بہار کا عالم

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ یہ 6 ستمبر 1965ء کی بات ہے۔ اگلے روز 7 ستمبر کو پاکستان کی مایہ ناز ایئر فورس کے پائلٹ ایم ایم عالم نے صرف 10 سیکنڈ میں ہندوستان کا لڑاکا طیارہ مار گرایا جبکہ صرف 38 سیکنڈ میں مزید چار طیارے کرگس بنا کر انہیں ہواؤں سے زمین پر پٹخ دیا اور یوں محض 48 سیکنڈوں میں 5 طیارے مار گرانے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ ابھی تک سے کوئی توڑ نہیں سکا۔ مستقبل کے حالات تو خدا ہی جانتا ہے۔

کیامردم خیزعلاقہ ہوگاپٹنہ کا جس نے سیدعطاء اللہ شاہ بخاری جیسا خطیب اعظم اورامیرشریعت بھی پیداکیا۔ اس پائے کی خطابت کا ریکارڈ بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا ۔سوچتا ہوں کہ کیاخطابت ہوگی جسے مولانا محمد علی جوہر،ابوالکلام آزاد،نواب بہادریارجنگ اورمولانا ظفرعلی خان کا زمانہ ملا مگروہ سب پربھاری نکلے۔ مختارمسعودنے درست کہا کہ ’’ان کے ہم عصرتوکئی تھے مگرہمسرکوئی نہ تھا۔‘‘

ایم ایم عالم سے نہ صرف پاکستانیوں نے ٹوٹ کر محبت کی بلکہ عالم اسلام نے بھی زہرہ ودل میں جگہ دی جب انہوں 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی اسرائیل کے دو طیارے مار گرائے اور اسرائیل کی فضاؤں پر بھی حکمرانی کی۔ آج بھی شائد اسرائیلی فضائیہ کے کسی ہیڈکواٹر میں ایم ایم عالم کا ذکر ہوتا ہوگا، کیونکہ یہودی اپنے دوست کو تونہیں دشمن کو ضروریادرکھتے ہیں۔ وہ غایت درجہ بلندحوصلہ اوربلاکے دلیرتھے۔ شاید اسی وجہ سے خوداپنی فضائیہ میں ان کے بہت حریف پیداہوگئے جو خودتوکچھ نہ کرسکتے تھے ماسوائے اس مردجری کی مخالفت کے، جنہوں نے اپنے دل میں سوچا اوردعائیں بھی کیں کہ اللہ کرے کہ کسی بھی وقت وہ بنگلہ دیش چلے جائیں، مگر ایم ایم عالم نے بنگلہ دیش ایئرفورس کا سربراہ بننے کی بجائے پاکستان میں زندہ اوریہیں مرنا پسند کیا۔

انہوں نے ساری عمرشادی نہیں کی مگرزندگی میں سب سے کاری اوربھاری ضرب ان کے دل پر دوعورتوں نے لگائی۔ ہوا یوں کہ بیگم ایئرمارشل انورشمیم اوربیگم جنرل شفیقہ ضیاء الحق نے پشاورمیں متعین ایئرکموڈورایم ایم عالم سے کہا کہ پاکستان ایئرفورس کا طیارہ چکلالہ ایئرپورٹ سے کراچی بھیجو جو وہاں سے ہمارے اورہماری سہیلیوں کے لیے نئے فیشن کے کپڑے، جوتے، پرس، پرفیوم اور سامان ہارسنگھارکے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بیوٹیشنز کو بھی لے کر آئے۔ میدان جنگ میں48سیکنڈزمیں دشمن کے 5طیارے مارگرانے والا غیرت مندایم ایم عالم تویہ حکم سن کرغصے سے لال بھبھوکا ہوگیا اور نہایت سختی سے یہ حکم ماننے سے انکارکردیا۔ ایسی منہ چڑھی اورمنحوس بیگمات بھلا کہاں نچلا بیٹھنے والی ہوتی ہیں۔ جھٹ ایئرمارشل انور شمیم کو اورانہوں نے آگے ’’مرد مومن مرد حق‘‘ ضیاء الحق کو اس نافرمانی سے آگاہ کیا اوردونوں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایک چھوٹی غلطی سمجھ کر نظراندازکرنا درست نہیں ہوگا، لیکن کیا کریں، آخروہ قوم کا ہیرو ہے۔ 

