حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۱)

غازی عبد الرحمن قاسمی

تعارف

اس کائنات کی رنگ وبو میں بہت سے افراد واشخاص پید ا ہو ئے اور اپنی مقررہ زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے،ان کی وفات کے بعد ان کا ذکر کچھ عرصہ ہوا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ ان کے تذکرے ختم ہوگئے ،مگر کچھ ہستیاں اور شخصیات ایسی بھی گزر ی ہیں جن کی علمی کاوشوں ،مجتہدانہ صلاحیتیوں اوربلندپایہ استنبا ط واستدلال سے مزین کتب کی بدولت وہ آج بھی اہل علم کے حلقہ میں زندہ ہیں ۔ان کے بیان کردہ تحقیقی مضامین اسلامیات کے محقق کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان میں نمایاں نام مجد د الملت ،حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا ہے ۔آپ ۱۷۰۳ء میں پیدا ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ ؒ کو جو اطراف عالم میں شہرت عطافرمائی اس کی ایک اہم وجہ آپ ؒ کی علمی جلالت ہے ۔

آپ کی تحریروں میں اتقان وثقاہت اور تحقیقی وعلمی نکات پائے جاتے ہیں ۔اور اس کے ساتھ عوام الناس کی خیرخواہی،ان کی دینی اصلاح اور روحانی واخلاقی تربیت کا سامان بھی ملتاہے ۔آپ اپنے زمانہ کے بہترین عالم ومعلم تھے اور اتباع نبوی ﷺکے جذبہ سے سرشار تھے ۔شب وروز دین متین کی تبلیغ کے لئے وقف کررکھے تھے ۔بلا شک وشبہ آپ اپنے وقت کے مجدداعظم،مصلح اعلی اور حکیم دانا تھے ۔جو نہ صرف شریعت کے رمز شناس تھے بلکہ اپنے زمانہ کی عوام کے بھی نبض شناس تھے ۔آپ کے علمی و عملی کمالات کے اتنے گوشے ہیں کہ ہرایک مستقل تصنیف کا محتاج ہے۔شریعت اسلامیہ کی خدمت اور عوام الناس کی بہبود واصلاح کے لیے آپ ؒ نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور نہایت قیمتی و تحقیقی تصانیف بطور یاددگار کے چھوڑیں۔جن میں سے شہرہ آفاق اور معرکۃ الآرا تصنیف’’ حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ہے۔اس کتاب میں آپ ؒ کا منہج واسلو ب کیاتھا ۔؟اس پر تفصیلی بحث مابعد السطور میں آرہی ہے ۔

حجۃ اللہ البالغہ کاموضوع اور مضامین

’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کابنیادی موضوع احکام شریعت کی مصالح وحکمتیں اور ان کے اسرار ہیں ۔

’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں فنی لحاظ سے آپ نے متعدد مضامین کو بیان کیاہے جن میں تعلیمات ربانی ، عقائد،احادیث، فقہ،اصول فقہ،عبادات و معاملات ،اخلاقیات،تمدن وتہذیب ،سیاسیات،کسب معیشت کے طریقے ،تدبیر منزل، خلافت وقضا ،جہاد ،آداب صحبت ،معاشرت ،فتن ، حوادث مابعد ،اور علامات قیامت وغیرہ کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔اورا ن مختلف موضوعات وابواب کے اسرار و مقاصد اس طرح بیان کیے ہیں کہ ان مسائل کا تعلق انسانی زندگی سے مربوط نظر آتاہے ۔اور احکا م شرعیہ کی حکمتیں اور اسر ار وبھید عقلی ونقلی دلائل سے بیان کیے ہیں ۔

یہ کتاب دو بڑے حصوں میں منقسم ہے پہلاحصہ اوامر ونواہی کے مفید اصولوں پر محیط ہے اور اس میں سات مباحث ہیں اور ان میں بھی ہر بحث متعدد ابواب میں بیان ہوئی ہے ۔اور دوسرے حصہ میں اسلامی احکام کی عقلا تعبیر وتشریح کی گئی ہے جن میں پیش نظر فقہی موضوعات کی ترتیب ہے ۔

حجۃ اللہ البالغہ کی خصوصیات

شاہ صاحب ؒ کی یہ عظیم الشان تصنیف اپنے موضوع پر جدت اور ندرت کا عنصر لیے ہوئے ہے ۔اس کے صرف ادبی اسلوب کو اگر زیر بحث لایا جائے تو اس پر مستقل ایک مقالہ کی ضرورت ہے ۔اور جن دلائل وبراہین سے آپ نے استدلال کیاہے اگر صرف اس استنباط واستدلال پرغوروفکر کیا جائے تو یہ بھی بڑے اعلی درجے کا کام ہوگا ۔اور دینی واسلامی فکر کو جس انداز میں آپ نے پیش کیاہے اگر اس پر بات کی جائے تو آپ ؒ کا یہ ایساکارنامہ ہے جو آپ ؒ کو عالم اسلام کی ان شخصیات میں شامل کرتا ہے جن پر تاریخ اسلام کو فخر ہے ۔

جب سے یہ کتاب منصہ شہود پر آئی ہے ہر دور میں اس کی درس وتدریس کے سلسلے جاری رہے اور اس سے راہنمائی حاصل کی جاتی رہی ۔جو عربی زبان وادب سے شغف رکھنے والوں کے لیے نہ صرف ذوق تسکین کا باعث ہے بلکہ اہل علم کے لیے بھی ایک ایسی دوا ہے جو فکری اور عقلی راستوں میں شکوک وشبہات کے زہریلے کانٹوں بھرے میدانوں سے گزرتے وقت تریا ق کا باعث ہے ۔تشنگان علوم اسلامیہ کے لیے ایک ایسا جام ہے جو ایک دفعہ اس کا ذائقہ چکھ لیتاہے وہ اس کی حلاوت سے مخمور نظر آتاہے ۔

