تعلیمی نصاب کی ضروریات ۔ سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ کی نظر میں

پروفیسر عشرت جاوید

جب اورنگ زیب (۱۶۵۸ء۔۱۷۰۷ء) ہندوستان کی گدی پر بیٹھے تو ایک دن ان کے استاد ملا محمد صالح ان کی مدح میں ایک قصیدہ لکھ کر لائے تاکہ کچھ انعام واکرام پائیں لیکن عالمگیر جیسے متقی اور پرہیز گار شخص اپنی مدح وستائش سے خوش ہونے والے نہیں تھے۔

استا دنے کہا :’’جہاں پناہ، میں کچھ لکھ کر لایا ہوں۔‘‘

’’غالباً کوئی قصیدہ لکھ کر لائے ہوں گے‘‘، عالمگیرؒ نے قیاس سے کہا۔

’’جی ہاں، میں ایک قصیدے پر آ پ سے دادِ تحسین کا طلب گار ہوں۔‘‘

’’اس قصید ے میں میری تعریف ہوگی؟‘‘، اورنگ زیب نے پوچھا۔

ملا صالح نے مسکرا کر کہا: ’’آپ کی تعریف کون بیان کر سکتا ہے۔ ہاں کچھ کہنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

عالمگیرؒ نے کہا: ’’استاذ محترم، شاید آپ کو یہ معلوم نہیں کہ ہم اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے۔ آپ ہمارے استاد ہیں۔ آپ کا ہم پر حق ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آ پ کی مدد کریں۔ آپ کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ ہماری جھوٹی سچی تعریف کر کے کچھ حاصل کریں۔‘‘

یہ کہہ کر بادشاہ نے حکم دیا کہ ان کو اتنا اتنا دے دیا جائے۔

جو کچھ دیا گیا، وہ ان کی توقعات سے بہت کم تھا۔ اپنی سلطنت کو عمر فاروق، علی مرتضٰی، عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہم اور ناصر الدینؒ کے انداز پر چلانے کی کوشش کرنے والے عالمگیر سے یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ بیت المال کی آمدنی کو بے دریغ خرچ کریں۔ جو شخص دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک ہو کر خود قرآن لکھ کر اور ٹوپیاں کاڑھ کر روزی کماتا ہو، وہ بیت المال کا سرمایہ کسی کی خوشنودی کے لیے کس طرح لٹا سکتا تھا۔

ملا محمد صالح نے یہ انعام واکرام اپنی توقعات سے کم دیکھا تو کہا، ’’جب آپ میرا حق اپنے اوپر تسلیم کرتے ہیں تو میں یہ عرض کروں گا کہ جو کچھ مجھے عطا کیا جا رہا ہے، وہ میرے حق سے بہت تھوڑا ہے۔‘‘

عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات سنی تو چہرہ سرخ ہو گیا لیکن انہوں نے استاد کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت متانت وسنجیدگی سے کہا:

’’استاد محترم! اگر حق کا سوال ہے کہ تو ہم بھی ذرا زیادہ وضاحت اور صاف گوئی سے کام لیں گے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ نے ہمیں تعلیم دی لیکن اس بات میں کلام ہے کہ آپ نے جو تعلیم ہمیں دی تھی، وہ صحیح تھی۔ شاید آپ دربار میں کوئی عہدہ چاہتے ہوں گے یا جاگیر کے متمنی ہوں گے۔ ہم ضرور عہدہ بھی دیتے اور جاگیر بھی بشرطیکہ آپ ہمارے قلب کو شائستہ تعلیم سے منور ومعمور کرتے۔ آپ نے ہماری قیمتی عمر عربی صرف ونحو سکھانے میں برباد کی یا فلسفہ کے لایعنی اور لغو مسائل سے ہمارا دماغ پریشان کیا۔ آپ نے ہمیں ایسی تعلیم دی جس سے دین کا فائدہ ہوا نہ دنیا کا۔ آپ نے ہماری نوعمری کا وہ بیش قیمت وقت لغو باتوں اور بے سود اور بے لطف الفاظ سیکھنے سکھانے میں تلف کر دیا جو نہایت کارآمد باتیں سیکھنے میں صرف ہو سکتا تھا۔ آپ نے یہ نہ سمجھا کہ بچپن کا زمانہ ایسا ہوتا ہے جب حافظہ قوی ہوتا ہے۔ ہزاروں مذہبی اور عقلی احکام آسانی سے ذہن نشین ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ایسی تعلیم ہو سکتی ہے کہ دل ودماغ میں اعلیٰ درجہ کے خیالات پیدا ہوں، حوصلے بڑھیں، بڑے بڑے کام کرنے کی قابلیت آئے۔

