’’مقالات ایوبی‘‘ پر ایک نظر

مولانا عبد الغنی مجددی

مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی آزاد کشمیر کے بزرگ علماء میں سے ہیں۔ انھوں نے جامعہ اشرفیہ میں متعددعظیم شخصیات سے علم حاصل کیا جن میں مولانا رسول خان اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی جیسی عظیم المرتبت شخصیات شامل ہیں۔ ایک عرصہ تک اسلام آباد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد کئی سال ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں تعلیم حاصل کی اور حرم مکہ کی برکات وفیوض سے فیضیاب ہوتے رہے۔ مکہ مکرمہ سے واپسی پر آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے میر پور کے ضلع مفتی مقرر کیے گئے اورریٹائر منٹ تک حکومت اور عوام کی شرعی راہ نمائی کرتے رہے۔ اس وقت موصوف کشمیر میں شرعی افتاء اور دینی راہ نمائی کے میدان میں وقیع علمی و فقہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 

مقالات ایوبی کا مختصر تعارف

’’مقالات ایوبی‘‘ مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کے مقالات کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے دعا کے آد ا ب سے لے کر فقہ وقضا ء کے نازک مسائل، اسلام اور دہشت گردی اور اسلام اور جمہوریت کے باہمی تعلق جیسے حساس عنوانات کے امور پر بحث کی ہے۔ 

مرتب نے کتا ب کے مقالات کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے کا تعلق اصلاح وتربیت سے ہے، دوسرا حصہ فقہ و قضاء سے متعلق ہے اور تیسرے حصے میں متفرقات شامل ہیں۔ 

مولانا کے اسلوب تحریر کی چند نمایاں خصوصیات حسب ذیل ہیں: 

  • مولانا کسی نکتے کو اصل ما خذ سے ثابت کرنے کو اولیں حیثیت دیتے ہیں، تاہم مسائل کے اثبات میں فقہی جزئیات کو بھی پیش کرتے ہیں ۔ 
  • مولانا بعض مسائل میں اپنی اجتہادی رائے کا بھی اظہار کرتے ہیں جس کا کلی طور پر فقہی روایت کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
  • مولانا مسئلہ کے ضمن میں اس سے متعلقہ واقعات کو بھی ذکر کرتے ہیں جس سے مقصود اصلاح احوال ہوتا ہے ۔ 
  • مولانا بات کی توضیح اچھی طر ح کرتے ہیں ۔ مسئلہ سے ملتی جلتی صورتیں بھی ذکر کر تے ہیں جس سے مسئلہ کی تنقیح اچھی طرح ہو جاتی ہے ۔ 

تاہم اس کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ مولانا نے بے جا سختی سے کام لیا ہے جو اسلام کے عمومی اصول تیسیر اور دفع حرج کے خلاف ہے ۔ مولانا نے کئی مقامات پر ان باتوں کو جو مکروہات کے ضمن میں آتی ہیں، حرام کا درجہ دے دیا ہے اور اس حوالے سے کوئی ایسے ٹھو س دلائل و شواہد بھی پیش نہیں کیے جن کی بنا پر ان چیزوں کو فقہاء کے عمومی موقف سے ہٹ کر، حرام کہا جا سکتا ہو۔ 

۱۔ مثال کے طور پر مولانا لکھتے ہیں کہ 

’’اسلام نے جعلی بولی لگانے سے منع کیا ہے اور اس طرح جو سودا ہو گا، اس کی اصل قیمت اور نفع سب حرام ہو گا۔ فقہ کی اصطلاح میں اس کونجش کہتے ہیں۔‘‘ (ص ۵۲) حالانکہ فقہی طور پر یہ صورت حرمت میں نہیں، بلکہ کراہت کے ذیل میں آتی ہے۔ چنانچہ صاحب ہدایہ نے متعدد چیزوں کو ایک ساتھ ذکر کیا جن میں جعلی بولی، تلقی رکبان اور شہری کی بیع دیہاتی کے لیے شامل ہیں۔ پھر ان پر حکم لگایا کہ یہ سب مکروہ ہیں اور ان کی وجہ سے بیع فاسد نہ ہو گی، کیونکہ فساد صلب عقد میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی صحت کی شرائط میں ہے، بلکہ خارج اور زائد معنی میں فساد ہے۔ (جلد ۵ ص ۱۴۲)