اسلوب کتاب

’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘میں اک نیا اسلوب اور منفرد طرز تحریر سامنے آیاہے ،جو جامعیت ،زوربیان ،تحکم واعتماد اور فصا حت وبلاغت کا شاہ کار ہے ۔جس میں انشاء کا ایک خاص انداز ہے جو پوری کتاب پر چھا یا ہوا ہے ۔مختصر اور جامع کلمات کے استعمال کے ساتھ ایسی خوبصورت تراکیب ومحاوارت اور استعارات وتشبیہات اور تمثیلات سے کام لیا گیا ہے جن میں اک خاص توازن واعتدال ہے ۔

حجۃ اللہ البالغہ کے مطالعہ سے شاہ صاحب ؒ کاجومنہج واسلوب بیان سامنے آتاہے اس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

۱۔متعدد مقامات پر بصیغہ امر استعمال کرتے ہوئے ’’ اِعْلَم‘‘ (جان لیجئے )سے بات شروع کرتے ہیں ۔۲۰۰سو سے زائد مقامات پر’’ اِعْلَم‘‘ کو لائے ہیں ۔جس کا مقصد مخاطب کو متوجہ کرکے اہم فوائد ونکات بیان کرنا ہوتاہے ۔

عصرحاضر میں تحقیق کرنے والے محقق کو نگران مقالہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوتی ہے کہ وہ مقالہ لکھنے سے پہلے اپنا میدان منتخب کرے، کہ کس شعبہ میں اسے مناسبت ہے اوروہ زیادہ بہتر کام کرسکتاہے ۔ اسی کے مطابق وہ موضوع کاانتخاب کرے اور مسائل کو زیر بحث لاتے ہوئے مقالہ تحریر کرے ۔یہی بات شاہ صاحب نے اپنے خاص انداز اِعْلَم (جان لیجئے )سے شروع کی ہے ۔ لکھتے ہیں:

فاعلم ان لکل فن خاصۃ ولکل موطن مقتضی فکما انہ لیس لصاحب غریب الحدیث ان یبحث عن صحۃ الحدیث وضعفہ ولا لحافظ الحدیث ان یتکلم فی الفروع الفقھیہ وایثار بعضھا علی بعض فکذالک لیس للباحث عن اسرار الحدیث ان یتکلم بشئی من ذلک انما غایۃ ھمتہ ومطمح بصرہ ھو کشف السر الذی قصدہ النبی ﷺ فیما قال سواہ بقی ھذاالحکم محکما او صار منسوخا او عارضہ دلیل آخر فوجب فی نظر الفقیہ کونہ مرجوحا نعم لا محیص لکل خائض فی فن ان یعتصم باحق ما ھنالک بالنسبۃ الی ذالک الفن (۱)
’’جان لیجئے ہرفن کی ایک خاصیت اور ہر جگہ کا کوئی مقتضی ٰ ہوتاہے ۔پس جس طرح یہ بات کہ فن غریب الحدیث کے مصنف کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حدیث کی صحت و ضعف کو زیر بحث لائے ،اور نہ حافظ الحدیث کے لیے مناسب ہے کہ وہ فقہی مسائل کے بارے میں اور بعض احادیث کو بعض پر ترجیح دینے کے لیے کلام کرے ، پس اسی طرح حدیث کے اسرار سے بحث کرنے والے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان میں سے کسی بھی چیز کے بارے میں کلام کرے ،اس کی پوری توجہ اور اس کے پیش نظر اس راز کو ہی کھولنا چاہیے جس کا نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد میں قصد فرمایاہے ۔عام ازیں وہ وہ حکم محکم باقی ہو ،یا منسوخ ہوگیا ہو ،یااس کے معارض کوئی اوردلیل آگئی ہو جس کی وجہ سے مجتہد کی نظر میں وہ روایت مرجوح قرار پائی ہوالبتہ یہ ضروری ہے کسی بھی فن میں داخل ہونے والے کے لیے کہ وہ اس چیزکو پکڑے جو اس فن میں سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے ۔‘‘

شاہ صاحب نے ایک بہت اہم فائدہ بیان کیاہے کہ ہرفن کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور ہر مقام کا اپنا تقاضا ہوتاہے ۔اسی کے مطابق مسائل کو زیر بحث لانا چاہیے ۔یعنی محد ث کاکام ہے احادیث بیان کرنا اگر وہ فقیہ نہیں ہے اور فتوی نویسی کے فرائص سرانجام دینا شروع کردے تو اس کانتیجہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔اور اسی طرح فقیہ کاکام مسائل کااستخراج اور احکام کااستنباط ہے وہ اپنا کام چھوڑ کر غریب الحدیث پر توجہ شروع کردے تو اس کا بھی فائدہ نہیں ہوگا ۔علی ہذاالقیاس احکام اسلام کی مصالح اورحکمتیں بیان کرنے والے کوبھی اپنے موضوع پر توجہ کرنی چاہیے۔اور اسی طرح اگر کوئی کسی فن پر کام کررہاہو اور دوسرے فن کی طرف مراجعت کی نوبت آئے تو اس فن کی قابل اعتماد اور راجح باتوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ مثلاً فقہ پر کام کرتے ہوئے حدیث نقل کرنی ہے تو ان احادیث کا انتخاب کیا جائے جو صحیح اور قابل اعتماد ہیں ۔

۲۔ شاہ صاحب کئی مقامات پر صیغہ متکلم استعمال کرتے ہوئے ’’اَقُولُ‘‘ (میں کہتا ہوں)سے کلا م کرتے ہیں ۔اور ۲۷۵سے زائد مقامات پر اس کو لائے ہیں جس کے متعدد مقاصد ہوسکتے ہیں تاہم چند مقاصد کاذکر کیاجاتاہے ۔

