تعارف کتب

ادارہ

ڈاکٹر مراد ولفورڈ ہوف مین کے خطبات

ڈاکٹر مراد ولفورڈ ہوف مین معروف جرمن دانشور ہیں جو جرمن وزارتِ خارجہ کے اہم عہدوں کے علاوہ نیٹو کے ڈائریکٹر انفارمیشن اور مراکش میں جرمنی کے سفیر کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کے بعد مغرب میں اسلام کے تعارف، اور اسلام اور مغرب کے درمیان موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالہ سے مسلسل اظہار خیال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سالِ رواں کے دوسرے ماہ میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی دعوت پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں انہی عنوانات پر چار لیکچر ارشاد فرمائے جن کا اردو ترجمہ انسٹیٹیوٹ آف پالیس اسٹڈیز نے اپنے سہ ماہی جریدہ ’’مغرب اور اسلام‘‘ کی خصوصی اشاعت میں شائع کر دیا ہے۔ یہ خطبات مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی و تہذیبی صورتحال اور مغرب اور عالمِ اسلام کی ثقافتی کشمکش کے تاریخی و معروضی پس منظر کو سمجھنے کے لیے بہت مفید ہیں اور دینی تحریکات کے کارکنوں کو ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس شمارہ کی قیمت پینسٹھ روپے ہے اور بک ٹریڈرز بلاک ۱۹ مرکز ایف سیون اسلام آباد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

چند نئے نصابی کتابچے

مولانا محمد اکرم ندوی ہمارے فاضل دوست ہیں، آکسفورڈ میں مقیم ہیں اور آکسفورڈ فار اسلامک اسٹڈیز میں علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے آج کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کے لیے مختلف علوم و فنون میں بنیادی رسائل مرتب کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو خاصا مفید اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب تک مندرجہ ذیل کتابچے شائع ہوئے ہیں:

(۱) مبادی فی اصول التفسیر

(۲) مبادی فی اصول الحدیث والاسناد

(۳) مبادی فی علم اصول الفقہ

(۴) مبادی التصریف

(۵) مبادی النحو

ان رسائل میں مذکورہ علوم کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کے ضروری مباحث کو ابتدائی درجہ کے طلبہ کے لیے عربی میں آسان انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ اور ہمارے خیال میں ان علوم میں بڑی کتابوں سے قبل ان کتابچوں کی تدریس طلبہ کو ذہنی طور پر ان علوم و فنون کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی استعداد میں اضافہ کا باعث بھی ہوں گے۔ اس لیے دینی مدارس کو ان سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان رسائل کے حصول کے لیے مولانا محمد اکرم ندوی سے مندرجہ ذیل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:

34 Cranley Road Headington, Oxford, OX3 8BW, (UK)

جوابِ مقالہ

ایک مجلس میں تین طلاقوں کے واقع ہونے کے بارے میں جمہور فقہاء اور سلفی حضرات کے درمیان مناقشہ صدیوں سے جاری ہے۔ چاروں فقہی مذاہب کے جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ صراحتاً تین طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں، مگر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور ان کے پیروکاروں کا موقف تین طلاقوں کی صراحت میں بھی ایک طلاق واقع ہونے کا ہے۔