۲۔ اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں: 

’’مبالغہ آمیز اشتہار بازی، ایسے فوائد کا اشتہار جو حقیقتاً موجود نہ ہوں، اس طرح کی اشیاء فروخت کر کے نفع کمانا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔‘‘ (ص ۴۸ )

اگر اوپر بیان کردہ قاعدہ کو ملحو ظ رکھا جائے تو ان چیزوں میں بھی صلب عقد میں فساد موجود نہیں بلکہ خارجی اور زائد معنی میں فساد ہے جس کی وجہ سے ان چیزوں کی تجارت کو حرام قرار دینا محل نظر ہے۔ مزید برآں فقہ کی کتابوں میں ایک جز ئیہ ملتا ہے کہ: بائع نے غلام بیچا اس شرط پر کہ وہ خباز ہے یا کاتب ہے او رنکلا اس کے خلاف تو مشتری کو اختیا ر ہے، اگر چاہے تو لے لے اس کو پورے ثمن کے ساتھ یا چھوڑدے۔ صاحب ہدایہ اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی ایساوصف ہے جس کی وجہ سے مبیع کو خریدنے میں رغبت پیدا ہوتی ہے تو عقد میں شرط لگانے سے مشتری اس کا حق دار ہو گا۔ پھر اس کا ایسا نہ ہو نا خیا ر کو واجب کر دیتا ہے کیونکہ مشتری اس کے بغیر راضی نہیں ہوا اور یہ لوٹتا ہے نوع کے اختلاف کی طرف۔ اغراض میں تفاوت کے کم ہونے کی وجہ سے تو نہیں فسد ہو گا عقد اس کے معدوم ہو نے کی صورت میں۔ (ص ۵۰ باب خیا ر الشرط )

اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ وصف کے معدوم ہونے کی صورت میں عقد فاسد نہ ہوگا ۔ 

۳۔ ایک اور عبارت ملاحظہ ہو:  

’’بعض تاجر گاہک کو بازار کے بھاؤ نہیں بتاتے اور اپنا سودا قسمیں اٹھا کر مہنگے داموں فروخت کر کے دیہاتی اورغیر ملکی گا ہکوں کو لوٹتے ہیں۔ اسلام نے اس طرح کی کمائی کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (ص ۵۰)

بخاری ومسلم کی روایت میں تلقی رکبان سے منع کیا گیا ہے۔ اس کو مولانا نے دلیل حرمت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن فقہی ذخیرے میں اگر دیکھا جائے تو تلقی رکبان کو کراہت کے درجے میں رکھا گیا ہے نہ کہ حرام کے درجہ میں۔ اس کو حرام کہنا بایں وجہ بھی درست نہیں کہ اس میں بھی صلب عقد میں فساد نہیں ہے۔ صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ اور اس طرح کے کچھ دیگر مسائل کو باب فی ما یکرہ کے تحت نقل کیا ہے ۔ 

۴۔ اسی طرح مولانا فرماتے ہیں کہ ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی حرام ہے، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے؛ عبارت ملاحظہ ہو :

’’حدیث شریف کے الفاظ ہیں کہ ذخیرہ اندوز گناہ گار ہے اور اس میں کسی شے کی تخصیص نہیں ہے، لہٰذا جو اشیاء بھی عوام النا س کے لیے ضروری ہیں، ان کی ذخیرہ اندوزی حرام ہے۔‘‘ 

مولانا نے یہاں بھی مبالغہ کیا ہے اور مکروہ کو حرام قرار دیا ہے۔ امام قدوری لکھتے ہیں : 

’’اور مکروہ ہے ذخیرہ اندوزی کرنا آ دمیوں اور چوپایو ں کی خوراک میں۔ ‘‘

اور ہدایہ میں ہے کہ اصل اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ نیز اس وجہ سے بھی کہ عوام کا حق اس کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے اور بیع سے رکنے میں ان کے حق کو باطل کرنا ہے اور ان پر معاملے کو تنگ کر نا ہے، پس یہ مکروہ ہو گا جبکہ ان کو نقصان دیتاہو ۔ 