۱۔ آیات قرآنیہ کی تفسیر ۔

۲۔ احادیث کی تشریح۔

۳۔ آیات میں مطابقت۔

۴۔ فقہی مسالک کے درمیان قرب پیدا کرنا ۔

آیت قرآنیہ کی تفسیر کی مثال :

ارشاد باری تعالی ہے:

( ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ) (۲)
’’وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہہ ہیں۔‘‘

شاہ صاحب اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اقول الظاہر ان المحکم مالم یحتمل الا وجھا واحد مثل:( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ)(۳) والمتشابہ ما احتمل وجوھا وانما المراد بعضھا کقولہ تعالی:( لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰت) (۴) حملھا الزائعون علی اباحۃ الخمر ما لم یکن یعنی او افساد فی الارض والصحیح حملھا علی شاربھا قبل التحریم (۵)
’’ میں کہتا ہوں آیت کے ظاہر اورواضح معنی یہ ہیں کہ محکم آیت وہ ہے جس کے اندر صرف ایک ہی وجہ کا احتمال ہو۔مثلا ’حرام کر دی گئیں تم پر تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں۔‘ اور متشابہہ آیت وہ ہے جس میں چند وجوہ کا احتمال ہو اور مقصود ومراد ان میں سے بعض وجوہ ہوں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ’جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکیجب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کئے۔‘اس آیت سے بعض کج فہموں نے خمروشراب کی اتنی مقدار مباح کردی جو زمین میں فساد اور شروفتنہ کے درجہ کو نہ پہنچے اور صحیح مطلب یہ ہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے حق میں ہے جو خمر وشراب کی حرمت سے پہلے شراب پیاکرتے تھے ۔‘‘

شاہ صاحب نے’’اَقُولُ‘‘ سے بات کا آغاز کیااور محکم ومتشابہ کی مع مثا ل وضاحت فرمائی اور ساتھ ہی ان لوگوں کی غلطی پر متنبہ کیا جنہوں نے آیت سے غلط مفہوم نکالا ۔

دوسری مثال

ارشاد باری تعالی ہے:

(وَمَنْ قَتَلَ مُوْمِنًا خَطًَا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّوْمِنَۃٍ ) (۶)
’’اور جس نے کسی مومن کو غلطی سے قتل کردیا تو ایک مومن غلام آزاد کرے۔‘‘

شاہ صاحب اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اقول انما وجب فی الکفارۃ تحر یر رقبۃ مومنۃ او اطعام ستین مسکینا لیکون طاعۃ مکفرۃ لہ فیما بینہ وبین اللہ فان الدیۃ مزجرۃ تورث فیہ الندم بحسب تضییق الناس علیہ والکفارۃ فیما بینہ وبین اللہ تعالی (۷)
’’میں کہتا ہوں اس قتل کے کفارہ میں مومن غلا م آزادکرنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلانا اس لیے واجب کیا گیا تاکہ اس کے اور اللہ کے درمیان یہ طاعت اس کے لیے گناہ مٹانے والی عبادت بن جائے ،بے شک دیت زجر کاذریعہ ہے وہ اس پر ندامت پیدا کرتی ہے لوگوں کی تنگی کے اعتبار سے اور کفارہ اس کے اور اللہ کے درمیان ندامت پیدا کرتاہے ۔‘‘

شاہ صاحب کے مذکورہ کلام سے معلوم ہوا کہ شریعت نے قتل خطا میں مومن غلام کا آزاد کرنا یا دوماہ کے روزے رکھنا بطور کفارہ اس لیے مقرر کیا تاکہ اس نیکی سے اس کاگناہ مٹ جائے ،کفارہ بندے اور اللہ کے درمیان ندامت کا معاملہ ہوتاہے ۔اور دیت اس لیے واجب کی کہ اس کا ادا کرنا عاقلہ کے ذمہ ہوتاہے اور وہ اس کے ساتھ خوب ڈانٹ ڈپٹ کامعاملہ کریں گے کہ تمہاری وجہ سے ہم سب مشکل میں پڑگئے ہیں ۔اس سے اسے شدید ندامت کا سامنا ہوتاہے اور وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا ۔

واضح رہے کہ شاہ صاحب نے قتل خطا کے کفارہ میں جو ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلانے کا ذکر کیاہے۔ یہ ان سے تسامح ہوا ہے اس لیے کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر ۹۲میں صرف اتنا ہے کہ مومن غلام آزاد کرے یا ساٹھ روزے رکھے ۔

حدیث کی تشریح کی مثال

حضورﷺکا ارشاد عالی ہے:

مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغَی بِہِ وَجْہُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَتَعَلَّمُہُ إِلَّا لِیُصِیبَ بِہِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا، لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَعْنِی رِیحَہَا (۸)
’’جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لیے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن، یعنی جنت کی ہوا۔‘‘

شاہ صاحب اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اقول یحرم طلب العلم الدینی لاجل الدنیا ویحر م تعلیم من یری فیہ الغرض الفاسد لوجوہ :منہا ان مثلہ لا یخلوغالبا من تحریف الدین الدنیا بتاویل ضعیف فوجب سد الذریعۃ ومنھا ترک حرمۃ القرآن والسنن وعدم الاکتراث بھا (۹)
’’ میں کہتا ہوں دنیا کے لیے دینی علم حاصل کرنا حرام ہے ۔اور اس شخص کو سکھانا بھی حرام ہے جو فاسد غرض رکھتاہے ۔اور ان میں سے یہ کہ اس طرح کا آدمی عام طور پر دنیا کمانے کے لیے کمزور تاویلات کے ذریعے دین کی تحریف سے باز نہیں آتا ،پس اس راستہ کا بند کرنا ضروری ہوا ۔اور ان حرمت کے اسباب میں سے دوسرایہ کہ ایسے شخص کو تعلیم دینا قرآن وسنت کا احترام نہ رکھنا ہے اور ان کی پروا ہ نہ کرناہے۔‘‘