شاید روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘کے قاری ہوں گے جوروزانہ یہ پڑھتے ہیں کہ’’ سب سے افضل جہادجابرسلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے‘‘۔ ایک بارایسا ہواکہ ضیاء الحق نے اپنے اپنے عزیزوں کو ہرجگہ کلیدی عہدوں پرفائزکرنا شروع کیا تویہ شیطانی سلسلہ پاکستان ایئرفورس تک درازہوگیا جس پراس مردجری نے اپنی دونوں آنکھیں ضیاء الحق کی ایک آنکھ میں ڈال کر جابرسلطان کوکہا کہ’’سر! آپ یہ سب کچھ غلط کررہے ہیں۔ آپ کی وفاداری ملک وقوم کی بجائے اپنی ذات برادری کے لیے ہے‘‘۔ بیگمات والے واقعے کے بعدیہ کلمہ حق ضیاء الحق کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ لہٰذا ایم ایم عالم کو پاکستان ایئرفورس سے ’’باعزت‘‘ ریٹائر کرکے اطمینان کا سانس لیا۔ 

ایئرمارشل (ر)اصغرخاں جب پاکستا ن ایئرفورس کے سربراہ بنے توانہوں نے ایئرفورس میں بھرتی کا مطلوبہ معیار تھوڑاسا نرم کردیا کیونکہ مشرقی پاکستان کے بنگالی اوربہاری اس پرکم ہی پورااترتے تھے۔ اس فیصلے کے بعدمشرقی پاکستان سے بہت لوگ ایئرفورس میں شامل ہوئے اوروقت آنے پراصغرخاں کا فیصلہ درست ثابت کردیا۔

بڑے اورچھوٹے ذہن کے کمانڈراورانسان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ واقعات تو بہت سے ہیں مگرایک واقعہ سنانے پرہی اکتفاکروں گا۔جب مادرملت محرمہ فاطمہ جناح اورجنرل ایوب خاں کے درمیان64 ؁ء کے اواخرمیں انتخابی معرکہ ہوا تو بطورصدارتی امیدوارایوب خان نے رسالپوراکیڈمی میں ایئرفورس کے جوانوں اورافسروں سے خطاب کرتے ہوئے اپناانتخابی پروگرام پیش کیا۔ ان کے خطاب کے بعدایئرمارشل اصغرخاں نے اپنا طیارہ کراچی بھیجا اور مادر ملت سے درخواست کی کہ آپ ہماری خواہش پررسالپوراکیڈمی میں انتخابی تقریرفرمائیں کیونکہ یہ صرف ایوب خان کا ہی نہیں، آپ کا بھی حق ہے کہ آپ بھی خطاب فرمائیں اورہمارابھی حق ہے آ پ کو سنیں۔ جب مادرملت خطاب کرنے رسالپور پہنچیں توانہیں مکمل پروٹوکول دیا گیا اوران کے خطاب کو سننے کے لیے تمام جوانوں اورافسروں کی حاضری کو یقینی بنایا گیا۔ یہاں جنرل ایوب خان کو دادنہ دینا بھی بخیلی ہوگی جنہوں نے اصغرخاں سے کوئی بازپرس نہ کی۔ 

ریٹائرمنٹ کے بعدایم ایم عالم پنڈی فوجی (MEXX )کے ایک باتھ روم نماکمرے میں گوشہ نشین سے ہوگئے۔ کتابوں اورسگریٹوں کوجیون ساتھی بنالیا۔ ملکی حالات پرکڑھتے رہے۔ شیطان بھی بہکاتا ہوگا کہ میاں تم بنگلہ دیش ہی چلے جاتے جہاں تم خود ایئرفورس کے سربراہ ہوتے مگراندرکا پاکستانی بہت مضبوط ثابت ہوا۔ اللہ کی رضا پرراضی یہ جگرداروبلند کردار اور دلیر وجری افسرزندگی کے77ویں سال میں تھا کہ اللہ نے ایک چھوٹے سے کمرے سے اپنی وسیع وعریض جنت میں بلالیا۔ قدرت کا فیصلہ بڑا منصفانہ ہوا۔ آج لاہورکے ایم ایم عالم روڈکے علاوہ پورے ملک میں کئی مقامات ایسے ہیں جو ان کے نام سے موسوم ہیں۔

شخصیات

(نومبر ۲۰۱۵ء)

Flag Counter