آپ نے سالہا سال تک عربی صرف ونحو کی تعلیم دی، حالانکہ اس کے لیے صرف ایک سال کافی تھا۔ پھر آپ نے فلسفہ پڑھایا جس کے مسائل توہمات بڑھاتے ہیں۔ ایسے مشکل اور ادق ہوتے ہیں کہ بڑی مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں اور آسانی سے دماغ سے محو ہو جاتے ہیں۔ جن کا نتیجہ کچھ نہیں، اگر ہے بھی تو صرف اتنا کہ دماغ پراگندہ ہو جائے اور عقل چکرا جائے۔ آدمی منہ پھٹ، زبان دراز، ہٹ دھرم اور بد اعتقاد بن جائے۔ ایسی لا یعنی گفتگو کرنے لگے کہ لوگ تنگ آ جائیں۔ بتائیے کیا آپ نے ہمیں فلسفی نہیں بنایا؟ ....... کیا میرے لیے اتنا کافی نہیں تھا کہ میں نماز پڑھنے کے لیے قرآن شریف حفظ کر لیتا، ایک سال میں اتنی عربی پڑھ لیتا کہ اس میں گفتگو کر سکتا۔ پھر آپ نے کیوں میری عمر کا بہترین زمانہ برباد کیا؟

آپ نے مجھے بتایا کہ سارا افرنگستان (Europe) ایک جزیرے سے بڑا نہیں ہے جس میں سب سے زیادہ طاقتور کسی زمانے میں پرتگال کا بادشاہ تھا، اس کے بعد ہالینڈکا بادشاہ ہوا اور اب انگلینڈ کا بادشاہ ہے۔ آپ نے بتایا کہ فرانس کا بادشاہ اور انڈونیشیا کا بادشاہ ہمارے باج گزار کسی راجہ کے برابر ہیں۔ آپ نے بتایا کہ ہمارے باپ دادا---- اکبر، جہانگیر اور شاہ جہاں----کشور ہندوستان اور سارے جہاں کے بادشاہ ہیں۔ کیا آپ کی تاریخ وجغرافیہ دانی اسی قدر تھی کہ جن باتوں کو آپ نہیں جانتے تھے، انہیں غلط طریقہ پر مجھے بتائیں؟