اس عبارت سے واضح ہے کہ ذخیرہ اندوزی مکروہ ہے، حرام نہیں ہے ۔

قاضی صاحب نے دوسرا مبالغہ یہ کیا کہ ہر قسم کی ذخیرہ ہ اندوزی کو حرام قرار دیا کہ اس میں کسی شے کی تخصیص نہیں کی ہے، جبکہ فقہاء نے بعض صورتو ں کی تخصیص کی ہے ۔ اما م قدوری لکھتے ہیں: 

’’اور جس نے ذخیرہ اندوزی کی اپنی زمین کے غلہ کی یا جس کو لایا ہو دوسرے شہر سے تو اس کو ذخیرہ اندوزی کرنے والا شمار نہیں کریں گے۔‘‘ (ص ۲۶۰ کتاب الحظر والاباحۃ )

اس عبارت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں ذخیرہ انددزی کرنے میں کوئی قباحت نہیں، اس لیے کہ یہ صورتیں در حقیقت ذخیرہ اندوزی میں داخل ہی نہیں ہیں۔ 

۵۔ قاضی صاحب کی ایک عبارت سے یوں محسوس ہو تا ہے کہ دوسرا نکا ح جائز ہی نہیں۔ فرماتے ہیں :

بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ھشام بن مغیرہ نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت علیؓ کے با رے عرض کیا کہ ہم اپنی بیٹی حضرت علی کی زوجیت میں دینا چاہتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا میں ہر گز اجازت نہ دوں گا ، ہر گز اجازت نہ دوں گا ، فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ 

مولانا اس پر یوں تبصرہ کرتے ہیں : 

’’اگر حضرت علیؓ جیسی عظیم المرتبت ہستی کے بارے یہ خد شہ ہو سکتا ہے کہ وہ فاطمہؓ سے انصاف نہ کر سکیں گے اور حضور ان کو دوسری شادی سے روک دیں تو آ ج کون مائی کا لعل ہے جو عدل کے تقاضے پورے کر سکے؟‘‘

مولانا کی یہ عبارت بظاہر یہ کہہ رہی ہے کہ مولانا کے ہا ں ایک سے زائد شادی کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ آج عدل کے تقاضے پورے ہونا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ بجائے اس کے کہ مولانا اس جزوی واقعہ کی کوئی ایسی تعبیر پیش کرتے جس سے اصول و ضابطہ اسی طرح رہتا، مولانا نے اس جزوی واقعہ کی بنا پر اصولی حکم کو ہی بدل دیا۔ اگر حضرت علیؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے منع کیا تھا کہ ان سے عدل کے تقاضے نہیں پورے ہو سکتے تو کیا حضرت علی نے سیدہ کے انتقال کے بعد متعدد نکاح نہیں کیے؟ اگر مولا نا کی بات درست ہے تو حضرت علی نے متعدد نکاح کیوں کیے ؟ یہ بات تسلیم کر لینے کی صو رت میں تو حضرت علیؓ کے ما بعد کی امت میں سے کسی فرد کو بھی دوسری شادی کی اجازت نہ ہو نی چاہیے، جبکہ دور صحابہ سے آج تک لوگ متعدد شادیاں کرتے چلے آ رہے ہیں اور فقہا ء امت میں سے بھی کسی نے اس کے متعلق حرمت یا کراہت کا قول اختیا ر نہیں کیا۔ 

۶۔ اگر کوئی مرد خود کو کنوارا ظاہر کرے جبکہ شادی شدہ ہو اور کسی عورت سے اس طرح نکا ح کر لے تو کیا بیوی کو فسخ نکاح کا حق ہوگا؟ قاضی صاحب اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں ؛

’’اگر محمد جہانگیر سراج بی بی کو شادی سے قبل بتادیتا کہ وہ انجم پروین مرزا کا شوہر ہے تو کیا سراج بی بی قبو ل کر لیتی؟ ہر گز نہیں، خاص طور پر انگلستان جیسے معاشرہ میں جہاں قانوناً دوسری شادی ممنوع ہے ۔۔۔ یوں اس نے دھوکہ دہی اور تدلیس کا ارتکاب کیا ۔ شریعت نے اگر فسخ نکاح کا حق خاوند کے بغلوں کی بدبو، خراٹوں اور جنسی تسکین کی عدم تکمیل پر دیا ہے تو پہلی بیوی کی موجو دگی کو اخفاء میں رکھ کے شادی کرنے پر فسخ کا حق کیوں نہیں، جبکہ سوکن پر یہ تمام عیوب سے زیادہ مضر ہے۔‘‘ (ص ۷۵)

