عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟

حافظ محمد عمار خان ناصر

عیسائیوں کی کتب مقدسہ کے مجموعہ کو ’’بائیبل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دو اجزاء میں منقسم ہے۔ ایک کو عہد نامہ قدیم (اولڈ ٹسٹامنٹ) اور دوسرے کو عہد نامہ جدید (نیو ٹسٹامنٹ) کہا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام کے ایمان کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ’’انجیل‘‘ نام کی ایک کتاب نازل کی تھی اس نے شریعت موسویٰ ؑ کے احکام میں تبدیلیاں کیں (سورہ آل عمران ۵۰)۔ آج کی اناجیل اربعہ (متی، لوقا، مرقس اور یوحنا) اور دیگر کسی بھی موجودہ انجیل کو ’’اصل انجیل‘‘ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تحریریں حضرت مسیح ؑ کی سوانح عمری پر مشتمل ہیں۔ پادری ولیم میچن لکھتے ہیں کہ:

’’اناجیل اربعہ ۔۔۔۔۔ میں جناب مسیح کی سوانح عمری اور تعلیم مرقوم ہے‘‘۔ (رسالہ تحریف انجیل و صحت انجیل ص ۵)

اور ’’المنجد فی الاعلام‘‘ کا عیسائی مصنف انجیل کا تعارف یوں کرواتا ہے:

والاناجیل مجموعۃ اعمال المسیح واقوالہ۔ (ص ۳۸)

’’اناجیل مسیح ؑ کے اقوال و اعمال (سوانح عمری) کا مجموعہ ہیں۔‘‘

ہمارا اعتقاد ہے کہ عیسائیوں کی موجودہ اناجیل قرآن کی تصدیق کردہ انجیل نہیں ہیں۔ مسیحیوں کے موجودہ عقائد حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہب مسیحی ؑ اور اناجیل پر ایک نظر ڈال لیں۔

عیسائی مذہب کا بانی کون؟

عیسائیوں کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ عیسائی مذہب کے بانی حضرت مسیح ؑ ہیں۔ درحقیقت اس مذہب کا بانی ’’پولوس‘‘ ہے۔ عہد جدید میں چودہ خطوط اس کے نام منسوب ہیں۔ یہ شخص ایک یہودی تھا جو کافی عرصہ عیسائیوں کو تکلیف اور ایذا دینے کے بعد حضرت مسیح ؑ پر ایمان لے آیا، یہ حضرت مسیح ؑ کا باقاعدہ شاگرد نہیں تھا۔ چنانچہ پادری جے جے لوکس اعتراف کرتے ہیں کہ:

’’وہ اور رسولوں کی مانند مسیح کے ساتھ نہیں رہا، نہ مسیح سے اوروں کی طرح تعلیم پائی، نہ دوسرے رسولوں کی طرح بلایا گیا‘‘۔ (کرنتھیوں کے پہلے خط کی تفسیر مطبوعہ ۱۹۵۸ تفسیر ص ۲)

اس صورتِ حال میں چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لانے کے فورً‌ا بعد حضرت مسیح ؑ کے نائبوں کے پاس جاتا اور ان سے تعلیم و تربیت پاتا لیکن ہوا یہ کہ ایمان لانے کے فورً‌ا بعد تین سال کے لیے عرب چلا گیا اور وہاں سے واپس آ کر یروشلم میں صرف پندرہ دن پطرس کے پاس رہا اور پھر تبلیغ کے لیے نکل کھڑا ہوا اور عوام میں بلند ترین مقام حاصل کرنے میں بہت جلد کامیاب ہو گیا۔ اپنی مقبولیت کے ضمن میں لکھتا ہے:

’’تم نے ۔۔۔۔ خدا کے فرشتہ بلکہ مسیح یسوع کی مانند مجھے مان لیا ۔۔۔۔ اگر ہو سکتا تو تم اپنی آنکھیں بھی نکال کر مجھے دے دیتے‘‘۔ (گلتیوں ۴: ۱۴ و ۱۵)

