کے خلاف یہودی سازش

عطأ الحق قاسمی

پاکستان میں ایک عرصے سے ’’را‘‘ اور ’’موساد‘‘ مل کر جو تخریبی کارروائیاں کرتے چلے آ رہے ہیں، ان میں سے بہاول پور کے چرچ میں اپنی عبادت میں مصروف مسیحیوں پر فائرنگ کی واردات پہلی واردات ہے جو ان کے مذموم مقاصد کے نقطہ نظر سے بھرپور ہے۔ اس سے پہلے اہل سنت اور اہل تشیع کی مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ ہوتی رہی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے ان دو بڑے فرقوں میں فسادات کرانا تھا مگر ان وارداتوں کا الٹا اثر ہوا۔ ان دونوں فرقوں کے عوام مشتعل ہو کر گلی کوچوں میں باہم دست وگریباں ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ باری باری ایک دوسرے کی مساجد پر فائرنگ کرنے والا گروہ ایک ہی ہے اور وہ دونوں کا مشترکہ دشمن ہے۔ اگر دشمن کا یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو پورے ملک میں شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑک اٹھتی مگر خدا کا شکر ہے کہ ہر بار فائرنگ کے بعد دشمن فسادات کا انتظار کرتا رہا اور اسے کہیں سے کبھی کوئی ’’اچھی‘‘ خبر نہ مل سکی۔ اس محاذ سے مایوس ہو کر اب دشمن ہمارے مسیحی بھائیوں کی طرف متوجہ ہوا ہے اور اس نے سولہ مسیحیوں کو چرچ میں سروس کے دوران اندھا دھند فائرنگ سے بھون کر رکھ دیا۔ اس نے انتہائی خطرناک موقع پر انتہائی خطرناک کھیل کھیلا۔ وہ اس سے بیک وقت کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا ایک مقصد مسیحی اور مسلمان بھائیوں کے درمیان منافرت کی دیوار کھڑی کرنا ہے تاکہ ان میں موجود باہمی دوستی اور محبت کی فضا کو باہمی نفاق میں تبدیلی کیا جا سکے اور یوں پاکستان کے ان سپاہیوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ یہودی آغاز اسلام سے ہی مسلمانوں اور مسیحیوں کو ایک دوسرے سے بھڑانے کے لیے کوشاں رہے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں بار بار یہودیوں کو سازشیں کرنے پر متنبہ کیا گیا ہے مگر یہ گروہ اپنی حرکتوں سے کبھی باز نہیں آیا۔ اس کے اسی سازشی کردار کی بنا پر دنیا کے مختلف ملکوں میں انہیں مار پڑی اور ان کی موجودہ مضبوط پوزیشن کے باوجود مستقبل میں بھی ان کی درگت یقینی نظر آتی ہے۔ افغانستان پر امریکی حملوں کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے جو ’’کردار‘‘ اپنایا ہے، اس پر اسے ڈالروں میں ’’ویلیں‘‘ مل رہی ہیں اور ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف ’’عالمی اتحاد‘‘ میں شامل ہونے پر مغربی ممالک ’’شاباش‘‘ الگ دے رہے ہیں جب کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو بہرصورت ایک ایسا دہشت گرد ملک ثابت کرنا چاہتے ہیں جہاں ’’جنونی مسلمان‘‘ رہتے ہیں۔ چرچ میں بے گناہ مسیحیوں پر فائرنگ کر کے را اور موساد نے مغربی مسیحی ممالک کو یہی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس گھٹیا اور غلیظ حرکت کا ایک مقصد امریکی بمباری سے ہلاک اور زخمی ہونے والے معصوم بچوں کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹانا بھی ہے اور شاید ایک مقصد پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھانا بھی ہے تاکہ اگر وہ کسی پوائنٹ پر کمپرومائز کے لیے تیار نہ ہو تو اسے اس کے لیے بھی تیار کیا جا سکے۔ ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کو اپنی اسٹریٹجی تیار کرنی چاہیے اور متوقع پراپیگنڈے کا توڑ کرنا چاہیے۔ اندرون ملک علما نے بروقت اس دہشت گردی کی پرزور مذمت کی ہے اور مسیحی رہنماؤں نے بھی تدبر اور بردباری کا ثبوت دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دشمن کی چالوں کو سمجھتے ہیں۔ وزیر مذہبی امور اور وزیر اقلیتی امور نے بہاول پور جا کر پس ماندگان سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ بہت ہی اچھا ہو اگر قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا نورانی اور مولانا سمیع الحق کے علاوہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی لواحقین سے اپنی دلی ہم دردی کا اظہار لواحقین کو اپنے سینے سے لگا کر کریں۔ مسیحی ہمارے بھائی ہیں اور بھائیوں کے دکھ درد میں شامل ہونا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ (بشکریہ روزنامہ جنگ لاہور)

آراء و افکار