مولانا کی عبارت اپنے مطلب ومفہو م میں بالکل عیا ں ہے ۔ اس پرا عتراض یہ پیداہو تا ہے کہ مولانا نے شوہر کے، نکاح کو مخفی رکھنے کو عیب شمار کیا ہے۔ اولاً تو اس کا عیب ہو نا محل نظر ہے۔ فقہاء نے عیوب کی فبرست میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اگر عیب ہو بھی تو کیا یہ ایسا عیب ہے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خیار ثابت ہو؟ 

صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر شوہر کو جنون ، جذام یا برص ہو تو عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے، امام اعظم ابو حنیفہ اور ابو یو سف کے نزدیک۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے خیار ہے تاکہ وہ خود سے خاوند کو دور کر سکے جیسا کہ مجنون اور عنین میں اختیار ہے۔ بخلاف مرد کی جانب کے، کیونکہ وہ خو د سے ضرر کو طلاق کے ذریعے دفع کر سکتاہے۔ شیخین فرماتے ہیں کہ اصل، خیا ر کا نہ ہونا ہے کیونکہ اس میں شوہر کے حق کو باطل کرنا ہے اور ثابت ہو گامجبوب اور عنین میں کیونکہ یہ مقصود نکاح کو پورا کرنے میں خلل انداز ہیں، جبکہ مذکورہ عیوب اس میں خلل واقع نہیں کر تے۔ اس لیے دونوں جدا ہیں۔‘‘ (باب العنین جلد ۳ ص۲۸۰)

جب بڑے اور مرکزی عیو ب کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے اور دو بڑے امام یہ کہتے ہیں کہ ان کی بنا پر عورت کو خیار نہیں ملے گا تو تدلیس کے بارے میں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کی بنا پر عورت کو فسخ نکاح کا اختیار ملے گا ؟ باقی مولانا کی یہ بات کہ عورت سوکن کو برداشت نہیں کر پاتی اور یہ اس کے لیے باعث تکلیف و مضرت ہے تو اس پر سوال یہ ہے کہ بعینہ یہی مضرت و تکلیف اس وقت بھی پائی جاتی ہے جب خاوند پہلی بیوی کو بتا کر دوسری شادی کرے۔ تو کیا اس صورت میں بھی پہلی بیوی کو خیار فسخ دیا جائے گا ؟ اگر نہیں تو یہاں کیوں؟

۷۔ مولانا نے بعض امور میں ایک ہی جگہ ایک ہی بات کو اور انداز میں جبکہ دوسری جگہ اسی بات کو دوسرے وانداز میں بیان کرتے ہیں جس سے دونوں باتوں میں تضاد نظر آتا ہے۔ نتیجتاً قاری ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان کے عدالتی وقانونی نظام کے متعلق کتاب کے ایک ہی صفحہ پر دو مختلف باتیں یوں لکھتے ہیں :

’’جہاں تک عدالتی سسٹم کا تعلق ہے تو وہ ہر گز اسلام سے متصادم نہیں ہے۔ عدالتی نظام انہی بنیادوں پر استوار ہے جو بنیادیں مسلم فقہا ء نے متعین کر رکھی ہیں ۔‘‘

مزید لکھتے ہیں :

’’نہ کفر پر مبنی ہے نہ مکمل اسلام کے مطابق ہے۔ درمیانہ سا ہے، قابل برداشت ہے۔‘‘ (ص ۷۹)

اسی طرح غیر مسلم عدالتوں کی طرف سے فسخ نکاح کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک جگہ مولانا نے یہ لکھا ہے کہ:

’’موضوع زیر بحث میں اگر چہ برطانوی قانون کے مطابق انگلستان میں عدالتیں قائم ہیں اور وہی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے فیصلے بلا تفریق مذہب کرتی ہیں، مگر چونکہ ایسے معاملات میں فقہاء اسلام نے دوسری راہیں متعین کی ہیں جن سے فائد ہ اٹھایا جا سکتا ہے، اس لیے نکاح و طلاق کے معاملات میں ان عدالتوں کی شرعی حیثیت کو نظریہ ضرورت کے تحت تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (ص ۶۹، ۷۰)

جبکہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں : 