اب اس شخص نے کیا کیا؟ ایسے ایسے گمراہ کن عقائد مسیحیت میں داخل کر دیے جن کا کہیں سے ثبوت نہیں ملتا۔ الوہیت مسیح، موروثی گناہ، کفارہ وغیرہ کا ذکر سب سے پہلے اس کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ پادری جے پیٹرسن اسمتھ کا یہ جملہ نہایت قابل غور ہے کہ

’’سب سے پہلے مسیحی صحیفے پولوس کے خطوط تھے‘‘ (حیات و خطوط پولس مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۱۳۸)

اور اسی مصنف کی اس صفحہ پر تصریح ہے کہ پولوس کے خطوط لکھنے کا سلسلہ ۵۰ء میں شروع کیا جا چکا تھا اور ان کے الفاظ یہ ہیں کہ:

’’ہماری اناجیل میں سے ایک بھی کتاب اس وقت سے بیس سال تک ضبطِ تحریر میں نہ آئی‘‘۔ (ایضًا)

یہودیت ایک محدود اور نسلی مذہب تھا۔ حضرت عیسٰی ؑ کی بعثت کا مقصد صرف بنی اسرائیل کو ہدایت کرنا تھا، چنانچہ آپ کا فرمان انجیل متی میں یوں مرقوم ہے کہ:

’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے لیے نہیں بھیجا گیا‘‘۔ (۱۵: ۲۴)

یہ رہا اناجیل مروجہ اور مسیحی علماء کا موقف جو انجیل برنباس میں مرقوم ہے:

’’میں نہیں بھیجا گیا مگر صرف اسرائیل کی قوم کی جانب‘‘۔ (۲۱: ۲۱)

قرآن پاک نے فرمایا کہ آپ کی نبویت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی(آل عمران ۹)

مسیح ؑ نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ:

’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘۔ (متی ۱۰: ۶)

اور پادری لینڈرم لکھتے ہیں:

’’مسیح نے خود صرف بنی اسرائیل کے لیے کام کیا اور اپنی دنیاوی زندگی کے وقت اپنے شاگردوں کو صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا‘‘۔ (مسیحی تعلیم کا خلاصہ مصنفہ پادری رابرٹ اے لینڈرم، مترجمہ پادری ولیم میچن، مطبوعہ ۱۹۲۶ء ص ۱۲۳)

ادھر پولوس نے دین مسیح کے نام پر غیر اقوام کو تعلیم دی۔

’’تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا، مسیح کو پہن لیا، نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی، نہ کوئی غلام نہ آزاد، نہ کوئی مرد نہ عورت، کیونکہ تم سب مسیح یسوع میں ایک ہو‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۲۶ و ۲۷)

جن غیر یہودیوں کو مسیح ؑ کتا (انجیل متی ب ۱۵) اور کتے کو ان سے افضل (انجلی برنباس ۲۲: ۲) بتا رہے ہیں وہ سب مسیح میں ایک ہو گئے، سارے امتیازات رفع ہو گئے۔ پادری واکر صاحب کا یہ قول بھی سند کو مضبوط تر کر دیتا ہے کہ:

’’مسیحی جماعت کے لیے خطرہ تھا کہ وہ محض ایک یہودی فرقہ نہ بن جائے لیکن پولس کی کوششوں سے عالمگیر کلیسیا بن گئی‘‘۔ (تفسیر بر اعمال کی کتاب، مطبوعہ ۱۹۵۹ء ص ۲۳)

ایک جانب تو پولس نے کلیسیا کو عالمگیر بنایا، دوسری جانب اس نے ایک اور گُل بھی کھلایا۔ مسیح علیہ السلام شریعت موسوی ؑ کے تابع تھے، بائیبل میں قول مسیح ہے:

’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے مسیح کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک کہ سب کچھ پورا نہ ہو جائے پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھلائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو اُن پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا‘‘۔ (انجیل متی ۵: ۱۷، ۱۸، ۱۹)

