افغانستان اور موجودہ عالمی صورت حال

ادارہ

افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے خیالات آئندہ شمارے میں ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ سردست موقر قومی روزنامہ نوائے وقت کا ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء کا اداریہ اور ادارتی شذرات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جن میں موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خدشات وتوقعات کی بہت بہتر انداز میں عکاسی کی گئی ہے اور ہمیں بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے اس حقیقت پسندانہ تجزیے سے اتفاق ہے۔ (رئیس التحریر) افغان بحران میں حکومت پاکستان نے امریکہ سے جو توقعات وابستہ کی تھیں، وہ نقش بر آب ثابت ہو رہی ہیں اور آہستہ آہستہ حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں، وہ نہ صرف کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں بلکہ ہمارے ایٹمی سائنس دانوں کے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے علاوہ ایران سے رابطوں کا ہوّا کھڑا کر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے امریکہ سے تعاون کا فیصلہ کرتے وقت واضح کیا تھا کہ وہ نہ تو شمالی اتحاد کا کابل پر قبضہ برداشت کرے گا اور نہ جنگ کی طوالت کے حق میں ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی اور جہاد میں فرق ملحوظ رکھنے کی بات بھی کی اور سٹرٹیجک اثاثوں کے تحفظ کے لیے قوم کو امریکی حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی مگر کابل پر شمالی اتحاد کے قبضے، جنگ کو مقاصد کے حصول تک جاری رکھنے بلکہ اس کا دائرہ دوسرے ممالک تک وسیع کرنے کے اعلانات سے واضح ہو گیا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں مانی گئی اور ۱۱ ستمبر سے پہلے کی طرح ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ اپنے ہی دوست طالبان کے خلاف جنگ میں ثبوت حاصل کیے بغیر امریکہ کا ساتھ دے کر ہم نہ صرف اقتصادی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں بلکہ سیاسی، عسکری اور معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری خارجہ پالیسی کسی واضح جہت سے محروم ہو گئی ہے اور ہم دوستوں کے حلقے سے نکل کر دشمنوں کے محاصرے میں آ گئے ہیں۔ ہماری مشرقی سرحدیں ہمیشہ سے غیر محفوظ چلی آ رہی ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں ایک بڑی، طاقتور، جدید ہتھیاروں سے مسلح اور تربیت یافتہ فوج کی ضرورت لاحق ہے۔ اس کے علاوہ وسائل کا بڑا حصہ اپنے دفاع اور سلامتی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے۔ امریکی دباؤ اور اپنی نااہلی کی وجہ سے اب ہم نے شمال مشرقی سرحد بھی غیر محفوظ کر لی ہے اور فوج کا اچھا خاصا حصہ حکومت کو افغان سرحد پر متعین کرنا پڑ رہا ہے۔ جغرافیائی گہرائی کا جو تصور قوم کو دیا گیا تھا، وہ پاش پاش ہو گیا ہے اور امریکہ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ نہ صرف افغانستان میں اڈے قائم کرے گا بلکہ علاقے میں طویل عرصے تک موجود رہ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، علاقائی صورت حال میں بھی تبدیلی آ رہی ہے جو ہمارے قومی مفادات سے سراسر متصادم ہے۔ امریکہ کی ترجیح اول بھارت ہے جو ایک بڑی تجارتی منڈی، دفاعی پارٹنر اور مادر پدر آزاد مغربی تہذیب سے ہم آہنگی کی بنا پر امریکہ ومغرب کے لیے زیادہ قابل قبول ہے۔ بھارت کے مشورے پر امریکہ نے شمالی اتحاد کی سرپرستی کی اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی۔ بھارت اسرائیل گہرے روابط بھی امریکہ کے جھکاؤ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور اب شمالی اتحاد کے سرپرست کے طور پر بھارت کابل میں اپنی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ ہمارا ایٹمی پروگرام اور عالم اسلام سے تعلقات بھی امریکہ کی نظروں میں کھٹکتے ہیں اور وہ یہ کبھی نہیں بھول سکتا کہ ۱۱ ستمبر تک ہم طالبان کے قریبی ساتھی اور سرپرست تھے۔ چینی وزیر اعظم کی پاکستان آمد کے موقع پر دونوں ممالک میں گوادر کی بندرگاہ اور مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر کا جو معاہدہ ہوا، وہ ہر لحاظ سے سنگ میل تھا اور یہ امریکہ وروس کی دیرینہ خواہشوں کے علی الرغم تھا جو گوادر اور بلوچستان کے وسیع ساحل تک رسائی کے لیے ایک عرصہ سے خواہاں تھے۔ ہم نے اسی وقت لکھا تھا کہ امریکہ کو یہ معاہدہ مشکل سے ہی ہضم ہوگا۔ اس سمجھوتے سے ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امریکہ پر مزید انحصار نہیں کیا جا سکتا اسی لیے ہم نے چین سے تعلقات کے نئے دور کا آغاز کیا ہے لیکن ۱۱ ستمبر کے بعد اچانک یوٹرن لے کر ہم ایک بار پھر امریکہ کے کیمپ میں چلے گئے ہیں اور اگر ہماری اس حماقت کی وجہ سے امریکہ علاقے میں مستقل اڈے قائم کر لیتا ہے تو ہمارے علاوہ چین اور ایران کے مفادات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور یہ چیز ہمارے علاوہ چین کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ماضی میں چین ہمیں دفاع اور سلامتی کے معاہدے کی پیشکش کر چکا ہے جس سے ہم امریکی خوف کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اب یہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم پاک چین تعلقات کو مزید نقصان سے بچانے اور اپنے مستقبل کے علاوہ مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے چین کی موجودہ ناراضگی دور کریں اور وہ رشتے مضبوط بنائیں جن کا ماضی میں دونوں طرف سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اس دوستی میں امریکہ کی ریشہ دوانیوں سے پڑنے والی دراڑوں کو بھرنے اور قد آور درخت سے مرجھاتے ہوئے اس پودے کو تازہ آب وہوا فراہم کرنے کے لیے ہمیں پیش رفت کرنی چاہیے اور یہ طے کر لینا چاہیے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم عنصر امریکہ کے بجائے چین ہے اور دونوں ممالک کا مفاد مشترک ہے کیونکہ امریکہ بھارت اور ایک لحاظ سے روس کے ذریعے سے دونوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام اور امریکہ وروس اور ان کے مشترکہ دوست بھارت کی مداخلت یا باہمی مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں کشمکش کے اثرات پاکستان اور چین پر یکساں مرتب ہوں گے اور جس جہاد کے خاتمے کے لیے امریکہ اتنی دور سے وارد ہوا ہے، وہ بھی جلدی ختم ہونے والا نہیں کیونکہ جس طرح ڈینگ سیاؤپنگ کی اصلاحی اور اعتدال پسندانہ پالیسیوں کے باوجود چین کمیونزم اور سوشلزم کو ترک کرنے پر تیار نہیں اور وقتاً فوقتاً اس نظریے سے وابستگی کی یاد دہانی کراتا رہتا ہے، اسی طرح کوئی مسلمان بھی جہاد سے دامن چھڑا کر اپنے خدا اور رسول کے سامنے شرمندہ ہونا پسند نہیں کرتا اور پاکستان فوج کا تو ماٹو ہی جہاد فی سبیل اللہ ہے یا تبدیل ہو چکا ہے؟ اہل پاکستان اور مسلمانوں نے چین کا کمیونزم برداشت کیا ہے تو چین کو بھی جہاد سے الرجک نہیں ہونا چاہیے البتہ سنکیانگ اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ امریکہ کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنے سے گریز کریں جو چین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے انہیں اکساتا رہتا ہے اور الزام پاکستان یا افغانستان پردھر دیا جاتا ہے۔ ہم ان کے معاملات میں دخل نہ دیں اور کوشش کریں کہ چینی حکومت اور مسلمانوں میں افہام وتفہیم ہو تاکہ کسی غلط فہمی کا امکان باقی نہ رہے۔ اس طرح ہم چین کے ساتھ مل کر کوئی طویل المیعاد منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور دفاع وسلامتی کو درپیش نئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ گوادر بندرگاہ، مکران ساحلی ہائی وے کے علاوہ شاہراہ ریشم کے ذریعے سے نہ صرف رشتوں کو مضبوط بلکہ معیشت کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ عوام تو پہلے سے جانتے ہیں لیکن حکمرانوں پر بھی جلد واضح ہو جائے گا کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں اس لیے مزید اس کے جال میں پھنسے رہنا دانش مندی نہیں۔ جب بحران کے دوران میں وہ ہماری کوئی بات ماننے پر تیار نہیں اور ہمارے مفادات کے منافی اقدامات میں مصروف ہے تو بعد از جنگ حکمت عملی سے کسی قسم کی توقع وابستہ کرنا خوش فہمی ہے جس کا شکار نہیں رہنا چاہیے۔ مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز بلوچستان سے منتخب ہونے والے ضلعی ناظمین سے بات چیت کے دوران میں کہا ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن کا اعلان چند روز تک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چند مذہبی انتہا پسندوں کو ۱۴ کروڑ عوام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہا پسندی جس معاشرے میں جڑ پکڑ لے، وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کون تنگ نظر ہے اور کون نہیں، آسان نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی تنگ نظر کے نقطہ نظر کو دوسرا شخص تسلیم نہ کرے تو وہ اس پر انتہا پسندی کی تہمت لگا کر اسے قومی مجرم قرار دے دیتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اس وقت حکمران وقت ہیں اور ایسے حکمران ہیں جو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، اختیارات کے سرچشمے ان کی ذات گرامی سے پھوٹتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ان کا ایک عوامی چہرہ بھی ہے جسے ایک سیاست دان کا چہرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اپنے اس روپ میں انہیں سیاست دانوں اور بالخصو ص مذہبی راہنماؤں کے بارے میں رائے دیتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ہمارے معاشرے میں مذہبی راہنماؤں کا اپنا ایک مخصوص کردار ہے اور عوام انہیں عقیدت واحترام سے دیکھتے ہیں۔ عقیدت کے ان آبگینوں کی شکستگی ان کے لیے سوہانِ روح ہوتی ہے خصوصاً اس صورت میں جب ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کی نظر بندی سیاسی وجوہ کی بنا پر ہے۔ ان کے سیاسی بیانات ان کی اپنی جماعت اور سیاسی نظریات کے نقیب ہیں اور انہیں انتہا پسندی شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ افغانستان پر امریکہ کی بے تحاشا بمباری اور معصوم مردوں، عورتوں ، بوڑھوں اور بچوں کے قتل عام نے پاکستان کے مسلمانوں میں انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا کیے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ آرا جنرل مشرف کی حکمت خارجہ اور امریکہ دوستی کے مطابق نہ ہوں لیکن اس اختلاف رائے کے تحت معاشرے کے کسی طبقے پر کریک ڈاؤن کرنا قرین مصلحت نہیں۔ پاکستان کو اس وقت انتشار کے بجائے قومی یک جہتی، تنگ نظری کے بجائے کشادہ نظری اور انتہا پسندی کے بجائے عالی ظرفی کی ضرورت ہے لیکن اس کا مظاہرہ بالائی سطح سے حکومت کی طرف سے ہونا چاہیے۔ حکومت نے جس طرح کریک ڈاؤن کا ارادہ ظاہر کیا ہے، وہ موجودہ حالات میں ہمارے داخلی مفادات کے مطابق نہیں ہے۔ بنیادی جمہوریتوں کے تحت جو ضلعی ناظمین منتخب ہو کر برسر اقتدار آئے ہیں، انہوں نے ابھی تک کسی قسم کے سیاسی شعور اور سماجی آگہی کا ثبوت نہیں دیا۔ انہیں اس مشکل میں الجھانا ہرگز مناسب نظر نہیں آتا۔ عرب دنیا میں اسلامی حمیت کی تازہ لہر سعودی عرب نے دہشت گردی سے مبینہ طور پر منسلک گروپوں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے امریکی درخواست کو رد کر دیا ہے۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ بغیرثبوت کے کارروائی نہیں کر سکتے، امریکی ثبوت ناکافی ہیں۔جبکہ شہزادہ سلطان نے خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان جنگ کسی بھی کروٹ بیٹھے، ہمارا موقف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہوگا۔ ثبوت کے بغیر کسی عرب یا مسلمان کو مورد الزام ٹھہرانا حق وانصاف کے خلاف ہے۔ عرب لیگ نے بھی اپنی دو روزہ کانفرنس میں کہہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو وہ مخالفت کرے گی۔یوں لگتا ہے کہ افغانستان پر حملے کی آڑ میں جس مختلف النوع انداز سے امریکہ پوری دنیا میں اسلام اورمسلمانوں پر حملہ آور ہوا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ بتدریج مسلم امہ میں بیداری اور اسلامی حمیت کی ایک لہر سی اٹھی ہے۔ سعودی عرب وہ واحد عرب ملک ہے جس کے باشندوں کی تذلیل وتوہین مغربی میڈیا پر سب سے بڑھ کر کی جا رہی ہے، اگرچہ سعودی عرب عسکری لحاظ سے اتنا مضبوط نہیں اور نہ اس کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس نے دہشت گردی سے مبینہ طور پر منسلک گروپوں کے اثاثے منجمد کرنے سے صاف انکار کر کے جرات مندانہ اقدام کیا ہے۔ شاید سعودی حکمرانوں نے بالآخر امریکی تیور بھانپ کر ہی یہ فیصلہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ بش انتظامیہ فوری طور پر بات چیت کے لیے وزارت دفاع، خزانہ اور قومی سلامتی کونسل کے حکام پر مشتمل ایک وفد سعودی عرب روانہ کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ سعودی حکمرانوں پر اس وفد کے ذریعے سے عملی تعاون کے لیے دباؤ ڈالے گا لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ شاید اب سعودی حکومت اس سلسلے میں امریکہ کی تابع داری کے اثر سے نکل آئے گی۔ جس طرح عرب لیگ نے بھی اپنی کانفرنس میں ٹی وی چینل اور عرب رابطہ قائم کرنے کے ساتھ عراق پر ممکنہ حملے کی صورت میں اپنی مخالفت کا عندیہ ظاہر کر دیا ہے، وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عرب ملت اجتماعی لحاظ سے اب اس دام ہم رنگ زمین سے آگاہ ہو گئی ہے جو جگہ جگہ عالم عرب میں امریکہ نے پھیلا رکھا ہے۔ بہرصورت اب عراق جو ایک عرب ملک ہے تو عرب لیگ کی رگ حمیت پھڑکی ہے۔ خدا کرے کہ عرب خود کو بھی امریکہ کے حصار سے نکال لیں، غنیمت ہوگا۔ ابھی تو شاید یہ ممکن نہ ہو لیکن جلد ہی آنے والا وقت بتائے گا کہ اگر مسلم امہ طالبان کو اپنے ایک پیشگی دفاع کے طور پر مضبوط کرتی اور انہیں تنہا امریکی بموں کا ایندھن نہ بننے دیتی تومسلمان دشمنی کی صلیبی آگ افغانستان میں ہی بھسم ہو جاتی اور اس کے شعلے یہاں سے ہو کر ملت بیضا کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ملکوں تک پہنچنے کا خطرہ پیدا نہ ہوتا۔ ہم پر امید ہیں کہ شاید طالبان کی قربانیاں قبول ہو جائیں اور عالم اسلام صلیبیوں کے ہاتھوں اپنی اجتماعی بربادی سے بچ جائے۔

حالات و مشاہدات