معلوم ہوا حصول دنیا کے لیے دینی علم حاصل کرنا حرا م ہے اس لیے کہ ایسا شخص اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے باطل تاویلوں کا سہارا لے گا ۔اور ایسے شخص کو تعلیم دینا قرآن وسنت کے احترام میں کمی کا باعث ہے ۔

دوسری مثال

حضوراکرم ﷺنے فرمایا:

مَنْ سُءِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَہُ ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ القِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ (۱۰)
’’جس شخص سے ایسا سوال کیا گیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔‘‘

شاہ صاحب اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اقول یحرم کتم العلم عند الحاجۃ الیہ لانہ اصل التھاون وسبب نسیان الشرائع واجزیۃ المعاد تبنی علی المناسبات فلما کان الاثم کف لسانہ عن النطق جوزی بشبح الکف وھو اللجام من نار(۱۱)
’’میں کہتا ہوں ضرورت کے وقت علم چھپانا حرام ہے ۔اس لیے کہ وہ لاپروائی اور سستی کی جڑ ہے اور احکام شرعیہ کوبھولنے کا سبب ہے اور اخروی جزائیں مناسبتوں پرمبنی ہیں ۔پس جب بولنے سے زبان کو روکنا گناہ تھا تو وہ سزا دیا گیا روکنے کی شکل وصورت کے ذریعے اور وہ آگ کی لگام ہے ۔‘‘

شاہ صاحب کی اس تشریح سے تین اہم باتیں معلوم ہوئیں۔

(الف) علم چھپانا دین کی اشاعت سے لاپروائی برتناہے ۔اس لیے کہ ایسی صورت حال میں لوگ علم حاصل کرنا چھوڑدیں گے ۔

(ب) باتیں دہرانے سے یاد رہتی ہیں جب علم کو چھپایا جائے گا ،خرچ نہیں کیا جائے گا تو وہ رفتہ رفتہ بھول جائے گا۔ احکام شرعیہ کو بھلانا نقصان عظیم کا باعث ہے ۔

(ج) اخروی جزاوں کے بارے میں ضابطہ بیان کیاہے کہ وہ عمل کی جنس سے ہوتی ہیں یعنی عمل اور اس کی جزا میں مناسبت ہوتی ہے۔ چونکہ اس نے علم بیان کرنے کی بجائے زبان کو روکا اور منہ بند کیا ہے ۔جو کہ شریعت کی نظر میں گناہ ہے اس لیے آخرت میں اسی کی شکل وصورت میں بدلہ دیا جائے گا اوروہ یہی ہے کہ اس کے منہ پر آگ کی لگام چڑھائی جائے جس سے اس کامنہ بند ہوگا ۔ 

قرآنی آیات میں مطابقت کی مثال

قرآن کریم میں عورتوں کو پردہ کرنے کاحکم ہے ۔ارشاد ربانی ہے :

( یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَاءِ الْمُوْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُوْذَیْنَ )(۱۲)
’’اے نبی!اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں ۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر ستائی نہ جائیں گی۔‘‘

اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد ربانی ہے:

(وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسَْلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ) (۱۳)
’’جب تم ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔‘‘

اور سورۃ النور میں ارشاد ربانی ہے :

(قُلْ لِّلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ ) (۱۴)
’’ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں۔‘‘

اس آیت میں مردوں کو حکم دیا گیاہے کہ وہ نگاہیں نیچی رکھیں ،اگر عورتوں کے لیے پردہ اور حجاب کا حکم ہے تو پھر نگاہیں نیچی رکھنے کا کیامطلب ؟ 

چنانچہ آیات کے درمیان موافقت پیدا کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں :

اقول:۔۔۔۔واذاامر الشارع احد بشئی اقتضی ذلک ان یومر الاخر ان یفعل معہ حسب ذالک ،فلما امرت النساء بالتستر وجب ان یرغب الرجال فی غض البصر، وایضا فتہذیب نفوس الرجال لا یتحقق الا بغض الابصار ومواخدۃ انفسہم (۱۵)
’’اور جب شارع کسی کو کسی بات کا حکم دیتاہے تو وہ حکم تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے کو بھی حکم دیا جائے کہ وہ اس کے ساتھ اس حکم کے موافق معاملہ کرے پس جب عورتوں کو پردہ کرنے کاحکم دیا گیا تو ضروری ہوا کہ مرددں کو ترغیب دی جائے نظریں نیچی رکھنے کی اور نیز مردوں کے نفوس کا سنورنا متحقق نہیں ہوتا مگر نظریں جھکانے سے اور اپنے نفوس کو پکڑنے سے اس چیز کے ساتھ۔‘‘

شاہ صاحب ؒ نے شریعت اسلامیہ کا ایک بہت اہم اصول بیان کیاہے ۔جب کسی معاملہ کا تعلق دو افراد سے ہو اورشریعت اسلامیہ جب ایک شخص کو کسی بات کا حکم دیتی ہے تو اس حکم کا مقتضی یہ ہوتاہے کہ دوسرے فرد کو بھی ویسا حکم دیا جائے تاکہ وہ پہلے فرد کو دیے گئے حکم کے موافق عمل کرے ۔جب عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مردوں سے پردہ کریں تو ساتھ ہی مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھیں ۔نیز مردوں کے اپنے نفس کی تہذیب کا بھی اسی پر انحصار ہے کہ وہ عورتوں کو بلاوجہ نہ دیکھیں اور غض بصر کی پابندی کریں ۔ اور اپنے نفوس سے مواخذہ و باز پرس کریں ۔

