اکتوبر ۲۰۱۷ء

ظلم و جبر کے شکار مسلمان۔ حکمت عملی کیا ہو؟

― محمد عمار خان ناصر

دور جدید کے سیاسی تغیرات کو گہرائی کے ساتھ نہ سمجھنے یا انھیں بطور ایک امر واقعہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے مذکورہ تنازعات سے دلچسپی اور مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے بعض عناصر میں حکمت عملی کے حوالے سے جو عمومی رجحان پیدا ہوا، وہ پر تشدد تصادم کا رجحان تھا اور اسے دور جدید سے ماقبل کے سیاسی تصورات یا کچھ مذہبی ہدایات کے تناظر میں ایک آئیڈیل حکمت عملی تصور کیا گیا۔ اس کی ابتدا پہلے مقامی سطح پر، پر تشدد تحریکوں کی صورت میں ہوئی اور پھر جب تجربے سے یہ واضح ہوا کہ اصل مقابلہ مقامی سیاسی طاقتوں سے نہیں، بلکہ پورے عالمی سیاسی نظام کے ساتھ ہے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۵)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۸) جنوب کا ترجمہ۔ جنوب، جنب کی جمع ہے، اس کے معنی پہلو کے ہیں، امام لغت فیروزآبادی لکھتے ہیں: الجَنْبُ والجانِبُ والجَنَبَۃُ، مُحَرَّکَۃً: شِقّْ الاِنْسانِ وغیرہِ، ج: جْنْوبٌ وجوانِبُ وجَنَائِبُ. القاموس المحیط۔ عربی میں پیٹھ کے لیے ظھر اور پہلو کے لیے جنب آتا ہے، مذکورہ ذیل آیت میں دونوں الفاظ ایک ساتھ ذکر کیے گئے ہیں: (۱) یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لأَنفُسِکُمْ فَذُوقُواْ مَا کُنتُمْ تَکْنِزُونَ۔ (التوبۃ: ۳۵)۔ ’’ایک دن آئے گا کہ اسی...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۳)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

۴۔ سنن ابی داود۔ ۱۔سنن ابی داود کی اہم ترین شرح معروف مصری عالم محمود محمد خطاب سبکی مالکی کی المنھل العذب المورود شرح سنن ابی داود ہے ، دس ضخیم جلدوں میں مصر سے چھپی ہے، ترتیب کے اعتبار سے نفیس شرح ہے۔ مصنف ہر حدیث کے تحت شرح السند،معنی،فقہ اور آخر میں حدیث کی تخریج کے عنوانات باندھ کر حدیث کی تشریح و توضیح کرتے ہیں۔یہ شرح نامکمل تھی، اس کا تکملہ مصنف کے صاحبزادے امین محمود سبکی نے فتح الملک المعبود کے نام سے چار جلدوں میں لکھا ہے۔ ۲۔ سنن ابی داود کی دوسری اہم شرح مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی بذل المجھود فی حل ابی داود ہے ۔ کتاب...

ترکی کی وزارت برائے مذہبی امور اور دینی وقف کا موضوعاتی حدیث منصوبہ: مختصر تعارف

― انعام الحق

اس تحریر میں صرف منصوبے اور کتاب کے تعار ف پر اکتفا کیا گیا ہے، تفصیلی نقد وتبصرہ ان شاء اللہ مستقبل میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس تعارف کے لیے تین مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے: (۱) HIKEM ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ: http://www.hikem.net/index.html۔ (۲) مطبوعہ کتاب اور (۳) اس کی ویب سائٹ : http://hadislerleislam.diyanet.gov.tr۔ ترکی وزارت مذہبی امور ، اور دینی اوقاف کی جانب سے ۲۰۰۶ میں موضوعاتی حدیث منصوبے پر کام شروع کیا گیا، اور اس کی تکمیل ۲۰۱۳ء میں ہوئی۔ اس منصوبے کی مختصر روداد و تعارف قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔ شرح حدیث کے باب میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد منصوبہ جس کو "موضوعاتی...

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۱)

― مولانا عبید اختر رحمانی

تمہید: احناف پر مختلف قسم کے اعتراض کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک توہین صحابہ یاصحابہ کی تنقیص کا بھی اعتراض ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ بعض فقہائے احناف نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیر معروف یاغیرفقیہ کہاہے، اس سے انہوں نے یہ نتیجہ استخراج کرلیاکہ کسی صحابی کو غیرفقیہ کہنا ان کی توہین وتنقیص ہے؛ چونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی قدر کو بعض مستشرقین اورآزاد خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایاہے، اس بناء پربعض حضرات اس طرح کا تاثرپیش کرنے لگے کہ ایسے تمام لوگ جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پرطعن وتشنیع کیا ہے، ان کو...

یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ

― ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

انڈیا میں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔ بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملاً ہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے۔ ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں...

برما میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

― ڈاکٹر قبلہ ایاز

میانمار (برما) کے 12 لاکھ آبادی پر مشتمل روہنجیا مسلمانوں کا قضیہ عرصہ دراز سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آتا رہتا ہے۔ کبھی اس کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور کہیں یہ عدم توجہی کا شکار بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اور بہت سارے مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی سطحی اور جذباتی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روہنجیا مسلمان میانمار (برما) میں بہت مشکل وقت گزار رہے ہیں اور میانمار کی آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کی حکومتوں نے روہنجیا لوگوں کے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔...

مظلوم کی مدد کیجیے، لیکن کیسے؟

― ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

روہنگیا مظلوموں پر ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر خوش آئند ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ تاہم کئی پہلووں سے تشنگی محسوس ہورہی ہے اور بعض پہلووں سے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے ہی چند امور یہاں سنجیدہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جاتے ہیں: سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا کے بارے میں حقائق کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ بالعموم ایک جذباتی فضا نظر آتی ہے جس کے زیر اثر ایک عمومی اتفاقِ رائے تو پایا جاتا ہے کہ ان پر شدید ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن حقائق اور اعداد...

اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمہ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے کہ بنگلہ دیش اسے...

اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث

― عاصم بخشی

(طلال اسد کے اپنے والد کے ساتھ مکالمے کی روشنی میں)۔ میدانِ صحافت میں روایتی مذہب پسند دوستوں کی رائج تعریفات کے مطابق دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کی تعریف و تعبیر اور اطلاق پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں جو حضرات کسی بھی نظریاتی گروہ کو ایک ٹھوس اکائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہیں درمیان میں ڈولتے رہنے کا نظریہ اپناتے ہوئے کچھ بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کے...