استاذ محترم! آپ کا یہ فرض تھا کہ مجھے دنیا کے ہر حصے کے جغرافیہ سے آگاہ کرتے، یہ بتاتے کہ کون سا ملک کہاں واقع ہے، ان کی قدرتی حفاظت کے کیا ذرائع ہیں، کہاں کیا پیدا ہوتا ہے، کس چیز کی کانیں کس ملک میں ہیں، کس ملک میں کتنا بڑا دن ہوتا ہے اور کتنی بڑی رات، کس ملک میں بارش کب اور کیوں ہوتی ہے، کس قوم کے آئین جنگ کیا ہیں، سمندر کی وسعت کیا ہے، اس میں جزیرے کہاں کہاں ہیں اور کتنے، پہاڑوں کی تخلیق کیسے ہوتی ہے اور ان کے کیا فائدے ہیں، موسم کے بدلنے کی کیا وجوہ ہیں، کس بات کی احتیاط لازم ہے۔ آپ مجھے تاریخ پڑھاتے اور بتاتے کہ کس قوم نے کیسے ترقی کی اور اس کی تنزلی کے کیا اسباب ہوئے، کس بادشاہ نے فتوحات کیسے اور کتنی حاصل کیں، اور کن حادثوں سے اس کی سلطنت تباہ ہوئی، اس کا آئین حکمرانی کیا تھا اور آمدنی کے وسائل کیا تھے۔ آپ ان حادثات اور انقلابات سے ہم کو واقف کرتے جن سے قومیں یا سلطنتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ افسوس آپ نے ہم کوبنی آدم کی وسیع اور کامل تاریخ سے آگاہ نہ کیا ۔ اور تو اور، ہمارے نامور بزرگوں کے نام تک بھی نہ بتائے۔ ان کے حالات سے آگاہ نہ کیاجو سلطنت کے بانی تھے۔ آپ نے ان کی سوانح عمریوں کا کوئی تذکرہ نہ کیا جنہوں نے اپنی خداداد ذہانت اور شجاعت سے عظیم الشان فتوحات حاصل کیں حالانکہ ایک شاہزادے کے لیے ان باتوں کا جاننا ضروری تھا۔ تاریخ ہی ایک ایسا علم ہے جس سے عقل بڑھتی ہے اور دل ودماغ میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ بتائیے آپ نے مجھے کیا سکھایا، مجھے آپ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہیے؟

کاش، آپ مجھے ایسا سبق پڑھاتے جس سے انسان کے نفس کو ایسا شرف وعلو حاصل ہو جاتا کہ دنیا کے انقلابات سے متاثر نہ ہوتا۔ ترقی اور تنزلی کی حالت میں ایک سا ہی رہتا۔ نہ ترقی کی خوشی ہوتی نہ تنزلی کا غم۔ آپ مجھے ایسے استدلال کا عادی بناتے کہ تصورات او ر تخیلات کو چھوڑ کر ہمیشہ اصول صادقہ کی جانب رجوع کیا کرتا اور علم دین کے حقائق سے مجھے مطلع کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کا ایسا احسان مانتے جیسا سکندر نے ارسطو کا مانا تھا۔ ہم ارسطو سے زیادہ آپ کی عزت کرتے اور سکندر سے زیادہ آپ کو انعام دیتے۔

ملا جی ! آپ نے تو ہم کو یہ بھی نہ بتایا کہ ایک بادشاہ کو رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے۔ ہم ایک شہنشاہ کے فرزند تھے۔ ضرورت تھی کہ آپ ہم کو جہاں بانی کے آئین سکھاتے، فنون حرب کی تعلیم دیتے، صف آرائی کا طریقہ سکھاتے، لشکر کو ترتیب دینے اور قلعوں کو توڑنے کی تعلیم دیتے۔ آپ نے تو ہمیں سب باتوں سے ناواقف رکھا۔ اگر خدا کی مدد شامل حال نہ ہوتی اور ہم اپنے فہم وذکا سے خود ہی کچھ نہ سیکھ لیتے تو آج بالکل کورے ہوتے اور کچھ بھی نہ کرسکتے۔ ہم کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ ہمارے رب کا احسان ہے۔ اس پاداش میں کہ تم نے ہماری نوعمری کا بہترین زمانہ فضول باتوں میں ضائع کیا، تم سے سختی سے بازپرس کی جائے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔‘‘

عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے یہ خیالات سن کر جتنے بھی علما اور امرا حاضر تھے، سب دنگ رہ گئے۔ استاد کے فرائض، اس کی تعلیم، معیار، فلسفہ کے متعلق عالمگیرؒ کا نظریہ اصلی اور حقیقی تعلیم کی تحصیل کا خیال کتنا وسیع تھا، اس سے نہ صرف سب لوگ حیران ہوئے بلکہ شرمندہ بھی ہوئے۔ عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں اساتذہ کی اس کمی کا بڑا درد تھا ؂

شکایت ہے مجھے یا رب ! خداوندان مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

(ماخوذ از ’’پراسرار بندے‘‘، مطبوعہ طیب اکیڈمی، ملتان)

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(دسمبر ۲۰۰۱ء)

Flag Counter