اور اس قسم کی اور مثالیں بھی شریعت اسلامیہ میں موجود ہیں ۔جیسا کہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنا نکاح خود نہ کریں اولیاء کی وساطت سے تمام امور سرانجام ہونے چاہییں تو ساتھ ہی اولیاء کو بھی حکم دیدیا کہ عورتوں کی پسند وناپسند اور رضامندی معلوم کیے بغیر ان کا نکاح نہ کریں۔جیسا کہ آگے بحث آرہی ہے ۔اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے مردوں کے حقوق بیان کیے تو ساتھ ہی عورتوں کے حقوق بیان کیے ۔

ارشاد نبوی ﷺہے:

اَلَا إِنَّ لَکُمْ عَلَی نِسَاءِکُمْ حَقًّا، وَلِنِسَاءِکُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، فَاَمَّا حَقُّکُمْ عَلَی نِسَاءِکُمْ فَلَا یُوطِءْنَ فُرُشَکُمْ مَنْ تَکْرَہُونَ وَلَا یَاْذَنَّ فِی بُیُوتِکُمْ لِمَنْ تَکْرَہُونَ اَلَا وَحَقُّہُنَّ عَلَیْکُمْ اَنْ تُحْسِنُوا إِلَیْہِنَّ فِی کِسْوَتِہِنَّ وَ طَعَامِہِنَّ (۱۶)
’’جان لو کہ تمہارا تمہاری بیویوں پر اور ان کا تم پر حق ہے تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ان لوگوں کو نہ بٹھائیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو بلکہ ایسے لوگوں کو گھر میں داخل نہ ہونے دیں اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں بہترین کھانا اور بہترین لباس دو۔‘‘

فقہی مسالک کے درمیان تقریب کی مثال

فقہاء کے درمیان یہ مسئلہ بڑ ی شد ومد سے زیر بحث رہاہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر عاقلہ وبالغہ اپنا نکاح خود کرسکتی ہے یا نہیں؟

اس مسئلہ میں حنفیہ کا موقف یہ ہے کہ عاقلہ وبالغہ عورت ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کفو میں کرسکتی ہے۔(۱۷) امام مالک ؒ کے نزدیک اس قسم کانکاح جو ولی کی اجازت کے بغیر کیا جائے وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا۔(۱۸) اوردیگر جمہور فقہاء کے نزدیک ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوگا تاہم اگر کسی عورت نے ایسا کر لیا تو وہ ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا ۔اگر اس نے اجازت دیدی تو نکاح صحیح ہوگا وگرنہ جائز نہ ہوگا ۔(۱۹)

حنفیہ کے موقف سے معلوم ہوتاہے کہ ولی کی اجازت کے بغیرعاقلہ وبالغہ عورت اپنا نکاح کرسکتی ہے ۔جبکہ جمہور فقہاء کے مؤقف سے معلو م ہوا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوگا ۔احناف اور جمہور کے موقف میں بہت فاصلہ ہے ۔فقہاء کرام کی مذکورہ بالا بحث کے بعد اب شاہ صاحب کی کلام کو مد نظر رکھا جائے تو احناف اور جمہور فقہاء کی رائے میں فاصلہ کم ہوتا نظر آئے گا ۔جیسا کہ یہ بات پیچھے گزر گئی ہے کہ شاہ صاحب جب کوئی اہم بات یا فائد ہ بیان کرتے ہیں تو ’’اِعْلَم‘‘ سے بات شروع کرتے ہیں ۔چنانچہ اس معرکۃ الاراء مسئلہ میں ’’لا نکاح الا بولی‘‘کے تحت لکھتے ہیں:

اعلم انہ لایجوز ان یحکم فی النکاح النساء خاصۃ لنقصان عقلھن وسوء فکرھن فکثیرا مالا یھتدین المصلحۃ ولعدم حمایۃ الحسب منہن غالبا، فربما رغبن فی غیر الکف ء وفی ذلک عار علی قومھا ،فوجب ان یجعل للاولیاء شیئی من ھذا الباب لتسدالمفسدۃ (۲۰)
’’جان لیجئے نکاح میں صرف فیصلہ کرنے کااختیار عورتوں کو دیدیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے ۔اس لیے کہ ان کی عقل ناقص اور سوچ ادھوری ہوتی ہے ۔کئی مرتبہ ان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کے لیے کونسا قد م اٹھا نا بہتر ہے۔اور عام طور پران خاندانی خصوصیات کا لحاظ بھی نہیں کرتیں جو خاندانوں میں اہم ہوتی ہیں چنانچہ وہ کبھی غیر کفو میں نکاح کرلیتی ہیں جو ان کے خاندان کے لیے شرمندگی بنتاہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ یہ تمام معاملات اولیاء کے ہاتھوں سرانجام ہوں تاکہ ہرقسم کی خرابی اور فساد سے بچاجاسکے۔‘‘

آگے شاہ صاحب مزید لکھتے ہیں جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

’’اور عام طور پر فطرت کی طرف سے لوگوں میں رائج طریقہ یہی ہے کہ مرد عورتوں کے ذمہ دار ہوں ،اور ان کے ہاتھ میں ہی معاملات کو کھولنا اور لپیٹنا ہو ،ان کے ذمہ مصارف ہوں ،اورعورتوں کے نکاح میں اولیا ء کا ہونا مردوں کی شا ن بڑھاتاہے اور عورتوں کا خود نکاح کرنا بے شرمی کی بات ہے جس کا سبب حیاء کی کمی ہے اور اس میں اولیاء کی حق تلفی ہوتی ہے جو ان کی بے قدری کا باعث ہے ۔اور اہم بات یہ ہے کہ نکاح کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ نکاح اور بدکاری میں فرق ہوجائے اور شہرت کا بہترین طریقہ ہے کہ اولیاء کو نکاح میں شامل کیا جائے۔‘‘(۲۱)