ایک جانب تو شریعت کی یہ فضیلت و منقبت، دوسری جانب پولس کہتا ہے کہ:

’’پہلا حکم (توریت یا شریعت) کمزور اور بے فائدہ ہونے کے سبب سے منسوخ ہو گیا‘‘۔ (عبرانیوں ۷: ۱۸)

پادری اسمتھ لکھتے ہیں کہ:

’’یہودی مسیحی (مختون لوگ) یہ سمجھتے تھے کہ مسیحیت درحقیقت یہودیت کی ایک بہتر اور پاک تر شکل ہے۔ عین اس موقع پر انقلاب پسند پولوس وارد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ شریعت صرف ایک محدود وقت کے لیے تھی، اس کا کام محض لوگوں کو مسیح کی بادشاہت کے لیے تیار کرنا تھا‘‘۔ (حیات و خطوط پولس، مصنفہ پادری جے پیٹرسن اسمتھ، مترجمہ پادری ایس این طالب الدین، مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۸۲، ۸۳)

ہم قارئین کے لیے پولس کے ان اقوال کو نقل کرتے ہیں جو اس نے شریعت کی ’’شان‘‘ میں کہے:

(۱) ’’جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۰)

(۲) ’’اب جو تم نے خدا کو پہچانا بلکہ خدا نے تم کو پہچانا تو ان ضعیف اور نکمی ابتدائی باتوں (شریعت) کی طرف کس طرح پھر رجوع کرتے ہو جن کی دوبارہ غلامی چاہتے ہو‘‘۔ (گلتیوں ۴: ۹)

(۳) ’’مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۴)

(۴) ’’ایمان کے آنے سے پیشتر شریعت کی ماتحتی میں ہماری نگہبانی ہوتی تھی اور اس کے ایمان کے آنے تک جو ظاہر ہونے والا تھا ہم اسی کے پابند رہے۔ پس شریعت مسیح تک پہنچانے کو ہمارا استاد بنی تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہریں مگر جب ایمان آچکا تو ہم استاد کے ماتحت نہ رہے‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۲۳ و ۲۴)

ختنہ کرانا شریعت کا ایک ناقابل تردید حکم تھا، خود مسیح کا ختنہ ہوا۔ پولس نے بھی اپنے مختون ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پھر آج کل کے مسیحی ختنہ کے کیوں مخالف ہیں؟ دراصل وہ پولس کی پیروی میں مارے گئے۔ پولس کا فلسفہ ہے کہ

(۵) ’’اگر تم ختنہ کراؤ گے تو مسیح میں تم کو کچھ فائدہ نہ ہو گا‘‘۔ (گلتیوں ۵: ۲)

(۶) ’’تم جو شریعت کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرنا چاہتے ہو مسیح سے الگ ہو گئے اور فضل سے محروم‘‘۔ (گلتیوں ۵: ۴)

(۷) ’’شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا اور شریعت کو ایمان سے کچھ واسطہ نہیں‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۱، ۱۲)

پیغامِ مسیح ؑ تو فقط یہودیوں کے لیے اور شریعتِ موسوی ؑ کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ پولوس کے مذکورہ رویہ سے شاگردانِ مسیح ؑ اور پولوس کی راہیں جدا جدا ہو گئیں، پادری بلیکی لکھتے ہیں:

’’رسولوں کے زمانہ میں مسیحی کلیسیا کی تاریخ، جو شاخوں میں منقسم ہو جاتی ہے، ان میں ایک قوم یہود ہے اور دوسری غیر اقوام سے وابستہ ہے۔ یہودی تاریخ کی شاخ دوبارہ رسولوں سے علاقہ رکھتی ہے اور غیر قوموں کی تاریخ زیادہ تر پولوس کی حرکات سے وابستہ ہے۔ کتاب اعمال کا پہلا حصہ پہلی شاخ کا بیان قلمبند کرتا ہے اور باقی ماندہ حصہ دوسری شاخ کا‘‘۔ (تواریخ بائبل، مصنفہ پادری ولیم جی بلیکی ڈی ڈی، مترجمہ پادری طالب الدین، مطبوعہ ۱۹۵۵ء ص ۵۲۵)