اس سلسلہ میں گوجرانوالہ کے اہلِ حدیث عالمِ دین مولانا محمد امین نے ’’مقالہ‘‘ کے عنوان سے اپنے دلائل پیش کیے ہیں اور جمہور فقہاء کے موقف کی تغلیط کے لیے دلائل دیے ہیں۔ جس کے جواب میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذِ حدیث مولانا حافظ عبد القدوس قارن نے ’’جوابِ مقالہ‘‘ کے عنوان سے ان کے دلائل کا جواب دیا ہے اور جمہور فقہاء کے موقف کو قرآن و سنت اور ائمہ عظام کی تصریحات کے ساتھ واضح کیا ہے۔ ۱۷۲ صفحات پر مشتمل اس کتابچہ کی قیمت ۳۵ روپے ہے اور اسے عمر اکادمی نزد گھنٹہ گھر گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اپنے دور کے عظیم مجاہد اور عارف باللہ تھے جنہوں نے سلوک و احسان کی مسند آباد کرنے کے ساتھ ساتھ فرنگی استعمار کے خلاف جہاد میں بھی حصہ لیا اور ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے۔ حضرت حاجی صاحبؒ کو علماء دیوبند کے سب سے بڑے روحانی بزرگ اور پیشوا کا درجہ حاصل ہے اور علماء دیوبند سے ہٹ کر اس دور کے دیگر بڑے بڑے علماء اور مشائخ بھی حضرت حاجی صاحبؒ کے ساتھ تعلقِ ارادت رکھتے تھے۔

ہمارے فاضل دوست حافظ محمد اقبال رنگونیؒ نے حضرت حاجی صاحبؒ کے حالات اور ارشادات و فرمودات کے حوالہ سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مواعظ اور تحریرات میں سے ایک جامع اور خوبصورت انتخاب زیرنظر کتابچہ میں پیش کیا ہے۔ ۱۳۶ صفحات کے اس کتابچہ کی قیمت دو برطانوی پونڈ ہے اور اسے مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے:

Islamic Academy, 19 Chorltonterrece, Off Upper Brook Street, Manchester 13, (UK)

صحت اور جدید ریسرچ

حاصل پور کے جناب محمد زاہد راشدی نے انتہائی عرق ریزی اور محنت کے ساتھ اس موضوع پر معلومات کا ایک بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے کہ اسلامی عبادات، تعلیمات اور اخلاقی اقدار میں انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی امراض کا مؤثر علاج پوشیدہ ہے، اور اسلام ایسا دینِ فطرت ہے جس کے احکام و تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کر کے انسان نہ صرف اخروی نجات سے بہرہ ور ہوتا ہے بلکہ اس دنیا میں بھی ذہنی پریشانیوں، جسمانی بیماریوں اور اخلاقی ناہمواریوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے، اور انسانی معاشرہ کے پاس اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے اسلام کی ان فطری تعلیمات کی طرف واپسی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سوا چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب دارالمطالعہ بالمقابل جامع مسجد بازار والی حاصل پور ضلع بہاولپور نے عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت جلد کے ساتھ پیش کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو ساٹھ روپے ہے۔

قادیانیت پر دو معلوماتی کتابیں

جناب محمد طارق رزاق جس تندہی اور جوش و جذبہ کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے محاذ پر سرگرم عمل ہیں وہ بلاشبہ لائقِ رشک ہے۔ اور بعض مضامین و رسائل کی زبان اور اسلوب میں بے جا تندی و تلخی کے احساس کے باوجود ان کی مسلسل محنت پر ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے ان کی دو نئی کتابیں ہیں۔

ایک میں ’’جنہیں ختمِ نبوت سے عشق تھا‘‘ کے عنوان سے انہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کام کام کرنے والے مشائخ، علماء اور کارکنوں کے اس مشن کے ساتھ جذب و کیف کے واقعات کو جمع کیا ہے۔ اور دوسری کتاب میں ’’قادیانی غداروں کی تلاش‘‘ کے عنوان سے انہوں نے اسلام اور پاکستان کے خلاف مختلف مواقع پر قادیانی حضرات کی سازشوں کے بارے میں مفید معلومات کو یکجا کیا ہے۔ دونوں کتابوں کے صفحات دو سو سے زائد ہیں اور طباعت و کتابت نیز جلد معیاری ہے اور دونوں کی قیمت ۹۰، ۹۰ روپے ہے جو عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان سے طلب کی جا سکتی ہیں۔

تعارف و تبصرہ

(دسمبر ۲۰۰۰ء)

تلاش کریں

Flag Counter