آخر میں شاہ صاحب نے ایک اور اہم بات کی طرف اپنے مخصوص انداز ’’اَقُولُ‘‘کے ساتھ مخاطب کیا ہے :

اقول لایجوز ایضا ان یحکم الاولیاء فقط لانہم لایعرفون ما تعرف المراۃ من نفسھا ولان حار العقد وقارہ راجعان الیھا والاستئمار طلب ان تکون ھی الآمرۃ صریحا، والاستئذان طلب ان تاذن ولاتمنع وادناہ السکوت (۲۲)
’’میں کہتا ہوں یہ بھی جائز نہیں کہ صرف اولیاء کو ہی حاکم بنا کر عورتوں کے نکاح کا پورا اختیار دیدیا جائے ،اس لیے کہ وہ نہیں جانتے اس بات کو جسے عورت اپنی ذات کے بارے میں جانتی ہے ۔اور اس لیے کے عقد کا نقصان اور نفع عورت کی طرف لوٹنے والاہے ۔اور استمار اس بات کی طلب ہے کہ وہ ہی صراحتا حکم دینے والی ہو ۔اور استیذان اس بات کی طلب ہے کہ وہ اجازت دے اور وہ انکار نہ کرے اور اجازت کا ادنی درجہ خاموشی ہے۔‘‘

شاہ صاحب کے اس محققانہ کلام سے احناف اور جمہوردونوں کی رائے قابل عمل ہوگئیں کہ نہ توبالکلیہ صرف عورت کے ہاتھ میں شادی و بیاہ کا اختیار ہو اور نہ ہی اولیاء کو مکمل طور پر اختیار ہو بلکہ آپس کی مشاورت سے ،عورت کی اجازت ورضامندی سے شادی وبیاہ کا یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے تاکہ بعد میں کسی قسم کی تلخیا ں اور لڑائی جھگڑے سکون زندگی برباد نہ کرسکیں۔

مذکورہ مثالوں سے واضح ہواکہ ’’اقول‘‘سے شاہ صاحب عمدہ فوائد ونکات بیا ن کرتے ہیں۔

۳۔ بسااوقا ت ’’وَالْاَصْل‘‘ کہہ کر اپنے دعوی کا اثبات کرتے ہیں ۔اور اسے۵۰ سے زائد مقامات پر لائے ہیں ۔جو بنیادی دلیل کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔کہیں تو ’’والاصل‘‘  کہہ کر آیت کریمہ لاتے ہیں اور کبھی حدیث رسول ﷺنقل کرتے ہیں اورکہیں عقلی دلیل پیش کرتے ہیں ۔

آیت کی مثال

شاہ صاحب نے باب قائم کیا : 

باب اسباب نزول الشرائع الخاصۃ بعصر دون عصر وقوم دون قوم (۲۳)
’’وہ اسباب جن کی وجہ سے مخصوص زمانوں میں مختلف قوموں کے لیے خاص شریعتیں نازل ہوئیں۔‘‘

اس کے بعد شریعتوں کے مختلف ہونے کے وجوہ اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

والاصل فیہ قولہ تعالی ( کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلا لِبَنِی إِسْرَاءِیلَ إِلا مَا حَرَّمَ إِسْرَاءِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزِّلَ التَّوْرَاۃُ قُلْ فَاْتُوا بِالتَّوْرَاۃِ فَاتْلُوہَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ )(۲۴)
اوربنیاداس میں اللہ تعالی کا قول، بنی اسرائیل کے لیے سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں مگر وہ چیز جو اسرائیل نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کی تھی کہہ دو تورات لاو اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔‘‘

ا س کے بعد شاہ صاحب نے باب سے متعلقہ بحث کی ہے اور اس پر مفصل روشنی ڈالی ہے ۔

اور اسی طرح شاہ صاحب نے باب قائم کیا :

باب اسباب النسخ (۲۵)
’’نسخ کے اسباب کا بیان ۔‘‘

اس کے بعد لکھتے ہیں:

والاصل فیہ قولہ تعالی(مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا) (۲۶)
’’اور بنیادی دلیل اس میں اللہ تعالی کاقول ہم جو کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے برابر لاتے ہیں۔‘‘

حدیث کی مثال

لوگوں کی جبلت اور فطرت کے بارے میں کلام کرتے ہوئے شاہ صاحب نے ایک باب قائم کیا :

باب اختلاف الناس فی جبلتھم المستوجب لاختلاف اخلاقہم واعمالہم ومراتب کمالہم (۲۷)
’’جبلت میں لوگوں کے مختلف ہونے کا بیان جو ان کے اخلاق واعمال اور کمال کے مرتبو ں کے مختلف ہونے کا سبب ہے۔‘‘

مذکورہ باب کے قائم کرنے سے شاہ صاحب ؒ کا مقصد لوگوں کے اخلاق و اعمال اور کمال میں مختلف ہونے کی وجہ بیان کرنا ہے ۔کہ اس کا سبب لوگوں کی جبلت اور فطرت کا مختلف ہوناہے جس کی وجہ سے ان کے کمالات و اخلاقیات اور عملیات میں یکسانیت نہیں ہے۔

اس بات کو مزید مدلل کرنے کے لیے شاہ صاحب لکھتے ہیں:

