بیعت کی حقیقت اور آداب

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے ایک بیعت اسلام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ یہی بیعت کر کے اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ دوسری بیعت ہجرت کے لیے ہوتی تھی۔ لوگ اللہ کے نبی کے ہاتھ پر اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کر جانے کی بیعت یا عہد کرتے تھے۔ تیسری بیعتِ جہاد تھی۔ جب جنگ کا موقع آتا تھا تو لوگ اس بات کی بیعت کرتے تھے کہ ہم اللہ کے راستے میں جان ومال کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بعض صحابہؓ نے ارکان اسلام پر پابندی کی بیعت کی۔ حضرت جریرؓ کی بیعت اسی سلسلے میں تھی کہ میں ارکان اسلام نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ وغیرہ کی پابندی کروں گا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کروں گا۔ بعض لوگوں نے حضور علیہ السلام کے دست مبارک پر اس بات کی بیعت بھی کی کہ وہ سنت پر قائم رہیں گے اور بدعات سے بچتے رہیں گے۔ پھر عورتوں نے بھی اس بات کی بیعت کی کہ وہ شرک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھیں گی (یعنی غیر کی اولاد کو خاوند کی طرف منسوب نہیں کریں گی) اور نہ نیک کاموں میں آپ کی نافرمانی کریں گی۔ اس بیعت کا ذکر سورۃ الممتحنہ میں موجود ہے۔ بیعت کی ایک قسم بیعتِ تبرک بھی ہے۔ حضرت زبیرؓ اپنے آٹھ سال کے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرایا۔ یہ یہی بیعت تھی ورنہ بچے کے لیے بیعت کی ضرورت نہ تھی۔ ایک بیعتِ خلافت بھی ہوتی ہے جو خلیفہ کے انتخاب کے لیے ہوتی ہے۔ حضور علیہ السلام کے بعد لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی اور اسی طرح دیگر خلفائے راشدینؓ کی بیعت بھی ہوئی۔ بعض اوقات بزرگان دین کے کسی سلسلے میں داخل ہونے کے لیے بیعتِ سلوک بھی کی جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ اقرار کرنا ہوتا ہے کہ ہم ارکانِ دین کی پابندی کریں گے، عبادت وریاضت اور ذکر واذکار باقاعدگی سے انجام دیں گے تاکہ درجاتِ عالیہ نصیب ہوں اور اللہ کا تقرب حاصل ہو سکے۔ بیعت کی یہ تمام قسمیں حضور علیہ السلام سے ثابت ہیں۔ شاہ رفیع الدینؒ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ کسی بزرگ کے ہاتھ پر محض دنیاوی فوائد حاصل کرنے کی بیعت کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ ہمارا کوئی معاملہ سلجھا دیں گے یا ہماری سفارش کر دیں گے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ یہ رسمی بیعت ہے جس کا کچھ فائدہ نہیں۔ البتہ بیعت کی باقی جتنی اقسام بیان کی گئیں، وہ درست ہیں۔ پیر کے اوصاف حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ کسی ایسے پیر یا بزرگ سے بیعت ہونا درست ہے جس میں حسبِ ذیل اوصاف پائے جائیں: ۱۔ پیر کتاب وسنت کا علم رکھتا ہو، خود پڑھ کرعلم حاصل کیا ہو یا کسی بزرگ کی صحبت حاصل کی ہو۔ بہرحال اس کے پاس کتاب وسنت کا علم ہونا چاہیے۔ ۲۔ کبائر سے مجتنب ہو اور صغائر پر اصرار نہ کرے۔ کبائر کا مرتکب بیعت کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ وہ فساق میں شمار ہوتا ہے۔ ۳۔ بیعت لینے والا دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف رغبت رکھتا ہو۔ ۴۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا عامل ہو۔ اپنے متعلقین کو اچھی بات کا حکم دے اور اگر ان میں کوئی بری بات دیکھے تو فوراً روک دے۔ ۵۔ پیر خود رَو نہ ہو بلکہ یہ طریقہ اس نے بزرگوں سے سیکھا ہو یا ان کی صحبت اختیار کی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ باپ کی وفات کے بعد بیٹا جیسا کیسا بھی ہو، گدی نشین ہو گیا۔ نہ کسی سے سیکھا نہ کسی کی صحبت اختیار کی اور نہ علم حاصل کیا۔ یہ سلسلہ جو آج کل رائج ہے ،تباہ کن ہے ۔ اگر ان شرائط کو پورا کرنے والا کوئی بزرگ مل جائے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہیے تاکہ انسان شیطان کے پھندے سے محفوظ رہ سکے۔ ویسے یہ بیعت نہ فرض ہے اور نہ واجب البتہ سنت ہے۔ بزرگان دین میں سے حضرت دقاقؒ اور شیخ عبد القادر جیلانی ؒ سے منقول ہے کہ اگر کوئی کامل آدمی مل جائے تو بیعت کر لینی چاہیے البتہ کسی غلط کار، فاسق، شرکیہ اور بدعتی اعمال کرنے والے پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہرگز جائز نہیں۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں: اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داد دست اس قسم کے لوگ انسانی شکل میں شیطان ہیں اس لیے ہر ہاتھ پر ہاتھ نہیں رکھ دینا چاہیے ورنہ وہ شرک اور بدعت میں مبتلا کر دیں گے اور انسان کو گمراہ کر کے رکھ دیں گے۔

دین اور معاشرہ