اس ضمن میں انجیل برنباس کا بیان حسبِ ذیل ہے:

’’عزیزو! بے شک خدائے عظیم عجیب نے اس پچھلے زمانہ میں اپنے نبی یسوع مسیح کی معرفت ہماری خبر گیری اپنی بڑی مہربانی سے کی۔ ان آیتوں اور اس تعلیم کے بارہ میں جس کو شیطان نے تقوی کے نمائشی دعوے سے بہت سارے آدمیوں کو گمراہ بنانے کا ذریعہ ٹھہرا لیا ہے، وہ سخت کفر کی منادی کرنے والے ہیں۔ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ختنہ کرانے سے انکار کرتے ہیں جس کا خدا نے ہمیشہ حکم دیا ہے۔ ہر نجس گوشت کو جائز بتلاتے ہیں۔ یہ ایسے آدمی ہیں کہ ان کے شمار میں پولس بھی گمراہ ہوا۔ وہ کہ اس کی نسبت جو کچھ کہوں افسوس ہی سے کہتا ہوں۔ اس کی وجہ سے میں اس حق کو لکھ رہا ہوں جیسے کہ میں نے اس اثنا میں دیکھا ہے جب کہ میں یسوع کی رفاقت میں تھا۔ اور یہ اس لیے لکھتا ہوں تاکہ تم چھٹکارا پاؤ اور شیطان تم کو ایسا گمراہ نہ کرے کہ اس گمراہی سے تم خدا کا دین قبول کرنے میں ہلاک ہو جاؤ‘‘۔ (انجیل برناباس، مقدمہ آیت ۲ تا ۷)

اس اقتباس کے سیاق میں (اعمال ۱۵: ۳۶ تا ۴۱) اور (گلتیوں ۲: ۱۱ تا ۱۴) پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ پولس برناباس اور پطرس کے درمیان غیر قوموں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ مختصرً‌ا یہ کہ برنباس اور پولس پہلے اکٹھے تبلیغ کے لیے جاتے رہے۔ ان کا ایک ساتھی ’’یوحنا مرقس‘‘ تھا، ایک سفر کے دوران یہ رستے ہی سے واپس آگیا۔ جب دوبارہ سفر کا موقعہ آیا تو لوقا بیان کرتا ہے کہ دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور اس جھگڑے کی وجہ ’’یوحنا مرقس‘‘ تھا۔ برنباس اسے ساتھ لے جانا چاہتا تھا جبکہ پولس کا موقف یہ تھا کہ ہمیں ایک بے وفا شخص کو ساتھ نہ لے جانا چاہیئے۔ اس پر ان میں ایسی سخت تکرار ہوئی کہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے (اعمال ۱۵: ۳۹)۔ اس کے بعد اعمال کی کتاب میں برنباس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ پادری جے پیٹرسن اسمتھ اس واقعہ کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ وہ اس جھگڑے کے بعد کبھی نہ ملے (ایضًا ص ۹۰)۔

مذاہب عالم

(مارچ ۱۹۹۰ء)

مارچ ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۳

اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مولانا عزیر گلؒ
عادل صدیقی

مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نظامِ خلافت کا احیاء
مولانا ابوالکلام آزاد

حرکۃ المجاہدین کا ترانہ
سید سلمان گیلانی

عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اخلاص اور اس کی برکات
الاستاذ السید سابق

چاہِ یوسفؑ کی صدا
پروفیسر حافظ نذر احمد

شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

عصرِ حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ
حافظ محمد اقبال رنگونی

اسلامی نظامِ تعلیم کے خلاف فرنگی حکمرانوں کی سازش
شریف احمد طاہر

حدودِ شرعیہ کی مخالفت - فکری ارتداد کا دروازہ
مولانا سعید احمد عنایت اللہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

قافلۂ معاد
ادارہ

آپ نے پوچھا
ادارہ

Flag Counter