والاصل فیہ ماروی عن النبی ﷺ انہ قال اذا سمعتم بجبل زال عن مکانہ فصدقوہ ،و اذا سمعتم برجل تغیر عن خلقہ فلا تصدقوا بہ فانہ یصیر الی ما جبل علیہ (۲۸)
’’اور بنیادی دلیل اس میں وہ روایت ہے جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کو مان لو اورجب تم کسی آدمی کے بارے میں سنو کہ اس کی فطرت بدل گئی ہے تو اس کو مت مانو پس بے شک وہ لوٹنے والا ہے اس فطرت کی طرف جس پر وہ پید ا کیاگیاہے ۔‘‘

اسی طرح متعدد مقامات پر شاہ صاحب احادیث سے استدلال کرتے ہیں ۔مگر احادیث کے نقل کرنے کے بعد ان کی صحت وسقم پر بالکل کلام نہیں کرتے ،بلکہ بسا اوقات احادیث ضعیفہ سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔مثلا شاہ صاحب نے ایک حدیث نقل کی:

لَا نِکَاح إِلَّا بولِی (۲۹)
’’ولی کے بغیرنکاح نہیں ہوتا۔‘‘

جبکہ محققین نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیاہے ۔ امام علاء الدین کاسانی (م- ۵۸۷ھ)لکھتے ہیں :

لا نکاح إلا بولی مع ما حکی عن بعض النقلۃ ان ثلاثۃ احادیث لم تصح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعد من جملتہا ہذا ولہذا لم یخرج فی الصحیحین (۳۰)
’’لا نکاح إلا بولی کے بارے میں بعض اہل علم نے نقل کیاہے کہ تین احادیث نبی کریم ﷺسے صحیح روایت نہیں کی گئیں اوران میں ایک یہی حدیث ہے اسی لیے صحیحین میں اس کی تخریج نہیں ہے۔‘‘

شیخ جمال الدین رومی البابرتی (م-۷۸۶ھ)لکھتے ہیں :

روی عن یحیی بن معین رحمہ اللہ انہ قال: الاحادیث الثلاثۃ لیست بثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احدہا قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لا نکاح إلا بولی وشاہدی عدل (۳۱)
’’یحییٰ بن معین سے روایت کی گیا کہ تین احادیث حضوراکرم ﷺسے ثابت نہیں ہیں ان میں سے ایک لا نکاح إلا بولی وشاہدی عدل ہے۔‘‘

امام بدرالدین عینی (م- ۸۵۵ھ)لکھتے ہیں :

وقال یحیی بن معین واسحاق بن راہویہ تنسب إلیہ ثلاثۃ احادیث لم تثبت عن رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ احدہا لا نکاح إلا بولی (۳۲)
’’یحییٰ بن معین اور اسحاق بن راھویہ نے کہا تین احادیث کی نسبت حضورﷺکی طرف کی جاتی ہے مگر وہ آپ ﷺسے ثابت نہیں ہیں ان میں سے ایک ہے۔ لا نکاح إلا بولی ‘‘

علامہ ابن نجیم (م-۹۷۰ھ)نے بھی اس حدیث کوضعیف قرار دیاہے ۔(۳۳)اور یہی رائے علامہ شامی (م ۱۲۵۲ھ) کی ہے(۳۴)

اسی طرح شرک کی صورتیں بیان کرتے ہوئے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں:

فی الحدیث اَن حَوَّاء سمت وَلَدہَا عبد الْحَرْث وَکَانَ ذَلِک من وَحی الشَّیْطَان وقد ثبت فی احادیث لاتحصی ان النبی ﷺ غیر اسماء اصحابہ عبدالعزیز وعبدشمس ونحو ھما الی عبداللہ وعبدالرحمن وما اشبھھما فھذہ اشباح وقوالب للشرک نھی الشارع عنھا لکونھا قوالب لہ واللہ اعلم (۳۵)
’’اورحدیث میں آیاہے کہ حضرت حواء نے اپنے بیٹے کانام عبدالحارث رکھا اوریہ نام رکھنا شیطان کے اشارے سے تھا اور بے شمار احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ کے ناموں کو بدل دیا اورعبدالعزی،اور عبدالشمس اور ان کے مانند ناموں کی جگہ عبداللہ ،عبدالرحمن اور ان سے ملتے جلتے نام رکھے۔غرض یہ شرک کی صورتیں اور سانچے ہیں شریعت نے ان سے اس لیے منع کیا کہ شرک ان سانچوں میں ڈھل کر تیار ہوتاہے ۔باقی اللہ بہترجانتے ہیں ۔‘‘

شاہ صاحب نے حضرت حواء کے واقعہ والی جو حدیث نقل کی ہے اس کومحققین نے ضعیف اور اسرائیلات میں شمار کیاہے ۔

امام بن کثیر )م- ۷۷۴ھ )لکھتے ہیں :

والغرض ان ہذا الحدیث معلول من ثلاثۃ اوجہ احدہا ان عمر بن إبراہیم ہذا ہو البصری وقد وثقہ ابن معین، ولکن قال ابو حاتم الرازی لا یحتج بہ،۔۔۔ الثانی انہ قد روی من قول سمرۃ نفسہ لیس مرفوعا، کما قال ابن جریر:حدثنا ابن عبد الاعلی، حدثنا المعتمر عن ابیہ، حدثنا بکر بن عبد اللہ بن سلیمان التیمی عن ابی العلاء بن الشخیر عن سمرۃ بن جندب قال: سمی آدم ابنہ عبد الحارث. الثالث ان الحسن نفسہ فسر الآیۃ بغیر ہذا، فلو کان ہذا عندہ عن سمرۃ مرفوعا لما عدل عنہ قال ابن جریر حدثنا ابن وکیع حدثنا سہل بن یوسف عن عمرو عن الحسن جعلا لہ شرکاء فیما آتاہما قال کان ہذا فی بعض اہل الملل ولم یکن بآدم(۳۶)
’’اور خلاصہ یہ کہ یہ حدیث کئی وجہوں سے معلول (کمزور )ہے ۔پہلی وجہ اس حدیث کے راوی عمر بن ابراہیم کو اگرچہ ابن معین نے ثقہ کہاہے مگر ابوحاتم رازی نے کہا اس کی روایت قابل حجت نہیں ،دوسری وجہ یہی روایت حضرت سمرۃ سے موقوفا روایت کی گئی ہے ۔جیسا کہ ابن جریر نے کہا کہ سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے اپنے بیٹے کانام عبد الحارث رکھا ۔اور تیسری وجہ اس حدیث کے راوی حضرت حسن بصری نے اس کے علاوہ تفسیر کی ہے ۔اگر یہ حضرت سمرہ نے مرفوعا بیان کی ہوتی تو یہ اس سے اعراض نہ کرتے ۔ابن جریر نے کہا کہ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ یہ حضرت آدم کا واقعہ نہیں بلکہ دیگر مذاہب والوں کا واقعہ ہے ۔‘‘