’’پاکستان اسلامی ملک ہے اسکی عدالتوں کے فیصلے تسلیم کر نے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہم نے تو ۱۹۹۰ میں انگلستان کی عدالتوں کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے کا فتویٰ دیا ہے کہ وہاں کا ماحول یہاں سے زیادہ خوفناک ہے۔ اگر وہاں خاوند تعنت کا مظا ہرہ کر تا ہے اور طلاق نہیں دیتا تو وہاں بدکاری کے لیے راستے کھلے ہیں، اس لیے دونوں میاں بیوی عدالت میں حاضر ہو کر اپنا موقف بیان کرتے ہیں تو فیصلے بھی قابل عمل ہیں۔‘‘ (ص ۸۲)

ان دو عبارتوں میں تضاد بالکل واضح ہے۔ پہلی میں مولانا نے غیر مسلم عدالتوں سے نکاح و طلاق کے مسائل حل کروانے کی نفی کی ہے جبکہ دوسری میں اس کی اجازت بیان کی ہے۔

یہاں اس بحث سے متعلق ایک ضمنی نکتہ یہ ہے کہ مولانا نے اپنی کتاب میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا غیر مسلم عدالتیں مسلمانوں کے نکاح فسخ کر سکتی ہیں یا نہیں؟ اس ضمن میں مولانا نے متعدد آیات قر آنیہ سے یہ بات ثابت کی کہ قانون اللہ رب العزت کا ہی ہونا چاہیے اور اسلام کفر کی بنیاد پر قائم کردہ عدالتو ں کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے بعد مولانا نے فقہاء کی بیان کر دہ قاضی کی شرائط لکھیں جس میں ایک شرط مسلمان ہو نا بھی ہے۔ مولانا کا ان شرائط کو بیان کرنے سے مقصود سابقہ مسئلہ کو موکد کرنا ہے ۔ میرے خیال میں یہاں مولانا نے دو مسئلوں کو خلط کر دیا ہے۔ ایک مسئلہ ہے کفار کی عدالتو ں اور کتاب اللہ سے متصادم قانونی نظام کا اور دوسرا مسئلہ ہے ایک مسلمان اور اسلامی ملک میں غیر مسلم قاضی کا۔ پہلے مسئلہ میں تو قدیم وجدید فقہا یہی کہتے چلے آرہے ہیں کہ اللہ کے قائم کردہ اصول وضوابط سے ہٹ کر فیصلہ کروانا کسی مسلمان کے لیے درست نہیں۔ دوسرا مسئلہ بھی اگر چہ قدیم فقہاء کے ما بین متفق علیہ ہے، لیکن دور جدید بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت بہت سے اہل علم نے قدیم موقف سے ہٹ کر نیا موقف اختیا ر کیا ہے اور آج اکثر مسلم ممالک میں اس نئے موقف پر عمل کیا جاتا ہے۔ مثلاً مجلۃ الاحکام العدلیہ میں بھی قاضی کے مطلوبہ اوصاف میں مسلمان ہو نے کی شرط شامل نہیں کی گئی۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ غیر مسلم جج (جسٹس کارنیلیس، جسٹس بھگوان داس) اعلیٰ عدالتوں میں قضا کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید جمہوری ممالک میں عموماً قانون، مقننہ کی طرف طے شدہ ہوتا ہے۔ قاضی مسلمان ہو یا کافر، وہ اس طے شدہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ اس کا کام صرف قانون کو عدالت میں پیش کردہ مقدمے پر منطبق کرنا ہوتا ہے۔ (دیکھییے ’’حدود و تعزیرات‘‘ از محمد عمار خان ناصر، ص ۳۱۶، ۳۱۸)

بہرحال ان چند طالب علمانہ ملاحظات سے ہٹ کر ’’مقالات ایوبی‘‘ کے عنوان سے یہ مجموعہ اہم دینی وفقہی مسائل پر قاضی محمد رویس خان ایوبی صاحب کے غور وفکر اور وقیع نتائج تحقیق کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ہم نے بعض امور سے متعلق قاضی صاحب کے نقطہ نظر سے اختلاف کی جسارت کی ہے۔ امید ہے کہ وہ اسے ایک طالب علم کا علمی حق سمجھتے ہوئے بزرگانہ شفقت سے نوازیں گے۔

تعارف و تبصرہ