امام ابن کثیر ؒ کے کلام کا حاصل نکات کی صورت میں درج ذیل ہے ۔

۱۔ اس حدیث کے راوی عمر بن ابراہیم کی روایت کو امام ابو حاتم رازی ؒ نے ناقابل حجت قرار دیاہے۔

۲۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ سے یہ روایت موقوفا نقل کی گئی ہے ۔

۳۔ اس حدیث کے راوی حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں یہ حضرت آدم ؑ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ دیگر مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔

ان وجوہ کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے ۔


حوالہ جات

(۱) شاہ ولی اللہ،احمد بن عبدالرحیم،حجۃ اللہ البالغہ،کراچی ،نور محمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ ،س ن ،جلد۱،صفحہ۱۰

(۲) القرآن،آل عمران:۷

(۳) القرآن،النساء :۲۳

(۴) القرآن،المائدہ:۹۳

(۵) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۲

(۶) القرآن،النساء :۹۲

(۷) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۳

(۸) ابو داؤد ،سلیمان بن الاشعث،السجستانی،السنن،بیروت،المکتبۃ العصریہ،س ن ،جلد۳،صفحہ۳۲۳

(۹) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۱

(۱۰) ایضا ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۱

ابو داؤد،السنن ،جلد۳،صفحہ۳۲۱

(۱۱) ایضا،جلد ۱،صفحہ ۱۷۱

(۱۲) القرآن،الاحزاب :۵۹

(۱۳) القرآن،الاحزاب:۵۳

(۱۴) القرآن،النور:۳۰

(۱۵) حجۃ اللہ البالغہ،جلد۲،صفحہ۱۲۶

(۱۶) الترمذی،ابو عیسی محمد بن عیسی ،السنن،مصر ،مطبعہ مصطفی البابی الحلبی ،۱۳۹۵ھ،جلد۳،صفحہ۴۵۹

(۱۷) الزیلعی ،فخرالدین،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق،قاہرہ ،المطبعۃ الکبری الامیریۃ،۱۳۱۳، جلد ۲، صفحہ ۱۱۷

(۱۸) ابن رشد ،محمد بن احمد ،ابو الولید ،بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد ،قاہرہ، دار الحدیث ،۱۴۲۵ھ،جلد۳، صفحہ ۳۶

(۱۹) ابن قدامہ المقدسی، عبداللہ بن احمد ،المغنی ،مکتبۃ القاہرہ،۱۳۸۸ھ،جلد۷،صفحہ۷

(۲۰) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،کراچی ،جلد ۲،صفحہ ۱۲۷

(۲۱) حجۃ اللہ البالغہ،جلد۲،صفحہ۱۲۷

(۲۲) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۲۷

(۲۳) ایضا،جلد۱،صفحہ۸۸

(۲۴) القرآن،آل عمران:۹۳

حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۸۸

(۲۵) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۸۸

(۲۶) ایضا،جلد۱،صفحہ۸۸

القرآن،البقرہ:۱۰۶

(۲۷) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۲۶

(۲۸) ایضا،جلد۱،صفحہ۲۶

احمد بن حنبل ،الامام،المسند،موسسۃ الرسالۃ،۱۴۲۰ھ،جلد۴۵،صفحہ۴۹۱

(۲۹) حجۃ اللہ البالغہ،جلد۲،صفحہ۱۲۷

ابوداود،جلد۲،صفحہ۲۲۹

(۳۰) الکاسانی،علاء الدین،بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،بیروت،دارالکتب العلمیہ،۱۴۰۶ھ،جلد۲، صفحہ ۲۴۹

(۳۱) البابرتی،جمال الدین،محمد بن محمد،العنایہ شرح الہدایۃ،دارالفکر،س ن ،جلد۱۰،صفحہ۹۳

(۳۲) العینی،بدرالدین،محمود بن احمد،البنایہ شرح الہدایہ،بیروت ،دارالکتب العلمیہ،۱۴۲۰ھ،جلد۵، صفحہ ۷۶

(۳۳) ابن نجیم ،زین الدین ابراہیم، البحرالرائق شرح کنزالدقائق،دارالکتاب الاسلامی،س ن،جلد۳، صفحہ ۱۱۷

(۳۴) شامی،ابن عابدین،محمد امین،ردالمحتار علی الدرالمختار،بیروت،دارالفکر،۱۴۱۲ھ،جلد۳،صفحہ۵۶

(۳۵) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۶۳

الترمذی،السنن،جلد۵،صفحہ۲۶۷

(۳۶) ابن کثیر،اسماعیل بن عمر،ابوالفداء ،تفسیر القرآن العظیم،بیروت،دارالکتب العلمیہ،۱۴۱۹ھ،جلد۳، صفحہ ۴۷۵

 (جاری)

تعارف و تبصرہ